مارک سیگل کا بیان اور رائیس کونڈی لیزا کی کتاب
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
محترمہ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں امریکی لابیئسٹ مارک سیگل کے بیان نے اس کیس کو نیا موڑ دے دیا ہے۔ بینظیر بھٹونے انہیں ای میل کر کے بتایا تھا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔ بینظیر بھٹو کیس میں مارک سیگل نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا جس پر ریٹائرڈجنرل مشرف کے وکیل نے اعتراض کیا کہ یہ رپورٹ اس کیس کا حصہ نہیں۔ مطلب نہ اقوام متحدہ کی تحقیقات کو اور نہ اسکاٹ لینڈیارڈ پولیس کی تحقیقات اوررپورٹ کو شامل کیا گیا ہے۔
یہ بات عام تھی کہ بینظیر بھٹو ایک ڈیل کے تحت ہی پاکستان آرہی تھیں۔ اس ڈیل کی ضمانت امریکہ نے دی تھی۔ لیکن بعد میں مشرف اس ڈیل سے مکر گئے تھے۔ مارک سیگل کے بیان کو اگر اس وقت کی امریکی خارجہ سیکریٹری رائیس کونڈی لیزا کی خود نوشت کتاب کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کا وزن اور بڑھ جاتا ہے۔ تعجب ہے کہ اس کتاب کو اس کیس میں موجود حقائق کی تحقیقات کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ یہ کتاب مریکی سیکریٹری خارجہ رائیس کونڈی بھٹو اور مشرف ٹیم کو مثالی سمجھتی تھی۔وہ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو کو راضی کیا کہ وہ واپس پاکستان جائے اور مشرف کے ساتھ ٹیم بنائے۔ مگر جب وہ وطن پہنچی تو مشرف کا ردعمل مختلف تھا۔
بینظیر بھٹو کی چھٹی حس اور زمینی حقائق یہ تھے کہ یہ سب دیوانے کا خواب تھے۔ صورتحال کو سمجھنے کے لئے ہم رائیس کونڈی لیزا کے کتاب سے کچھ اقتسابات پیش کر رہے ہیں:
دراصل مشرف بے نظیر بھٹو کے ساتھ چلنا نہیں چاہ رہے تھے۔ اس لئے وہ ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے۔
رائیس کونڈیلیزا کی کتاب میں وہ لکھتی ہیں کہ آٹھ اگست 2007 کو جنرل پرویز مشرف مارشل لاء نافذ کرنے والے تھے مگر بینظیر بھٹو نے انکو ایسا کرنے سے روک دیا۔ بعد میں امریکی صدر بش نے محترمہ کو اس جرات مندی پر سراہا۔
وہ لکھتی ہیں کہ 2007 کے شروع میں مشرف نے ان سے کہا کہ بینظیر بھٹو طاقتور اپوزیشن لیڈر ہیں اور خود ساختہ جلاوطنی میں گذار رہی ہیں۔ وہ ان کو قریب لانے میں انکی مدد کرے۔یہ بڑی بات تھی کہ دو ماڈریٹ سیاستداں پاور شیئرنگ کے فارمولے اےک دوسرے سے قریب آئیں۔اس سے بنیاد پرست انڈر مائنڈ ہو جائیںگے اور نواز شریف بھی جس کے شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ امریکہ کے جنوبی و وسطی ایشیا ئی امور کے ڈپٹی سیکریٹری رچرڈ باﺅچر کے ذمہ یہ کام سونپا گیا کہ وہ ڈیل کے امکانات کو دیکھے۔ وہ دونوں فریقین سے ملتے رہے خاص طور پر بینظیر بھٹو سے جو اس وقت لندن میں تھیں۔رچرڈ دونوں فریقین کو قریب لانے میں کامیاب ہو گئے اور دونوں کی ملاقات بھی ہو گئی۔یہ ملاقات جولائی کے آخر میں متحدہ عرب امارات میں ہوئی۔پر ادھوری رہی۔ جب میں نے مشرف سے ہنگامی حالات ختم کرنے کے بارے میں بات کی تو انہیں یقین دلایا کہ ہم ان دونوں کے درمیاں فاصلے کم کرنے کے لئے کوششیں دگنی کردیںگے۔
بوشر دونوں فریقین کے درمیان شٹل کرتے رہے۔ اکتوبر تک چار معاملات ابھر کر آئے۔ پہلا یہ کہ جنرل مشرف کب وردی اتاریں گے؟( انتخابات سے پہلے یا بعد میں)۔ کیا بینظیر بھٹو اور ان کی پارٹی کے اراکین کو کرپشن اور دوسرے ایسے مقدمات سے تحفظ ملےگا؟ کیا وہ آئینی رکاوٹ کے باوجود کہ تیسری بار وزیراعظم ہو سکتی ہیں؟ چوتھا یہ کہ کیا مشرف، انتخابات سے پہلے ان کی وطن واپسی کی حمایت کرینگے۔ میں نے تےن اکتوبر کی شام کو ےہ چاروں چیزیں مشرف کے سامنے رکھیں۔اور پونے چھ بجے بینظیر کو فون کرکے جواب سے آگاہ کیا۔سوا چھ بجے دوبارہ مشرف سے بات کی۔اور پونے سات بجے بینظیر سے بات کی۔اور ےہ سلسلہ ہر آدھے گھنٹے بعد رات11.28 منٹ تک جاری رہا۔
رائیس کا کہنا ہے کہ بینظیر کو مشرف کی نیت پر شک تھا اور مشرف کو بھی۔ بینظیریہ کہتی رہی کہ وہ پارٹی کانفرنس کرنا چاہ رہی ہیں کیونکہ پارٹی کے لوگ مشرف سے ڈیل کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔میں انہیں دلیل دیتی رہی کہ انکو ملک کے لئے ایسا کرنا چاہئے۔صرف ان دونوں کے درمیان اتحاد ہی اچھے طریقے سے انتخابات کرا سکتا ہے۔جب میں ان فون کالز کے درمیاں شٹل کر رہی تھی تو سوچ رہی تھی کہ کیا میں صحیح کر رہی ہوں؟ بڑی مشکل سے پاور شیئرنگ کا فارمولا بنایا گےا۔ کیونکہ عمومی طور پر فریقین یہ شیئرنگ نہیں چاہ رہی تھیں۔میرے لئے یہ بھی تشویش کی بات تھی کہ ہمیں مﺅرد الزام ٹہرایا جائےگا کہ ہم نے جمہوری عمل میں مداخلت کی۔کیوں نہ الیکشن ہونے دیں ۔
وہ مزید لکھتی ہیں ۔ سچ بات تو یہ ہے دونوں کے پاس مسائل بھی بہت تھے اور اثاثے بھی۔ مشرف اےک فوجی بغاوت کے ذریعے حکومت میں آیا تھا مگر انہوں نے صورتحال کو کنٹرول کیا اور فوج میں انہیں سراہایا جاتا ہے۔بینظیر اور انکے خاندان پر کرپشن کے شدید الزامات تھے۔ مگر وہ اصلاحات کی علامت کے طور پر ابھری تھی۔ اور عمومی طور پر لبرل سیاسی خیالات کی حامل ہیں۔دونوں فریقین لبرل اور ماڈریٹ ہیں اور انتہا پسندی کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں۔ ان کے درمیاں پاور شیئرنگ پاکستان میں جمہوریت کی جانب صرف اےک قدم ہوگا۔ بہرحال میں نے یہ ضروری جانا تاکہ ملک کچھ آگے بڑھ سکے۔
امریکی سیکریٹری کے مطابق رات کو مشرف اور بینظیر دونوں سے فون پہ بات ہوئی اور تفصیل کے ساتھ ڈیل طے ہو گئی۔ جس کے مطابق بینظیر بھٹو ملک آنے اور عام انتخابات لڑنے کی اجازت ہوگی جو کہ جنوری کے وسط میں ہونے تھے۔
ڈیل میںان افواہوں کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہونے لگیں کہ مشرف صدارتی انتخابات کے بعد وردی اتارینگے۔اور وہ آرمی چیف کا عہدہ رکھتے ہوئے صدرارتی اتنخاب لڑینگے۔بینظیر نے مجھے بتاےا کہ جنرل مشرف ایسا نہیں کرینگے۔ اور یہ بھی کہا کہ میں یہ سمجھونگی کہ امریکی حکومت بیچ میں ضامن ہے۔ رائیس کے مطابق ڈیل کا 4 اکتوبر کو اعلان کیا گےا۔
لیکن جب 18 اکتوبر کو بینظیر بھٹو وطن لوٹیں تو کارساز کراچی میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور انکے استقبالی جلوس میں دو دھماکے ہوئے۔ان کی تو جان بچ گئی مگر 140 افراد ہلاک ہوگئے۔اس کے بعد دسمبر میں جناح باغ راولپنڈی کے واقعہ میں محترمہ کو قتل کردیا گیا۔ رائیس کونڈی کے بیان کردہ واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے ڈیل تو کرالی لیکن وہ ریٹائرڈ جنرل مشرف کو یہ بات نہیں منوا سکا کہ بینظیر کی جان کی حفاظت کی ضمانت دے۔ امریکہ کی وجہ سے پیپلزپارٹی اپنے دور حکومت میں اس کیس کی تفتیش کو آگے نہیںسکی۔
سیگل کے بیان کے بعد کیا ہوگا؟ کیا سیگل کی گواہی مشرف کو اس کیس میں ملوث کرنے کے لئے کافی ہے؟ ایسا نہیں لگتا۔ کیونکہ ہمارے ملک میں کوئی بھی ہائی پروفائیل کیس اپنے منطقی نتیجہ پر نہیں پہنچے ہیں۔
No comments:
Post a Comment