Friday, January 10, 2020

سیاسی حقائق اور ترمیمی بل

Nai Baat Jan 10, 2020
 سیاسی حقائق اور ترمیمی بل
میرے دل میرے مسافر
سابق چیف جسٹس آصف کھوسہ  نے جاتے جاتے آرمی چیف کے تقرر پر  بہت سے قانونی نکات اٹھا ئے تو گیند پارلیمنٹ کی کورٹ میں  پہنچ گئی۔ ہرذی شعور کو معلوم تھا کہ پارلیمنٹ اس پر کیا فیصلہ کرے گی؟  بہرحال  عدالتی فیصلے نے سیاسی جماعتوں کو موقع دیا  اور آزمائش میں بھی ڈال دیا کہ وہ  فیصلہ کریں اور ووٹ دیں اپنے منشور کے مطابق یا زمینی سیاسی حقائق کے پیش نظر۔سب نے دیکھا کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود وایاز۔  یہ ایک اہم قانون تھا، جو ایک مرتبہ کے لئے نہیں تھا۔ بلکہ ملک کے ایک اہم ادارے سے متعلق تھا، ایسا ادارہ جو ملک کے دفاع ہی نہیں بلکہ  یہاں کی سیاست، معیشت سمیت زندگی کے تمام شعبوں پر اثر انداز ہوتا رہا ہے اور آنے والے وقتوں میں بھی ہوتا رہے گا۔ 
 اپوزیشن سے لیکر حکمران جماعت تک سب ایک صفحے پر آگئے،پہلکاری مسلم لیگ نے کی کہ کوئی شرط لگائے بغیر اس ترمیم کو ماننے کا اعلان کر دیا۔ اگر مسلم لیگ نواز اس طرح پہلکاری نہیں کرتی تو پیپلزپارٹی کے لئے اتنا آسان نہیں تھا کہ وہ  اتنی جلدی اسی صف میں جاکر کھڑی ہوتی۔ شایدیہی وجہ ہے کہ پہلی حمایت مسلم لیگ نواز سے کرائی گئی۔ دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ نواز لیگ پر پارٹی کے اندر دباؤ تھا۔ اس کے اراکین حلقے کی سیاست  سے آگے نظر نہیں رکھ رہے تھے۔ پیپلزپارٹی کے لئے یہ دلیل تھی کہ وہ کسی صورت میں سندھ حکومت کھونا نہیں چاہتی تھی۔ممکن ہے کہ اس کے غیر پیپلزپارٹی کے لئے اپنے بقا کی جنگ لڑنا مشکل ہو جاتی وغیرہ وغیرہ۔

سیاسی پارٹیوں کااتفاق رائے اپنی جگہ ہے لیکن ان فیصلوں سے لوگ خوش بھی نہیں ہیں۔ان کا خیال ہے کہ بحث ہوتی تو زیادہ پہلو سامنے آتے اور رائے عامہ میں اتفاق رائے ہوتا، جو زیادہ قومی مفاد میں ہوتا۔جماعت اسلامی، جے یو آئی (ایف) پختونخوا عوامی ملی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے  ترمیمی بل کی مخالفت کی۔ مذکورہ بالا جماعتوں کے موقف کو یہ کہہ کر نظرانداز کیاجارہا ہے کہ  وہ سکڑ رہی  ہیں اور وہ صورتحال میں غیر متعلق ہوتی جارہی ہیں۔ 
سوشل میڈیا اور عام لوگوں میں بحث  ایک بہت بڑا پیمانہ ہے کہ لوگ کیا سوچتے ہیں۔ خود  دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کے کارکن بھی  خوش نہیں،ان کے پاس اپنی پارٹیوں کے موقف کے دفاع کے لئے کچھ ٹھوس دلیل نہیں، کیونکہ یہ سب کچھ پارٹی کے نظریات اور بیانیوں سے مطابقت نہیں کر رہا۔

 سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ جس نے سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا  اسی روز عہدے کی میعاد میں توسیع دینے کو قانونی تحفظٖ مل گیا تھا۔ پارلیمنٹ میں لے جانا ایک رسم تھی۔  اس نقط نظر کے نزدیک توسیع دینا ایک سیاسی حقیقت تھی۔ جس کو ہونا ہی تھا۔ یہ توسیع کسی قانون یا دباؤ کا نتیجہ نہیں تھی۔ ایک طرح سے پہلے سے فیصلہ کیا ہوا تھا عدالت نے اس کو محض ایک قانونی  لبادہ دیا۔
 قانون اور عدالتی فیصلے سیاسی حقائق کو بدلتے نہیں بلکہ ان سیاسی حقائق کو مہر لگاتے ہیں۔اصل بات سیاسی حقائق اور طاقت کا توازن ہوتے ہیں۔ملک کی تاریخ کو نظر میں رکھیں، تو پتہ چلتا ہے کہ دستور ساز اسمبلی توڑنے کے خلاف مولوی تمیزالدین کی  درخواست پر نظریہ ضرورت کے قانون سے لیکر بیگم نصرت بھٹو کی جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاٗ نافذ کے خلاف  درخواست اور 1985 کی اسمبلی سے متعلق عدالتی فیصلے تک سب یہی بتاتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ عدالتی فیصلے اور قانون سیاسی حقائق کے پیچھے چلتے ہیں، سیاسی حقائق قانون یا عدالتی فیصلوں کے پیچھے نہیں چلتے۔ مشرف کا ہنگامی حالات کا نفاذ چونکہ سیاسی حقائق سے متصادم تھا تو مقدمہ بن گیا۔ جبکہ مشرف کا 1999 کا اقدام  جائز قرار دے دیا گیا۔ 
اس خدشے کا ظہار کیا جارہا ہے کہ اب ایکسٹینشن معمول بن جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا پہلے یہ معمول نہیں تھا؟  فرض کریں کہ ریٹائرڈ جنرل مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں اپیل سے پلٹ جاتا ہے تو کیا ہوگا؟ اس کے آئندہ اثرات کیا ہونگے؟ بعض قانوندانوں کی رائے میں پسریم کورٹ کا فیصلہ ایک طرح سے خصوصی عدالت کے فیصلے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے  کا حل دے رہا ہے۔ سب سے زیادہ آزمائش پارلیمنٹ نے اپنے لئے کھڑی کر لی ہے۔ اب عوام بجا طور پر یہ توقع کرتے ہیں کہ یہی بالادستی اور یہی تیز رفتاری کبھی ان کی زندگی آسان کرنے کیلئے بھی استعمال ہو۔ 
 سب کچھ بدل گیا ہے،  میڈیا، معاشی حالات  اور دنیا، خود پاکستان کے لوگ بھی آج کی آگہی کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ یہ کوئی پچاس یا اسی کا عشرہ نہیں۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک آرمی چیف کے ہعدے میں توسیع کو چیلینج کیا جاتا ہے یا ہنگامی حلات نافذ کرنے پر ایک آرمی چیف کو سزا سنائی جاتی ہے۔ اس سے یہ ظہار نہیں ہوتا کہ توازن میں تبدیلی آئی ہے۔ تبدیل شدہ حالات میں عسکری بالادستی کو چیلینج کیا گیا ہے۔ خصوصی عدالت اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 
اس قانون کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ جب عدلیہ آئین کی بعض دفعات کی تشریح کرسکتی ہے تو اس قانون کی تشریح کیوں نہیں؟ قوانین اور اصولوں میں چھپے ہوئے اجزاء ہوتے ہیں،جب یہ قوانین زمینی حقائق سے میچ نہیں کھاتے تب قانونی سقم ک یا جھول کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ 73  کا آئین دیتے واقت ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کہا تھا کہ میں پاکستان میں  ہمیشہ  کے لئے مارشل لاء کا دروازہ بند کردیا ہے۔ لیکن بعد میں جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔
پیپلزپارٹی نے ایک اچھی ترمیم پیش کی تھی کہ کسی بھی ایکسٹنشن سے پہلے وزیراعظم  دفاع سے متعلق پارلیمان کی کمیٹی کو وہ اسباب بتائیں گے جن کے پیش نظر یہ توسیع دی جارہی ہے۔ لیکن بعد میں پیپلزپارٹی پیچھے ہٹ گئی۔ 
 کیا اس قانون سے معاملات طے ہوگئے ہیں َ یا یہ عسکری اور سویلین تعلقات میں توازن طے ہوگیا ہے؟ ایک مرحلہ طے ہوا ہے۔،پارلیمان نے قانون بنایا، تقرری یا توسیع وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہوگا۔پارلیمان اور حکومت کا امتحان ختم نہیں ہوا۔ چلیں آگے بھی مراحل ہیں۔ جیسے انتخابات میں من پسند نتائج، اقتدار پر قبضہ کرنے کو روکنا، ایکسٹینشن  کے دروازے  بند کرنا۔کیا اس پر بھی سیاسی جماعتیں ایک ہو سکتی ہیں؟ یہ بھی قومی مفاد ہے۔ 
اصل میں معاملے کا سیاسی فضا میں حل ڈھونڈنے  کی ضرورت ہے۔ یہ ذمہ داری سیاسی جماعتوں پر آتی ہے کہ وہ دیکھیں کہ وہ کونسی حکمت عملی اور لائحہ عمل ہو سکتا ہے سویلین بالادستی کی طرف راستہ نکلے۔ صرف یہ کہنا کہ قاون اور آئین کیا کہتا ہے غصہ کھوکھلی نعرہ بازی کوئی حکمت عملی نہیں۔
ہماری سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملی بنانے کے بجائے کسی معجزے کے انتظار میں زیادہ رہتی ہیں۔ ان کے نزدیک ترکی میں دوہزار سات میں بغاوت وغیرہ کے مقدمات اچانک ظہور پزیر ہوئے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ان مقدمات سے پہلے بہت سارے واقعات ہو چکے تھے۔ یہ واقعات تبدیلی کا آغاز نہ تھے، بلکہ تبدیلی کا نتیجہ تھے۔ وہاں پہلے طاقت کا توازن تبدیل ہوا پھر یہ مقدمات چلے۔ اگر سیاسی جماعتیں طاقت کا توازن تبدیل کرنا چاہتی ہیں تو انہیں مسلم لیگ قاف اور فنکشنل لیگ کی طرح سیاست نہیں کرنی ہوگی۔  وقتی رلیف یا اقتدار میں عارضی حصہ پتی لینے یا اس کا آسرا رکھنے کے بجائے سویلین  بالادستی کے لئے طویل عرصے کی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔ 

No comments:

Post a Comment