میرے دل میرے مسافر ۔ سہیل سانگی
سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کے رہنما پر قاتلانہ حملے میں یونیورسٹی ایک طالب علم کے ملوث ہونے کی اطلاع نے سندھ کی یونیورسٹیز میں خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ کراچی کی دو بڑی سرکاری یونیورسٹیز کی انتظامیہ نے الگ الگ اجلا س وں میں طلباء میں جنگویانہ رجحانات سے نمٹنے کے لئے اقدامات پر غور کیا۔ اس واقعہ اور میڈیا میں چرچے سے تمام جامعات کی عمومی اور کراچی یونیورسٹی کی خصوصی طور پر ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
پہلے سندھ یونیورسٹی بدنام ہوئی۔ سوال یہ بھی ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے لئے صرف سندھ کی سرکاری اعلیٰ تعلیمی اداروں کو کیوں چنا گیا ہے؟ کیا اس طرح کے اکادکا واقعات ملک کے دوسرے علاقوں کے جامعات میں نہیں ہوتے؟
ایک بار پھر ملک کی سرکاری یونیورٹیز میں انتہا پسند ذہن پیدا کرنے کا سوال سامنے آیا ہے۔ اس مرتبہ یہ سوال وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ لے آئے ہیں۔ اس سے قبل اعلیٰ تعلیمی اداروں میں انتہا پسند ذہن کی نشاندہی پر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سربراہوں کی آرمی چیف اور متعلقہ ڈویزنل ہیڈ کوارٹرز میں اسٹیشن کمانڈرز کے ساتھ ملاقاتیں بھی ہوئی تھی۔ انسداد دہشتگردی کے ادارے نے یونیورسٹیز کے سربراہان اور انتظامیہ کے بعض سیمنار منعقد کئے۔ ان ملاقاتوں اور سیمیناروں میں کیا تجاویز اورنکات سامنے آئے ان پر کتنا عمل کیا گیا؟ اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
کراچی یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل ، اساتذہ اور انتظامیہ کے مشترکہ اجلاس میں طلباء کی رجسٹریشن اور داخلہ کے وقت پولیس سیکیورٹی کلیئرنس کو لازمی بنانے اور دیگر تجویز پر غور کیا گیا۔ پولیس کلیئرنس سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا کیونکہ پولیس کی اپنی ساکھ مشکوک ہے۔ اب داخلہ کمیٹی کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ اس ضمن سفارشات مرتب کرے۔ دریں اثناء کراچی یونیورسٹی نے طلباء کی سیکیورٹی کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تجاویز اور فیصلے صوبے کی باقی یونیورسٹیز کے لئے رہنما اصول بن جائیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ صوبے کی یونیورسٹیوں میں طلباء کے اندر انتہا
پسندانہ رجحانات کو چیک کرنے کے لئے سیکیورٹی آڈٹ اور تصدیق کا نظام نافذ کیا جائے گا۔
سنیٹ کے چیئر مین رضا ربانی نے کراچی یونیورسٹی کے وائیس چانسیلر کو خط لکھ کر یونیورسٹی طلباء کا ریکارڈ تصدیق کے لئے خفیہ اداروں کو دینے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سے طلباء کے ذہنوں میں مزید تشویش، خوف، بے چینی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں انتہا پسندی کے رجحانات کے لئے نصاب پر مکمل طور پر نظر ثانی کی جائے اور طلبہ یونیوں کی بحالی سے متعلق سنیٹ کی قرارداد پر عمل کیا جائے۔
یونیورسٹیز کے سنیئر اساتذہ طلباء میں بڑھے ہوئے جنگجو رجحانات کو صرف جامعات تک محدود نہیں سمجھتے جس طرح سے میڈیا یا بعض اداروں کی طرف سے چرچہ ہو رہا ہے۔ کراچی یونیورسٹی اساتذہ کی انجمن کے صدر ڈاکٹر شکیل فارقی سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی تیس سالہ تدریسی ذمہ داریوں کے دوران طلباء میں جنگجو پسندانہ رجحانات نہیں دیکھے۔ ہاں بعض اکا دکا کیس میڈیا میں رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کے کیس میں ابتدائی ذریعہ پولیس ہوتی ہے۔
کراچی یونیورسٹی کے آسپاس غیر قانونی زمین پر قبضے کو بھی دیکھنا چاہئے۔ گزشتہ برسوں کے دوران یونیورسٹی کے دو اساتذہ قتل ہو چکے ہیں ۔ بعد میں پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کا دعوا کیا۔ بڑے ملزم کو بعد عدم شواہد کی بنیاد پر میں عدالت نے بری کر دیا۔ ملتی جلتی صورتحال سندھ یونیورسٹی کی بھی ہے۔ جہاں پر ایک استاد کو کیمپس میں قتل کیا گیا۔ اور یونیورسٹی کی زمین پر لینڈ مافیا نے قبضہ بھی کیا۔ یہاں تک کہ تین سال قبل اس غیر قانونی قبضے کے خلاف وائیس چانسلر کی قیادت میں اساتذہ نے شہر میں جلوس بھی نکالا لیکن یہ قبضہ تاحال برقرار ہے۔
وفاقی اوردو یونیورسٹی کراچی کے وائیس چانسلر کی رائے ہے کہ معاملے کو ریاست کی سطح پر لینا چاہئے۔ ہمارے پاس طلباء کے بارے میں جو معلومات ہے وہ نادرا کے پاس بھی ہے ۔ طلباء کی دن بھر کی سرگرمیوں کو اساتذہ کیسے مانیٹر کر سکتے ہیں؟ یہ میڈیا کا کھڑا کیا ہوا قصہ ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔
اعلیٰ تعیمی اداروں کے طلباء کی جنگجو سرگرمیوں میں شمولیت کوئی نئی بات نہیں۔ صفورا ں گوٹھ واقعہ کا ملزم سعد عزیز انسٹی ٹیوٹ آف بزنیس ایڈمنسٹریشن کا طالب علم تھا۔ نورین لغاری لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو کی طالبہ تھی۔ جنہیں داعش کے ساتھ رابطے کا ملزم قرار دیا گیا۔
انسٹی ٹیوٹ آف بزنیس ایڈ منسٹریشن کے زیر اہتمام اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلابء میں جنگجو پسندانہ رجحانات کے موضوع پر ایک سمینار میں محکمہ انسداد دہشتگردی کے ایک اعلیٰ افسر عامر فاروقی نے صفوراں گوٹھ واقعہ کے ملزم سعد عزیز کی کیس اسٹڈی پیش کی۔ جس کے مطابق سعد عزیز شروع میں وہ گھریلو اثر کی وجہ سے مذہبی ہوا تھا۔ ان کی والدہ کو مذہبی خطبوں میں دلچسپی تھی۔اور اس طرح کی تقریبات وہ اپپنے گھر پر بھ منعقد کرتی تھیں۔ ان پر مذہبی غلبہ اس وقت ہوا جب وہ محبت میں ناکام ہوا۔
ملزم کا نفسیاتی تجزیہ بتاتا ہے کہ سعد عزیز کی ذہنی بے چینی بچپن میں نظراندازی تھی۔ سعد نے بعض لوگوں کے کہنے پر قرآن مجید کی تفسیر پڑھی اور عمرہ کیا۔ اور پھر تبلیغی جماعت میں شامل ہو گیا۔ سعد کی ملاقات تنظیم اسلامی کے ڈاکٹر اسرار احمد کے قریبی ساتھی علی الرحمان سے ایک انٹرن شپ کے دوران ہوئی جہاں مختلف ممالک کے نوجوان شامل تھے۔ علی نے انہیں بعد میں حارث نامی ایک شخص سے ملاقات کرئی جس کا تعلق القائدہ کے احمد فاروق گروپ سے تھا۔ یہ وہ نقطہ تھا جہاں سعد عزیز دہشتگرد سرگرمیوں میں ملوث ہو گیا۔ اور اس نے القائدہ کا میڈیا سیل چلانا شروع کیا۔ وہ چار ماہ کے لئے افغانستان گیا۔ جہاں پر شاید دہشتگرد کارروایوں کی تربیت حاصل کی ہو۔ بعد میں اس نے داعش میں شمولی اختیار کی۔
پولیس افسرفارقی کا ماننا ہے کہ جب عدم تحفظ، امتیاز، اور نا انصافی ہو، لوگ قانون اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں۔ مردان یونیورسٹی میں ایک طالب علم مشال کی پر تشد د واقعہ میں قتل کا حوالہ دیتے ہوئے واقعہ کے پیچھے کسی ایک سبب کو ڈھونڈنا فضول ہوگا۔ ہمارا معاشرہ عدم برداشت، سے بھرا ہوا ہے۔ ہمارے معاشرے میں آبادی کے کئی حصے حقوق سے محروم ہیں۔ جب وہ سرکاری اداروں سے انصاف حاصل نہیں کر پاتے، وہ دوسرے راستے اختیار کرتے ہیں۔ اس کیس اسٹڈی نے متعدد سوالات پیدا کر دیئے ہیں۔ بچوں کی تربیت، معاشرے میں موجود عدم برداشت، سماجی انصاف کی عدم فراہمی اچھی حکمرانی جیسے سوالات بھی اہم ہیں۔ صرف سیکیورٹی اقدامات کے ذریعے اس معاملے کو ٹھیک نہیں کر سکتے۔
یہ درست ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام طلباء میں اتنہا پسندی کی روک تھام یا ان افراد کی جرم کرنے سے پہلے پہچان اورنشاندہی کرنے میں ناکام رہا ہے۔
یونیورسٹیا ں اور تعلیمی ادارے کوئی جزیرہ نہیں جو کچھ دنیا بھر میں ہو رہا ہے یا ہمارے ملک میں ہو رہا ہے یہ ادارے بھی اس سے اثرانداز ہوتے ہیں۔
یونیورسٹیاں اس طرح کے اثرات کو غیر نصابی سرگرمیوں کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یونیورسٹیوں میں طلباء کے ذہنی رجحانات اور معاشرے میں ان کی طلب یا ضرورت کو ملحوظ نظر رکھے بغیرہزاروں کی تعداد میں داخلا دیا جاتا ہے۔ یہ طلباء خود کو نہ یونیورسٹی کے متعلقہ شعبے میں خود کو فٹ سمجھتے ہیں اور نہ ہی پاس ہونے کے بعد معاشرے میں۔ کیونکہ ان کے لئے متعلقہ شعبے میں روزگار کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔
سیکیورٹی کے انتظامات اپنی جگہ پر، لیکن شدت پسندی کے خطرے سے نمٹنے کے لئے طلباء اور یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ کی شرکت کو یقینی بنانا۔ طلباء کو صحتمند سرگرمیوں میں شامل اور مصروف رکھنا از حد ضروری ہو گیا ہے ۔ کیونکہ ذاتی مسائل نوجوانوں اور یونیورسٹی کے طلباء میں بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔
کالعدم تنظیموں کے ساتھ عموما نوجوانوں کو ہی دیکھا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں کو
ایسا بنانا چاہئے کہ نوجوان بندوق کے بجائے قلم اٹھانے کو ترجیح دیں۔
طلباء سماج کی خدمت اور خود کو آگے لانے کے خواب آنکھوں میں سجا کر اعلیٰ تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن وہاں پر انہیں انتہا پسندی کے جال میں پھنسا دیا جاتا ہے۔ اس کی ذمہ داری خود نوجوانوں، والدین، تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور ریاست پر عائدہوتی ہے۔ اس طرح کے واقعہ کو صرف ایک پس منظر میں نہیں دیکھنا چاہئے۔ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ پڑھے لکھے نوجوان کیوں دہشتگردی اور انتہاپسندی کی طرف راغب ہو رہے ہیں؟ ان رجحانات کو کس طرح سے روکا جاسکتا ہے؟ یونیورسٹی اساتذہ اور انتظامیہ کے ذہنی رجحانات کیا ہیں؟ اساتذہ کیا سوچتے ہیں اور وہ کی اپڑھا رہے ہیں؟ کیا سکھا رہے ہیں۔
مذہبی انتہا پسندی کو اتنی چھوٹ دی گئی کہ خود مذہب ایک متناز بن گیا۔ انتہا پسند مذہب کے نام پر جنگجو کارروائیاں کرنے لگی۔
جس طرح یونیورسٹی کی سیکیورٹی ہے اور پاکستانی معاشرہ جس نہج پر ہے وہ یونیرسٹی انتظامیہ کے لئے چیلینج ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی کیا صلاحیت ہے۔
یہ بات تو اچھی ہے لیکن اس پر عمل کیسے ہوگا؟ ریاست کا جارحانہ سخت گیر رویہ ان نوجوانوں کے خلاف نہیں استعمال کرنا چاہئے جن کی مختلف نظریات میں دلچسپی ہے۔ یا اس طرح کی سیاست کرنا چاہتے ہیں جو ریاست کا بیانیہ نہیں۔ توجہ کا مرکز مخصوص ہونا چاہئے کہ مذہبی انتۃا پسندانہ رجحانات کی وجہ سے معاشرہ اور ریاست کے خلاف جو تشدد پیدا ہوتا ہے ۔ کسی طور پر بھی طلباء کی تعلیمی یا تحقیقی آزادی پر بندشیں نہ پڑنی چاہئیں۔ اس طرح کیا قدامات صرف یونیورسٹیوں تک ہی محدود کیوں ہوں؟ سرزمین پر موجودیا آن لائن دہشتگردوں کے نیٹ ورک کی نگرانی کے کیا نتائج برآمد ہوئے؟۔
ایک عشرے سے زائد عرصے تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کے باوجود یہ کیسے ممکن ہو گیا ہے کہ ایک فرد آسانی کے ساتھ شدت پسند گروپ میں شامل ہو جاتا ہے؟ یقیننا جب شدت پسندی پیدا ہوتی ہے تو ریاست کا ردعمل بھی لڑائی کا ہو جاتا ہے۔ اصلی حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ نیٹ ورک بھرتی کے مراکز اور سہولت کار ہیں۔ نئے چیلیجنز کے سامنے آنے کا مطلب ہرگز نہیں کہ طویل اور اصل خطرے سے کوتاہی کی جائے۔
Nai Baat Sep 8, 2017
Militancy at universities by Sohail Sangi
https://www.pakdiscussion.com/sindh-jameaat-aur-shiddat-pasandi-sohail-sangi/

No comments:
Post a Comment