پنجاب ۔۔ سہیل سانگی
پاکستان کی سیاست کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پنجاب کے لیے آئینی اور قانونی طریقے سے اقتدار حاصل کرنا مسئلہ رہا ہے۔ لہٰذا وہ اداروں کے ذیرعے مداخلت کرتا رہا ہے۔یہ ا داروں کے ذریعے سافٹ کو لیا ہے۔لیاقت علی خان سول اور ملٹری بیوروکریسی کو قبول نہیں تھے۔انہیں راولپنڈی میں اس مقام پر گولی کا نشانہ بنایا گیا جہاں کوئی آدھی
صدی بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا۔ بعد میں پنجاب کے غلام محمد گورنر جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔
بنگال کے خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم بنے تو انہیں بھی مدت سے پہلے روانہ کیا گیا۔1954 میں بنگال کی اکثریت
کو توڑنے کے لیے ون یونٹ قائم کیا گیا۔ون یونٹ کے بعد بھی یساسی اقتدار پنجاب کے ہاتھ سے نکلنے کے ڈر سے دو مارشل لا لگائے گئے۔ بعد میں وزیراعظموں کو گھر بھیجنے کی لمبی لائن ہے۔1985 سے 2012 تک ملک 73ع کے ّئین کے تحت چل رہا
صدی بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا۔ بعد میں پنجاب کے غلام محمد گورنر جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔
بنگال کے خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم بنے تو انہیں بھی مدت سے پہلے روانہ کیا گیا۔1954 میں بنگال کی اکثریت
کو توڑنے کے لیے ون یونٹ قائم کیا گیا۔ون یونٹ کے بعد بھی یساسی اقتدار پنجاب کے ہاتھ سے نکلنے کے ڈر سے دو مارشل لا لگائے گئے۔ بعد میں وزیراعظموں کو گھر بھیجنے کی لمبی لائن ہے۔1985 سے 2012 تک ملک 73ع کے ّئین کے تحت چل رہا
ہے۔
پنجاب اداروں کے ذریعے معاملات ، فیصلوں اور پالیسیوں میں براہ راست مداخلت کرتارہا۔تاریخ خود کو دہراتی ہے ۔1973 کے آئین کے تحت حکومت سندھی ویزراعظم کے پاس تھی توسیاسی اقتدار حاصل کرنے کے لیے ضیاءالحق کے ذریعے 1958 کی طرح مداخلت کی گئی اور ملک میں مارشل لا لاگو کردیا گیا۔
مارشل لا ختم ہونے کے بعد اقتدار محمدخان جونیجو اور بے نظیر بھٹو کو ملا۔پنجاب ایک بار پھر حرکت میں آیا اور اداروں کو استعمال کرتے ہوئےصدر کو استعامل کیا۔اور 1990 اور 1997 میں مشکوک انتخابات کے ذریعے اقتدار حاصل کیا۔1999 تک ایوان صدر اور خواہ عدلیہ نے پناجب کی ان اقتداری کوششوں میں بھرپور ساتھ دیا۔1999 میں غیر پنجابی جنرل نے اقتدار پر قبضہ کیا۔ تب سے ایک حوالے سے پنجاب اقتدار سے باہر رہا۔تاہم ریاستی اداروں پر عددی اعتبار سے اکثریت اور کلیدی عہدوں پر موجودگی کی وجہ سے پنجاب کا غلبہ برقرار رہا۔ 1985 سے 1999 تک جس طرح سےعدالتوں نے ّئین کی تشریح ک کرکے پنجاب یا فوج کے اقتدار کو تسلیم کیا وہ سب کے سامنے ہے۔
اب بھی یہی کوشش کی جارہی ہے کہریاست کے ادارتی نظام کو استعمال کرکےپنجاب کو سیاسی اقتدار دلایا جائے۔مگر تبدیل شدہ حالات میںفوج کی براہ راست مداخلت پنجاب کے مڈل کلاس اور پڑھے لکھے طبقے کو پسند نہیں۔مگر امریکہ اور اسٹبلشمنٹ کا ٹکراﺅ کسی ایسےامکان اور انتہائی اقدام کی اجازت نہیں دیتا۔ماضی میں پنجاب امریکہ کی آشیرواد سے ہی اقتدار حاصل کیا ہے۔جس کے عوض اس نے افغانستان میں سوویت یونین کی حامی حکومت ختم کرنے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی خدمات انجام دیں۔چونکہ اب امریکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس خطے میں آئینی سیاسی سیٹ اپ کو اپنے مفادات میں سمجھتا ہے۔لہٰذاپنجاب کی ادارتی اشرافیہ کے لیے اقتدار پرحاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
اب بھی یہی کوشش کی جارہی ہے کہریاست کے ادارتی نظام کو استعمال کرکےپنجاب کو سیاسی اقتدار دلایا جائے۔مگر تبدیل شدہ حالات میںفوج کی براہ راست مداخلت پنجاب کے مڈل کلاس اور پڑھے لکھے طبقے کو پسند نہیں۔مگر امریکہ اور اسٹبلشمنٹ کا ٹکراﺅ کسی ایسےامکان اور انتہائی اقدام کی اجازت نہیں دیتا۔ماضی میں پنجاب امریکہ کی آشیرواد سے ہی اقتدار حاصل کیا ہے۔جس کے عوض اس نے افغانستان میں سوویت یونین کی حامی حکومت ختم کرنے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی خدمات انجام دیں۔چونکہ اب امریکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس خطے میں آئینی سیاسی سیٹ اپ کو اپنے مفادات میں سمجھتا ہے۔لہٰذاپنجاب کی ادارتی اشرافیہ کے لیے اقتدار پرحاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
موجودہ حکومت کو ختم کرنے کے لیے وہی کوششیں ہیں جو1950اور 1990میں کی گئی تھیں۔وہی الزامات، وہی قانون اور
آئین کی تشریح ہے اور وہی انجنیئرڈ اتنخابات کی تیاریاں ہیں۔سوال یہ ہے کہ پنجاب عددی اکثیت کے باوجودجمہوری عمل سے خائف کیوں ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ اب پناجب1973 کے ّئین کے باوجود خود کو اقلیت میں محسوس کرتا ہے کیونکہ سرائیکی کارڈ پیدا ہو چکا ہے۔اس کے پاس قومی اسمبلی کی جنرل 272 نشستوں میں سے 90 نشستیں ہیں۔
آصف زرداری نے سرائیکی کارڈ جس خوبصورتی سے کھیلا اس کے ساتھ ساتھ اسٹبلشمنٹ نے نواز شرفی پر چیک رکھنے کے لیے عمران خان کو میدان میں اتارا جس کے بعد پنجاب کا ووٹ بینک تقسیم ہونافطری بات ہے۔جبکہ دوسرے صوبوں میں پنجاب کا خوف ہونے کی وجہ سے مینڈیٹ تقسیم ہونے کے امکانات کم ہیں۔ملک میں مختلف حلقوں مٰن ہونے والے ضمنی انتخابات نے بھی اس بات کو واضح کردیا ہے۔چونکہ اس وقت سیاسی اقتدار سندھ کی اشرافیہ کے پاس ہے، جبکہ ادارے پنجاب کے پاس ہیں۔لہٰذا موجودہ بحران کو اس تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔آج بھی افواہ، تجزیے، اور آراءیہ ہیں کہ موجودہ سیٹ اپ لپیٹ لیا جائے گا کیونکہ طاقتور ادارے اس کی کرپشن، اقرباءپروری سے بیزار ہیں۔
مگر درحقیقت اداروں اور حکومت کے درمیان تصادم کی وجہ پنجاب کا اقتدار سے باہر ہونا ہے۔ عموما صدر کے منصب پر ایسا آدمی ہوتا ہے جو اسٹبلشمنٹ کے لیے سیاسی حکومت کو روانہ کرنا اتنا مسئلہ نہیں ہوتا۔ مگر ّج نہ صرف صدر کے پاس حکومت توڑنے کا اختیار نہیں ہے بلکہ صدر خود پنجاب کے پاور سینٹر سے تعلق نہیں رکھتے۔اس مرتبہ سپریم کورٹ بھی مختلف ہے جو کہ بار بار پارلیمنٹ کو بچانے اور اس کا دفاع کرنے کا عہد کرتی رہتی ہے۔لہٰذا مقتدرہ حلقے نہ صرف پنجاب کی سیاسی اقتدار سے بے دخلی اور سرائیکی کارڈ پیپلز پارٹی کے ہاتھ میں آنے پر پریشان ہیں بلکہ ان کے پاس اقتدار کو اپنے حق میں کرنے کے لیے کوئی راستہ بھی نہیں۔
سیاسی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ملکی صورتحال ابتر ہو رہی ہے۔کیونکہ سرکاری ادارے حکومت سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کا اختیار روز بروز کم ہو رہا ہے۔
پنجاب امریکی امداد ے
Dec 9,2015
No comments:
Post a Comment