Monday, September 11, 2017

سندھ کی صورتحال اور پیپلزپارٹی


میرا دل میرا مسافر ۔۔ سہیل سانگی سندھ کی صورتحال  اور  پیپلزپارٹی
2013 کے انتخابات کے بعد اپوزیشن میں آنے کے باوجود پیپلزپارٹی مسلسل مفاہمتی پالیسی پر عمل پیرا رہی۔ جس کی وجہ سے پارٹی پر تنقید ہوتی رہی۔ اور پارٹی اور اسکی سندھ حکومت کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی بھی مرحلے پر نواز لیگ کی حکومت اس کی مدد کو نہیں آئی۔پاناما لیکس پر احتجاج، ملک کے اداروں کی اس کیس میں دلچسپی اور عدالت کے بیچ میں آنے کے بعد پارٹی نے اپنی مجموعی پالیسی تبدیل کردی۔لیکن اس کے باوجود پارٹی کی طرف اسٹبلشمنٹ کا رویہ تبدیل نہیں ہوا۔
پاناما لیکس کا مقدمہ سپریم کورٹ میں جانے اور جے آئی ٹی تحقیقات شروع ہونے کے بعد نہ صرف مسلم لیگ نواز بلکہ پیپلزپارٹی بھی دباؤ میں رہی۔ دراصل پیپلزپارٹی اس مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی دباؤ میں تھی۔ رینجرز کے اختیارات، رینجرز اور ایف آئی اہلکاروں کے کی جانب سے صوبائی محکموں پر چھاپے پڑتے رہے۔ سندھ حکومت احتجاج کرتی رہی۔ نواز لیگ کے خلاف تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران پیپلزپارٹی خود کو اس احتجاج سے باہر نہ رکھ سکی۔ اس احتجاج کو اپنی چھتری میں لینے کی کوشش کی اور عوام میں یہ تاثر دیا کہ آئندہ انتخابات میں یہی پارٹی جیتے گی اور حکومت بنائے گی۔ آصف علی زرداری نے یہاں تک کہہ دیا کہ آئندہ صدر بھی ان کی پارٹی کا ہوگا۔

سیاسی اور حکومتی معاملات کے ساتھ ساتھ پارٹی قیادت کے کاروباری معاملات پر بھی چیک رکھا گیا۔ ایک پاور پلانٹ کو گیس کی سپلائی کا معاملہ اٹھا، پھر پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے تین کاروباری پارٹنر پراسرار طور پر لاپتہ ہوئے۔ جنہیں چند ہفتے بعد رہا کیا گیا۔

اس سے قبل محکمہ تعلیم اور بلدیات میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ سید قائم علی شاہ کے وزارت اعلیٰ کے دور سے چل رہا تھا۔ اس معاملے کو سندھ کے نئے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ بھی حتمی طور پر نمٹا نہ سکے۔ سید مراد علی شاہ نے موثرطرز حکمرانی اختیار کیا ۔ ان کی کوشش رہی کہ صوبے کے اندر کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔ جس طرح سے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے دور حکومت میں تھر میں قحط، اور صوبے کے مختلف علاقوں میں امراض مقامی سطح کے مسئلے پیدا ہوتے رہے۔ لیکن پھر بھی بعض مسئلے پیدا ہوگئے۔

مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت کے ساتھ ذرا جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ مثلا صوبے میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ، وفاق سے مالیات میں حصہ بطور مطالبے کے مانگا۔ سندھ حکومت نے اسمبلی سے قانون منظور کرا کے وفاقی ادارے نیب کے متوازی ادارہ بنا لیا، اور وفاقی ادارے نیب کے اختیارات محدود کردیئے۔ اور اس کے ساتھ صوبائی خودخود مختاری کا معاملہ قرار دے دیا۔ یوں پیپلزپارٹی نے وفاق کے ساتھ محاذ آرائی کی صورتحال بنائی۔

دوسری طرف سندھ حکومت کو آئی سندھ پولیس تبدیل کرنے سے روک دیا گیا۔ آئی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ اور حکمران جماعت کے بعض اہم رہنماؤں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی۔ اور حکومت نے ان کا تبادلہ کردیا۔ عدالت سے اختیارات کی بحالی کے بعد اے ڈی خواجہ نے 17 جولائی 2017 کے بعد سندھ پولیس میں کئے گئے تمام تقرریاں اور تبادلے منسوخ کردیئے ہیں۔ اسی تاریخ کو حکومت سندھ کے ایس ایس پیز، اور ایس پیز کے تقرر اور تبادلے کے اختیارات آئی سندھ سے لے لئے تھے۔ گزشتہ چند ماہ سے حکومت سندھ اور اے ڈی خواجہ کے درمیان انتظامی و عدالتی جنگ چل رہی تھی۔ صوبائی حکومت نے ان کا تبادلہ کردیا تھا۔ لیکن انہوں نے اپنے عدہے کا چارج نہیں چھوڑا۔ سول سوسائٹی کے بعض افراد کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کر کے ان کا تبادلہ روک دیا۔ اس عدالتی حکم کے بعد حکومت نے رولز آف بزنیس میں ترامیم لا کرپولیس افسران کے تقرر اور تبادلے کے اختیارات وزیرداخلہ اور وزیراعلیٰ سندھ کے ہاتھ میں دے دیئے۔ صوبے بھر میں عمومی اور دار
الحکومت کراچی میں خصوصی طور امن وامان کے پیش نظرپہلے ہی صوبائی حکومت کی مدد کے لئے رینجرز کو طلب کیا ہوا ہے، حکومت اور صوبائی پولیس سربراہ کے درمیان تنازع سے امن ومان کی صورتحال متاثر ہوئی۔ اب آئی جی سندھ اور صوبائی حکومت کے درمیان تنازع تیز ہوتا نظر آرہا ہیسندھ کے مخلتف شہروں میں پینے کے پانی اور صفائی اور ڈرینیج کے ناقص انتظاما ت کا معاملہ ایک پٹیشن کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں چلا گیا۔عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس اقبال کلہوڑو پر مشتمل مسلسل نگرانی کے لئے کمیشن تشکیل دے دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے اور اس کمیشن کی رپورٹ نے سندھ حکومت کو بہت ہی دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا۔ نتیجے میں صوبے بھر میں خاص طور پر چھوٹے بڑے شہروں اور رائے عامہ بنانے والے حلقوں میں پیپلزپارٹی کے خلاف ایک بیانیہ اور دلیل کے طور سامنے آیا۔ اس بیانیہ سے صوبائی حکومت جان نہیں چھڑاپارہی تھی۔
سندھ میں بعض سیاسی کارکنوں کا معاملہ بھی سیاسی اشو کے طور رپ اٹھا، مجبورا پیپلزپارٹی کو یہ معاملہ سنیٹ میں اٹھانا پڑا۔
ایسے میں مردم شماری کے نتائج کا اعلان ہوگیا جس نے سندھ کو چونکا دیا۔صوبائی حکومت بمع قوم پرست سیاسی جماعتوں کے تحفظات سامنے آگئے۔ لہٰذا صوبے میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف جو بیانیہ چل رہا تھا اس میں تبدیلی آئی، اور سیاسی لڑائی کا رخ وفاق اور پنجاب کی طرف ہو گیا۔

انسدادہشتگردی کی عدالت کے بینظیر بھٹو مقدمہ قتل کے فیصلہ نے ایک بار پھر پارٹی ک دفاعی لائن پر ڈال دیا۔ فیصلے میں تحریک طالبان پاکستان کے پانچ ملزمان کو بری کردیا ۔ دو پولیس افسران کو قید اور جرمانہ کی سزائیں سنائی گئی۔ پرویز مشرف کو بھگوڑا قرار دیا گیا۔ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھڑی کہ پارٹی نے صحیح طور پر مقدمے کی پیروی نہیں کی تھی۔ یہاں تک کہ عدالت میں فیصلے سنانے کے روز پارٹی کا کوئی رہنما عدالت میں موجود نہیں تھا۔

ایک اور معاملہ ایم کیو ایم پاکستان کے سندھ اسمبلی میں رہنما اظہار الحسن پر عید کے روز قاتلانہ حملے میں کراچی یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم کے ملوث ہونے کے بعد سامنے آیا۔وزیراعلیٰ سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں قرار دے رہے ہیں کہ صوبے کی جامعات میں دہشتگرد پیدا ہو رہے ہیں۔ یونیورسٹیز معاشرہ کا حصہ ہیں جس طرح کی صورتحال ہوگی اس کا عکس یونورسٹیز میں بھی آئے گا۔وینیورٹیز اور اہل فکر لوگ اس کو اکادکا واقعہ قرار دے رہے ہیں۔ اور اس کو مجموعی طور پر خراب حکمرانی اور سماجی انصاف سے جوڑ رہے ہیں۔ اس کے پیپلزپارٹی اور اس کی حکومت پر اثرات مرتب ہونگے۔

مختلف اشوز کے ذریعے پیپلزپارٹی مخالف ماحول بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن یہ تمام اشوز کوئی متحد شکل نہیں اختیار کر رہے ہیں اور نہ ہی کوئی ایسی پارٹی یا قیادت موجود ہے جو ان تمام معاملات کو جوڑ کر اس تحریک اور مضبوط بیانے کی شکل دے سکے۔

Nai Baat Sep 12, 2017
Sohail Sangi Column


سندھ کی صورتحال اور پیپلزپارٹی

No comments:

Post a Comment