سندھ میں قوم پرستی کی نئی لہر
میرے دل میرے مسافر ۔ ۔ سہیل سانگی
سندھ کے قوم پرست اور اہل فکر حلقوں میں ایک نئی سرگرمی نظر آرہی ہے۔ یہ سرگرمی ریاستی اداروں کی جانب سے بعض افراد کو پراسرار طریقے سے گرفتار کرنے اور ان کی گرفتاری ظاہر نہ کرنے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ چونکہ ان کی گرفتاری ظاہر کی کی جاتی لہٰذا ان کو جبری گمشدگی یا پراسرار گمشدگی کے طور پر لیا جاتا ہے۔ سندھ ہیومن رائیٹس ڈیفنیڈرز کے مطابق رواں سال صوبے میں 120 افراد لاپتہ ہوئے جن میں سے 84 اگست میں ہی گم ہوئے۔ ان میں سے 8 ایسے لوگ ہیں جو ان گمشدہ افراد کے عزیز رشتہ دار ہیں یا وہ ان کی بازیابی یا ان کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ماہرین کے مطابق آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حقوق اور اختیارات کا معاملہ بڑی حد تک حد ہو گیا تھا، یعنی سندھ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قوم پرست جو بنیادی مطالبات کر رہے تھے وہ تسلیم کر کے انہیں آئینی اور قانونی شکل دے دی گئی تھی۔ اب دوسرا مرحلہ آئین کی اس ترمیم پر حرف بحرف عمل کرنا باقی تھا یا ان کو عملی شکل دینا تھی۔
پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت نے اپنی آئینی مدت مکمل کر کے اقتدار دوسری منتخب حکومت یعنی نواز لیگ کو سونپا ہی تھا کہ نواز لیگ کی حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز ہو گیا۔ا یک سیاسی بحران نے سر اٹھایا۔ صوبائی حقوق کے حوالے سے جو آئین سازی ہوئی تھی اس پر عمل درآمد یا اس عمل درآمد کے لئے جدوجہد رک گئی۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قومی یا صوبائی حقوق کی تحریک اور جمہوری تحریک کا کس طرح ایک دوسرے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ پیپلزپارٹی نے بظاہراپنے لوگوں کے تحفظ کے لئے نیب کے اختیارات کو صوبے میں روکا اور متوازی قانون بنایا۔ لیکن یہ ایک ایسا قدام تھا جو اٹھاریوں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی خود مختاری کا حصہ بنتا ہے۔
صوبوں کے حقوق آئینی طور پرتسلیم کرنے کے بعد ملک بھر میں عمومی اور سندھ میں خاص طور قوم پرست تحریک کمزور ہو گئی۔ سندھ میں ایک انتہا پسند گروپ جس کی مقبولیت خال خال ہے، اس کی جانب سے انتہا پسند نعرے پر مظاہرے کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس اپیل پر ایک دو مظاہرے ہوئے بھی، لیکن اس میں بمشکل درجن بھر افراد شریک ہوئے۔یعنی اس نعرے اور اپیل کو کوئی پزیرائی نہیں مل سکی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر اس ترمیم پر اگر معن و عن عمل کیا جاتا ، اس طرح کے احتجاج بھی نہیں ہوسکتے تھے۔
ان سیاسی گمشدگیوں نے صوبے میں ایک احتجاج کو جنم دیا۔ اور مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے ہوئے۔ ایک ایسا طبقے جو بظاہر خاموش تھا وہ بھی متحرک ہو گیا۔ گزشتہ روز حیدرآباد میں پراسرار گمشدگیوں کے عالمی دن کے موقعہ پر منعقدہ پروگرام میں مقررین جن میں اکثر کا تعلق دانشور اور اہل فکر حلقے سے تھا، ان کی تاقریر کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ پاکستان صرف ریاست نہیں وفاقی ریاست ہے۔ اس کا آئین بھی وفاقی ہے، اور اس آئین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
ابھی یہ معاملات چل ہی رہے تھے کہ مردم شماری کے نتائج کا اعلان کردیا گیا۔ ان نتائج کو سندھ کی حکمران جماعت سمیت تمام قوم پرست، مذہبی جماعتوں یہاں تک کہ ایم کیو ایم اور اس سے ٹوٹنے والے گروپ پاک سرزمین پارٹی نے بھی متنازع قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ نتائج زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔ سندھ حکومت گزشتہ دنوں منعقدہ مشترکہ مفادات کی کونسل میں مردم شماری کے ان نتائج کو تسلیم کر کے ان نتائج کو شایع کرنے کی منطوری دے چکی تھی ، لیکن
واپس آکر حکمران جماعت نے اپنا موقف تبدیل کردیا اور ان نتائج کو چیلینج کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ فریضہ حج ادا کرنے کے لئے ملک سے باہر ہیں۔
ان کی غیر موجودگی میں سندھ کے سنیئر وزیر اور پارٹی کے صوبائی صدر نثار کھڑو نے گزشتہ روز پالیسی بیان میں ان نتائج کو مسترد کیا ہے۔ پیپلزپارٹی اس مقصد کے لئے کل جماعتی کانفرنس طلب کرنے جارہی ہے۔ لیکن یہ کانفرنس صوبائی سطح کی ہوگی۔ ایم کیو ایم پاکستان نے احتجاجی مہم کا اعلان کیا ہے۔
مردم شماری کے نتائج کو مسترد کرنے کے لئے سندھ کی یہ دلیل ہے کہ یہ نتائج
بمشکل سندھ میں شرح پیدائش کو حساب میں لے آتے ہیں جبکہ سندھ ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں تارکین وطن ، اور ملک کے دیگر علاقوں سے نقل مکانی کر کے آباد ہونے والوں کی شرح اور رفتار سب سے زیادہ ہے۔ لہٰذا یہ نتائج مجموعی طور پر حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے۔ اس ضمن میں کراچی کی مردم شماری کو نمونے اور مثال کے طور پر لیا جارہا ہے۔ جہاں نہ صرف ملک کے دوسرے علاقوں سے بلکہ سندھ کے باقی اضلاع سے بھی بڑے پیمانے پر آبادکاری ہوئی ہے۔
سندھ کا موقف یہ ہے کہ اعداد وشمار میں ہیر پھیر اس لئے کی گئی ہے تاکہ اس صوبے کو قومی مالیاتی کمیشن میں مالیاتی وسائل اور حصے اور قومی اسمبلی میں نشستوں میں اضافے سے محروم کیا جا سکے۔ لہٰذا اس مطالبے میں پیپلزپارٹی کی جانب سے شدت الیکشن کمیشن کی جانب سے محکمہ شماریات کو لکھے گئے خط کے بعد بی آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مردم شماری کے تفصیلی نتائج جلد جاری کئے جائیں تاکہ آئندہ انتخابات کے لئے ازسرنو حلقہ بندی کی جا سکے۔ سندھ حکومت اور صوبے کی سب اہم سیاسی جماعتیں اس ہیراپھیری کے لئے پنجاب اور اسٹبلشمنٹ کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ لہٰذا سندھ کے ساتھ ناانصافی اور پنجاب مخالف بیانیہ ایک بار پھر ابھرکر گیا ہے۔
حکومتی سطح پر نواز شریف کی حکومت کے رویے اور پالیسیوں میں سندھ کی طرف کوئی جھکاؤ نہیں تھا۔ جبکہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان رینجرز کے اختیارات، نیب کی سندھ حکومت کے دفاتر پر چھاپوں ترقیاتی منصوبوں میں سندھ کو نظر انداز کرنے کے حوالے سے مسلسل کشیدگی رہی۔ سندھ یہ خیال پختگی سے پایا جاتا ہے کہ نواز شریف نے سندھ کو کچھ نہیں دیا۔ اور سندھ میں ترقیاتی کاموں اور حکمرانی کا ذمہ پیپلزپارٹی کو ہی دیا ہوا تھا۔ وفاق کے اس طرح کے رویہ کے دو لازمی نتائج نکلتے ہیں۔ ایک یہ کہ لو گ وفاقی حکومت اور آگے چل کر وفا ق سے بدظن ہوں، دوسرا یہ کہ لوگ صرف اور صرف پیپلزپارٹی کی طرف دیکھیں۔ لہٰذا سندھ میں یہ دونوں نتائج نکلے۔
ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کی بطورادو بولنے والوں کی دعویدارنمائندہ جماعتوں کی جانب سے نتائج کو مسترد کرنے کے بعد سندھ کی قوم پرست جماعتیں بھی ا ان کے مقابلے میں آگئی ہیں کہ کون یہ مطالبہ زیادہ شدت سے اٹھاتا ہے۔ پیپلزپارٹی نے مردم شماری کے دوران پر شدہ فارم کی ایک کاپی صوبائی حکومت کو دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
پیپلزپارٹی اور صوبے کی دیگر جماعتوں کے درمیان مردم شماری کے حوالے سے مطالبے میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ کو لانگ مارچ کے بعد تین روز بعداپنے مطالبے کی وضاحت کے لئے حیدرآباد میں پریس کانفرنس کرنی پڑی جس میں انہوں نے پیپلزپارٹی کو مردم شماری کے نتائج کے لئے ذمہ دار قرار دیا۔ ان کی اس وضاحت سے کوئی خاص فرق ہیں پڑا وہ یہ نہ بتا سکے کہ پیپلزپارٹی کس طرح سے ان نتائج کی ذمہ دار ہے۔
پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ سندھ میں کے سندھی خواہ اردو بولنے والوں کی رائے عامہ مردم شماری کے نتائج کے خلاف ہے۔ لہٰذا اس نے سندھ کی نمائندہ جماعت کے طور پر کل جماعتی کانفرنس بلا کر اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کر لی۔
غیر جذباتی ہو کر دیکھا جائے ، تین معاملات کی وجہ سے سندھ میں قوم پرست جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ اول اٹھاریوں ترمیم پر عمل درآمد رک جانا، دوسرا جبری گرفتاریوں اور تیسرا مردم شماری کے غیر تسلی بخش نتائج۔ دیکھنا یہ ہے قوم پرستی کے ان جذبات کو کون سیاسی طور پر کیش کراتا ہے ؟ اور یہ جذبات آگے چل کر کیا شکل اختیار کرتے ہیں۔
میرے دل میرے مسافر ۔ ۔ سہیل سانگی
سندھ کے قوم پرست اور اہل فکر حلقوں میں ایک نئی سرگرمی نظر آرہی ہے۔ یہ سرگرمی ریاستی اداروں کی جانب سے بعض افراد کو پراسرار طریقے سے گرفتار کرنے اور ان کی گرفتاری ظاہر نہ کرنے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ چونکہ ان کی گرفتاری ظاہر کی کی جاتی لہٰذا ان کو جبری گمشدگی یا پراسرار گمشدگی کے طور پر لیا جاتا ہے۔ سندھ ہیومن رائیٹس ڈیفنیڈرز کے مطابق رواں سال صوبے میں 120 افراد لاپتہ ہوئے جن میں سے 84 اگست میں ہی گم ہوئے۔ ان میں سے 8 ایسے لوگ ہیں جو ان گمشدہ افراد کے عزیز رشتہ دار ہیں یا وہ ان کی بازیابی یا ان کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ماہرین کے مطابق آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حقوق اور اختیارات کا معاملہ بڑی حد تک حد ہو گیا تھا، یعنی سندھ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قوم پرست جو بنیادی مطالبات کر رہے تھے وہ تسلیم کر کے انہیں آئینی اور قانونی شکل دے دی گئی تھی۔ اب دوسرا مرحلہ آئین کی اس ترمیم پر حرف بحرف عمل کرنا باقی تھا یا ان کو عملی شکل دینا تھی۔
پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت نے اپنی آئینی مدت مکمل کر کے اقتدار دوسری منتخب حکومت یعنی نواز لیگ کو سونپا ہی تھا کہ نواز لیگ کی حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز ہو گیا۔ا یک سیاسی بحران نے سر اٹھایا۔ صوبائی حقوق کے حوالے سے جو آئین سازی ہوئی تھی اس پر عمل درآمد یا اس عمل درآمد کے لئے جدوجہد رک گئی۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قومی یا صوبائی حقوق کی تحریک اور جمہوری تحریک کا کس طرح ایک دوسرے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ پیپلزپارٹی نے بظاہراپنے لوگوں کے تحفظ کے لئے نیب کے اختیارات کو صوبے میں روکا اور متوازی قانون بنایا۔ لیکن یہ ایک ایسا قدام تھا جو اٹھاریوں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی خود مختاری کا حصہ بنتا ہے۔
صوبوں کے حقوق آئینی طور پرتسلیم کرنے کے بعد ملک بھر میں عمومی اور سندھ میں خاص طور قوم پرست تحریک کمزور ہو گئی۔ سندھ میں ایک انتہا پسند گروپ جس کی مقبولیت خال خال ہے، اس کی جانب سے انتہا پسند نعرے پر مظاہرے کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس اپیل پر ایک دو مظاہرے ہوئے بھی، لیکن اس میں بمشکل درجن بھر افراد شریک ہوئے۔یعنی اس نعرے اور اپیل کو کوئی پزیرائی نہیں مل سکی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر اس ترمیم پر اگر معن و عن عمل کیا جاتا ، اس طرح کے احتجاج بھی نہیں ہوسکتے تھے۔
ان سیاسی گمشدگیوں نے صوبے میں ایک احتجاج کو جنم دیا۔ اور مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے ہوئے۔ ایک ایسا طبقے جو بظاہر خاموش تھا وہ بھی متحرک ہو گیا۔ گزشتہ روز حیدرآباد میں پراسرار گمشدگیوں کے عالمی دن کے موقعہ پر منعقدہ پروگرام میں مقررین جن میں اکثر کا تعلق دانشور اور اہل فکر حلقے سے تھا، ان کی تاقریر کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ پاکستان صرف ریاست نہیں وفاقی ریاست ہے۔ اس کا آئین بھی وفاقی ہے، اور اس آئین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
ابھی یہ معاملات چل ہی رہے تھے کہ مردم شماری کے نتائج کا اعلان کردیا گیا۔ ان نتائج کو سندھ کی حکمران جماعت سمیت تمام قوم پرست، مذہبی جماعتوں یہاں تک کہ ایم کیو ایم اور اس سے ٹوٹنے والے گروپ پاک سرزمین پارٹی نے بھی متنازع قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ نتائج زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔ سندھ حکومت گزشتہ دنوں منعقدہ مشترکہ مفادات کی کونسل میں مردم شماری کے ان نتائج کو تسلیم کر کے ان نتائج کو شایع کرنے کی منطوری دے چکی تھی ، لیکن
واپس آکر حکمران جماعت نے اپنا موقف تبدیل کردیا اور ان نتائج کو چیلینج کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ فریضہ حج ادا کرنے کے لئے ملک سے باہر ہیں۔
ان کی غیر موجودگی میں سندھ کے سنیئر وزیر اور پارٹی کے صوبائی صدر نثار کھڑو نے گزشتہ روز پالیسی بیان میں ان نتائج کو مسترد کیا ہے۔ پیپلزپارٹی اس مقصد کے لئے کل جماعتی کانفرنس طلب کرنے جارہی ہے۔ لیکن یہ کانفرنس صوبائی سطح کی ہوگی۔ ایم کیو ایم پاکستان نے احتجاجی مہم کا اعلان کیا ہے۔
مردم شماری کے نتائج کو مسترد کرنے کے لئے سندھ کی یہ دلیل ہے کہ یہ نتائج
بمشکل سندھ میں شرح پیدائش کو حساب میں لے آتے ہیں جبکہ سندھ ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں تارکین وطن ، اور ملک کے دیگر علاقوں سے نقل مکانی کر کے آباد ہونے والوں کی شرح اور رفتار سب سے زیادہ ہے۔ لہٰذا یہ نتائج مجموعی طور پر حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتے۔ اس ضمن میں کراچی کی مردم شماری کو نمونے اور مثال کے طور پر لیا جارہا ہے۔ جہاں نہ صرف ملک کے دوسرے علاقوں سے بلکہ سندھ کے باقی اضلاع سے بھی بڑے پیمانے پر آبادکاری ہوئی ہے۔
سندھ کا موقف یہ ہے کہ اعداد وشمار میں ہیر پھیر اس لئے کی گئی ہے تاکہ اس صوبے کو قومی مالیاتی کمیشن میں مالیاتی وسائل اور حصے اور قومی اسمبلی میں نشستوں میں اضافے سے محروم کیا جا سکے۔ لہٰذا اس مطالبے میں پیپلزپارٹی کی جانب سے شدت الیکشن کمیشن کی جانب سے محکمہ شماریات کو لکھے گئے خط کے بعد بی آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مردم شماری کے تفصیلی نتائج جلد جاری کئے جائیں تاکہ آئندہ انتخابات کے لئے ازسرنو حلقہ بندی کی جا سکے۔ سندھ حکومت اور صوبے کی سب اہم سیاسی جماعتیں اس ہیراپھیری کے لئے پنجاب اور اسٹبلشمنٹ کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ لہٰذا سندھ کے ساتھ ناانصافی اور پنجاب مخالف بیانیہ ایک بار پھر ابھرکر گیا ہے۔
حکومتی سطح پر نواز شریف کی حکومت کے رویے اور پالیسیوں میں سندھ کی طرف کوئی جھکاؤ نہیں تھا۔ جبکہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان رینجرز کے اختیارات، نیب کی سندھ حکومت کے دفاتر پر چھاپوں ترقیاتی منصوبوں میں سندھ کو نظر انداز کرنے کے حوالے سے مسلسل کشیدگی رہی۔ سندھ یہ خیال پختگی سے پایا جاتا ہے کہ نواز شریف نے سندھ کو کچھ نہیں دیا۔ اور سندھ میں ترقیاتی کاموں اور حکمرانی کا ذمہ پیپلزپارٹی کو ہی دیا ہوا تھا۔ وفاق کے اس طرح کے رویہ کے دو لازمی نتائج نکلتے ہیں۔ ایک یہ کہ لو گ وفاقی حکومت اور آگے چل کر وفا ق سے بدظن ہوں، دوسرا یہ کہ لوگ صرف اور صرف پیپلزپارٹی کی طرف دیکھیں۔ لہٰذا سندھ میں یہ دونوں نتائج نکلے۔
ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کی بطورادو بولنے والوں کی دعویدارنمائندہ جماعتوں کی جانب سے نتائج کو مسترد کرنے کے بعد سندھ کی قوم پرست جماعتیں بھی ا ان کے مقابلے میں آگئی ہیں کہ کون یہ مطالبہ زیادہ شدت سے اٹھاتا ہے۔ پیپلزپارٹی نے مردم شماری کے دوران پر شدہ فارم کی ایک کاپی صوبائی حکومت کو دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
پیپلزپارٹی اور صوبے کی دیگر جماعتوں کے درمیان مردم شماری کے حوالے سے مطالبے میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ کو لانگ مارچ کے بعد تین روز بعداپنے مطالبے کی وضاحت کے لئے حیدرآباد میں پریس کانفرنس کرنی پڑی جس میں انہوں نے پیپلزپارٹی کو مردم شماری کے نتائج کے لئے ذمہ دار قرار دیا۔ ان کی اس وضاحت سے کوئی خاص فرق ہیں پڑا وہ یہ نہ بتا سکے کہ پیپلزپارٹی کس طرح سے ان نتائج کی ذمہ دار ہے۔
پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ سندھ میں کے سندھی خواہ اردو بولنے والوں کی رائے عامہ مردم شماری کے نتائج کے خلاف ہے۔ لہٰذا اس نے سندھ کی نمائندہ جماعت کے طور پر کل جماعتی کانفرنس بلا کر اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کر لی۔
غیر جذباتی ہو کر دیکھا جائے ، تین معاملات کی وجہ سے سندھ میں قوم پرست جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ اول اٹھاریوں ترمیم پر عمل درآمد رک جانا، دوسرا جبری گرفتاریوں اور تیسرا مردم شماری کے غیر تسلی بخش نتائج۔ دیکھنا یہ ہے قوم پرستی کے ان جذبات کو کون سیاسی طور پر کیش کراتا ہے ؟ اور یہ جذبات آگے چل کر کیا شکل اختیار کرتے ہیں۔
New wave of Sindhi Nationalism - Sohail Sangi Urdu Column - Daily Nai Baat, August 31, 2017
No comments:
Post a Comment