7-01-2020
سویلین بالادستی پھر کبھی سہی۔۔!!
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
ملک کی دوبڑی اپوزیشن جماعتیں شدید تنقید کی زد میں ہیں۔سیاستدانوں کو گالیاں پڑ رہی ہیں۔ ان پر بوٹ پالش کرنے کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔کہ وہ آرمی چیف ہی نہیں سروسز چیف کو تین سال تک توسیع کے ترمیمی بل پر ”لیٹ“ چلی گئی ہیں۔مایوسی کا اظہار یوں کیا جارہا ہے جیسے سویلین بالادستی ہماری سیاسی اشرافیہ کا نصب العین تھا، جس کو اچانک اپوزیشن نے چھوڑدیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں نظریاتی نہیں اقتداری جماعتیں ہیں۔ اس طرح کامظاہرہ ا وہ ماضی میں بھی کرتی رہی ہیں۔
سب سے اہم اور بڑا کردار مسلم لیگ نواز کا ہے۔یہ درست ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے منتخب نمائندوں کو فیصلہ سازی کرنے کا اختیار نہ دینے کے خلاف مزاحمت کی۔ جو ان کی پارٹی اور حکومت کی بقا کے لئے بھی ضروری تھا۔نواز شریف کو برطرف ہونا پڑا اور بعد میں انہیں جیل بھی جانا پڑا۔ باپ بیٹی طاقتور حلقوں سے انحراف کر کے کھڑے ہوگئے۔ انہیں پہلا دھچکا پارٹی کے اندر ہی بااثر حلقوں سے مزاحمت سے لگا گئی۔ کہا گیا کہ محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کی پالیسی اختیار کی جائے۔
پارٹی کے دو سنیئر رہنما شہباز شریف اور چوہدری نثارعلی خان مفاہمت والی لابی کی نمائندگی کر رہے تھے۔ تعجب کی بات ہے کہپارٹی قیادت سے کھلے عام اختلاف کرنے پر الگ کردیا گیا جبکہ نواز شریف کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کے بعد نثار علی خان جیسا موقف رکھنے والے شہباز شریف کو پارٹی کا صدر بنادیا گیا۔
شہباز شریف کا اختلاف عملی طور پر تب سامنے آیا جب سزا لگنے کے بعد عام انتخابات کے موقع پر نواز شریف اور مریم نواز لندن سے پاکستان پہنچے، اور شہابز شریف ہزاروں افراد کی قیادت کرتے ہوئے مجمع کو ایئر پورٹ سے دور لے گئے۔
ایک نظر انتخابات سے پہلے پر ڈالنا ضروری ہے۔ جب ایک نہایت ہی اہم منصب والی شخصیت نے اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھا اسلام آباد میں ایک میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں الیکشن سے پہلے اور بعد میں مثبت نتائج کے لئے راہموار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس اثناء میں مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کیا لیکن بڑی اپوزیشن جماعتوں نے خود کو اس مارچ سے دور رکھا۔ الیکشن سے پہلے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اس میٹنگ میں مولانا فضل الرحمٰن کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔مولانا کے اصل مطالبات کیا تھے؟ چوہدری شجاعت حسین نے انہیں کیا یقین دہانی کرائی؟یہ سوالات ابھی بھی باقی ہیں۔
نواز شریف جیل میں رہتے ہوئے بھی ”محاذ آرائی“ کے بیانیے پر کھڑے رہے۔ لیکن انکی شدیدبیماری نے شہباز شریف اور ان کے بیانیے کو تقویت دی۔ ایک مرتبہ پھر خاندانی دباؤ نے انہیں مجبور کردیا کہ وہ علاج کے لئے بیرون ملک جائیں۔
پھر پیپلزپارٹی کی باری تھی آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی نیب کے مقدمات میں ضمانتیں منظور ہو گئیں۔ نیب کے اختیارات کم کرنے کے لئے آرڈیننس نافذ کردیا گیا جو یقیننا اپوزیشن رہنماؤں کو بھی فائدہ دے گا جنہیں احتساب کا سامنا ہے۔
سپریم کورٹ نے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جب آرمی چیف کی وزیراعظم کی طرف سے دی جانے والی توسیع کو روکنے کی پٹیشن نمٹانے لگے تو ملک کی سیاسی فضا میں چرچے ہونے لگے کہ کوئی بڑی بات ہونے والی ہے۔ کورٹ نے آرمی چیف کو چھ ماہ تک عہدے پر برقرار رہنے اور مزید معاملہ پارلیمنٹ میں طے کرنے کا کہہ کر معاملے کو مزید الجھا دیا۔ موجودہ پارلیمنٹ جس پر مولانافضل الرحمٰن اور اچکزئی سلیکٹیڈ کا الزام لگا رہے ہیں اسی کو یہ فیصلہ کرنا ہے۔ یہ دونوں رہنما شاید انتخابات سے پہلے منعقدہ اعلیٰ مٹنگ کا حوالہ دے رہے ہیں۔
اسلام آباد کے معتبر صحافیوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اراکین پارلیمنٹ کی اکثریت نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی مخالفت کی ہے۔ یہ موقف رکھنے والے اراکین کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کو ایک قانون بنا دینے سے سازشوں کے دروازے کھل جائیں گے اور جب بھی کسی آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کے تین سال پورے ہونے کو آئیں گے تو توسیع کے لئے جوڑ توڑ شروع ہو جائے گی، اس لئے بہتر ہے کہ آرمی چیف کی تقرری کو سنیارٹی سے مشروط کر دیا جائے۔نواز لیگ میں اس ترمیمی بل کے حامی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ اس بل کی حمایت کے نتائج بہت جلد سامنے آئیں گے۔
آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل پر اپوزیشن تقسیم ہو چکی تھی۔نیشنل پارٹی کے صدر سینیٹر حاصل بزنجو اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسا ہی اعلان پی ٹی ایم کے علی وزیر نے کیا۔ جماعت اسلامی حمایت نہیں کررہی۔جے یو آئی (ف) کے سر براہ مولانا فضل الرحمٰن کو منا نے کیلئی سابق وز یراعظم چوہدری شجاعت حسین،سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی ان کے گھر پہنچ گئے۔مولانا نے انہیں بتایا کہ”یہ فیصلہ پارلیمانی پارٹی اور مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد کیا،فوج کو سیاست میں ملوث نہیں کرنا چاہتے، حکومت کے فوج اور جنرل باجوہ کو متنازعہ بنانے اور عدالت میں گھسیٹنے سے صورتحال متنازعہ بنی۔“مولانا کا خیال ہے کہ” 6ماہ کا وقت ہے، اسمبلی تحلیل کرکے نئی اور جائز اسمبلی سے قانون پاس کرایا جائے،آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ اسمبلی میں آرہا ہے اس اسمبلی کو تمام حزب اختلاف جماعتیں جعلی قرار دیتی ہیں۔جے یو آئی ف اس اسمبلی کے قانون سازی کے حق کو تسلیم نہیں کرتی، جعلی اسمبلی کو انتہائی حساس معاملے پر قانون سازی کی اجازت نہیں دے سکتے۔“
نواز لیگ میں مفاہمتی پالیسی کے حامی باور کرارہے کہ انہیں ہر دو صورتوں میں اقتدار میں شراکت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، معاملہ ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے ہویا نئے
بڑے فریق ”عظیم تر قومی مفاد“میں اقتدار میں حصہ داری پر مطمئن ہیں۔ ان کے جواب میں بڑی سیاسی جماعتوں نے سویلین بالادستی کی جنگ کسی اور موسم کے لئے ملتوی کردی ہے۔یقیننا یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کتنی گنجائش تھی جس کوعملا ان سیای جماعتوں نے استعمال نہیں کیا؟ کیا کیا مجبوریاں اور مصلحتیں آڑے آئیں؟ پیپلزپارٹی مثبت طریقہ کار اپنانے کا کہتی رہے گی، بعض اعتراضات بھلے اٹھائے جائیں، بعض پارٹیوں کی جانب سے مخالفت ہو گی، ممکن ہے کہ کوئی اپوزیشن جماعت رائے دہی کے وقت غیر حاضر رہے، بل جع کو نہ سہی منگل کو یا بدھ کو منظور ہو جائے گا۔
No comments:
Post a Comment