Saturday, September 30, 2017

تھر کول پروجیکٹ پر مقامی آبادی کے تحفظات اور احتجاج : سہیل سانگی


Dec 7, 2016 Nai Baat

تھر کول پروجیکٹ پر مقامی آبادی کے تحفظات اور احتجاج 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
تھر کول پروجیکٹ جس انداز سے شروع کیا گیا تھا، اس پر مقامی آبادی کو روز اول سے ہی تحفظات اور تشویش تھی۔ کیونکہ اس میں سے بحالیات اور مقامی آبادی کے سہولیات کے منصوبے غائب تھے۔ مقامی آبادی کی تشویش کا ثبوت گزشتہ دو سال کے اخبارات میں شایع ہونے والے مواد سے بھی ملتا ہے۔ لیکن اس طرف نہ حکومت نے کوئی توجہ دی اور نہ متعلقہ کمپنی نے۔ 



یہ تحفظات اور تشویش ا س وقت پھٹ کر سامنے آئی جب اسلام کوٹ کے قریب کوئلے کی کھدائی کے دوران نکلنے والے پانی کی نکاسی اور ذخیرہ کرنے کا منصوبہ سامنے آیا۔ گاؤں گوڑانو کے مقام پر ایک ڈیم تعمیر کیا جارہا ہے۔ جہاں پر کئی سو کیوسکس پانی جمع کیا جائے گا اور بقول کمپنی کی انتظامیہ کے بجلی گھر شروع ہونے کے بعد اس کے بوائلرز کو ٹھنڈا کرنے کے لئے دوبارہ استعمال کیا جائے گا۔ فوری طور پر اس منصوبے لپیٹ میں آنے والے گاؤں کے باشندے احتجاج پر مجبور ہو گئے۔یہ احتجاج اسلام کوٹ، حیدرآباد اور کراچی میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہے۔ پسماندہ اور ہر دو سال بعد قحط کی لپیٹ میں آنے والے تھر کے لوگ ہر مصیبت اور آفت کو رضائے الاہی سمجھ کر مقابلہ کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ انہوں نے اپنی آنکھون سے دیکھا کہ یہ ان کی تباہی کا کام اللہ کے بندے کر رہے ہیں۔ تو وہ سراپا احتجاج ہوگئے۔ 


احتجاج کرنے والی مقامی آبادی اور ان کی جدوجہد اتنی جائز تھی کہ کمپنی کے پاس اس کی مخالفت کے لئے کوئی دلیل یا منطق نہیں تھی۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس نے متاثرہ آبادی کے لئے کوئی ٹھوس پلان نہیں بنایا ہوا ہے۔ ایسے میں کمنی اور اس کے تخواہ داروں نے تھر کے لوگوں پر یہ ٹھپہ لگا دیا کہ ’’وہ ترقی کے دشمن ‘‘ ہیں۔ یہ ٹھپہ بالکل اسی طرح سے لگا دیا گیا جس طرح سے ہر حق مانگنے والے حقوق تسلیم کرنے اور حق دینے کے بجائے اسے ’’غدار‘‘ کے لقب سے ناوازا جاتا ہے۔ تھر کے لوگ عرصہ دراز سے چاہ رہے ہیں کہ وہاں ترقیاتی کام جو ساٹھ سال تک رکے ہوئے تھے وہ شروع ہوں۔


کمپنی اور اس کے ماہرین کی اس سادگی پر قربان جائیں جب وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم مقامی آبادی کے کالف کچھ نہیں کر رہے ہیں‘‘۔انہیں صرف بے گھر کیا جا رہا ہے۔ ان سے زرعی زمین چھینی جارہی ہے۔ وہ زمین بھی لی جارہی ہے جہاں وہ مال مویشی چراتے تھے۔ لاکھ دو لاک روپے معاوضہ دے کر انہیں تمام اثاثوں سے محروم کیا جارہا ہے۔ بے گھر کرنا، جینے کے وسائل چھیننا، ان کو معمول کی بات لگتی ہے۔ لیکن آج کے دور میں سب سے بڑی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عالمی برادری دنیا میں بھر بے گھر ہونے والے کروڑوں افراد کے مسائل میں پھنسی ہوئی ہے۔ ایسے میں ترقی کا خواب دکھا کر تھر میں بھی ہزاروں افراد کو بے گھر اور مہاجر کیا جارہا ہے۔ہم ترقیاتی منصوبے اس طریقے سے شروع کر رہے ہیں کہ لوگوں کی زبردستی نقل مکانی کرا رہے ہیں ان کے روزگار کے وسائل چھین رہے ہیں۔ 
قدرت نے بعض علاقوں میں ذخائر زمین کے اوپر دیئے ہیں تو تھر جیسے علاقوں میں یہ وسائل زیر زمین ہیں۔ اب جب ان وسائل کے استعمال کا وقت آیا ہے تو انہیں ان وسائل سے محروم کرنے کے لئے بے گھر کیا جارہا ہے۔ 



اینگرو کمپنی کے سربراہ شمس الدین شیخ صاحب کی انجنیئرنگ میں کوئی شک نہیں کر رہے ہیں لیکن جب غلط طریقے سے اس ڈیم کے حق میں اور اپنی کمپنی کی حمایت میں بیانات دے رہے ہیں اور مضامین لکھ رہے ہیں ان میں عوام دوستی کی خوشبو نہیں آتی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ڈٰم نہیں بلکہ تالاب ہے۔ ڈیم کی انجنیئرنگ اور ڈکشنری میں موجود معنیٰ کو ہی وہ اگر دوبارہ دیکھ لیتے تو شاید وہ اس طرح سے بات نہیں کرتے۔ ڈیم پانی کا ایسا ذکیرہ ہے جہاں دریائے بہاؤ روک کر یا پانی ذکٰرہ کر کے بعد میں پینے یا صنعتی یا بجلی پیدا کرنے کے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ ضلع سانگھڑ کا چوٹیاری ڈیم، اور بعض دیگر چھوٹے ڈٰم اس زمرے میں آتے ہیں۔ بقول کمپنی کے کھدائی کے دوران نکلنے والا پانی پہلے یہاں جمع کیا جائے گا۔ اور بعد میں واپس وہاں سے بہا کر بجلی گھر کے بوائلرز ٹھنڈے کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ گوڑانو ڈیم کے تین طرف ٹیلے ہیں اور چوتھے طرف کمپنی دیوار کھڑی کر رہی۔ اور اس ڈیم کی تہہ کو نہ پکا کیا جارہا ہے اور نہ وہاں پتھر بچھایاجارہا ہے، تاکہ سیپج نہ ہو۔ 


کمپنی کا یہ موقف بھی عجیب ہے کہ صرف 25 کیوسکس پانی چھوڑا جائے گا۔ یہاں یہ یادہانی ضروری ہے کہ بہتے ہوئے پانی کو کیوسکس میں ناپا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسکوئلے کی کان میں صرف پچیس کیوسکس پانی ہے؟ یا پانی کا بہاؤ روزانہ پچیس کیوسکس ہوگا۔؟ جب پانی کی مقدار رفتار میں ناپی جاتی ہے تو وقت کا تعین انتہائی اہم ہے۔ اس لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ مجوزہ ڈیم جس کو کمپنی تالاب کہنا پسند کرتی ہے، وہاں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ پانی کتنا ہوگا؟ کھڑے ہوئے پانی کو ملین ایکڑ فٹ میں ناپا جاتا ہے۔ لیکن اس حوالے سے کمپنی خاموش ہے۔ 


یقیننا کھدائی سے پہلے علاقے کا جیو ہائیڈراجیکل سروے کیا گیا ہوگا۔ جس کے نتیجے میں زیر زمین پانی کا اندازہ لگایا جاچکا ہوگا۔۔ ماہرآبپاشی ادریس راجپوت کا کہنا ہے کہ کوئلے تک راسئی کے لئے پانی کے تین تہیں ہیں۔ پہلی تہہ 164 فٹ کی گہرائی پر ہے۔ ان تین تہوں میں یقنینی طور پر پچیس تیس کیوسکس پانی نہیں ہوگا۔ کمپنی کا یہ بھی دعوا ہے کہ فیزیبلٹی ماہرین سے بنائی گئی ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا جارہا ہے کہ بجلی گھر کے لئے کتنے عرصے بعد واپس پانی اس ڈیم سے لیا جائے گا اور کتنا عرصہ اور کتنا پانی اس ذخیرے میں کھڑا رہے گا؟ کیا مسلسل بڑی مقدار میں کھڑا پانی ریت کے ٹیلے برداشت کر سکیں گے؟ 


ماہر آبپاشی ادریس راجپوت کا کہنا ہے کہ یہاں 15 سے 20 کیوسکس پانی جمع ہوگایہ پانی آسپاس کی آبادی اور زیر زمین پانی کے کنوؤں کو کتنا خراب کرے گا؟ یہ امر اس لئے بھی ضروری ہے کہ کوئلے تک رسائی کے دوران جو پانی نکالا جائے گا اس میں کئی مضر صحت اجزاء اس پانی میں حل ہو جائیں گے۔ جو یقیننا مجموعی طور پر ذکٰرہ کی جگہ اور اس کے قریبی پانی کے زیر زمیں ذخائر کو بھی خراب کریں گے۔ 


جو حضرات یہ دلیل دیتے ہیں کہ ذخیرے کا پانی آسپاس کی زمینوں اور پانی کو خراب نہیں کرے گا وہ برائے مہربانی سانگھڑ کے چوٹیاریوں ڈیم اور نگرپارکر کے پاس تعمیرکئے گئے رانپور ڈیم کا ایک بار پھر معائنہ کریں اور دیکھیں کی ان ڈیموں نے قریبی علاقوں میں کتنی زمین خراب کی ہے۔ 


گوڑانو کے مقام پر کمپنی کو 1500 ایکڑ زمین چاہئے جس میں سے 532 ایکڑ نجی زمیں ہے ۔ اس میں سے صرف 125 ایکڑ زمیں کے معاوضے کی ادائگی کی گئی ہے۔ یعنی ایک چوتھائی زمین کی ادائگی پر کمپنی نے پوری زمین پر قبضہ کرلیا جبکہ یہ معاملہ تاحال عدالت کے پس زیر سماعت بھی ہے۔ کمپنی نے عدالتی فیصؒ ے کا انتظار ہی نہیں کیا۔ اس کے علاوہ ایک ہزار ایکڑ زمین سرکاری ہونے کے باوجود اس گاؤں کی ہے۔ یہ پوری آبادی ان 532 ایکڑ زمین کی وجہ سے یہاں بسے ہوئے تھے۔ بلکہ اپنے مال مویشیوں کے چارے اور دیگر ضروریات کے لئے باقی زمین استعمال ہوتی تھی۔ یہ مال مویشی تھر کے لوگوں کا اہم ذریعہ معاش ہے۔ جو زمین براہ راست ڈیم کی ایراضی میں نہیں آتی وہ کھیت بھی اس ذخیرے کی وجہ سے متاثر ہونگے۔ 


کمپنی کی طرف سے یہ بتایا جارہا ہے کہ منصوبے کے لئے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کیا اس کے socio economic impact کا بھی جائزہ لیا گیا؟ اور جو عوامی شنوائی ہوئی اس میں کتنے حقیقی لوگ شریک ہوئے تھے؟ مزید یہ کہ شرکاء تمام معاشی۔ سماجی اور ماحولیاتی اثرات سے کتنے آگاہ تھے؟ کیا انہیں بتایا گیا تھا کہ اس منصوبے کی وجہ سے کیا کیا نقصان دہ اثرات مرتب ہونگے؟ ظاہر ہے کہ پسماندہ علاقے کے دیہیاتی مستقبل کے اثرات سے ناواقف ہوتے ہیں۔ 


کمپنی مسلسل دباؤ کے باوجود بحالیات کی نہیں دے سکی ہے۔ جب کہ دنیا میں جہاں کہیں بھیء اس طرح کے منصوبے شروع کئے جاتے ہیں وہاں پہلے بحالیات کی پالیسی مرتب کی جاتی ہے اور عوام اور حکومت سے اس کی منظوری لی جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مقصد کے لئے پالیسی ہی نہیں بلکہ قانون بنایا جائے۔ کیونکہ اپلیسی کی خلاف ورزی پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ 
ایک اور تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ زمین لئنڈ ایکیوزیشن ایکٹ مجریہ 1884 کے تحت حاصل کی گئی ہے۔ یہ ایکٹ انگریز حکومت نے تب بنایا تھا جب یورپی سامراجی ممالک دنیا بھر میں مختلف ممالک اور ان کے وسائل پر قبضہ کر رہے تھے ان کے حقوق سلب کر رہے تھے۔ مگر ایکسیوں صدی تو لوگوں کے حقوق کی صدی ہے اس صدی میں حقوق سلب کرنا انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ 
معالہ صرف گوڑانو ڈیم کا نہیں بلکہ تھر کے 9000 مربع کلومیٹر کا ہے جہاں بتدریج کوئلے کی کھدائی شروع ہونے والی ہے۔ اگر اینگرو کمپنی گوڑانو کے مقام پر پانی کی نکاسی کرتی ہے تو اس کے قریبی کول بلاک کی کمپنیاں بھی اس ڈیم کو استعمال کریں گی۔ جو کمپنیاں ایسا نہیں کریں گی تو انہیں ایسے آٹھ دس گوڑانو ڈیم بنانے پڑیں گے۔ 


ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور کمپنیاں لوگوں کے حقوق کو تسلیم کریں۔ ان کے نقصانات کا معاوضہ آج کے جدید تقاضوں کے مطابق کریں۔ یہ تاثر غلط ہے کہ تھر کے لوگ ترقی کے مخالف ہیں۔ تھر کے لوگ شیاد کسی اور علاقے کے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ترقی کے خواہان ہیں کیونکہ یہاں پر نصف صدی تک کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔ یہ لوگ ملک کی ترقی کو اپنی ترقی سمجھتے ہیں۔اور حکومت سے بھی یہ فرمائش کرتے ہیں کہ وہ بھی ان کے بارے میں ایسے ہی خیالات رکھے اور اس کا عملی مظاہرہ کرے۔ وہ صرف ترقی میں اپنا حصہ مانگتے ہیں۔ اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ انہیں رعیا نہیں شہری تسلیم کر کے حقوق دیئے جائیں۔


http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/39682/Sohail-Sangi/Charcoal-Project-Par-
Maqami-Abadi-Ke-Tuhafzaat-Aur-Ehtijaj.aspx


No comments:

Post a Comment