Saturday, January 25, 2020

اب عوام بھی فریق ہیں


اب عوام بھی فریق ہیں 
میرے دل میرے مسافر   سہیل سانگی
اب تبدیلی سرکار کے پاس کیا جواب ہے؟ گندم اور آٹے  کے بحران  نے حکومتی دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔اس سے قبل جو مسائل اور بحران پیدا ہوتے رہے ان کو وزیراعظم ماضی کی حکومتوں کوذ مہ دار ٹہراتے رہے۔ آتے کے بحران کا کیا کریں گے؟ جو خود ان کی حکومت  کا پیدا کردہ ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے تو گندم کے اسٹاک چھوڑے تھے۔
 تبدیلی حکومت کی کاریگری  دیکھئے کہ  2018 سے جون 2019 تک ساٹھ لاکھ ٹن برآمد کی گئی۔ گزشتہ برس  جولائی میں گندم  برآمد کرنے پر پابندی کے باوجود اکتوبر میں گندم ایکسپورٹ کی گئی۔ سستے داموں اپنی گندم بیچ کر مہنگے داموں باہر سے گندم منگوائی جارہی ہے۔ یہ گندم پہنچے گی  تب ہماری فصل بھی اترنا شروع ہوگی۔ اور مارکیٹ میں  مقامی گندم کو برآمد کی گئی گندم کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔  لہٰذا  یہ بحران ملک کے دیہی علاقوں میں اپنی جگہ بنا لے گا۔ 
گندم کیوں ایکسپورٹ کی گئیَ یہ فیصلہ کس نے کیا؟  اگر یہ مان بھی لیں کہ ذخیرہ اندوزوں نے گندم کا کھیلواڑ کھیلا۔ لیکن ان کو موقعہ تو حکومتی پالیسیوں نے دیا کہ اتنی گندم ایکسپورٹ کردی کہ گندم کی مارکیٹ پر حکومت کا کنٹرول نہیں رہا، ماضی میں حکومت اپنے اسٹاک میں اتنی گندم رکھتی تھی کہ تاجر اور ذخیرہ اندوز مارکیٹ میں اس کی قلت پیدا کر کے غذا کی اس اہم جنس کی قلت نہ پیدا کردیں جس سے اس کی قیمتیں بڑھ جائیں۔ جب بھی گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو حکومت اپنا اسٹاک مارکیٹ میں لے آتی ہے۔ 
پچاس کے عشرے میں  ملک میں شدید قلت رہی،  اور ملک کو گندم کی درآمد کے لئے امریکہ سے قرضہ لینے کے لئے رجوع کرنا پڑا۔ تب امریکہ کی پاکستان  سے نئی  دوستی ہورہی تھی۔ امریکہ نے گندم کا ایک جہاز بھر کر بطور امداد بھیجا،  پاکستان حکومت اتنی پرجوش تھی کہ جہاز کا خیرمقدم کرنے خود وزیراعظم بندرگاہ پر پہنچ گئے۔ بندرگاہ سے گندم اٹھانے والی ا گاڑیوں  کے اونٹوں کے گلے میں ”تھینک یو امریکہ“کی تختیاں آویزاں کی گئیں۔ گندم کا بحران ساٹھ کے عشرے میں بھی رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں بھی آٹا، چینی اور گھی راشن پر ملتا تھا۔ 
عمران خان نے حکومت میں آنے  کے بعد پہلی ترجیح سابق حکمرانوں کو سبق سکھانا  قرار دیا، ڈیڑھ سال میں انہوں نے اپوزیشن سے جھگڑنے  کے علاوہ  شایدہی کوئی کام نہیں کیا۔ان کے دور حکومت میں ایسی پالیسیاں بنتی رہیں کہ اب ان کے اسباب اور ذمہ داران کو ڈھونڈنے کے لئے ایف آئی اے کی مدد  درکارہوگئی۔ عجیب بات ہے کہ خود موجودہ حکومت کے فیصلوں  اورپالیسیوں کے لئے تفیتشی ادارے کو  سامنے لایا جارہا ہے۔ حکومت کو اپنے اداروں اور محکموں پر بھروسہ نہیں یا پھر وہ ادارے حکومت کے کنٹورل میں نہیں، ایک اور بھی  بات ہو سکتی ہے کہ حکومت  اپنے محکموں سے کام لینے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ کیا حکومت اپنے طور پر، محکمہ جاتی تحقیقات سے اس معاملے کو نہیں دیکھ سکتی تھی؟ کی اس کے لئے متعلقہ پارلیمانی کمیٹیوں سے مدد نہیں لی جاسکتی تھی؟  جوکہ دنیا جہان کے جمہوری اداروں کا طریقہ ہے۔ حکومت ہر کام ایف آئی اے  سے کرانا چاہتی ہے،  یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایف آئی اے کو تحقیقات دینے کا مطلب کسی کو ٹارگیٹ بنانا چاہتی ہے اور معاملے کو سلجھانے کے بجائے الجھانا چاہتی ہے۔ 
 معیشت کا پہیہ جام ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عام آدمی ابھی ڈالر، تیل، گیس، بجلی اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے  کے صدمے سے نکل ہی نہیں پایا تھا کہ اہم غذائی جنس آٹا آسمان پر چلا گیا۔ انقلابی شاعر حبیب جالب نے ایوب خان کے دور حکومت میں آتے کی مہنگائی پر شعر کہا تھا ”بیس روپے من ہے آٹا، پھر بھی ہے سناٹا“ اب تو آتا پچاس روپے فی کلو سے دتر روپے ہوگیا ہے، ایک کلو پر بیس روپے بڑھ گئے ہیں۔ کیا اس پر بھی خاموشی رہے گی؟  
ملک کی سیاسی  فضا میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان آنکھ مچلوی چلتی رہی۔ اپوزیشن عام لوگوں کو متحرک کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ لیکن عام آدمی  اپوزیشن کی ان کوششوں کو صرف سیاسی معاملہ سمجھ رہا تھا۔  یعنی اس کو نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کی جانب سے اپنی کھال بچانے  یا موجودہ حکومت کو گرانے کی کوشش سمجھا جارہا تھا۔  اس کا یہ خیال تھا کہ بیل کو چور کے گھر میں  کام کرنا ہے اور مالک کے گھر بھی۔ یعنی اس کے حالات زندگی نہیں بدلیں گے۔  وہ حکومت اور اپوزیشن کی لڑائی کو اپنی لڑائی نہں سمجھ رہا تھا۔  مزید یہ کہ کرپشن کا  بیانیہ اتنا ذہنوں میں نقش کردیا گیا تھا کہ دوسری کوئی سوچ ابھر ہی نہیں رہی تھی۔  
اب تو خیر ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل نے بھی کہہ دیا ہے کہ پاکستاں میں 2018 کے مقابلے میں کرپشن بڑھی ہے۔  اس رپورٹ نے بہت سارے لوگوں کی آنکھیں کھول دی ہیں۔  اس سے پہلے جو مہنگائی ہوئی عمران خان حکومت نہایت ہی ہوشیاری سے اس کو ماضی کی حکومتوں کے کھاتے میں لکھتی رہی۔ لیکن گندم اور آٹے کے بحران نے حکومت کو پکڑ لیا ہے۔ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ وہ  ذمہ داری کی منتقلی کے فارمولے کے تحت اس کو کسی اور کے کھاتے میں ڈالے۔  لیکن ایسا کرنا مشکل ہے۔ اب  عام آدمی حکومت کی مخالفت میں ایک فریق بن چکا ہے۔ یہ عمل خود حکومت نے ہی کیا ہے۔ 
 یہ تمام معاملات ایک ایسے مقع پر رونما ہو رہے ہیں  جب حکمران اتحاد جو کہ تحریک انصاف، قاف لیگ،  ایم کیو ایم اور بی این پی پر مشتمل ہے اس میں شگاف واضح نظر آرہے ہیں یہاں تک کہ خود حکمران جماعت تحریک انصاف میں بھی  ناراض اراکین کا گروپ ابھر رہا ہے۔ مقتدرہ حلقوں سے قریبی تعلقات رکھنے والی اور پنجاب میں حکمران جماعت کا سیاسی  ستون بنی ہوئی قاف لیگ نے نئی حکمت عملی  کے تحت اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔  بلوچستان میں تشکیل کردہ غیرفطری  سیاسی سیٹ اپ بھی  ہچکولے کھا رہا ہے۔ جہاں  سے کسی بھی وقت حکومتی تبدیلی کی خبر آسکتی ہے۔ 
 گندم کے بحران نے تحریک انصاف کو اقتدار میں لے آنے والوں کو  یہ پیغام دیا کہ بھلے سب کو  ایک صفحے پر لا کر کھڑا کریں، یا تمام صفحات کو جوڑ کر پختہ بائینڈنگ اور ویلڈنگ کر لیں، جیسے پارلیمان میں حالیہ قانون سازی کے موقع پر کیا گیا، کچھ کام تو خود حکومت کو بھی کرنے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت پر پالیسی سازی خواہ پالسیوں پر عمل کرانے میں انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی معاملات ہوں یا معاشی اور انتظامی معاملات، کہیں تتو حکومت خود سے بھی کام کرے آخر کب تک اور کہاں کہاں کوئی صفحات جوڑتا رہے گا؟ 
ایوب خان کا عوامی سطح پر زوال تب ہوا جب بیس روپے من آٹا ہوا، بھٹو حکومت  کی مخالفت میں جو عوامی ماحول بنا اس میں  غذائی اورشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ اہم نقطہ تھا۔ بینظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ بھی معاشی وجوہات کی بناء پر ہوا۔ گندم  درآمد کر کے  حکومت آٹے کے بحران سے نمٹ سکتی ہے لیکن آتے کی قیمت بڑھ گئی ہے کیا اسکو واپس لاسکتی ہے؟  ایسا نہیں لگتا۔  پی این اے کی تحریک نے ”ستر کی سطح پر قیمتیں لانے“ کے نعرے  پر عوام میں قبولیت حاصل کی تھی۔ کیا حکومت ایک مرتبہ پھر آتے کی راشننگ کرے گی؟ اگر ایسا ہوا تو سمجھو تبدیلی آگئی۔ پاکستان نے اتنی ترقی کر لی کہ ہم واپس ساٹھ اور ستر کے عشرے میں جا کر کھڑے ہوئے ہیں جب چینی اور آٹا راشن پر ملتا تھا۔  

Tuesday, January 21, 2020

سندھ حکومت اور پولیس افسروں کی محاذ آرائی

سندھ حکومت اور پولیس افسروں کی محاذ آرائی 
 میرے دل میرے مسافر   سہیل سانگی
ایک بار پھرسندھ میں آئی جی پولیس اور صوبائی حکومت کے درمیان محاذ آرائی شروع ہو گئی ہے۔سندھ حکومت نے اعتراضات کے بعد آئی جی کلیم امام کو  فارغ کردیا تھا لیکن وفاقی حکومت نے انہیں فرائض جاری رکھنے کے لئے کہا ہے۔ آئی کا تقرر وفاقی حکومت کا اختیار ہے لیکن اس میں متعلقہ صوبے کی مرضی بھی شامل کی جاتی ہے کیونکہ امن  و امان صوبائی دائرہ اختیار ہے۔  اس سے صوبے میں امن وامان کی صورت حال پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور یہاں طویل عرصے بعد بحال ہونے والا امن سبوتاژ ہو سکتا ہے۔ 
سندھ کابینہ  نے آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام کو ہٹانے کا مطالبہ کیا اور سندھ حکومت  نے سرکاری طور پر وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا گیا ہے۔  اس کے باوجود  وفاقی حکومت اس اہممعاملے کو لٹکا دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دسمبر میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں آگاہی دی تھی کہ ان کی حکومت کا آئی جی پر کوئی اعتماد نہیں رہا۔ لیکن بعد میں وزیراعظم  نے سندھ حکومت کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا۔  
سندھ میں پولیس نے  وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو بھی نشانہ بنایاایس ایس پی کراچی غربی کیپٹن اظفر مہیسر کی جانب سے 40 قتل میں ملوث ملزم اقبال ٹھیلے والا کو جب گرفتار کیا تو اس کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ اس نے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ سے بھی ملاقات کی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے اس کی شدید تردید کی۔وزیر اعلیٰ  کے احتجاج کے بعد اظفر مہیسر کا تبادلہ کیا گیا۔  اور پھر صوبائی وزیر توانائی امتیاز شیخ کے خلاف خفیہ رپورٹ میڈیا کو جاری کرائی گئی۔ اس رپورٹ میں صرف الزامات عائد کیے گئے اور کردار کشی کی گئی ہے۔ 
سندھ حکومت نے آئی جی سندھ پر چارج شیٹ جاری کی کہ وہ صوبے میں امن و امان قائم نہیں رکھ سکے ہیں، ارشاد رانجھانی قتل کیس اور دعا منگی اور بسمہ کا اغوا  اور تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا ئی  کے الزامات عائد کئے گئے۔ آئی جی پر یہ بھی سندھ حکومت کا الزام ہے کہ انہوں نے براہ راست سفارت کاروں سے ملاقاتیں کیں اس حوالے سے صوبائی اور وفاقی حکومت سے کوئی اجازت نہیں لی گئی۔
اختلافات کی ایک اہم وجہ ایس ایس پیز اور ڈی آئی جیز کے تبادلے اور تعیناتی بتائی جاتی ہے۔ڈی آئی جی خادم رند کا تبادلہ کیا گیا تو آئی جی نے چیف سیکریٹری کو ایک خفیہ خط لکھا جس میں خادم رند کی تبادلے پر احتجاج کیا اور اس خطے کی کاپی میڈیا میں لیک کی۔
 جیکب آباد میں پولیس چوکی پر حملے پانچ اہلکاروں کی ہلاکت اور لاشوں کے بے حرمتی کے مقدمے میں ملزم محمد صلاح شہلیانی کو گزشتہ سال گرفتار کیا گیا، جس کی گرفتاری کے فوری بعد صوبائی حکومت نے ایس ایس پی قیوم پتافی کا تبادلہ کردیا۔ گرفتار ملزم ایک سابق رکن سمبلی کا قریبی رشتے دار ہے بتایا جاتا ہے۔ملزم کو ذاتی گاڑی میں بغیر ہتھکڑیوں کے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا جس کی ویڈیو وائرل ہوئی تو ایس ایس پی رضوان میمن کے حکم پر اس ملزم کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں۔ جس پر انہیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈی آئی جی خادم حسین رند اور ایس پی رضوان احمد نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت نے دونوں کا تبادلہ معطل کردیا۔
سندھ کا ایک خاص پس منظر رہا ہے۔  صوبے کے دارالحکومت کراچی میں دہشت گردی کئی عشروں تک جاری رہی۔ دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لیے دو سویلین حکومتوں کی حکمت عملی سے کچھ حلقوں نے اتفاق نہیں کیا۔ پھر کراچی سمیت پورے سندھ میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پولیس کے ساتھ ملٹری اور پیرا ملٹری فورسز کے کردار میں اضافہ ہوا اور سندھ پولیس میں صوبائی حکومت کی پالیسیوں اور حکمت عملیوں کی اہمیت کم ہوئی۔ ایک تجزیہ نگار کے مطابق ”دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہونے والے آپریشنز میں کام کرنے والے بعض پولیس افسران کو کہیں اور سے ہدایات ملتی رہیں۔ پھر کچھ افسران دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر اپنی کارکردگی دکھانے میں مصروف ہوگئے۔ اب صورتحال بہت پیچیدہ ہے۔ امن و امان کنٹرول کرنے کے لیے سویلین حکومت کی پالیسیاں سیاسی مداخلت بن گئی ہیں۔“ 
سندھ میں پولیس افسران کی تقریاں اور تبادلے کافی عرصے سے وجہ تنازع  رہے ہیں۔ انسپکٹر جنرل سندھ کا مؤقف رہا ہے کہ پولیس کے انتظامی اور آپریشنل اختیارات آئی جی کو حاصل ہیں۔سندھ حکومت نے پولیس اختیارات کے فوری حصول کے لیے مشرف دور کے پولیس آرڈر کو بحال کرنے کی منظوری دی تھی۔  
2016 سے جنوری 2018 کے درمیان حکومت سندھ نے تین بار اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا لیکن عدالت نے یہ نوٹیفیکیشن مسترد کر دیے۔ اے ڈی خواجہ اور حکومت میں تبادلوں، تعیناتیوں اور بھرتیوں پر اختلافات سامنے آئے تھے۔اے ڈی خواجہ کی تعیناتی سے قبل عدالت کے حکم پر آئی جی غلام حیدر جمالی کو ہٹایا گیا تھا۔غلام حیدر جمالی پر قواعد کے خلاف ورزی کرتے ہوئے بھرتیوں کا الزام تھا۔  
ایک موقف یہ ہے کہ سندھ پولیس میں سیاسی مداخلت ہے۔ حکمران جماعت کے ارکان  اسمبلی پولیس میں تبادلوں اور تقرریوں اور دیگر معاملات میں مداخلت کرتے ہیں، جس سے نہ صرف پولیس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ امن و امان کی صورت حال بھی خراب ہوتی ہے۔ دیکھاجائے توپاکستان میں کہیں بھی پولیس کا نظام مثالی ہے ا اگر یہی وجہ ہے تو یہ الزام دیگر صوبوں کی حکومتوں پر بھی الزام عائد کیا جا سکتا ہے۔ خود وفاقی حکومت بھی یہی کام کر رہی ہے۔حالیہ محاذ آرائی کا بظاہر سبب وفاق میں پی ٹی آئی اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے درمیان سیاسی محاذ آرائی ہے۔بہت سے لوگوں کے لئے تعجب کی بات ہوگی کہ سندھ واحد صوبہ ہے، جہاں پولیس افسروں کے تبادلوں اور تقرریوں کا ایک باقاعدہ نظام  اور قانون  موجود ہے، پولیس کے احتساب کیلئے پبلک سیفٹی کمیشن ہے۔  
تمام قصے میں  اہم سوال  یہ ہے کہ اداروں میں مداخلت  ہورہی ہے۔  اصولی بات یہ ہے کہ منتخب حکومت اداروں کے ماتحت نہیں ہوتی بلکہ ادارے حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں۔کسی افسر کی جانب سے حکومت کے ساتھ محاذ آرائی کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہئے۔  

Saturday, January 18, 2020

جونیئر اتحادیوں کے مطالبات اور زمینی حقائق

http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/18-01-2020/details.aspx?id=p10_02.jpg

جونیئر اتحادیوں کے مطالبات اور زمینی حقائق
18-01-2020
میرے دل میرے مسافر  سہیل سانگی  
 پارلیمنٹ میں  ہونے والی قانون سازی  کے بعدسیاسی حالات میں اچانک تبدیلی  رونما ہوئی۔مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی  کے ساتھ حکومتی رویے میں تبدیلی  کے بعد حکمراں اتحاد میں شامل جونیئر شراکت دار اپنا حصہ مانگ رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حکومت نے غیروں کو منالیالیکن اپنے بھی روٹھنے لگے ہیں۔ 
ایم کیو ایم نے پہلکاری کی اور اس کے نمائندے خالد مقبول صدیقی نے استعیفے کا اعلان کیا، کہا جارہا ہے کہ جمعرات کو یہ استعیفا وزیراعظم کو بھیج دیا گیا ہے۔ مخلوط حکومت میں اتحاد کی بڑی علامت قاف لیگ  کے تحفظات بھی سامنے آرہے ہیں۔ قاف لیگ پنجاب کے اہم حلقہ انتخاب میں حکمران جماعت کی معاون رہی ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین نے بھی ناراضگی کا ظہار کیا ہے۔  
یہ تینوں جماعتیں مقتدرہ حلقوں سے اتنی قریب ہیں کہ اپنے طور پر حکومت کی مخالفت کافیصلہ یا اظہار نہیں کرسکتی۔ مخلوط حکومت میں 5 چھوٹی جماعتیں شامل ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان، جی ڈی اے، بی این پی مینگل اور بلوچستان عوامی پارٹی کی قومی اسبملی میں مجموعی 19 نشستیں ہیں۔ان تمام کا مطالبات کا لب لباب یہ ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے وعدے پورے نہیں کئے۔ 
حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی اس وجہ سے ہے کہ یہ سب ایک  ہی وقت ناراضگی کا اظہار کر رہی ہیں جبکہ جونیئر پارٹنرز کی اسمبلی میں ممبران کی تعدادحکومت گرانے کے لئے مطلوبہ تعداد سے دگنی ہے۔  

 تحریک انصاف نے ان اتحادیوں سے مذاکرات شروع کردیئے ہیں۔ حکومت  یہ تاثر دے رہی ہے کہ اتحادیوں کے شکوے شکایات اپنے حلقہ ہائے انتخاب سے متعلق ہیں۔ جہاں وہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز چاہتے ہیں۔ 

 حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں  نے  وزیراعلیٰ پنجاب سردا ر عثمان بزدار،وزیر دفاع پرویز خٹک، تحریک انصاف کے سینئر رہنماء جہانگیر ترین اور وزیراعظم کے مشیر ارباب شہزاد نے  مسلم لیگ(ق) کے رہنماؤں میں اہم ملاقات ہوئی۔  ق لیگ نے وزارتوں میں مکمل اختیار اور ترقیاتی فنڈز دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایک ہفتہ میں مطالبات پر عملدرآمد نہ ہواتو دھماکہ ہوگا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے ا موراور ورکنگ ریلیشن شپ کو مزید بہتر بنانے کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیاگیااور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ورکنگ ریلیشن شپ کو مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) بھی وفاقی حکومت سے ناراض ہوگئی۔سندھ میں حکومت کے لئے جی ڈی اے کوئی بہت زیادہ اہم نہیں۔کیونکہ جی ڈٰ ی اے کو سندھ میں نہ عوامی سطح پر مقبولیت حمایت حاصل ہے اور نہ قومی اسمبلی میں جی ڈی اے کو زیادہ نمائندگی ہے۔تاہم ایک سیاسی حیثت ضرور ہے۔
 نومبر میں پیر پاگارا نے کہا تھا کہ  جی ڈی اے حکومت سے ناراض ہے۔ اور حکومت کا ساتھ دینے پر نظر ثانی کرنے جارہی ہے۔سندھ کے لوگوں کو حکومت نے مایوس کیا ہے۔  اب ترجمان جی ڈی اے کا کہنا ہے کہ ہمارے تحفظات ابھی تک برقرار ہیں، ہم بھی حکومت سے ناراض ہیں۔ ہم حکومت کی طرف سے وعدے پورے ہونے کا چند دن اور انتظار کریں گے۔ مزید کہنا ہے کہ ہم نے سندھ کے لیے ترقیاتی منصوبے اور نوجوانوں کے لیے روزگار مانگا ہے۔ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی سربراہی میں جی ڈی اے کے وفد نے جہانگیر ترین کی سربراہی میں ملنے والی حکومتی ٹیم سے شکوہ کیا کہ ترقیاتی فنڈز دیے جارہے ہیں اور نہ ہی سندھ کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں پر اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ گریند ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کو ترقیاتی فنڈز جلد دینے اور سندھ سے متعلق فیصلوں پر اعتماد میں لینے کی یقین دہانی کرا دی۔جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ حکومت اور جی ڈی اے میں اب کوئی معاملہ حل طلب نہیں رہ گیا، جی ڈی اے پہلے بھی حکومت کا اہم حصہ تھی اور آئندہ بھی ہماری اتحادی رہے گی۔ 

 حکومت کا اتحادیوں کو منانے کا مشن جاری  رکھتے ہوئے حکومتی ٹیم نے ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کی قیادت میں بی این پی مینگل کے وفد سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور 6 نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات کئے۔ بی این پی مینگل کے وفد نے لاپتہ افراد کی بازیابی، گوادر میں 95 فیصد لیبر اور 50 فیصد اسکلڈ لیبر بلوچستان سے لینے، گودار میں غیر مقامی افراد کے شناختی کارڈ پر گوادر کا مستقل پتہ درج نہ کرنے اور ووٹ کا حق نہ دینے کے مطالبات پیش کیے۔ 
حکومتی ٹیم نے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل سے آئندہ دو ہفتوں میں مزید 500 لاپتہ افراد بازیاب کرانے کا وعدہ کردیا۔ گوادر میں بلوچ مزدوروں کا بڑا حصہ رکھنے، غیر مقامی افراد کے شناختی کارڈ پر گوادر کا مستقل پتہ نہ لکھنے اور ووٹ کا حق نہ دینے کی شرائط کے حوالے سے قانون سازی کی یقین دہانی بھی کرا دی۔
متحدہ قومی مومنٹ نے ناراضگی کا اظہار تو کیا لیکن  اس پارٹی میں اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ خالد مقبول صدیقی نے کابینہ سے استعیفا دے دیا۔ لیکن وزارت کے دوسرے امیدوار امین الحق حکومت سے رابطے میں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کہ ان کا کہنا ہے کہ اسد عمر سے ملاقات میں اپنے تحفظات ان کے سامنے رکھے ہیں، اسد عمرکا پیغام آیا ہے کہ ایم کیو ایم کے تحفظات وزیراعظم تک پہنچا دیے گئے ہیں۔ایک دو روز میں حکومتی ٹیم سے پھر ملاقات ہوگی۔ 
ایم کیو ایم سے الگ ہو کر دوسری پارٹی بنانے والے پی ایس پی  کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پر عامر خان نے قبضہ کر لیا ہے۔ وہ یہ بھی الزامات لگا رہے ہیں کہ میئر کراچی وسیم اختر کو مبینہ کرپشن کے الزامات میں نیب گرفتار کرنے والی تھی  لہٰذا پیشگی تحفظ کے لئے ایم کیو ایم  پریشر ڈال رہی ہے۔ 

  جونیئر اتحادی چاہتے ہیں کہ ملک میں  تبدیل شدہ صورتحال میں سب نے  فائدہ اٹھایا ہے۔ انہیں بھی فائدہ ملنا چاہئے۔ وہ  اپنے مطالبات اور ان سے کئے گئے وعدوں پر عمل کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا حکومت کے لئے یہ ممکن ہے؟  ان کے زیادہ تر مطالبات کا تعلق طرز حکمرانی سے ہے۔ کیونکہ وزیر اعظم عمران خان  مشاورت یا اجتماعی فیصلے کرنے کے عدای نہیں۔ وہ اپنی طبیعت اور فیصلوں میں زیادہ مرکزیت پسند ہیں۔ 
دوسرا اہم معاملہ ترقیاتی فنڈز کی فراہمی ہے۔ وزیراعظم حکومت میں آنے سے پہلے اور بعد میں بارہا کہہ چکے ہیں کہ منتخب نمائندوں کو فنڈز کی فراہمی سیاسی رشوت ہے، اور یہ رقومات درست طور پر استعمال نہیں ہوتی۔  اگر اس بات  پریو ٹرن  بھی لیتے ہیں، تو خزانہ میں پیسے ہی موجود نہیں۔ مزید یہ کہ اس طرح کے معاملات کی آئی ایم ایف کیسے اجزات دے گی؟  
نہیں لگتا کہ جونیئر اتحادیوں کے زیادہ مطالبات  عملی طور پر مانے جائیں، ہاں یہ ضرور ہوگا کی کمیٹیاں بنائی جائیں گی، یقیندہانیاں کرائی جائیں گی، ان مطالبات سے اصولی اتفاق کیا جائے گا۔ 

Friday, January 10, 2020

سیاسی حقائق اور ترمیمی بل

Nai Baat Jan 10, 2020
 سیاسی حقائق اور ترمیمی بل
میرے دل میرے مسافر
سابق چیف جسٹس آصف کھوسہ  نے جاتے جاتے آرمی چیف کے تقرر پر  بہت سے قانونی نکات اٹھا ئے تو گیند پارلیمنٹ کی کورٹ میں  پہنچ گئی۔ ہرذی شعور کو معلوم تھا کہ پارلیمنٹ اس پر کیا فیصلہ کرے گی؟  بہرحال  عدالتی فیصلے نے سیاسی جماعتوں کو موقع دیا  اور آزمائش میں بھی ڈال دیا کہ وہ  فیصلہ کریں اور ووٹ دیں اپنے منشور کے مطابق یا زمینی سیاسی حقائق کے پیش نظر۔سب نے دیکھا کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود وایاز۔  یہ ایک اہم قانون تھا، جو ایک مرتبہ کے لئے نہیں تھا۔ بلکہ ملک کے ایک اہم ادارے سے متعلق تھا، ایسا ادارہ جو ملک کے دفاع ہی نہیں بلکہ  یہاں کی سیاست، معیشت سمیت زندگی کے تمام شعبوں پر اثر انداز ہوتا رہا ہے اور آنے والے وقتوں میں بھی ہوتا رہے گا۔ 
 اپوزیشن سے لیکر حکمران جماعت تک سب ایک صفحے پر آگئے،پہلکاری مسلم لیگ نے کی کہ کوئی شرط لگائے بغیر اس ترمیم کو ماننے کا اعلان کر دیا۔ اگر مسلم لیگ نواز اس طرح پہلکاری نہیں کرتی تو پیپلزپارٹی کے لئے اتنا آسان نہیں تھا کہ وہ  اتنی جلدی اسی صف میں جاکر کھڑی ہوتی۔ شایدیہی وجہ ہے کہ پہلی حمایت مسلم لیگ نواز سے کرائی گئی۔ دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ نواز لیگ پر پارٹی کے اندر دباؤ تھا۔ اس کے اراکین حلقے کی سیاست  سے آگے نظر نہیں رکھ رہے تھے۔ پیپلزپارٹی کے لئے یہ دلیل تھی کہ وہ کسی صورت میں سندھ حکومت کھونا نہیں چاہتی تھی۔ممکن ہے کہ اس کے غیر پیپلزپارٹی کے لئے اپنے بقا کی جنگ لڑنا مشکل ہو جاتی وغیرہ وغیرہ۔

سیاسی پارٹیوں کااتفاق رائے اپنی جگہ ہے لیکن ان فیصلوں سے لوگ خوش بھی نہیں ہیں۔ان کا خیال ہے کہ بحث ہوتی تو زیادہ پہلو سامنے آتے اور رائے عامہ میں اتفاق رائے ہوتا، جو زیادہ قومی مفاد میں ہوتا۔جماعت اسلامی، جے یو آئی (ایف) پختونخوا عوامی ملی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے  ترمیمی بل کی مخالفت کی۔ مذکورہ بالا جماعتوں کے موقف کو یہ کہہ کر نظرانداز کیاجارہا ہے کہ  وہ سکڑ رہی  ہیں اور وہ صورتحال میں غیر متعلق ہوتی جارہی ہیں۔ 
سوشل میڈیا اور عام لوگوں میں بحث  ایک بہت بڑا پیمانہ ہے کہ لوگ کیا سوچتے ہیں۔ خود  دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کے کارکن بھی  خوش نہیں،ان کے پاس اپنی پارٹیوں کے موقف کے دفاع کے لئے کچھ ٹھوس دلیل نہیں، کیونکہ یہ سب کچھ پارٹی کے نظریات اور بیانیوں سے مطابقت نہیں کر رہا۔

 سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ جس نے سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا  اسی روز عہدے کی میعاد میں توسیع دینے کو قانونی تحفظٖ مل گیا تھا۔ پارلیمنٹ میں لے جانا ایک رسم تھی۔  اس نقط نظر کے نزدیک توسیع دینا ایک سیاسی حقیقت تھی۔ جس کو ہونا ہی تھا۔ یہ توسیع کسی قانون یا دباؤ کا نتیجہ نہیں تھی۔ ایک طرح سے پہلے سے فیصلہ کیا ہوا تھا عدالت نے اس کو محض ایک قانونی  لبادہ دیا۔
 قانون اور عدالتی فیصلے سیاسی حقائق کو بدلتے نہیں بلکہ ان سیاسی حقائق کو مہر لگاتے ہیں۔اصل بات سیاسی حقائق اور طاقت کا توازن ہوتے ہیں۔ملک کی تاریخ کو نظر میں رکھیں، تو پتہ چلتا ہے کہ دستور ساز اسمبلی توڑنے کے خلاف مولوی تمیزالدین کی  درخواست پر نظریہ ضرورت کے قانون سے لیکر بیگم نصرت بھٹو کی جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاٗ نافذ کے خلاف  درخواست اور 1985 کی اسمبلی سے متعلق عدالتی فیصلے تک سب یہی بتاتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ عدالتی فیصلے اور قانون سیاسی حقائق کے پیچھے چلتے ہیں، سیاسی حقائق قانون یا عدالتی فیصلوں کے پیچھے نہیں چلتے۔ مشرف کا ہنگامی حالات کا نفاذ چونکہ سیاسی حقائق سے متصادم تھا تو مقدمہ بن گیا۔ جبکہ مشرف کا 1999 کا اقدام  جائز قرار دے دیا گیا۔ 
اس خدشے کا ظہار کیا جارہا ہے کہ اب ایکسٹینشن معمول بن جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا پہلے یہ معمول نہیں تھا؟  فرض کریں کہ ریٹائرڈ جنرل مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں اپیل سے پلٹ جاتا ہے تو کیا ہوگا؟ اس کے آئندہ اثرات کیا ہونگے؟ بعض قانوندانوں کی رائے میں پسریم کورٹ کا فیصلہ ایک طرح سے خصوصی عدالت کے فیصلے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے  کا حل دے رہا ہے۔ سب سے زیادہ آزمائش پارلیمنٹ نے اپنے لئے کھڑی کر لی ہے۔ اب عوام بجا طور پر یہ توقع کرتے ہیں کہ یہی بالادستی اور یہی تیز رفتاری کبھی ان کی زندگی آسان کرنے کیلئے بھی استعمال ہو۔ 
 سب کچھ بدل گیا ہے،  میڈیا، معاشی حالات  اور دنیا، خود پاکستان کے لوگ بھی آج کی آگہی کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ یہ کوئی پچاس یا اسی کا عشرہ نہیں۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک آرمی چیف کے ہعدے میں توسیع کو چیلینج کیا جاتا ہے یا ہنگامی حلات نافذ کرنے پر ایک آرمی چیف کو سزا سنائی جاتی ہے۔ اس سے یہ ظہار نہیں ہوتا کہ توازن میں تبدیلی آئی ہے۔ تبدیل شدہ حالات میں عسکری بالادستی کو چیلینج کیا گیا ہے۔ خصوصی عدالت اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 
اس قانون کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ جب عدلیہ آئین کی بعض دفعات کی تشریح کرسکتی ہے تو اس قانون کی تشریح کیوں نہیں؟ قوانین اور اصولوں میں چھپے ہوئے اجزاء ہوتے ہیں،جب یہ قوانین زمینی حقائق سے میچ نہیں کھاتے تب قانونی سقم ک یا جھول کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ 73  کا آئین دیتے واقت ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کہا تھا کہ میں پاکستان میں  ہمیشہ  کے لئے مارشل لاء کا دروازہ بند کردیا ہے۔ لیکن بعد میں جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔
پیپلزپارٹی نے ایک اچھی ترمیم پیش کی تھی کہ کسی بھی ایکسٹنشن سے پہلے وزیراعظم  دفاع سے متعلق پارلیمان کی کمیٹی کو وہ اسباب بتائیں گے جن کے پیش نظر یہ توسیع دی جارہی ہے۔ لیکن بعد میں پیپلزپارٹی پیچھے ہٹ گئی۔ 
 کیا اس قانون سے معاملات طے ہوگئے ہیں َ یا یہ عسکری اور سویلین تعلقات میں توازن طے ہوگیا ہے؟ ایک مرحلہ طے ہوا ہے۔،پارلیمان نے قانون بنایا، تقرری یا توسیع وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہوگا۔پارلیمان اور حکومت کا امتحان ختم نہیں ہوا۔ چلیں آگے بھی مراحل ہیں۔ جیسے انتخابات میں من پسند نتائج، اقتدار پر قبضہ کرنے کو روکنا، ایکسٹینشن  کے دروازے  بند کرنا۔کیا اس پر بھی سیاسی جماعتیں ایک ہو سکتی ہیں؟ یہ بھی قومی مفاد ہے۔ 
اصل میں معاملے کا سیاسی فضا میں حل ڈھونڈنے  کی ضرورت ہے۔ یہ ذمہ داری سیاسی جماعتوں پر آتی ہے کہ وہ دیکھیں کہ وہ کونسی حکمت عملی اور لائحہ عمل ہو سکتا ہے سویلین بالادستی کی طرف راستہ نکلے۔ صرف یہ کہنا کہ قاون اور آئین کیا کہتا ہے غصہ کھوکھلی نعرہ بازی کوئی حکمت عملی نہیں۔
ہماری سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملی بنانے کے بجائے کسی معجزے کے انتظار میں زیادہ رہتی ہیں۔ ان کے نزدیک ترکی میں دوہزار سات میں بغاوت وغیرہ کے مقدمات اچانک ظہور پزیر ہوئے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ان مقدمات سے پہلے بہت سارے واقعات ہو چکے تھے۔ یہ واقعات تبدیلی کا آغاز نہ تھے، بلکہ تبدیلی کا نتیجہ تھے۔ وہاں پہلے طاقت کا توازن تبدیل ہوا پھر یہ مقدمات چلے۔ اگر سیاسی جماعتیں طاقت کا توازن تبدیل کرنا چاہتی ہیں تو انہیں مسلم لیگ قاف اور فنکشنل لیگ کی طرح سیاست نہیں کرنی ہوگی۔  وقتی رلیف یا اقتدار میں عارضی حصہ پتی لینے یا اس کا آسرا رکھنے کے بجائے سویلین  بالادستی کے لئے طویل عرصے کی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔ 

Tuesday, January 7, 2020

سویلین بالادستی پھر کبھی سہی۔۔!!

7-01-2020
سویلین بالادستی پھر کبھی سہی۔۔!!

میرے دل میرے مسافر   سہیل سانگی

ملک کی دوبڑی اپوزیشن جماعتیں شدید تنقید کی زد میں ہیں۔سیاستدانوں کو گالیاں پڑ رہی ہیں۔ ان پر بوٹ پالش کرنے  کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔کہ وہ آرمی چیف ہی نہیں سروسز چیف کو تین سال تک توسیع  کے ترمیمی بل پر ”لیٹ“ چلی گئی ہیں۔مایوسی کا اظہار یوں کیا جارہا ہے جیسے سویلین بالادستی ہماری سیاسی اشرافیہ کا نصب العین تھا، جس کو اچانک اپوزیشن نے چھوڑدیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں نظریاتی نہیں اقتداری جماعتیں ہیں۔ اس طرح کامظاہرہ ا وہ ماضی میں بھی کرتی رہی ہیں۔ 
سب سے اہم اور بڑا کردار مسلم لیگ نواز کا ہے۔یہ درست ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے منتخب نمائندوں کو فیصلہ سازی کرنے کا اختیار نہ دینے کے خلاف مزاحمت کی۔ جو ان کی پارٹی اور حکومت کی بقا کے لئے بھی ضروری تھا۔نواز شریف کو برطرف ہونا پڑا اور بعد میں انہیں جیل بھی جانا پڑا۔ باپ بیٹی طاقتور حلقوں سے  انحراف کر کے کھڑے  ہوگئے۔ انہیں پہلا دھچکا پارٹی کے اندر ہی بااثر حلقوں سے مزاحمت سے لگا گئی۔ کہا گیا کہ محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کی پالیسی اختیار کی جائے۔ 
پارٹی کے دو سنیئر رہنما شہباز شریف اور چوہدری نثارعلی خان مفاہمت والی لابی کی نمائندگی کر رہے تھے۔ تعجب کی بات ہے کہپارٹی قیادت سے کھلے عام اختلاف کرنے پر الگ کردیا گیا جبکہ نواز شریف کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کے بعد نثار علی خان جیسا موقف رکھنے والے شہباز شریف کو پارٹی کا  صدر بنادیا گیا۔ 
شہباز شریف کا اختلاف عملی طور پر تب سامنے آیا جب سزا لگنے کے بعد عام انتخابات کے موقع پر  نواز شریف اور مریم نواز لندن سے پاکستان پہنچے، اور شہابز شریف ہزاروں افراد کی قیادت کرتے ہوئے مجمع کو ایئر پورٹ سے دور لے  گئے۔  
ایک نظر انتخابات سے پہلے پر ڈالنا ضروری ہے۔ جب ایک نہایت ہی اہم منصب والی شخصیت نے اپوزیشن کی بڑی جماعتوں  کے لیڈروں کے ساتھا اسلام آباد میں ایک میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں الیکشن سے پہلے اور بعد میں مثبت نتائج کے لئے راہموار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس اثناء میں مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کیا لیکن بڑی اپوزیشن جماعتوں نے خود کو  اس مارچ سے دور رکھا۔ الیکشن سے پہلے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اس میٹنگ میں مولانا فضل الرحمٰن کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔مولانا کے اصل مطالبات کیا تھے؟ چوہدری شجاعت حسین نے انہیں کیا یقین دہانی کرائی؟یہ سوالات ابھی بھی باقی ہیں۔
نواز شریف  جیل میں رہتے ہوئے بھی ”محاذ آرائی“ کے بیانیے پر کھڑے رہے۔ لیکن انکی شدیدبیماری نے شہباز شریف اور ان کے بیانیے کو تقویت دی۔ ایک مرتبہ پھر خاندانی دباؤ نے انہیں مجبور کردیا کہ وہ  علاج کے لئے بیرون ملک جائیں۔ 
پھر پیپلزپارٹی کی باری تھی آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی نیب کے مقدمات میں ضمانتیں منظور ہو گئیں۔  نیب کے اختیارات کم کرنے کے لئے آرڈیننس نافذ کردیا گیا جو یقیننا اپوزیشن رہنماؤں کو بھی فائدہ دے گا جنہیں احتساب کا سامنا ہے۔ 
سپریم کورٹ نے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جب آرمی چیف کی وزیراعظم کی طرف سے دی جانے والی توسیع کو روکنے کی پٹیشن نمٹانے لگے تو  ملک کی سیاسی فضا میں چرچے ہونے لگے کہ کوئی بڑی بات ہونے والی ہے۔ کورٹ نے آرمی چیف کو چھ ماہ تک عہدے پر برقرار رہنے اور مزید معاملہ پارلیمنٹ میں طے کرنے کا کہہ کر معاملے کو مزید الجھا دیا۔ موجودہ پارلیمنٹ جس پر مولانافضل الرحمٰن اور اچکزئی سلیکٹیڈ کا الزام لگا رہے ہیں اسی کو یہ فیصلہ کرنا ہے۔  یہ دونوں رہنما شاید انتخابات سے پہلے منعقدہ اعلیٰ مٹنگ کا حوالہ دے رہے ہیں۔ 
اسلام آباد کے معتبر صحافیوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اراکین پارلیمنٹ کی اکثریت نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی مخالفت کی ہے۔ یہ موقف رکھنے والے اراکین کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کو ایک قانون بنا دینے سے سازشوں کے دروازے کھل جائیں گے اور جب بھی کسی آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کے تین سال پورے ہونے کو آئیں گے تو توسیع کے لئے جوڑ توڑ شروع ہو جائے گی، اس لئے بہتر ہے کہ آرمی چیف کی تقرری کو سنیارٹی سے مشروط کر دیا جائے۔نواز  لیگ میں اس ترمیمی بل کے حامی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ اس بل کی حمایت کے نتائج بہت جلد سامنے آئیں گے۔
 آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل پر اپوزیشن تقسیم ہو چکی تھی۔نیشنل پارٹی کے صدر سینیٹر حاصل بزنجو اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسا ہی اعلان پی ٹی ایم کے علی وزیر نے کیا۔ جماعت اسلامی حمایت نہیں کررہی۔جے یو آئی (ف) کے سر براہ  مولانا فضل الرحمٰن کو منا نے کیلئی سابق وز یراعظم چوہدری شجاعت حسین،سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی ان کے گھر پہنچ گئے۔مولانا نے انہیں بتایا کہ”یہ فیصلہ پارلیمانی پارٹی اور مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد کیا،فوج کو سیاست میں ملوث نہیں کرنا چاہتے، حکومت کے فوج اور جنرل باجوہ کو متنازعہ بنانے اور عدالت میں گھسیٹنے سے صورتحال متنازعہ بنی۔“مولانا کا خیال ہے کہ” 6ماہ کا وقت ہے، اسمبلی تحلیل کرکے نئی اور جائز اسمبلی سے قانون پاس کرایا جائے،آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ اسمبلی میں آرہا ہے اس اسمبلی کو تمام حزب اختلاف جماعتیں جعلی قرار دیتی ہیں۔جے یو آئی ف اس اسمبلی کے قانون سازی کے حق کو تسلیم نہیں کرتی، جعلی اسمبلی کو انتہائی حساس معاملے پر قانون سازی کی اجازت نہیں دے سکتے۔“
نواز لیگ  میں مفاہمتی پالیسی کے حامی باور کرارہے کہ انہیں ہر دو صورتوں میں اقتدار میں شراکت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، معاملہ ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے ہویا نئے 
بڑے فریق ”عظیم تر قومی مفاد“میں اقتدار میں حصہ داری پر مطمئن ہیں۔ ان کے جواب میں بڑی سیاسی جماعتوں نے سویلین بالادستی کی جنگ کسی اور موسم کے لئے ملتوی کردی ہے۔یقیننا یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کتنی گنجائش تھی جس کوعملا ان سیای جماعتوں نے استعمال نہیں کیا؟ کیا کیا مجبوریاں اور مصلحتیں آڑے آئیں؟  پیپلزپارٹی مثبت طریقہ کار اپنانے کا کہتی رہے گی، بعض اعتراضات بھلے اٹھائے جائیں، بعض  پارٹیوں کی جانب سے مخالفت ہو گی، ممکن ہے کہ کوئی اپوزیشن جماعت  رائے دہی کے وقت غیر حاضر رہے،  بل جع کو نہ سہی منگل کو یا بدھ کو منظور ہو جائے گا۔ 



Monday, January 6, 2020

بھٹو میں کرشماتی کیا تھا؟

بھٹو میں کرشماتی کیا تھا؟
سہیل سانگی۔ کراچی
ذوالفقارعلی بھٹو پاکستان کے واحد سیاستدان ہیں جو مرنے کے بعد بھی چارعشروں تک ملکی سیاست پر چھائے رہے۔ یہ عرصہ ملکی سیاست واضح طور پر بھٹو حامی اور بھٹو مخالف کیمپوں میں بٹی رہی۔ اس تقسیم  میں اب کچھ تبدیلی رونما ہورہی ہے۔
پانچ جنوری 1928 کوجاگیردار گھرانے سے پیدا ہونے والے ذوالفقارعلی بھٹو صرف مقبول لیڈر نہیں تھے۔ بلکہ وہ ذہین اور پڑھے لکھے اور حالات سے آگاہ سیاستدان تھے۔

بھٹو سے پہلے سیاست کیا تھی؟
پاکستان میں جاگیرداروں کا مخصوص سیاسی کلچر رہا ہے۔ ستر کے عشرے خواہ اس سے قبل اکثرسیاستدان جاگیردار تھے۔ خود کو بڑا سمجھنا، حکومت یا حکومتی اہلکار کے سامنے جھک جانا۔ اپنے مخالفین اور ماتحتین سے ظالمانہ طریقے سے نمٹنا ان کا مخصوص لائیف اسٹائل تھا۔ لہٰذا سیاست اور اقتدار میں بھی دھونس اور نوکرشاہی یا حکومت کی پشت پناہی ضروری سمجھی جاتی تھی۔ یہی لوگ اسمبلیوں خواہ سیاسی جماعتوں پر حاوی ہوتے تھے۔ باقی لوگ زمیندار تو نہ تھے لیکن ان  کے سیاسی کلچر پر چلتے تھے۔

سیاسی جاگیردار کلچرکیا تھا؟ بھٹو نے قومی اسمبلی میں ایک تقریر میں اس کو بیان کیا تھا: 'جب جاگیردار ایک دوسرے سے لڑتے ہیں توعوام پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کوئی ترقی نہیں ہوتی، کوئی کارخانہ نہیں لگتا، کوئی سڑک تعمیر نہیں ہوتی۔ بدترین اندھیرا اورغربت چھائی رہتی ہے۔ صرف گنتی کے لوگ ترقی کرتے ہیں یا خوشحال ہوتے ہیں۔ آپس کی لڑائیاں، عام آدمی کا استحصال، معاشی اور سماجی ترقی سے بیگانگی۔'

بھٹو کا کرشمہ کیا تھا؟
مورخین کے مطابق سات چیزوں نے بھٹو کو کرشماتی بنا دیا۔
اول: بھٹو سے پہلےعام آدمی سیاست میں غیر موثر یا غیر فعال تھا۔  سیاست پر جاگیردار چھائے ہوئے تھے۔ متوسط طبقے کا کوئی کردار نہیں بنتا تھا۔ بھٹو نے عام آدمی اور متوسط طبقے کے کردار کو اہم بنایا۔

دوم: بھٹو جب آئے تو عام آدمی کو لگا کہ اب جو شخص ان کے سامنے ہے وہ دانشورہے اور بڑے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ لہٰذا اس کی بات میں وزن ہے۔ یہ جاگیردار، صنعتکار خواہ بیورکریسی سے نمٹ سکتا ہے۔ اس سے قبل وہ سمجھتا تھا کہ ان قوتوں سے کوئی نمٹ نہیں سکتا۔ لہٰذا عام آدمی وہ کسان ہو یا مزدور بھٹو کے پیچھے ہو لیا۔

سوم: بائیں بازو کی تنظیمیں سرگرم ضرور تھی لیکن جاگیرداروں اور نوکرشاہی کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے وہ سیاست کے نظام کو بدلنے میں ناکام رہی۔  کوئی قدآور اور بااثر شخصیت ان کے ساتھ نہیں تھی۔ جب بھٹو کی شکل میں روایتی سیاسی بنیادوں کو للکارنے والا ایک بااثر متبادل ابھرا، جو سوشلزم کا نعرہ بھی لگا رہا تھا۔ لہٰذا انہوں نے اس متبادل کی حمایت کی۔

چہارم: حکمران طبقے کے لوگوں کو محسوس ہوا کہ بھٹو اتنا جانتا ہے کہ ایوب خان جیسا بندہ بھی اس کی بات پر چلتا ہے۔ یہ اعتراف امریکیوں نے اپنی رپورٹس میں بھی کیا۔

پنجم: پاکستان کی سیاست میں بھارت دشمنی اضافی مارکس رکھتی ہے۔ اس کا اظہار بھٹو نے 1965 کی جنگ اور بعد میں معاہدہ تاشقند کے موقع پر برملا اور اونچی آواز میں کیا۔ لہٰذا وہ اس حلقے میں بھی قابل قبول لیڈر بن گئے۔

ششم: نہرو کی طرح بھٹو بھی شاہوکارگھرانے سے تعلق رکھنے والے دانشوراور سوشلسٹ نظریات کے حامی سیاستدان تھے۔ انہی کی طرح اچھے غیر ملکی اداروں میں تعلیم پائی۔ دونوں رہنما حکمران طبقے کے لئے بھی پرکشش بنےاور دونوں کو عوام سے بے پناہ محبت ملی۔

نہرواپنے علم اور دانش کی وجہ سے بیک وقت سیاستدانوں، نوکرشاہی، اور فوج پر حاوی رہا۔ بھٹو کے لئے بھی یہی سمجھا جاتا ہے۔

ہفتم: بھٹو نے ملک کے حکمرانوں کو بھی کر کے دکھایا کہ عوام کس طرح سے طاقت ہیں۔ بقول ایک پرانے جیالے کے بھٹو صاحب نے وڈیروں اور حکمران طبقے کو عوام سے ڈرا کر رکھا۔ اور وہ اس ڈر میں آ بھی گئے۔

بھٹوخطرہ مول لینے والے سیاستدان تھے۔ بیک وقت متضاد طبقوں کو اپنے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہو گیا۔  جس نے انہیں کرشماتی رہنما بنادیا۔

بھٹو کی سیاست اور اسٹائل
وہ جمہوریت پسند تھا، لیکن آمر بھی رہا، جدید  نظریات و رجحانات کے ساتھ، پاکستانی قوم پرست مگرعلاقائی رجحانات رکھنے والا بھی تھا۔ سیکیولرجو کھلے جلسے میں کہتا تھا کہ ہاں میں پیتا ہوں لیکن ضرورت پڑنے پر اسلام پسندوں کو گلے لگا لیا۔ ان کثیر اور متضاد  کرداروں کی وجہ سے کوئی بھی پاکستان کا لیڈر اس طرح نہیں ابھر سکا۔

سیاست  میں بڑے بڑے جلسے جلوس، لمبی تقاریر بھٹو کا اسٹائل تھا ہی لیکن عادات واطوار میں بھی مخصوص اسٹائل تھا۔ ان کی چال ڈھال، کپڑے پہننے کا سلیقہ، بات چیت اور تقریر کا انداز بعد میں کئی سیاستدانوں بشمول ان کے مخالفین نے اپنانےکی کوشش کی۔ بعض سیاسی رہنمائوں نے بھٹو کی تقاریر کی ویڈیو کیسٹس حاصل کر کے باقاعدہ ان کی نقل کرنے کی بھی کوشش کی۔

بھٹو حکومت کا کریڈٹ اور مخالفت
بھٹونے ملک میں زمینی اصلاحات کیں، بڑی صنعتوں اور بینکوں کو قومی تحویل میں لیا۔ سماجی بہبود کے شعبے میں ریاست کا رول بڑھایا اورمعاشی اورسماجی اصلاحات کیں۔ پچھڑے ہوئے طبقات کسانوں، مزدوروں کو کئی ایک حقوق دیئے۔ قوم پرستوں سے مذاکرات  کر کے ملک کو پہلا متفقہ آئین دیا۔ بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ کیا۔ اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد کی۔ خواہ 73ع  کے آئین کے بعد مارشل لاء لگے، طالع آزمائوں نے ترامیم کرکے اس دستاویز کا حلیہ بگاڑا۔ لیکن ہر مرتبہ ملک کو واپس بھٹو کے دیئے ہوئے آئین پرلانا پڑا۔

یہ المیہ تھا کہ بھٹونے 1970 کے انتخابات میں جس روایتی سیاست اور مذہبی بیانیے کو شکست دی اپنے اقتدار کے نصف مدت کے بعد اسی بیانیہ کو گلے لگایا۔ وہ روایتی سیاست کی طرف بڑھے۔ مزید یہ کہ جنہوں نے ان کو بنایا ان سے بگاڑی۔ یہیں سے ان کا زوال شروع ہوا۔

نعروں اور بعض اصلاحات کے ذریعے بھٹو نے عوام کو سیاسی شعورتو دیا، لیکن مخالف آوازیا سڑکوں پر آنے پر سختی سے نمٹتا تھا۔

بھٹو کی میراث اوراب پیپلزپارٹی
بھٹو کے بعد پیپلزپارٹی آمرانہ ونیم آمرانہ تسلط کے خلاف مسلسل جدوجہد کرتی رہی، حکومت میں بھی آئی۔ لیکن کرپشن اور خراب حکمرانی کی لپیٹ میں آگئی۔ سیاسی مصلحت کے تحت اسٹبلشمنٹ کی لائن اختیار کرنے پر تنقید کا نشانہ بنی۔ بینظیر بھٹو اور بھٹو کے عدالتی قتل کے معمے عشروں بعد بھی حل نہیں ہو سکے۔

تاریخ میں بھٹو مزاحمت اور مقبول لیڈرشپ کی علامت کے طور پررہیں گے۔ پیپلزپارٹی اب بھٹو کے بجائے بینظیر بھٹو کے ورثے کو مانتی ہے۔ بھٹو دور کے جیالے مر کھپ گئے یا بوڑھے ہوگئے۔ یا حالات نے انہیں لاتعلق بنادیا۔

بھٹو کی پیپلزپارٹی کا عوامی رنگ تھا۔ ہفتے دس دن میں وہ عوام سے رجوع کرتے تھے۔۔ رفتہ رفتہ یہ رنگ پھیکا پڑتا چلا گیا۔ بھٹوکی پارٹی میں جاگیردار کارکنوں اور پارٹی سے ڈرتے تھے۔ اب یہ طبقہ پارٹی کو ڈراتا ہے۔
پارٹی ابھی بھی ملکی سطح پر سیاسی قوت ہے۔ لیکن پالیسیوں سے لگتا ہے وہ اپنے بقا کی ہی جنگ لڑ رہی ہے۔ پارٹی بھٹو کا وہ جادو والا فارمولہ تلاش کررہی  ہے جو مختلف طبقوں کو اپنے ساتھ جوڑدے۔ اپنی کھوئی ہوئی مقام حاصل کر سکے۔





گیس کے تنازع کا پس منظر

گیس  کے  تنازع کا پس منظر
سہیل سانگی
 ایک بار پھرسندھ  اور وفاقی حکومت قدرتی گیس کے تنازع پر آمنے سامنے آگئی ہیں۔  استنازع کی باز گشت قومی اسمبلی میں بھی سنائی دی۔ سندھ بھر سے گیس کی کم رسد اور کم پریشر کی شکایات آرہی تھی۔ سندھ کا یہ موقف ہے کہ حکومت گیس کی قلت کا بوجھ سندھ پر ڈال رہی ہے۔  اور دباؤ ڈال کر زیادہ قدرتی گیس پیدا کرنے والے صوبے کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ مہنگی ایل این جی خرید کرے۔وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وسائل پر سب کا برابری کی بنیاد پر حق ہے۔
سندھ حکومت کا موقف ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 158 پر عمل درآمد کرانا چاہتی ہے جس میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ گیس پیداکرنے والے صوبے کو استعمال  کے معاملے میں ترجیح دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ یہ غلط عمل ہے کہ ہم سے گیس لے لی جائے اور اور  ایل این جی لینے پر ہمیں مجبور کیا جائے۔ ہمیں گھریلو اور صنعتی استعمال کے لئے ہماری پیدا کی ہوئی گیس استعمال کرنے دی جائے۔ گزشتہ روز  قومی اسمبلی میں  وفاقی حکومت نے گیس کے بحران کے لئے پیپلزپارٹی اور نواز لیگ حکومتوں کو ذمہ دار ٹہرایا۔ اور سندھ سے کہا کہ وہ آٹیکل 158  کی بنیاد پر سیاست نہ کرے، اور سندھ کا  یہ کہنا  غلط ہے کہ دوسروں کو گیس نہیں دی جائے۔اگر ایسا کیا گیا تو کل پنجاب کسی اور کو گندم نہیں دے گا۔  
وفاقی وزیر عمر ایوب کا یہ بیان  حیران کن ہے کہ جب آئین کی شق پر عمل کرنے کے لئے کہا جارہا ہے تو اسے سیاست کرنے کا نام دیا جارہا ہے۔ گزشتہ سال سندھ اسمبلی گیس کی قلت کے معاملے پر قرارداد بھی منظور کرچکی ہے۔
قدرتی گیس کی تقسیم  پر دو بڑے صوبوں کے درمیان یہ تنازع مشرف دور سے چل رہا ہے۔ اس تنازع کا پس منظر یہ ہے کہ سندھ گیس کی پیداوار میں شاہوکار ہے اور ملک کی کل پیداوار کا 69   فیصد اس کا  حصہ ہے جبکہ وہ  بمشکل 45 فیصد استعمال کرتا ہے۔ پیداوار میں پنجاب کا حصہ 4 فیصد ہے۔ لیکن   43  فیصداستعمال کرتا ہے۔ بلوچستان کا پیدوار میں حصہ 17 فیصد اور خیبرپختونخوا کا  حصہ 10 فی صدہے،  یہ دونوں صوبے تقریبا 7 فیصد استعمال کرتے ہیں۔ اس وقت سب سے بڑا صارف پنجاب ہے۔گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر سی این جی فلنگ اسٹیشن، صنعتی یونٹ اور کھاد کے کارخانے  درآمد کی گئی ایل این جی پر منتقل کردیئے گئے ہیں۔ 
پاکستان میں گیس کی پیداوار اور استعمال میں 4 بلین کیوبک فٹ روزانہ کاا فرق ہے۔ جبکہ اس کے استعمال میں  8 بلین کیوبک فٹ کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ اور اس کی پیداوار میں اضافہ 4  بلین کیوبک فٹ ہے۔ سردیوں کے موسم میں گیس کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ تاہم سال 2000 سے ملک کے اندر گیس کی  قیمتوں پر پابندی کی وجہ سے اس کی پیداوار  میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔  اسکی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں نے اس شعبے میں سرمایہ کاری سے ہاتھ نکال لیا۔ 
پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں نئی پیٹرولیم پالیسی وضح کی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے بعض نئی گیس فیلڈ دریافت کی گئیں۔ نتیجۃ  پیداوار میں روزانہ  500 ملین کیوبک فٹ گیس کا اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ عملی طور پر سامنے نہ آسکا کیونکہ بعض پرانی گیس فیلڈز سے پیداواکم یا ختم ہو گئی۔ 
دو سال قبل یہ معاملہ اٹھا تھا، جس پر سندھ حکومت نے یہ موقف رکھا تھا کہ معاملہ مشترکہ مفادات کی کونسل میں اٹھایا جائے۔ یا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لایا جائے۔ لیکن تب پنجاب نے اس معاملے کو التوا میں ڈال دیا تھا۔ نواز لیگ حکومت کے آخری دنوں میں وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی دھمکی دی تھی کہ اگر سندھ کو گیس کی سپلائی درست نہیں کی گئی تو وہ مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس روک دیں گے۔ انہوں نے اس ضمن میں باقاعدہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو خط بھی لکھا تھا۔ 
اب سندھ نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو تمام متعلقہ فورم میں اٹھائے گا سندھ حکومت نے عدالت میں جانے کی بھی دھمکی دی تھی۔ سندھ نے وفاقی حکومت کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ سندھ حکومت گیس پائیپ لائن بچھانے کے لئے راستہ نہیں دے رہی۔ سندھ کابینہ بدین کے علاقے میں واقع آمنہ اور عائشہ  دو گیس فیلڈز  کے لئے  پائیپ لائن بچھانے کی مظوری دے چکی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت سندھ میں گیس کے بحران سے توجہ ہٹانے کے لئے یہ الزامات لگارہی ہے۔ جب سندھ حکومت  لائن بچھانے کے لئے راستہ دے چکی ہے تو وفاقی وزر یہ الزامات کیوں لگا  رہے ہیں۔
 ماہرین کا کہنا ہے کہ  اگر  ان دو مقامات سے گیس کی فراہمی ہو بھی جاتی ہے پھر سندھ کو اس مقدار سے کہیں زیادہ کم گیس فراہم کی جا رہی ہے۔وفاقی حکومت نے 1000  ملین کیوبک فٹ کوٹہ کم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا  اور وفاقی وزارت نے سندھ کو اعتماد میں لئے بغیر یہ کوٹہ کم کیا ہے۔ یہ بھی تعجب کی بات ہے کہ مشترکہ مفادات کی کونسل کے حالیہ اجلاس میں بھی وفاقی حکومت نے  صوبوں کو آگاہ نہیں کیا۔ پانی اور مالی وسائل کی تقسیم  پر سندھ کے تحفظات کے بعد گیس کی تقسیم میں  اس کو جائز حصہ نہ دینے سے تیسرا تنازع کھڑا ہو رہا ہے۔ گیس کے معاملے میں سندھ کا موقف زیادہ واضح ہے۔ کیونکہ اس کی زیادہ پیداوار سب کے سامنے ہے۔ مزید یہ کہ خود آئین کا  آرٹیکل بھی موجود ہے۔ جس کے تحت سندھ مطالبہ کررہا ہے۔ 



https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/gas-par-tanaza-ka-pas-manzar-18363.html

Centre again rejects Sindh’s claim to gas it produces

January 11, 2020

ISLAMABAD: The federal government on Friday reiterated that people of Pakistan — not any particular province — have the first right of use over natural gas as they are its ultimate owners.
In a written rejoinder to the Sindh chief minister’s assertions that the province was being deprived of its due share of gas, the ministry of energy (petroleum division) insisted that “citizens of Pakistan (not any particular province) have the first right of use given that citizens are ultimate owners of this resource”.
It said this interpretation of Article 158 of the Constitution, as viewed by the petroleum division, was also presented at a meeting of the Council of Common Interests (CCI) held on Dec 23, 2019.
Article 158 reads: “The province in which the well-head of natural gas is situated shall have precedence over other parts of Pakistan in meeting the requirements of natural gas from that well head, subject to the commitments and obligations as on the commencing day.”
Petroleum division issues rejoinder to CM’s letter
The petroleum division asserted that any use of gas beyond domestic consumers needed to be amicably decided between the federation and the provinces under Article-158. Special Assistant to the Prime Minister (SAPM) on Petroleum Nadeem Babar had also stated in his press briefing earlier this week that the “government also maintains uniform procurement and release policies on all items like petrol, electricity, water and wheat”, it added.
In what appeared to be an attempt to coax the Sindh leadership into negotiations on weighted average cost of gas, the petroleum division said that it “has not rejected the Sindh Government’s demand that gas needs of the province should be fulfilled first nor such recommendation is under consideration”.
However, it claimed at the same time that during the CCI meeting on Dec 23, “both the SAPM and Sindh Chief Minister had agreed to categorise Liquefied Natural Gas (LNG) as (natural) gas and the subsequent jurisdiction of Oil & Gas Regulatory Authority (OGRA) to determine its price”.
Moreover, “they had also agreed to the SAPM’s visit to Karachi, subject to CM Sindh’s availability, to discuss the subject of Weighted Average Cost of Gas (WACOG), gas distribution and pricing through constructive discussions”.
The petroleum division’s rejoinder said that any gas discovered in Sindh had been allocated to the Sui Southern Gas Company Limited (SSGCL) during the present government’s tenure and the SAPM’s interpretation of Article-158 had been misconstrued.
It said that Sindh was currently producing approximately 2,243 million cubic feet per day (mmcfd) of gas and out of this 1200-1300 mmcfd was being put in SSGC system while approximately 700 mmcfd was provided directly to power and fertiliser sectors in that province. “After netting out gas supplied by SSGC in Balochistan, there remains 400-500 mmcfd of gas that goes out of Sindh,” the petroleum division said and yet again reiterated that “even if Sindh’s interpretation of Article 158 is applied, Sindh will be short of gas in two years”.
On the contrary, the federal government would wish to uphold the positive spirit of CCI meeting wherein it was mutually agreed to reach decisions on distribution of gas to Sindh in a collaborative manner, the petroleum division said, adding that it was “therefore, in the interest of Sindh and not just the Federation, to arrive at a mutually agreed structure for supplies, distribution & pricing of natural gas in any form to ensure uninterrupted supplies to the country”.
A day earlier, Sindh Chief Minister Murad Ali Shah had written a ‘protest letter’ to the prime minister over misreporting by the Centre that he had agreed during the CCI meeting to inclusion of LNG in the weighted average cost of gas formula of local natural gas.
In his letter, Mr Shah said that the Centre had time and again assured the Sindh government that import of RNLG would solely be for tier-II category of natural gas consumers under ring-fenced tariff arrangements and existing tier-I consumers of natural gas under WACOG-based tariff would not bear the burden of high cost of imported RLNG.
“Any Federal Government attempt to workout natural gas tariff by including RLNG into existing WACOG of indigenously produced natural gas is gravely disturbing, upsetting and illegal”, wrote Mr Shah and “categorically rejected any such unconstitutional and illegal proposal”.
The CM said Sindh was the largest producer of natural gas in the country and its consumers should not be burdened with the high cost of RLNG. For reference, he said that the notified price of RLNG for the month of December 2019 was $10.8349 or Rs1,690 per MMBTU against the WACOG of Rs520.54 per MMBTU for indigenous gas.
Mr Shah said that his province produced between 2500 and 2600mmcfd of natural gas and the quota of the SSGCL for its two franchised provinces i.e. Sindh & Balochistan varied between 1200-1300mmcfd. Sindh currently received on an average 900-1000 mmcfd of natural gas against its constitutional right of 2500-2600mmcfd, he said, adding that it defied even common sense that the people of Sindh were deprived of its constitutional share of 2600mmcfd at Rs520.54 per MMBTU and were being asked to buy it at Rs1,690 per MMBTU.
He said that making an analogy between wheat production in Punjab with oil and gas production was a ridiculous, incorrect, misleading and irresponsible claim. Also, he said, the distribution of natural gas was governed by Article 158 of the Constitution and it was analogous to grant of hydel profits to the provinces of Khyber Paktunkhwa and Punjab based on Article 161 (2).

وفاق صوبوں کے بارے میں کتنا سنجیدہ ہے؟

وفاق صوبوں کے بارے میں کتنا سنجیدہ ہے؟
28 دسمبر 2019 2019-12-28 

مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس دھواں دھار رہا۔ اجلاس میں ہونے والی بحث اور مختلف آئٹم سے پتہ چلتا ہے کہ صوبوں اور مرکز کے درمیان متعدد معاملات طے ہونا باقی ہیں جن پر کوئی فیصلہ نہ کرنے یا اعتماد میں نہ لینے کے نتیجے میں صوبوں میں بیگانگی بڑھ رہی ہے۔ نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس بلانا ضروری تھا، تاکہ نئی حکومت صوبوں کو اپنی پالیسیوں سے متعلق بتا سکے اورانہیں اعتماد میں لے سکے۔ آئینی تقاضا بھی ہے کہ ہر تین ماہ بعد صوبوں کے درمیان معاملات حل کرنے سے متعلق اس اہم ادارے کا بلانا ہے۔ لیکن ہوتا یہ رہا ہے کہ نواز شریف ہوں یا عمران خان اس دارے کا اجلاس وقت پر نہیں بلایا گیا۔

حالیہ اجلاس میں آٹھ آئٹم ایسے تھے جو گزشتہ اجلاسوں سے چلے آرہے ہیں۔ پندرہ نئے آئٹم تھے۔اجلاس میں کسی بھی معاملے پر کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں لیا گیا ۔وزیراعلیٰ سندھ نے زور دیا کہ اٹھارویں ترمیم کو نہ چھیڑا جائے۔ ایجنڈا کے مختلف آئٹموں اور صوبوں کی جانب سے اٹھائے گئے امور پر کمیٹیاں بنائی گئیں۔ ہر معاملے پر کمیٹی بنانے سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت نے کسی بھی صوبائی معاملے پر ہوم ورک نہیں کیا ہوا ہے۔

پانی منصفانہ تقسیم کے معاملے پر زیادہ گرما گرمی رہی۔ ایک موقع پر ماحول میں اتنی گرما گرمی ہوئی کہ اجلاس آدھے گھنٹے کے لئے ملتوی کردیا گیا۔پانی کا معاہدہ 1991 میں نواز شریف کے دور حکومت میں ہوا تھا، جب سندھ میں جام صادق علی کی غیر مقبول حکومت تھی۔ اس معاہدے کی زیادہ تر شقیں پنجاب کے حق میں تھیں۔ لہٰذا سندھ کے ماہرین، اور سیاسی حلقوں نے اس معاہدے پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ 
بعد میں بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں غلام مصطفیٰ کھر وزیر پانی و بجلی بنے تو انہوں نے پانی کے تاریخی استعمال کا فارمولا دیا، جو 1991 کے معاہدے سے مختلف تھا۔ بینظیر نے عبوری طور پر یہ فارمولا منظور کیا لیکن یہی فیصلہ ہوا کہ پرانا معاہدہ برقرار ہے۔ مشرف دور میں اس معاہدے کے برعکس پانی کی تقسیم ہوتی رہی جو سندھ کے خلاف تھی۔ پانی کی تقسیم صرف معاہدہ کے پیرا ٹو کے تحت ہونی ہے۔ اب حکومت تین رخی فارمولا پرعمل کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لئے اٹارنی جنرل نے ایک رپورٹ بھی پیش کی۔ 
وزیراعظم کو پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ پانی کا معاملہ اتنا حساس ہے جس کا انہوں نے اظہار بھی کیا۔ سندھ کا موقف تھا کہ چشمہ جہلم کینال بجلی گھر کی تعمیر کے لئے  ارسا این او
سی جاری نہیں کرسکتا ۔ سندھ کی اجازت کے بغیراین او غیر قانونی ہے۔ سندھ کا موقف ہے کہ چشمہ جہلم لینک کینال مستقل کینال نہیں اس کو صرف سیلاب کے موسم میں سندھ کی اجازت کے بعد کھولا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اس کینال پر بجلی گھر نہیں بنایا جاسکتا، وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اگر پانی نہیں دیں گے تو اپنے حلقہ انتخاب میںنہیں جا سکیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور تین وزراء نے پانی کے معاہدے کی مخالفت کی۔ کمیٹی قائم کی گئی۔ 
فہمیدہ مرزا اور محمد میاں سومرو نے سندھ کے موقف کی حمایت کی۔ اٹارنی جنرل کی رپورٹ کافی نہیں اب چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز، ماہرین اور ٹیکنیکل افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔ ارسا میں پنجاب کے نمائندے رائو ارشاد نے ڈیم بنانے کی بات کی تو وزیراعظم نے انہیں بات کرنے سے روک دیا۔ معاملے کو طول نہ دیں جب ڈیم کا معاملہ یہاں زیر غور نہیں تو اس پر کیوں بات کر رہے ہیں۔ بعد میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے پانی معاہدہ سے متعلق ہمارے موقف سے اتفاق کیا ہے اور کہا ہے کہ فورا ٹیلی میٹری سسٹم نصب کیا جائے۔

پانی کے بعد توانائی اور رائلٹی صوبوں اور وفاق کے درمیاں متنازع معاملات رہے ہیں۔ صوبوں کو رائلٹی دینے کے حوالے سے اے جی این قاضی فارمولے پر غور کیا گیا لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور کمیٹی تشکیل دی گئی۔ مشترکہ مفادات کی کونسل نے اصولی طور پر اتفاق کیا کہ واپڈا چیئرمین باری باری ہر صوبے سے ہوگا۔

سندھ کا مؤقف تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد محکمہ محنت صوبائی آئٹم ہے لہٰذا ای او بی آئی صوبوں کے حوالے کیا جائے۔ یہ معاملہ گزشتہ نو سال سے لٹکا ہوا ہے۔ تاہم بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب نے یہ ادارہ وفاق میں رکھنے کی رائے دی جس کے بعد یہ ادارہ وفاق کے پاس ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پیٹرولیم ایکسپلوریشن پر سندھ کے اعتراضات سننے کے لئے پیٹرولیم کے معاون خصوصی سے کہا گیا کہ وہ وزیراعلیٰ سندھ سے بات کریں۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ کے لئے صوبے قانون سازی کریں گے۔

اجلاس کے موقع پر اچھی بات یہ ہوئی کہ وزیراعظم کی چاروں وزراء اعلیٰ سے الگ الگ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کو یہ شکایت رہی کہ وزیراعظم عمران خان نہ ملنے کے لئے وقت دیتے ہیں اور جب کراچی آتے ہیں تو انہیں نہ مدعو کرتے ہیں نہ سرکاری طور پر اطلاع دیتے ہیں۔ مراد علی شاہ یہ بھی کہتے رہے کہ وزیراعظم سندھ حکومت کے خطوط کا بھی جواب نہیں دیتے۔ جس کی وجہ سے صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان رابطہ نہیں رہتا۔ اس ضمن میں مراد علی شاہ کے پاس متعدد مثالیں اور واقعات موجود ہیں۔ 
مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی ملاقات میں دونوں نے اک دوسرے سے گلے شکوے کئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب بھی کراچی آتا ہوں آپ نہیں ملتے۔ مرادعلی شاہ کا جواب تھا کہ آپ اپنی پارٹی کے اجلاس کے لئے آتے ہیں۔ 
وزیراعظم نے انہیں بتایا کہ وہ 27 دسمبر کو کراچی آرہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی ہے میں راولپنڈی میں ہوں گا، ملاقات نہیں ہو سکے گی۔ 
بعد میں گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کراچی میں بتایا کہ اب وزیراعظم کی کراچی آمد کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کو باقاعدہ دعوت نامہ بھیج دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے میڈیا کو بتایا کہ وزیراعظم کسی اور تاریخ کو آئیں تو ان کا استقبال کروں گا۔ لہٰذا جو مفاہمت کی فضا مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس کے موقع پر نظر آرہی تھی لگتا ہے کہ عملاً ایسا نہیں، وہ صرف دکھاوا تھا۔


https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/wafaq-soobon-ke-bare-mein-kitna-sanjeeda-hai-18226.html

محترمہ کی کچھ یادیں کچھ باتیں


محترمہ کی کچھ یادیں کچھ باتیں

 دسمبر 2019 2019-12-27

بینظیر بھٹو کا نام اور تصویر آج بھی ملک بھر کے لوگوں کے لئے مزاحمت کی علامت ہے۔ پاکستان کی وہ ایک کرشماتی لیڈر تھیں مگر سندھ کے لوگوں کا ان سے خصوصی رشتہ ناطہ اور لگاؤ تھا۔ سندھ کے لوگوں کی اکثریت ان سے پیار کرتی تھی بغیر اس کا خیال کئے کہ ان کو وہ کوئی فائدہ بھی دیگی یا نہیں؟لوگ ان سے کوئی حساب کتاب بھی نہیں کرتے۔وہ ان کو حقوق کی دفاع کرنے والی اور امیدوں اور خوابوں کی رانی سمجھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ سندھ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ محترمہ قتل ان کے خوابوں اور امیدوں کا قتل ہے۔ وہ خود کو زخمی سمجھتے ہیں۔

خبر پڑھیں:ایران،امریکہ تنازع کا حصہ بنیں گے نہ کسی کے خلاف استعمال ہوں گے، وزیر خارجہ
والد کی لاش، ماں کا اداس چہرہ، بے وطن بھائی کا خون، فوجی آمریت، جیل کی کال کوٹھڑی، فوجیوں کے پہرے، بے بس عوام، کئی خدشے، جیل میں قید پیٹھ پر کوڑے کھانے والے ہزاروں کارکنوں کی اذیتیں۔اور عمر چھبیس سال۔یہ سب انکو وراثت میں ملیں۔ انہوں نے سندھ کے ہر شہر کا دورہ کیا۔اور جو جو جدوجہد میں مصروف تھا اس سے ملاقات کی ۔ میری بھی کئی یادیں محترمہ سے وابستہ ہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو سے میری پہلی ملاقات تب ہوئی تھی جب انکے والد ذوالفقار علی بھٹو کوجنرل ضیا نے نواب محمد خان قصوری قتل کیس میں گرفتار کر لیا تھا اور وہ اپنی والدہ نصرت بھٹو کے ساتھ ملکر ملک بھر میں خاص کر سندھ میں ضیا کے خلاف مہم چلا رہی تھی۔وہ چاہتی تو اپنی بہن صنم بھٹو کی طرح پرامن زندگی بھی گذار سکتی تھی، مگر اس کو سیاست کا طوفان اٹھا کر لے گئے۔


تب میں حیدرآباد میں صحافت کرتا تھا۔ محترمہ پریس کلب کے میٹ دی پریس پروگرام میںآئیں۔ وہ یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ لگ رہی تھیں۔آکسفرڈ اور ہاورڈ کی مغربی تعلیم کے باوجود انہوں نے ٹھیٹ مشرقی لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ انہوں نے تفصیل کے ساتھ مگر بہت ہی جذباتی انداز میں بات چیت کی ۔دو گھنٹے سے زیادہ بات کرتی رہیں۔ سر پربڑی تمیز سے دوپٹہ جیسے کوئی مشرقی خاتون اوڑھتی ہے۔ بات چیت میں عزم بھی تھا اورغصہ بھی۔ تب کچھ طے نہیں تھا کہ یہ ایک پان دھان لڑکی آئندہ برسوں میں ایک اتنا بڑا خطرہ بن جائیگی سالہا سال تک انتخابات ہی نہیں کرائیگا۔اور یہ بھی کہ بڑے نازوں میں پلی بھٹو خاندان کی یہ لڑکی مارشل لاء کی صعوبتیں اور جیلیں بھی برداشت کر لے گی۔ ہاں یہ ضرور لگا کہ اگر یہ لڑکی واقعی ملکی سیاست میں آجاتی ہے تو پاکستان کی حالت بدل جائیگی۔

خبر پڑھیں:سلیکٹرز موقع دیں ٗ پرفارم کروں گا : احمد شہزاد
محترمہ سے دوسری ملاقات 1982 میں ہوئی جب وہ مشہور سیاسی مقدمہ جام ساقی کیس میں دفاع کے گواہ کے طور پر پیش ہوئیں۔ یہ مقدمہ کرنل محمد عتیق کی سربراہی میں قائم خصوصی فوجی عدالت میں چلایا گیا جس میں بے نظیر بھٹو کے علاوہ خان عبدالولی خانِ، میر غوث بخش بزنجو، معراج محمد خان، فتحیاب علی خان، بیگم طاہرہ مظہر علی، حاصل بزنجو، سمیت ملک کی سرکردہ شخصیات بطور دفاع کے گواہ کے پیش ہوئی تھیں۔

وہ تین مرتبہ فوجی عدالت میں آئیں۔ پہلے روز ان کا بیان قلمبند نہیں کیا جا سکا۔ جب کہ باقی دو دن تک انکا بیان جاری رہا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ فوجی عدالت کو عدالت ہی نہیں مانتیں۔ اس لئے ایک خیال یہ آیا کہ میں پیش نہ ہوں، مگر پھر آپ لوگوں سے رابطہ کرنے پہ کامریڈ جام ساقی کی یہ بات اچھی لگی کہ فوجی عدالت اور مارشل لا ء کو مانتے تو وہ بھی نہیں ہیں لیکن ایک فورم ہے جسکو استعمال کرنا چاہئے۔ اور یہ بھی کہ ہم اپنی آواز ہر فورم پر اٹھائیں گے اور ہر فورم اپنے مشن کے لئے استعمال کرینگے۔ تو میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے جانا چاہئے۔ اور یہ کہ فوجی عدالت اور مارشل لاء کے قیدی کو ویسے بھی دفاع اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

راقم الحروف بھی اس مقدمہ کا ایک ملزم تھا۔

خبر پڑھیں:فواد چوہدری کا مبشر لقمان کو تھپڑ , عامر لیاقت کا دلچسپ تبصرہ
پہلے دن جب عدالتی کارروائی نہیں ہوئی تو محترمہ ہم’’ملزماں‘‘ اور انکے اہل خانہ کے ساتھ دو تین گھنٹے تک بیٹھی رہیں اور باتیں کرتی رہیں۔ انہوں نے مقدمے کی تفصیلات ’’بڑے ملزم‘‘جام ساقی سے پوچھیں اور دیگر ملزمان پروفیسر جمال نقوی، بدر ابڑو، کمال وارثی، شبیر شر سے سیاست اور اہل خانہ وغیرہ کے بارے میں پوچھا۔ انہیں اس سے بھی خاصی دلچسپی تھی کہ جیل کے کیا حالات ہیں، ہم لوگوں کو کن حالات میں رکھا گیا ہے۔ وہ ہمارے ہم ’’ملزمان‘‘ کے اہل خانہ سے گلے ملیں ان کو بتایا کہ ہم لوگ ملک میں مارشل لاء کے خلاف اور جمہوریت اور عوام کے حقوق کی تارریخی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جلد کوئی تحریک اٹھے گی۔ فکر نہ کریں۔

وہ صرف دفاع کے گواہ کے طور پر نہیں آئیں تھیں، بلکہ قیدیوں سے ایک ملاقاتی طور پر آئی تھیں۔ سگریٹ،خاصی کھانے پینے کی چیزیں، تحائف کچھ کتابیں بھی لائی تھیں۔ بعد میں جب مقدمہ ختم ہوا اسکے بعد بھی وہ خاصے دنوں تک جیل پر ہم لوگوں کو سگریٹ وغیرہ بھیجتی رہیں۔ شاید ان کو پتہ تھا کہ ایک قیدی کی جیل میں کیا ضروریات ہوتی ہیں۔

سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے۔ ہماری خواہش تھی کہ ہمارے اہل خانہ بھی محترمہ سے ملیں۔ ہم نے بھی عدالت سے درخواست کی کہ اہل خانہ کو بلایا جائے۔ ہمارے اس مطالبے کی محترمہ نے بھی تائید کی ۔

خبر پڑھیں:چوہدری برادران نے مولانا فضل الرحمان سے حمایت مانگ لی
فوجی عدالت جو دو فوجی افسرا ن کرنل محمد عتیق اور کیپٹن افتخار جلیس اور ایک سویلین میجسٹریٹ حبیب اللہ بھٹو پر مشتمل تھی اس کی حالت بھی دیکھنے کے قابل تھی۔ہم ملزمان تو محترمہ کی موجودگی کو اعزاز سمجھ ہی رہے تھے مگر خود فوجی افسران بھی اپنی خوش قسمتی سمجھ رہے تھے کہ محترمہ ان کی عدالت میں موجود تھی۔ پہلی بار ایک فوٹو گرافر کو عدالت میں فوٹو بنانے کی اجازت دی گئی۔ بی بی سی کے نمائندے آئن ہور بھی شلوار قمیض پہن کر ایک پاکستانی کے روپ میں کمرہ عدالت تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ جیسے ہی بی بی نے اپنا بیان شروع کیا تو آئن ہور نے اپنا ٹیپ ریکارڈر آن کیا۔ چند ہی لمحوں میں کرنل عتیق نے شور مچانا شروع کردیا کہ بی بی سی کے رپورٹر کو باہر نکالا جائے۔

محترمہ اور ہم ’’ملزمان‘‘ کا موقف تھا کہ اس میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ لوگوں کو پتہ چلے کہ محترمہ نے کیا بیان ریکارڈ کرایا ہے۔ عدالت کی کارروائی کچھ دیر کے لئے روک دی گئی۔ کچھ مذاکرات کچھ بات چیت ہوئی۔ کرنل عتیق نے کہا کہ’’آ ج رات جب’’سیربین‘‘میں یہ نشر ہوگا کہ محترمہ نے اپنے بیان میں کہا۔۔۔۔ اس کے چند لمحوں بعد میں آپ لوگوں کے ساتھ لانڈھی جیل میں ہونگا۔‘‘

یوں اس صحافی کو نکالنے کے بعد عدالت نے محترمہ کا بیان ریکارڈ کیا۔ محترمہ کے بیان سے لگ رہا تھا کہان کی تمام سیاست کا محور 1973کا آئین تھا۔اور وہ جمہوریت اور اس آئین کے لئے تمام سرحدیں عبور کر سکتی ہیں اور بعد کے واقعات نے یہ ثابت بھی کیا۔

خبر پڑھیں:پاکستان نے اقلیتوں سے متعلق من گھڑت بھارتی پروپیگنڈا مسترد کر دیا
محترمہ سے میری تیسری ملاقات تب ہوئی جب میں سندھی روزنامہ عوامی آواز کا ایڈیٹر تھا اور محترمہ نے سندھی ایڈیٹرز علی قاضی، فقیر محمد لاشاری اور راقم الحروف کو غیر رسمی بات چیت کے لئے مدعو کیاتھا۔بلاول ہاؤس میں اس ملاقات کا بندوبست میرے پرانے دوست اور پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر اسماعیل اوڈیجو نے کیا تھا۔ محترمہ کے ساتھ ہم سندھی ایڈیٹرز کی یہ طویل ملاقات تھی جو صبح گیارہ بجے شروع ہوئی اور شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ اس وقت وہ اپوزیشن میں تھیں۔ انہوں نے علاقائی وملکی صورتحال، سندھ کے رول پر تفصیل سے بات چیت کی ۔ محترمہ کا کہنا تھا کہ سندھ کو کا اپنا میڈیا، سرمایہ (بینک)،تعلیمی ادارے وغیرہ ہونے چاہئے۔

اس کے بعد وہ وزیر اعظم تھیں یا اپوزیشن لیڈر ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ جمہوریت اور سماجی تبدیلی کی ایک بھرپور اور مضبوط آواز تھی۔ مگر جلاوطنی کاٹ کے آنے والی بینظیر بھٹو جو بے موت قتل کی گئی، انکا درد لوگوں کے دلوں سے ابھی جلاوطن نہیں ہوا ہے۔بعض فراق دلوں کے مستقل مکین ہو جاتے ہیں۔ بھٹوز کا درد بھی ایسا ہی ہے۔ جب تک محترمہ زندہ تھی تو لگتا تھا کہ وہ ایک روایتی سیاستدان ہیں مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک لیجینڈ تھی۔اور آنے والی نسلوں کے لئے کسی دیومالائی کردار سے کم نہیں تھی۔لگتا ہے سندھ میں یہ کہانی نسل در نسل منتقل ہوتی رہے گی۔


https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/mohtarma-ki-kuch-yaadein-kuch-baatein-18208.html

بلاول بھٹو نے ایم کیو ایم کو پیشکش کیوں کی؟

بلاول بھٹو نے ایم کیو ایم کو پیشکش کیوں کی؟
 جنوری  2020-01-03

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو بلاول بھٹو زرداری کی سندھ حکومت میں شمولیت کی پیشکش اور اس پرمتحدہ کے ردعمل سے سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچ گئی ہے،وزیراعظم عمران خان نے حکومتی رابطہ کمیٹی کو متحدہ کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی ہے، حکومتی ٹیم رواں ہفتے ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات کرنے والی ہے۔ گورنر سندھ نے بھی کراچی بحالی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا تھا جس میں شرکت کے لئے وفاقی وزیر اسد عمر اور علی زیدی خاص طور پر اسلام آباد سے کراچی پہنچے۔ لیکن کمیٹی کا اجلاس نہیں ہو سکا تو وہ گورنر سندھ سے ملاقات کر کے واپس چلے گئے۔ اب وزیراعظم عمران خان ان کی ہدایت پر جہانگیر ترین کی قیادت میں حکومتی ٹیم رواں ہفتے ایم کیو ایم قیادت سے ملے گی، ملاقات میں متحدہ کے تحفظات کا جائزہ لیا جائے گا اور ایم کیو ایم کے مطالبات،گمشدہ کارکنوں اور ترقیاتی فنڈز کے اجرا پر بھی بات ہوگی۔

خبر پڑھیں:ایران،امریکہ تنازع کا حصہ بنیں گے نہ کسی کے خلاف استعمال ہوں گے، وزیر خارجہ
ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان گزشتہ دو ماہ سے مذاکرات جاری تھے۔ پیپلزپارٹی سے اتحاد کے سوال پر ایم کیو ایم دو دھڑوں میں تقسیم ہے ۔ 
ایک گروپ کا خیال ہے کہ کراچی کو جو کچھ بھی مل سکتا ہے وہ صوبائی حکومت سے مل سکتا ہے۔ وفاقی حکومت سے اتحاد کی صورت میں بعض حکمت عملی کے حوالے سے فوائد مثلا گمشدہ کارکنوں کی بازیابی، بند دفاتر کی واپسی، مقدمات میں رعایت وغیرہ مل سکتے ہیں۔ 
جہاں تک ترقیاتی فنڈز کا تعلق ہے صوبائی حکومت کو شامل کئے بغیروہ براہ راست نہیں مل سکتے۔یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزیر اسد عمر نے کراچی میں گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سندھ کا لوکل گورنمنٹ سسٹم آئین کے خلاف ہے، حکومت کا مقامی حکومت کا نظام غیر فعال ہے، گرین لائن منصوبے کے لیے فنڈز مہیا کر دیے گئے ہیں۔ کراچی کے لیے پانی کے منصوبے کے فور میں تعاون کے لیے وفاق تیار ہے۔
چند روز پہلے صدر عارف علوی سے گورنر سندھ نے ملاقات کی تھی اور انہیں بتایا تھاکہ اگر ایم کیو ایم کے مطالبات نہیں مانے جاتے تو وہ وفاقی حکومت سے الگ ہو سکتی ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کا اتحادغیر فطری ہے۔ پی ٹی آئی کو ایم کیو ایم کی ہی نشستوں پر جتوا کر اتحاد میں ساتھ بٹھا دیا۔اب جتنی پی ٹی آئی کراچی میں مضبوط ہوتی ہے عملاً ایم کیو ایم اتنی ہی کمزور ہوتی ہے۔ اب جیسا کہ بلدیاتی انتخابات کا بھی اعلان ہونے والا ہے، ایسے میں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کا اتحاد ایک اور امتحان میں سے گزرنے والا ہے ۔ ایم کیو ایم کو کتنی نشستیں ملتی


ہیں وہ الگ سوال ہے ، لیکن خود ایم کیو ایم کے کارکنان اور صفوں میں موجود کئی افراد بھی ان سے سوالات کریں گے کہ پی ٹی آئی سے وفاق میں اتحاد کر کے کیا پایا؟ کراچی کو اور خود پارٹی کو کیا ملا؟

خبر پڑھیں:سلیکٹرز موقع دیں ٗ پرفارم کروں گا : احمد شہزاد
ایم کیو ایم کہتی ہے کہ وہی کرے گی جو قوم کے مفاد میں ہو گا۔ اگر ایم کیوایم پیپلزپارٹی کا ساتھ دے تو یہ سندھ کے مفاد میں ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اتحادی ان سے مایوس ہو رہے ہیں، وفاق سے امیدیں ٹوٹ رہی ہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ کے مسائل وزارتوں سے نہیں، بلدیاتی نظام صحیح کرنے سے حل ہوں گے۔پیپلز پارٹی بلدیاتی نظام کی سمت ٹھیک کرے تو ہاتھ ملانے کو تیار ہیں۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ہم سندھ حکومت سے مایوس ہو کر وفاقی حکومت میں شامل ہوئے تھے نہ کہ کسی کے کہنے پر شامل ہوئے۔ پیپلز پارٹی فارمولہ دے وزارتیں نہیں، وفاقی حکومت نے وعدے پورے نہیں کیے۔خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ ہم پی ٹی آئی کے مشروط اتحادی ہیں۔ اب پیپلزپارٹی نے براہ راست ایم کیو ایم سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر یہ بھی آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ بلدیات کا نیا قانون بھی دینے کے لئے تیار ہے۔

ایک طرف پی ٹی آئی ایم کیو ایم کو منانا چاہ رہی ہے دوسری طرف اس کو کراچی میں کوئی سپیس دینے کے لئے تیار نہیں۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ وفاق کی جانب سے منصوبوں کے جائزے کے لیے مجھے فوکل پرسن نامزد کیا گیا۔

یہ درست ہے کہ پیپلزپارٹی کی ایم کیو ایم سے بات چیت چل رہی ہے، پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ لینا چاہتی ہے ، یا حکومت میں بٹھانا چاہتی ہے ، ابھی کچھ طے نہیں ہواتوبلاول بھٹو نے میڈیا میں بات کیوں کی؟ چار ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ بات چیت ٹوٹ چکی ہو، تو اب بلاول بھٹو اس معاملے کو ظاہر کر رہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ خود ایم کیو ایم کی فرمائش پر کیا گیا ہو، ممکن ہے کہ ایم کیو ایم کو اپنی صفوں میں کچھ مشکلات درپیش ہوں، جس کو دور کرنے کے لئے پیپلزپارٹی کی جانب سے کھلی پیشکش کا آنا ضروری سمجھا گیا ہو۔ تیسرے یہ کہ یہ بیان خود عمران خان حکومت پر دبائو ڈالنے کے لئے دیا گیا ہو کہ وہ کتنی کمزور ہے۔ بلاول بھٹو کے بیان میںایک اہم نکتہ بھی شامل ہے جس سے اس پیشکش کی وضاحت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دوسری جماعتوں کا نام لئے بغیر کہا کہ وہ جماعتیں جنہوں نے ماضی میں پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد میں کام کیا ہے ، خان کی حکومت کا ساتھ چھوڑددیں۔ اس سے مراد قاف لیگ اور فنکشنل لیگ ہے کیونکہ انہوں نے پہلے بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ کام کیا ہے۔

خبر پڑھیں:فواد چوہدری کا مبشر لقمان کو تھپڑ , عامر لیاقت کا دلچسپ تبصرہ
ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ ایم کیو ایم ہو یا قاف لیگ کوئی بھی تب تک ساتھ نہیں چھوڑے گا جب تک انہیں کوئی بڑی طاقت نہیں کہے گی تب تک کوئی فیصلہ نہیں کریں گی۔ پھر یہ اشارہ خان کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا سمجھا جائے؟ اب لگتا ہے کہ ان ہائوس تبدیلی ہی آنی ہے اپوزیشن نئے انتخابات سے دستبردار ہو گئی ہے۔ کیا اب مائنس عمران خان فارمولہ اختیار کیا جارہا ہے ؟

آرمی چیف کی تقرری اور اس کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت نے قانون سازی کے لئے سیاسی طور پر متحرک ہونے کے بجائے نظرثانی کی درخواست کر دی۔ اب یہ عدالت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس اپیل کا فیصلہ کب کرتی ہے۔ معاملہ حاضر سروس آرمی چیف کا ہے ہم ریٹائرڈ آرمی چیف مشرف کے معاملے میں ادارے کا ردعمل دیکھ چکے ہیں۔ اگرچہ دونوں کیسز کی نوعیت مختلف ہے۔پارلیمنٹ سے ملازمت کی مدت میں توسیع لینا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ تاہم بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آرمی چیف اور سروسز چیفس کو توسیع کے حوالے سے بھی بل منظور کر لیا جسے اب پارلیمنٹ میں پیش کر کے اس کی منظوری لی جائے گی۔ مسلم لیگ ن نے اس کی غیرمشروط حمایت کر دی ہے۔


Saturday, January 4, 2020

Free download book

In need of any book(.pdf) relating to any subject/field or topic?
Go to your browser and type:
www.pdfdrive.net
You will get access to millions of  books you need, for free.
Unlimited downloads.

Browse by title or author, etc.
Currently 274376478 books are available for free .



*SOME USEFUL  WEBSITES  ONLINE EDUCATIONAL SUPPORT*

www.khanacademy.org
www.academicearths.org
www.coursera.com
www.edx.org
www.open2study.com
www.academicjournals.org
codeacademy.org
youtube.com/education


*BOOK SITES*
www.bookboon.com
http://ebookee.org
http://sharebookfree.com
http://m.freebooks.com
www.obooko.com
www.manybooks.net
www.epubbud.com
www.bookyards.com
www.getfreeebooks.com
http://freecomputerbooks.com
www.essays.se
www.sparknotes.com
www.pink.monkey.com


*ONLINE EDUCATIONAL SUPPORT*
http://www.ocwconsortium.org/
http://www.ocwconsortium.org/en/courses/ocwsites
http://ocw.tufts.edu -Tuft University
http://ocw.upm.es -Univesidad Politechnica, Madrid
http://www.open.edu/openlearn/
http://ocw.usu.edu/ -Utah State University
http://open.umich.edu/ -University of Michigan
http://ocw.nd.edu/ -Nore Dame University


*ANSWERS TO QUESTIONS*
www.ehow.com
www.whatis.com
www.howstuffwork.com
www.webopedia.com
www.plagtracker.com
www.answers.com


*SEARCH SITES*
■ About.com (www.about.com)
■ AllTheWeb (www.alltheweb.com)
■ AltaVista (www.altavista.com)
■ Ask Jeeves! (www.askjeeves.com)
■ Excite (www.excite.com)
■ HotBot (www.hotbot.com)
■ LookSmart (www.looksmart.com)
■ Lycos (www.lycos.com)
■ Open Directory (www.dmoz.org)
■ Google (www.google.com)
■ Mamma (www.mamma.com)
■ Webcrawler (www.webcrawler.com)
■ Aol (www.aol.com)
■ Dogpile (www.dogpile.com)
■ 10pht (www.10pht.com)


*SEARCHING FOR PEOPLE*
■ AnyWho (www.anywho.com)
■ InfoSpace (www.infospace.com)
■ Switchboard (www.switchboard.com)
■ WhitePages.com (www.whitepages.com)
■ WhoWhere (www.whowhere.lycos.com)


*SEARCHING FOR THE LATEST NEWS*
■ ABC News (www.abcnews.com)
■ CBS News (www.cbsnews.com)
■ CNN (www.cnn.com)
■ Fox News (www.foxnews.com)
■ MSNBC (www.msnbc.com)
■ New York Times (www.nytimes.com)
■ USA Today (www.usatoday.com)


*SEARCHING FOR SPORTS HEADLINES AND SCORES*
■ CBS SportsLine (www.sportsline.com)
■ CNN/Sports Illustrated (sportsillustrated.cnn.com)
■ ESPN.com (espn.go.com)
■ FOXSports (foxsports.lycos.com)
■ NBC Sports (www.nbcsports.com)
■ The Sporting News (www.sportingnews.com)


*SEARCHING FOR MEDICAL INFORMATION*
■ healthAtoZ.com (www.healthatoz.com)
■ kidsDoctor (www.kidsdoctor.com)
■ MedExplorer (www.medexplorer.com)
■ MedicineNet (www.medicinenet.com)
■ National Library of Medicine
(www.nlm.nih.gov)
■ Planet Wellness (www.planetwellness.com)
■ WebMD Health (my.webmd.com)


*JOURNALS*
http://www.indexcopernicus.com Multidisciplinary
http://www.ajol.info/ - African Journal Online
www.africanjournalseries.com -
www.devconsortservices.com.ng
www.doaj.org - directory of open access journal
www.sabinet.co.za - South African Journals.
www.oajse.com - Open Access Journal Search Engine
http://www.lub.lu.se/en.html - Lund University
http://www.dovepress.com/ - Free Scientific & Medical Materials
http://www.copernicus.org/ - Access & Publication


ACADEMIC SEARCH/WEB RESEARCH TOOLS/REFERENCE MANAGERS
http://academic.research.microsoft.com - Multidisciplinary
http://www.scirus.com
www.scholar.google.com
http://dbis.uni-trier.de/DBL-Browser/ - Digital Bibliography Library Browser
http://academic.live.com - Live Search Academic
http://www.science.gov/ - USA government for Science
http://citeseerx.ist.psu.edu/index - Computing & Information Sciences
http://www.mendeley.com/ - academic social network/collaboration
http://www.worldcat.org/ - Multidisciplinary
http://libserver.cedefop.europa.eu - Voc & Tech Education
http://inspirehep.net/ - Stanford physics information retrieval system
hsystemv  www.ssrn.com/ - Social Science Research Network.