Tuesday, September 5, 2017

بینظیر بھٹو قتل کیس کے کچھ فراموش کردہ پہلو




  بینظیر بھٹو قتل کیس کے کچھ فراموش کردہ پہلو
میرے دل میرے مسافر ۔ ۔ سہیل سانگی 


دس سال کے بعدسابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر تمام حلقوں سے عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس ہائی پروفائل کیس کے فیصلے میں نہ اصل مجرم بے نقاب ہوئے اور نہ ہیقانونی طور پر قتل کی وجہ کا تعین ہوسکا۔ پانچ طالبان کو بری کردیا گیا ہے ۔ ان کی حفاظت کے لئے مامور دو سینئر پولیس افسران کو مطلوبہ حفاظت نہ فراہم کرنے اور وقوعہ کی جگہ دھو کر شواہد غائب کرنے کے الزام میں سزا سنا دی گئی۔ جبکہ سابق فوجی مر پرویز مشرف کوبھگوڑا قرار دیا گیا ہے۔ تنقید کا نشانہ عدالت بن رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ استغاثہ نے کیس ہی کمزور بنایا تھا۔ ممکن ہے کہ حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل میں جائے، اور وہاں پر مضبوظ کیس اور دلائل پیش کرے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سزا یافتہ دو ملزمان اپیل میں جائیں۔ اور کمزور کیس کے باعث رلیف حاصل کرلیں۔ 



محترمہ کا یہ مقدمہ کئی سانحات میں لپیٹا ہوا ہے۔ سب سے بڑا سانحہ کمزور فوجداری عدالتی اور پولیس نظام ہے۔ جو سابق وزیراعظم کے قتل کا منصوبہ سازوں کی شناخت کرنے اور ان کو گرفت میں لانے میں ناکام رہا۔ مشرف حکومت بھی ذمہ دار ہے کیونکہ وہ بینظیر بھٹو کی حفاظت کو مذاکرات اور مصالحت کے آلہ کے طور پر استعمال کررہی تھی۔ 



ایک اور بھی حقیقت ہے کہ قتل کے چند ہی ماہ بعدپیپلزپارٹی نے 2008 میں انتخابات جیتے۔ پارٹی نے سیاست بازی کے ذریعے اقتدار سے تو محروم کردیا لیکن بی بی کے قتل کے ملزمان کی شناخت اور ان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔ پارٹی اس ضمن میں یہ دلیل دیتی ہے نوزائیدہ جمہوریت کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر سکی۔ لیکن یہ عذر لنگ محسوس ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی مرحلے پر پیپلزپارٹی کی قیادت اپنی لیڈر کا قتل کیس اس کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔ اگرچہ آصف علی زرداری نے ایک سے زائد مرتبہ کہا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ بی بی کے قاتل کون ہیں۔ بی بی ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں۔ لیکن یہاں تو قاتلوں کی صحیح طور شناخت بھی نہیں کی جا سکے۔ زرداری صاحب نے کبھی ق لیگ کو قاتل لیگ بھی کہا تھا۔ لیکن انتخابات کے بعد اسی قاتل لیگ کو اپنی حکومت میں شامل کیا۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اقتدار کی خاطر پارٹی قیادت اپنی لیڈر کے قتل کو بھول گئی۔ 



یقیننا سابق وزیراعظم کا قتل ایک سازش تھا۔ اس فیصلے کے بعد لگتا ہے کہ اس سازش پر سے اب کبھی بھی پردہ نہیں اٹھ سکے گا۔ قتل کے فورا بعد یہ تھیوری آئی کہ انہیں القاعدہ کے ایما اور بیت اللہ محسود کے حکم پر تحریک طالبان نے قتل کیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر قتل کے ذمہ دار بیت اللہ محسود اور ان کے ساتھی تھے کیا ان حالات میں پرویز مشرف اور القاعدہ یا بیت اللہ محسود کے مابین کوئی رابطے تھا ؟ 



حالات اور واقعات بتاتے ہیں کہ تمام ثبوت اس رخ میں جارہے ہیں کہ پرویز مشرف ہی اس کیس کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے امریکی سیکریٹری ساتھ بے نظیر بھٹو کی حفاظت کے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے۔ ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کیا۔ ان کی وطن واپسی پر انہیں مناسب سیکورٹی فراہم نہیں کی۔ سانحہ کار ساز کی تحقیقات میں بھی پرویز مشرف سنجیدہ نہیں تھے۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق پرویز مشرف کی حکومت کے پاس پنڈی میں محترمہ پر ممکنہ حملہ کی اطلاع تھی ، لیکن انہوں نے صرف احتیاطا اطلاع محترمہ تک پہنچائی۔ لیکن ان کی حفاظت کے لئے فول پروف انتظامات نہیں کئے۔ جائے وقوعہ کو فوراً دھویا گیا۔

قتل کے بعد مشرف حکومت نے تحقیقات کرنے میں اور مجرموں کو گرفت میں لانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ ملک کے ماحول کو انتخابی مہم میں تبدیل کردیا اور پیپلزپارٹی بھی اس مہم میں لگ گئی۔ 

انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی حکومت میں آئی۔ لیکن اس نے بے نظیر بھٹو کی قتل کی تحقیقات اور پیروی میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے تحقیقاتی ادارے اور اقوام متحدہ کے کمیشن کا ڈرامہ رچایا۔ اسمبلی میں قرارداد پیش ہوتی رہی۔ لیکن ان تحقیقاتوں کو بھی پارٹی قیادت خاطر میں نہیں لے آئی۔ جب تک مشرف پاکستان میں رہے ، زرداری صاحب نے محترمہ کے قتل کے معاملے میں ایک بار بھی ان کی طرف انگلی نہیں اٹھائی۔ لیکن ان کے جانے کے بعدباتیں شروع کیں۔ 
واشنگٹن میں بینظیر کے لیے لابنگ کر نے والے امریکی صحافی اور لابیئسٹ مارک سہگل پردے کے پیچھے امریکی سیکریٹری خارجہ، مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان جاری ڈپلومیسی سے آگاہ تھے۔ مارک سہگل نے ویڈیو لنک پر عدالت قلمبند کراتے ہوئے کہا تھا کہ پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کو واپس وطن آنے سے منع کیا تھا۔ اور کہا تھا کہ وہ اگر پاکستان آئیں ، ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 25 ستمبر 2007 کو انہیں بینظیر بھٹو نے ایک ای میل بھیجی تھی جس میں محترمہ نے کہا تھا کہ پرویز مشرف نے انہیں ُ ’پاکستان آنے پر بدترین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ ‘‘ مشرف نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی حفاظت کا انحصار ان دونوں کے درمیان تعلقات پر ہے۔ بینظیر نے یہ بھی کہا تھا کہ اسے اگر کچھ ہوا تو اس کے لئے مشرف کو ذمہ د ار ٹہرایا جائے۔ 



امریکی اداروں اور اہلکاروں کے حوالے سے وہاں کے اخبارات کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ محترمہ پر امریکی سیکریٹری خارجہ کونڈی رائیس نے دباؤ ڈالا کہ وہ واپس وطن جائیں۔اور صدر مشرف ان کی حمایت کر سکتے ہیں ان کا موقف بے نظیر کے تجزیہ کے بر عکس تھا۔



تعجب کی بات ہے کہ استغاثہ کی جانب سے امریکہ ور مشرف بینظیر کے درمیان جاری مذاکرات کو کے بارے میں امریکی اداروں کی ان تمام رپورٹس کو حساب میں نہیں لیا گیا۔امریکی صحافی روبن رائیٹ اور گلین کیسلر نے 27 دسمبر کو لکھا کہ بینظیر کی وطن واپسی کو آخری شکل وطن کے لیے روانگی سے ایک ہفتہ پہلے کونڈی لیزا سے فون پر بات کے دوران دی گئی تھی۔یہ فون کا ل ایک سال سے زائد عرصے تک جاری خفیہ ڈپلومیسی کا نتیجہ تھی۔ اور اس ڈپلومیسی کو اس وقت سامنے لایا گیا جب امریکہ نے یہ فیصلہ کیا پاکستان کی طاقتورسیاسی خاندان کی فرد واشنگٹن کے اتحادی اس ملک کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بیل آؤٹ کر سکتی ہے۔



نیوزویک کے مضامین سے پتہ چلے گا کہ رائیس کونڈی بینظیر اور مشرف ٹیم کو مثالی سمجھتی تھی۔ اور کنڈی نے بے نظیر بھٹو کو راضی کیا کہ وہ واپس پاکستان جائیں اور مشرف کے ساتھ ٹیم بنائے۔ مگر جب وہ وطن پہنچی تو مشرف کا عمل، بے نظیر کی چھٹی حس اور زمینی حقائق یہ تھے کہ یہ سب بش انتظامیہ کی خام خیالی تھی اور رائیس کے اقدامات دیوانے کا خواب تھے۔ 



رائیس اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ڈیل میں ان افواہوں کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہونے لگیں کہ مشرف صدارتی اتخابات کے بعد وردی اتارینگے۔اور وہ آرمی چیف کا عہدہ رکھنے کا ساتھ ساتھ صدرارتی اتنخاب لڑینگے۔بینظیر نے مجھے بتایا کہ جنرل مشرف ایسا نہیں کرینگے۔ اور یہ بھی کہا کہ میں یہ سمجھونگی کہ امریکی حکومت بیچ میں ضامن ہے۔ رائیس کے مطابق ڈیل کا 4 اکتوبر کو اعلان کیا گیا۔ جب 18 اکتوبر کو بینظیر بھٹو وطن لوٹیں تو ان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور انکے استقبالی جلوس میں دو دھماکے ہوئے۔ان کی تو جان بچ گئی مگر 140 افراد ہلاک ہوگئے۔رائیس کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر ڈک چینی مشرف کے حق میں تھے۔ 



امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کونڈی نے ایک مرتبہ پھر بینظیر کو حفاظت کی یقین دہانی کرائی اور مشرف کو اپنا وعدہ ایفا کرنے کے لیے سرگرم ہوگئیں کہ بینظیر کی حفاظت ضروری ہے۔ وطن پہنچنے کے بعد بینظیر نے رائیس کو آگاہ کیا کہ وہ خطرے میں ہیں ۔ان کی وطن واپسی پر استقبالی جلوس میں ان پر خودکش بمبار نے قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ نیوزویک نے لکھا کہ سانحہ کارساز کے بعد بینظیر نے مشرف پر سیکیورٹی فراہم نہ کرنے کا الزام لگایا ۔ واشنگٹن میں انتظامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ رائیس نے ذاتی طور پر مشرف پر زور دیا کہ وہ بینظیر کو کم از کم ایسی سیکیورٹی فراہم کریں جو ان کے وزیراعظم کو حاصل ہے۔ کونڈی اور ان کی ٹیم کی بڑی دلچسپی تھی کہ وہ القاعدہ یا دوسرے ایسے دہشتگردوں پر الزام عائد کریں تاکہ انتظامیہ کے اس فیصلے سے توجہ ہٹا سکیں کہ انہوں نے بینظیر کو بھیڑیوں کے نرغے میں ڈال دیا ہے۔



عدالتی کارروائی جاری رہی۔مقدمے میں استغاثہ کے 68 گواہ پیش ہوئے۔ پولیس نے تین چالان پیش کئے۔ جبکہ ایف آئی اے نے پانچ چلان پیش کئے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران اس انسداد دہشتگردی عدالت کے آٹھ جج تبدیل ہوئے۔ 2013 میں مقدمے میں ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر کو قتل کردیا گیا۔ انہیں سینے مین دس گولیاں داغ دی گئی تھی۔ 



بالاآخر گز عدالت نے فیصلہ سنا دیا ۔ پولیس افسران کو تحقیقات کے ضمن میں غفلت کا مرتکب قرار دیاجاسکتا ہے لیکن بہر حال ان کا جرم یا اس کی منصوبہ بندی میں کوئی ہاتھ نہیں۔حاکم وقت جنرل پرویز مشرف کو ایسی سزا نہیں سنائی گئی۔ اپنی زندگی میں جنرل پرویز مشرف کی طرف محترمہ نے پہلے بھی اشارے کئے تھے۔اسی طرح اس وقت کے وزیراعظم اور وزیرداخلہ کا بھی کوئی ذکر نہیں۔ دوسری طرف جن ملزمان کو بری کردیا گیا ہے ان میں ایک وہ بھی ہے جو خودکش جیکٹ سمیت گرفتار ہواتھا۔ حیرت کی بات ہے کہ جو خود کش جیکٹ کے ساتھ گرفتار ہوئے وہ بری ہو گئے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ سازش صرف دو پولیس افسران نے تیار کی تھی؟ 



روزنامہ نئی بات کالم 

بینظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ

No comments:

Post a Comment