Thursday, September 21, 2017

سندھ میں عمران خان کی کتنی گنجائش ہے ؟




سندھ میں عمران خان کی کتنی گنجائش ہے ؟

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کہتے ہیں کہ پنجاب کے بعد اب سندھ کی باری ہے۔نواز شریف حکومت کے خلاف عمران خان کی مہم پاناما مقدمے کے عدالتی فیصلے کے بعد اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ عدلیہ نی میاں صاحب کو امین اور صادق نہیں سمجھا اور انہیں نااہل قرار دے دیا ۔ عدلیہ نے ان کی نظر ثانی کی درخواست بھی مسترد کردی ہے۔ لیکن سابق وزیراعظم لندن میں ہیں جہاں ان کی بیگم کلثوم نواز زیر علاج ہیں۔ جبکہ نیب نے نواز شریف کے خلاف کرپشن کے الزامات میں احتساب عدالت میں چھ مقدمے دائر کر دیئے ہیں۔ جن کی ابھی سماعت ہونا باقی ہے۔ 



عمران خان گزشتہ انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات میں تمام تر احتجاجوں اور دھرنوں کے باوجود نواز شریف کو نہیں ہٹا سکے۔ لیکن پاناما لیکس کی صورت میں نواز شریف کے خلاف انہیں پکا پکایا مسالہ مل گیا۔نواز حکومت کے خلاف مہم میں جان پڑ گئی۔ ایک بار پھر دھرنے اور احتجاج ہوئے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ تمام تر احتجاج نواز حکومت کو ہٹا نہ سکے۔ البتہ ان احتجاجوں کے نتیجے میں یہ ضرور ہوا کہ عدلیہ نے خاص طور وفاقی دارالحکومت میں امن ومان اور انتظام کاری کا نوٹس لیا۔ یوں یہ معاملہ عدالت میں چلا گیا۔عدالت نے جے آئی ٹی کے ذریعے ثبوت کٹھے کئے، اور انہیں نااہل قرار دے دیا۔ 


پہلے یہ جنگ صرف پنجاب میں یعنی جی ٹی روڈ پر لڑی جارہی تھی۔ اب عمران خان نے اعلانیہ طور پر سندھ کے حکمرانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اگرچہ پیپلزپارٹی پہلے بھی عمران خان کے نشانے پر رہی ہے۔ لیکن ان مین ٹارگیٹ نواز شریف تھے۔ عمران خان بیک وقت دو جھگڑے کرنا نہیں چاہتے تھے۔ 
عمران خان نے 2016 میں سندھ میں مہم کا آغاز یہ کہہ کر کای کہ ’’ سندھ کے عوام کوحکمرانوں پر اعتماد نہیں۔‘‘ اور اب ان کی تال اونچی ہے۔انہوں نے سندھ کے عوام سے براہ راست اپیل کی ہے کہ وہ ’’سڑکوں پر آئیں اور فرعونوں کو مار بھگانے میں ان کا ساتھ دیں۔ ‘‘



سال رواں کے ماہ اپریل میں عمران خان نے لاڑکانہ، دادو اور بدین کا اور اگست میں سکھر کادورہ کیا تھا۔ لاڑکانہ ذوالفقار علی بھٹواور بینظیر بھٹو کا آبائی ضلع ہونے کی وجہ سے پیپلزپارٹی کا قلعہ اور اہم مورچہ سمجھا جاتا ہے۔ ایم آرڈی تحریک کے دوران دادو ، بدین، ٹھٹہ،اور نواب شاہ میں بھرپور مزاحمت ہوئی۔ دادو بھرپور جمہوری روایات کا حامل رہا ہے۔ضیاء کے مارشل لاء دور میں میہڑ اور دوسرے مقامات پر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والوں کے درمیاں جھڑپیں بھی ہوئی تھی جس میں مظاہرین مارے بھی گئے تھے۔ اس لئے اس کو لٹل ویت نام دیاگیا۔ 1983 میں جب ایم آرڈی کی تحریک چلی، میہڑ ایک چھوٹا قصبہ تھا۔ مارشل لاء کے خلاف اتنی شدت دیکھ کر وقت کے آمر ضیاء الحق کو اس چھوٹے شہر میں کرفیو لاگو کرنا پڑا۔ 


پیپلز پارٹی ماضی میں دادو میں ایک بڑی سیاسی قوت رہی ہے ۔ دادو کی دوسری شناخت جیئے سندھ کے بانی جی ایم سید ہیں ۔جن کے قوم پرستی کے فکر نے سندھ کو متاثرکیا۔ ان کا تعلق بھی اس ضلع سے تھا۔ لیکن سیاسی طور پراس وقت تبدیلی آئی جب عبدالحمید جتوئی نے پہلے ضیاء کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیکر قومی اسمبلی میں اپنی شناخت پیدا کی۔ اور بعد میں جی ایم سید کی آشیرواد سے وہ سندھ کے قوم پرستوں کے اتحاد سندھ قومی اتحاد کے چیئرمین ہو گئے۔ 1983 یعنی ایم آرڈی کی تحریک کے بعد یہاں بہت کچھ تبدیل عبدالحمید جتوئی خاندان نے ضیاء، جونیجو اور بعد میں نواز شریف کے دور میں دادو کے ذریعے سندھ کی سیاست کو اسٹبلشمنٹ کی سیاست سے جوڑنے کا کامیاب تجربہ کیا ۔


عمران خان کا اپریل کا دورہ سندھ کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔اس دورے کے دوران لیاقت جتوئی جو گزشتہ انتخابات کے موقع پر نواز شریف کے ساتھ تھے، انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ لیاقت جتوئی گزشتہ سال پیپلزپارٹی میں شامل ہوتے ہوتے رہ گئے، کیونکہ مقامی سطح پر ان کی مخالفت کی گئی۔دادو شہر میں ضیاء کے دورے کے دوران گدھے پر ضیاء الحق کا نام لکھ کر ان کے کارواں کے سامنے چھوڑ دیا گیا تھا۔ اسی دادو شہر میں گزشتہ انتخابات میں صرف 724 ووٹ اٹھانے والی تحریک انصاف کے لئے اتنی گنجائش نکل آئی کہ عمران خان کے دورے کے دوران شہر کے ٹھیلوں، رکشاؤں اور بجلی کے کھمبوں پر تحریک انصاف کے جھنڈے نظر آئے۔ 


اس عوامی منظر سے ہٹ کر صورتحال کچھ اس طرح ہے ۔ گزشتہ انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ 232 میں پیپلزپارٹی کے امیدوار رفیق جمالی نے 76 ہزار ووٹ لئے جبکہ ان کے مدمقابل لیاقت جتوئی کے بیٹے کریم جتوئی نے 56 ہزار ووٹ اٹھائے۔ دادو ضلع کی دوسری نشست پر لیاقت جتوئی نے 65 ہزار ووٹ لئے تھے اور پیپلزپارٹی کے امیدوار نے ایک لاکھ دس ہزار ووٹ لئے۔
سابق وزیراعلیٰ سندھ لیاقت جتوئی کی تحریک انصاف میں شمولیت کو بڑا واقعہ
 قرار دیا گیا تھا۔ لیکن ان کی تحریک انصاف میں شمولیت بھی صوبے میں پارٹی کو سرگرم نہیں کر پائی۔ 



عمران خان پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کو ہٹانے کے معاملے میں کتنے سنجیدہ ہیں؟ اس کا اندازہ سیاسی بیانوں سے نہیں لگایا جاسکتا۔آصف زرداری اور پارٹی کی دوسری قیادت کے بارے میں صرف عمران خان کی سنجیدگی کافی ہیں۔ بلکہ اصل مقتدرہ حلقے کیا چاہتے ہیں وہ اہم ہے۔ بہرحال تحریک انصاف کی سندھ میں اس مہم کو پیپلزپارٹی اپنے اوپر سیاسی حملہ سمجھتی ہے ۔ اور اب دادو سمیت دیگر حساس مقامات پر سرگرم ہو گئی ہے۔ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دادو میں ایک بڑا جلسہ کیا۔ 


سندھ کی صورتحال کو پیپلزپارٹی کچھ اس طرح سمجھتی ہے کہ سندھ کسی بھی طور پر اس کے ہاتھ سے جانے نہ پائے۔ کوئی الیکٹ ایبل پارٹی سے باہر نہ رہ پائے۔ اس کے لئے مختلف آپشنز اختیار کئے گئے۔ پرانے سیاسی ورکر اور سیاسی وابستگیوں رکھنے والے افراد پرانی سیاسی جماعتوں یا گروپوں کے ساتھ کھڑے ہونگے۔ ماضی میں مختلف تحریکوں کا حصہ رھنے کی وجہ سے ان کی اپنی سیاسی سوچ اور فکر ہے۔ اس لئے وہ خود کو تحریک انصاف کے خانے میں فٹ نہیں سمجھتا۔ البتہ 18 سے 35 سال کی عمر رکھنے والوں کے لئے تحریک انصاف میں کشش ہو سکتی ہے۔ یہ وہ حلقہ ہے جس کو سیاسی زبان میں نوجون ووٹر کہا جاتا ہے۔ 


سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ پنجاب، اور خیبر پختونخوا میں یہ تاثر بنا ہے کہ عمران خان نوجوان اور نئے طبقے کا نمائندہ اور رہنما ہے۔ جو کہ سیاسی طور کنوارا یا سیاست میں ترجمانی سے محروم ہے۔ اس کے توڑ کے طور پر آصف علی زرداری نے یہ بیانیہ بنایا کہ عمران خان نہ نوجوان ہیں اور نہ ہی نوجوانوں کے لیڈر۔ نوجوانوں کے لیڈر بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ انہوں نے ایسا بیان بھی دیا۔ اوراس اعلان کے بعد سندھ کے شہروں میں نوجوانوں کے لیڈر بلاول بھٹو کے پینافلیکس لگ گئے۔ ان پر بلاول بھٹو کی تصویر کے ساتھ مقامی قیادت کے فوٹو بھی چپکادیئے گئے۔ 


پیپلزپارٹی نے دوسری چال یہ چلی کہ سندھ اسمبلی میں عمران خان کے خلاف قرارداد مظور کرالی۔ اگرچہ یہ قرارداد نواز لیگ کی سورٹھ تھیبو نے پیش کی تھی، اور اس پر شور ایم کیو ایم نے کیا تھا، لیکن منظور پیپلزپارٹی نے کی۔ اس قرارداد کے ذریعے پیپلزپارٹی یہ پیغام دینے میں کامیاب ہو گئی کہ صوبے کی مین اسٹریم پارٹیاں تحریک انصاف کے خلاف ہیں۔ 


ماضی میں عمران خان کا محور رکراچی رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کراچی کا نان ایم کیو ایم ووٹ اور ایم کیو ایم کے اندر توڑ پھوڑ کے نتیجے میں یہ خلاء وہ بھر لیں گے۔ مگر انہیں باقی سندھ سے نمائندگی بھی چاہئے اور حوالہ بھی چاہئے۔ عمران خان کی حکمت عملی یہ بنی ہے کہ جلسوں اور جلوسوں کے ذریعے وہ سندھ کے نوجوان اور نئے طبقے کو سڑکوں پر لے آئے اور سیاسی شو کرے۔ اس شو کی بنیاد پر پیپلزپارٹی باہر یا اس سے ناراض اور مخالف الیکٹ ایبل کوپارٹی میں لے آئے۔ فی الحال وہ سندھ کے قوم پرستوں سے بات کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔عمران خان سندھ کا دورہ کرتے ہیں تو سرگرمی ہے ورنہ پارٹی خاموش ہے۔ یہاں تک کہ صوبائی اور مقامی قیادت کسی صوبائی یا مقامی مسئلے پر سرگرمی دکھانے کے لئے تیار نہیں۔ 


نواز شریف اور عمران خان دونوں کی سندھ میں دلچسپی کی سطح ایک جیسی ہے البتہ حکمت عملی میں تھوڑا فرق ہے۔ دونوں اس پر متفق ہیں کہ پیپلزپارٹی سے باہر ایلکیٹ ایبل کوپارٹی میں لے آئیں یا اپنی چھتری کے نیچے جمع کریں، صوبائی یا مقامی سطح کے مسائل پر خاموشی رہیں۔ ناز شریف نے کبھی بھی لوگوں کو سڑکوں پر آنے کی اپیل نہیں کی، اور نہ ہی کبھی سندھ کے لوگوں سے براہ راست مخاطب ہوئے۔ اس کے برعکس عمران خان نے لوگوں کو فرعون بھگانے کے لئے سڑکوں پر آنے کی اپیل کی ہے۔ عمران خان کی یہ اپیل دراصل متوسط طبقے کے لئے ہے۔ سندھ کے متوسط طبقے کا کردار گزشتہ پانچ سات برسوں سے زیر بحث ہے۔ اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ سندھ کا متوسط طبقہ اور کراچی کو چھوڑ کر باقی شہری آبادی کیا سیاسی رویہ رکھتی ہے۔


سندھ میں ایک اور بڑی تبدیلی آئی ہے۔ کراچی کے قصے کو ایک طرف رکھ کر باقی سندھ میں بھی شہری آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ چھوٹے چھوٹے شہر بڑے ہو گئے ہیں ۔یہاں تک کہ بیس پچیس سال پہلے جو سائیز ضلع ہیڈکوارٹر کا تھا اسی سائیز کے پانچ سات شہر ہر ضلع میں بن گئے ہیں۔ لوگ دیہی علاقوں سے شہرو میں منتقل ہوئے ہیں۔ یہ آبادی جو شہری شمار ہوتی ہے لیکن یہ نیا شہری طبقہ ابھی تک اپنی سیاسی شناخت نہیں بنا سکا ہے۔وہ ابھی تک اپنی پرانی سوچ پر ہی کھڑا ہے۔ جس پر دیہی اپر کلاس ھاوی ہے۔ شہروں کو دیہی اپر کلاس کی چھاپ اور حاوی ہونے نے سندھ کے مجموعی رول کو کم کردیا ہے۔پیپلزپارٹی نے اس چھاپ اور بالادستی کو مزید مضبوط کردیا ہے۔


سندھ کے تعلیم یافتہ طبقے یا بیس پچیس سال قبل بڑے شہروں میں منتقل ہونے والے طبقے کی سوچ اور رول کرپشن کی طرف مائل ہے۔ وہ ہر حکمران کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور اور کرپشن میں اپنی حصہ داری کرتا ہے۔ 


اس منظر میں پیپلزپارٹی مخالف رائے اور ووٹ کو یکجا کرنا ناممکن نہ سہی ، پر مشکل ضرور ہے۔ عمران خان کے وقفے کے ساتھ سندھ کے دورہ کرنے یا ایلیکٹ ایبل کو اپنے ساتھ کرنے سے سندھ کی بنیادی سیاست ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکے گی۔ 


Space for Imran Khan in Sindh 
Sohail Sangi Column 
Nai Baat Sep 19, 2017
PTI, Nawaz Sharif, Panama Case, MRD, PPP, Liaquat Jatoi, G M Syed, MQM

No comments:

Post a Comment