سندھ میں آہستہ آہستہ انتخابات کے موڈ میں جا رہا ہے۔ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے سربراہوں کے دورے کے بعد صوبائی سطح پر بنے ہوئے اتحاد میں دوبارہ جان ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تقریبا دو سال پہلے سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف جماعتوں ، شخصیات اور گروپوں نے پیپلزپارٹی کے خلاف گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے ایک اتحاد بنایا تھا۔ پیپلزپارٹی مخالف اتحاد میں پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو چھوڑ کر باقی تمام گروپ شامل تھے البتہ قوم پرستوں میں سے ایاز لطیف پلیجو، اور ممتاز بھٹو شامل ہوئے تھے۔
ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کی اتحاد میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے یہ اتحاد صوبے کی شہری آبادی، وہ کواہ اردو بولنے والے ہو یا سندھی، اس سے خالی تھا۔ وسیع تر اتحاد ایک اایسے موقعہ پر بنا تھا جب پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کت درمیان کشیدگی تھی۔ خاص طور پر سندھ میں رینجرز کو پولیسنگ کے اختیارات دینے کا تنازع بحران کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔
نیب نے سندھ کے وزراء اور بعض اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائیاں شروع کردی تھی۔ چوہدری نثار علی خان اس وقت وزیر داخلہ تھے۔ انہوں نے سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ منظر نامہ یہ بن رہا تھا کہ اسٹبلشمنٹ پیپلزپارٹی کے خلاف کوئی قدم اٹھانے والے ہے۔
اس اتحاد میں نواز لیگ کے اسماعیل رہو بھی شامل تھے جنہوں نے ڈیڑھ سال بعد پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ سابق وزیراعلیٰ لیاقت جتوئی، سیدغوث علی شاہ بھی پہلے اجلاس میں موجود تھے۔ لیاقت جتوئی نے بھی رواں سال تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ سید غوث علی شاہ جو بنیادی طور رپ مسلم لیگ کے ہی ہیں، نواز لیگ کے قسمت کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔
اس اتحاد کے رہنماؤں نے پیپلزپارٹی کے خلاف کرپشن اور سیاسی انتقامی کارروایوں اور بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کا الزام عائد کیا۔ اس وقت سندھ میں مقامی طور پر گنے کی قیمتوں کا معاملہ گرم تھا۔ ان سب باتوں سے بڑھ کر یہ محسوس کرایا گیا کہ کسی کا اشارہ ملا تھا کہسندھ میں پیپلزپارٹی سے ہٹ کر کوئی سیٹ اپ بن رہا ہے۔
اگرچہ اس اتحاد میں نواز لیگ بھی شامل تھی، لیکن اتحاد کے سربراہ پیر صبغت اللہ راشدی پیر پاگارا نے مئی 2016 میں حیدرآباد میں اتحاد کے ورکرز کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد کے سربراہ پیر پاگار انے فوج سے اپیل کی کہ وہ ملک میں اقتدار میں آئے اور فوجی حکومت آٹھ دس سال تک رہے تاکہ ہر طرح کے لوٹ مار اور جرائم کا خاتمہ کیا جاسکے۔ انہوں نے پرویز مشرف کی حمایت کی تھی۔ پیر صاحب جو ماضی میں نواز لیگ کے اتحادی بھی رہے ہیں انہوں نے شکوہ کیا کہ ہم نے 2013 میں نواز شریف کی غیر مشروط طور پر حمایت کی تھی لیکن وہ انتخابات کے بعد سندھ کو بھول گئے۔
اس اتحاد کی واحد سرگرمی 2016 کے ماہ مئی میں نکالے جانے والی حیدرآباد سے عمرکوٹ تک ریلی تھی۔ پاناما لیکس نے ملک میں نئی صف بندی کردی۔
ستمبر 2016 میں اس اتحد میں دراڑیں پڑا شروع ہو گئی۔ سمتبر کے آخری ہفتے میں لیاقت جتوئی نے کہا کہ یہ اتحاد سو گیا ہے۔ انہوں نے نے کہا کہ اس اتحاد کی باقاعدگی سے اجلاس ہی نہیں ہو پارہے ہیں۔
ماضی میں پیپلزپارٹی کے خلاف سندھ سطح کے اتحاد بنتے رہے ہیں۔ جس کا اہم عنصر قوم پرست رہے۔ 1988 کے عام انتخابات سے قبل جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید نے سندھ قومی اتحاد بنایا ۔لیکن یہ اتحاد کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔ مشرف دور میں پیپلزپارٹی سے باہر بااثر شخصیات ارباب غلام رحیم، امتیاز شیخ اور دیگر نے اتحاد بنایا۔ اس اتحاد کا مقصد پیپلزپارٹی کو سندھ حکومت سے باہر رکھنا تھا۔ ان بااثر افراد اور ایم کیو ایم کی مدد سے سندھ میں حکومت بنی۔
پیر پاگارا کی قیادت میں 2013 کے انتخابات کے لئے ۹ جماعتی اتحاد بنایا۔ نواز
شریف اس کا مقصد پیپلزپارٹی کو سندھ میں ہی مصرورف رکھنا اور پنجاب کے لوگوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ آپ لوگ کیوں پیپلزپارٹی کی حمایت کر رہے ہو، اسے تو اپنے گھر یعنی سندھ میں بھی شدید مخالفت کا سامناہے۔ اور سندھ کے بعض حلقوں کو اقتدار میں حصہ پتی کرانا تھا۔ لیکن بعد میں یہ سب کچھ نہیں ہو سکا۔ جس کا شکوہ پیر پاگارا کی مذکور بالا تقریر سے ہوتا ہے۔
گرینڈ الائنس نے نومبر میں حیدرآباد سے لاڑکانہ تک اور پھر سکھر سے حیدرآباد تک بیداری ریلی نکلانے کا فیصلہ کیا ہے۔اور پیپلزپارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں ہر نشست پر اپنے امیدوار کھڑے کریگا۔ اس مقصد کے لئے ابھی سے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو امیدواروں کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انتخابی الائنس ہی ہے۔
اب ایک بار پھرسندھ میں گرینڈ الائنس کو اتارا گیا ہے۔ اس کے پاس صوبے سماجی یا معاشی ترقی کے حوالے سے کوئی پروگرام نہیں۔ اور صرف اپنے نعرے میں پیپلزپارٹی مخالف ہے۔ گرینڈ الائنس دو سال قبل بنا تھا لیکن اس اتحاد نے صوبے میں پیدا ہونے والے مختلف مسائل پر کوئی رائے عامہ نہیں بنائی اور نہ ہی آواز اٹھائی۔
موجودہ حالات میں گرینڈ لائنس میں انتے گروپ اورشخصیات موجود نہیں جتنی اس اتحاد کے قیام کے وقت تھی۔ ممتاز بھٹو اب اس اتحاد سے الگ کھڑے ہیں۔ لیاقت جتوئی تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں۔ اسماعیل راہو پیپلز پارٹی میں چلے گئے ہیں۔ اتحاد کے بڑے محرک فنکشنل لیگ اور ارباب غلام رحیم ہیں۔ ارباب فیملی کا ایک حصہ ارباب لطف اللہ کی قیادت میں پیپلزپارٹی میں شامل ہو چکا ہے۔
فنکشنل لیگ کی صورتحال بھی گزشتہ الیکشن کے زمانے جیسی نہیں۔ پیپلزپارٹی
نے لیگ کے قلعہ سانگھڑ ضلع میں پاؤں جما لئے ہیں۔ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے جلال محمود شاہ اپنی الگ شناخت کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ جن کے لئے کہا جارہا ہے کہ وہ اس مرتبہ سندھ قوم پرستوں کو الگ شناخت کے ساتھ ووٹ بینک کھولنا چاہ رہے ہیں۔قوم پرستوں سے تجزیہ نگاروں کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ انہوں پارلیمانی سیاست سے دور رہے یا پھر انہوں نے کبھی الگ سے اپنا ووٹ
بینک نہیں کھولا۔
ابھی تک یہ طے نہیں کہ پنجاب میں اور وفاق کی سطح پر انتخابات کے حوالے سے کیا صورت بنتی ہے۔نواز لیگ اپنے اندرونی بحران اور پنجاب کے معاملات میں مصروف ہے اس کو فی الحال سندھ آنے کی فرصت بھی نہیں۔ عمران خان نے سندھ کا دورہ کیا لیکن انہوں نے ان شخصیات اور گروپوں سے رابطہ نہیں کیا۔ وہ آئندہ انتخابات کے پلان میں اپنی حیثیت منوانا چاہ رہے ہیں۔اور یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی سے ہٹ کر ان کے پاس بھی الیکٹ ایبل ہیں۔ گرینڈ الائنس کو بہر حال ایسی وفاقی پارٹی کی تلاش ہے جس کو سندھ میں الیکٹ ایبل کی ضرورت ہو۔ یہ اتحاد وفاقی پارٹیوں کے لئے کتنا پر کشش ہو سکتا ہے؟ اس کے بارے میں ابھی تک کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ تاہم یہ سمجھا جارہا ہے کہ یہ لوگ تحریک انصاف کے لئے اتنے پرکشش نہیں ہو سکتے۔ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ یہ اتحاد پیپلزپارٹی کو اتنا پریشان نہیں کر سکتا۔
Nai Baat Sep 26
Grand Democratic alliance
No comments:
Post a Comment