اب عوام بھی فریق ہیں
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اب تبدیلی سرکار کے پاس کیا جواب ہے؟ گندم اور آٹے کے بحران نے حکومتی دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔اس سے قبل جو مسائل اور بحران پیدا ہوتے رہے ان کو وزیراعظم ماضی کی حکومتوں کوذ مہ دار ٹہراتے رہے۔ آتے کے بحران کا کیا کریں گے؟ جو خود ان کی حکومت کا پیدا کردہ ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے تو گندم کے اسٹاک چھوڑے تھے۔
تبدیلی حکومت کی کاریگری دیکھئے کہ 2018 سے جون 2019 تک ساٹھ لاکھ ٹن برآمد کی گئی۔ گزشتہ برس جولائی میں گندم برآمد کرنے پر پابندی کے باوجود اکتوبر میں گندم ایکسپورٹ کی گئی۔ سستے داموں اپنی گندم بیچ کر مہنگے داموں باہر سے گندم منگوائی جارہی ہے۔ یہ گندم پہنچے گی تب ہماری فصل بھی اترنا شروع ہوگی۔ اور مارکیٹ میں مقامی گندم کو برآمد کی گئی گندم کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ لہٰذا یہ بحران ملک کے دیہی علاقوں میں اپنی جگہ بنا لے گا۔
گندم کیوں ایکسپورٹ کی گئیَ یہ فیصلہ کس نے کیا؟ اگر یہ مان بھی لیں کہ ذخیرہ اندوزوں نے گندم کا کھیلواڑ کھیلا۔ لیکن ان کو موقعہ تو حکومتی پالیسیوں نے دیا کہ اتنی گندم ایکسپورٹ کردی کہ گندم کی مارکیٹ پر حکومت کا کنٹرول نہیں رہا، ماضی میں حکومت اپنے اسٹاک میں اتنی گندم رکھتی تھی کہ تاجر اور ذخیرہ اندوز مارکیٹ میں اس کی قلت پیدا کر کے غذا کی اس اہم جنس کی قلت نہ پیدا کردیں جس سے اس کی قیمتیں بڑھ جائیں۔ جب بھی گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو حکومت اپنا اسٹاک مارکیٹ میں لے آتی ہے۔
پچاس کے عشرے میں ملک میں شدید قلت رہی، اور ملک کو گندم کی درآمد کے لئے امریکہ سے قرضہ لینے کے لئے رجوع کرنا پڑا۔ تب امریکہ کی پاکستان سے نئی دوستی ہورہی تھی۔ امریکہ نے گندم کا ایک جہاز بھر کر بطور امداد بھیجا، پاکستان حکومت اتنی پرجوش تھی کہ جہاز کا خیرمقدم کرنے خود وزیراعظم بندرگاہ پر پہنچ گئے۔ بندرگاہ سے گندم اٹھانے والی ا گاڑیوں کے اونٹوں کے گلے میں ”تھینک یو امریکہ“کی تختیاں آویزاں کی گئیں۔ گندم کا بحران ساٹھ کے عشرے میں بھی رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں بھی آٹا، چینی اور گھی راشن پر ملتا تھا۔
عمران خان نے حکومت میں آنے کے بعد پہلی ترجیح سابق حکمرانوں کو سبق سکھانا قرار دیا، ڈیڑھ سال میں انہوں نے اپوزیشن سے جھگڑنے کے علاوہ شایدہی کوئی کام نہیں کیا۔ان کے دور حکومت میں ایسی پالیسیاں بنتی رہیں کہ اب ان کے اسباب اور ذمہ داران کو ڈھونڈنے کے لئے ایف آئی اے کی مدد درکارہوگئی۔ عجیب بات ہے کہ خود موجودہ حکومت کے فیصلوں اورپالیسیوں کے لئے تفیتشی ادارے کو سامنے لایا جارہا ہے۔ حکومت کو اپنے اداروں اور محکموں پر بھروسہ نہیں یا پھر وہ ادارے حکومت کے کنٹورل میں نہیں، ایک اور بھی بات ہو سکتی ہے کہ حکومت اپنے محکموں سے کام لینے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ کیا حکومت اپنے طور پر، محکمہ جاتی تحقیقات سے اس معاملے کو نہیں دیکھ سکتی تھی؟ کی اس کے لئے متعلقہ پارلیمانی کمیٹیوں سے مدد نہیں لی جاسکتی تھی؟ جوکہ دنیا جہان کے جمہوری اداروں کا طریقہ ہے۔ حکومت ہر کام ایف آئی اے سے کرانا چاہتی ہے، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایف آئی اے کو تحقیقات دینے کا مطلب کسی کو ٹارگیٹ بنانا چاہتی ہے اور معاملے کو سلجھانے کے بجائے الجھانا چاہتی ہے۔
معیشت کا پہیہ جام ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عام آدمی ابھی ڈالر، تیل، گیس، بجلی اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کے صدمے سے نکل ہی نہیں پایا تھا کہ اہم غذائی جنس آٹا آسمان پر چلا گیا۔ انقلابی شاعر حبیب جالب نے ایوب خان کے دور حکومت میں آتے کی مہنگائی پر شعر کہا تھا ”بیس روپے من ہے آٹا، پھر بھی ہے سناٹا“ اب تو آتا پچاس روپے فی کلو سے دتر روپے ہوگیا ہے، ایک کلو پر بیس روپے بڑھ گئے ہیں۔ کیا اس پر بھی خاموشی رہے گی؟
ملک کی سیاسی فضا میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان آنکھ مچلوی چلتی رہی۔ اپوزیشن عام لوگوں کو متحرک کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ لیکن عام آدمی اپوزیشن کی ان کوششوں کو صرف سیاسی معاملہ سمجھ رہا تھا۔ یعنی اس کو نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کی جانب سے اپنی کھال بچانے یا موجودہ حکومت کو گرانے کی کوشش سمجھا جارہا تھا۔ اس کا یہ خیال تھا کہ بیل کو چور کے گھر میں کام کرنا ہے اور مالک کے گھر بھی۔ یعنی اس کے حالات زندگی نہیں بدلیں گے۔ وہ حکومت اور اپوزیشن کی لڑائی کو اپنی لڑائی نہں سمجھ رہا تھا۔ مزید یہ کہ کرپشن کا بیانیہ اتنا ذہنوں میں نقش کردیا گیا تھا کہ دوسری کوئی سوچ ابھر ہی نہیں رہی تھی۔
اب تو خیر ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل نے بھی کہہ دیا ہے کہ پاکستاں میں 2018 کے مقابلے میں کرپشن بڑھی ہے۔ اس رپورٹ نے بہت سارے لوگوں کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ اس سے پہلے جو مہنگائی ہوئی عمران خان حکومت نہایت ہی ہوشیاری سے اس کو ماضی کی حکومتوں کے کھاتے میں لکھتی رہی۔ لیکن گندم اور آٹے کے بحران نے حکومت کو پکڑ لیا ہے۔ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ وہ ذمہ داری کی منتقلی کے فارمولے کے تحت اس کو کسی اور کے کھاتے میں ڈالے۔ لیکن ایسا کرنا مشکل ہے۔ اب عام آدمی حکومت کی مخالفت میں ایک فریق بن چکا ہے۔ یہ عمل خود حکومت نے ہی کیا ہے۔
یہ تمام معاملات ایک ایسے مقع پر رونما ہو رہے ہیں جب حکمران اتحاد جو کہ تحریک انصاف، قاف لیگ، ایم کیو ایم اور بی این پی پر مشتمل ہے اس میں شگاف واضح نظر آرہے ہیں یہاں تک کہ خود حکمران جماعت تحریک انصاف میں بھی ناراض اراکین کا گروپ ابھر رہا ہے۔ مقتدرہ حلقوں سے قریبی تعلقات رکھنے والی اور پنجاب میں حکمران جماعت کا سیاسی ستون بنی ہوئی قاف لیگ نے نئی حکمت عملی کے تحت اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ بلوچستان میں تشکیل کردہ غیرفطری سیاسی سیٹ اپ بھی ہچکولے کھا رہا ہے۔ جہاں سے کسی بھی وقت حکومتی تبدیلی کی خبر آسکتی ہے۔
گندم کے بحران نے تحریک انصاف کو اقتدار میں لے آنے والوں کو یہ پیغام دیا کہ بھلے سب کو ایک صفحے پر لا کر کھڑا کریں، یا تمام صفحات کو جوڑ کر پختہ بائینڈنگ اور ویلڈنگ کر لیں، جیسے پارلیمان میں حالیہ قانون سازی کے موقع پر کیا گیا، کچھ کام تو خود حکومت کو بھی کرنے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت پر پالیسی سازی خواہ پالسیوں پر عمل کرانے میں انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی معاملات ہوں یا معاشی اور انتظامی معاملات، کہیں تتو حکومت خود سے بھی کام کرے آخر کب تک اور کہاں کہاں کوئی صفحات جوڑتا رہے گا؟
ایوب خان کا عوامی سطح پر زوال تب ہوا جب بیس روپے من آٹا ہوا، بھٹو حکومت کی مخالفت میں جو عوامی ماحول بنا اس میں غذائی اورشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ اہم نقطہ تھا۔ بینظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ بھی معاشی وجوہات کی بناء پر ہوا۔ گندم درآمد کر کے حکومت آٹے کے بحران سے نمٹ سکتی ہے لیکن آتے کی قیمت بڑھ گئی ہے کیا اسکو واپس لاسکتی ہے؟ ایسا نہیں لگتا۔ پی این اے کی تحریک نے ”ستر کی سطح پر قیمتیں لانے“ کے نعرے پر عوام میں قبولیت حاصل کی تھی۔ کیا حکومت ایک مرتبہ پھر آتے کی راشننگ کرے گی؟ اگر ایسا ہوا تو سمجھو تبدیلی آگئی۔ پاکستان نے اتنی ترقی کر لی کہ ہم واپس ساٹھ اور ستر کے عشرے میں جا کر کھڑے ہوئے ہیں جب چینی اور آٹا راشن پر ملتا تھا۔