Sunday, March 6, 2016

پیپلزپارٹی زوال پذیر پارٹی


 پیپلزپارٹی  زوال پذیر پارٹی

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

پیپلزپارٹی 1970 کے انتخابات میں پنجاب میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری۔ جب کہ سندھ میں وہ صوبائی اسمبلی کی ساٹھ میں سے صرف 28 نشستیں جیت پائی تھی۔ یہ بات صرف کہنے کی بات ہے کہ پیپلزپارٹی کا آبائی صوبہ سندھ ہے شاید اس وجہ سے کہ اس کی قیادت کا تعلق سندھ سے رہا۔ دراصل پارٹی کی تشکیل، اس کی نظریات کا تعین پنجاب نے کیا تھا۔ اور اس کا حقیقی معنوں میں آبائی صوبہ پنجاب ہے۔ 

پنجاب میں اس کا بڑا ووٹ بینک رہا اور سیاسی حیثیت بھی رہی، جس کو ضیا ءالحق بھی توڑ نہیں پائے۔ اب ووٹ کے بڑے بینک والی پارٹی پنجاب میں فقیر ہو گئی ہے ۔ اتوار کے ضمنی انتخابات نے اس پر مہر ثبت کردی کہ اب ماضی کی مقبولیت، ووٹ بینک اور سیاسی جوڑ توڑ میں پوزیشن ختم ہوگئی ہے۔ مارشل لا کے خلاف قربانیاں، جمہوریت کے لئے جد وجہد، یہ سب قصہ پارینہ ہو گیا ہے۔

 اس ضمنی انتخاب میں کس طرح سے دو پارٹیوں کا مقابلہ تھا اور کس طرح سے انتخابی مہم چلائی گئی کتنے پیسے خرچ ہوئے، کیا سیاسی پروگرام تھا یہ سوالات بھی اہم ہیں۔ کیونکہ آئندہ انتخابات میں ان طریقوں کو مختلف جماعتیں آزمائیں گی۔ 

اگرچہ 2013 کے عام انتخابات نے پارٹی کا اس بڑے صوبے میں صفایا کردیا تھا۔ لیکن پھر بھی پارٹی اس خوش فہمی خود بھی مبتلا رہی اور اپنے حلقوں کو بھی اس میں رکھا کہ نہیں ابھی پارٹی میں دم ہے۔ اس شکست کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پارٹی پنجاب میں مزید سرگرم ہو جاتی، تنظیمی سطح پر تبدیلیاں لاتی، خود کو بدلے ہوئے حالات کے مطابق جوڑتی اور حکمت عملی بناتی۔ اس طرح کے اعلانات تو ہوتے رہے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا جا سکا۔ 

آصف علی زرداری کے بیرون ملک جانے کے بعد بلاول بھٹو زرادری نے لاہور میں جاکر پارٹی کارکنوں سے مالاقاتیں بھی کیں۔ لیکن پارٹی کے نوجوان چیئرمین وہ اسپرٹ اور تیمپو پیدا نہیں کر سکے جو ان کی والدہ اور نانا کر لیتے تھے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بلاول بھٹو کو پارٹی کارکنوں کے ساتھ اجلاس کرنے یا چھوٹے موٹے فیصلے کرنے کی تو اھازت تھی لیکن بڑے اور تنظیمی فیصلے یا لائحہ عمل اور حکمت عملی کے فیصلے کرنے کی اجازت نہیں تھی، اس طرح کے فیصلے کرنے کا اختیار پارٹی کے شریک چیئرمین کے پاس ہی تھا۔ لہٰذا چھوٹی سی تبدیلیاں اور بڑے بیانات پارٹی کو اس بڑے صوبے میں جو کبھی اس کا قلعہ تھا اس کو ڈوبنے سے نہیں بچا سکے۔

ایک خیال یہ ہے کہ پارٹی کی صوبای یا ضلعی تنظیمی ڈھانچے کو اپ ڈیٹ نہ رکھنے کا یہ شاخسانہ ہے۔ اگر نغور جائزہ لیا جائے تو ایک عنصر تو ہو سکتا ہے لیکن کلی طور پر اس عنصر کو ذمہ دار نہیں ٹہرایا جاسکتا۔ 

 پنجاب میں صوبائی قیادت اس خیال کی تھی کہ ضمنی انتخابات کا بائکاٹ کیا جائے اور اس میں حصہ نہ لیا جائے۔ صوبائی قیادت کو شاید ٹھیک سے اندازہ تھا کہ انتخابات کے کیا نتائج نکلیں گے۔

پارٹی پالیسی، حکمت عملی اور اعلیٰ قیادت کے رویے کی وجہ سے پارٹی کو یہ دن دیکھنے پڑے۔ نہ کوئی انقلابی یا تبدیلی کا نعرہ تھا نہ پروگرام اور نہ ہی عام لوگوں اور عام ورکرز کے ساتھ رابطے۔ یہ وہ چیزیں تھیں جو پارٹی کو زندہ اور مقبول بنا کر مین اسٹریم کی پارٹی بنائے ہوئے تھیں ۔

یہ صحیح ہے کہ پارٹی کی یہ پوزیشن بڑی حد تک پنجاب میں ہے۔ لیکن ملکی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ ایک مرتبہ زوال کا سفر پنجاب سے شروع ہوتا ہے تو وہ سندھ تک بھی پہنچے گا۔ سیاست میں دیر یا سویر اقتدار ھاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کوئی بھی پارٹی اگر اقتدار ھاصل کرنے کی صؒاحیت نہیں رکھتی تو وہ اثر انداز ہونے اور ملکی حکمت عملی بنانے کیصلاحیت کھو بیٹھتی ہے۔ 

 در اصل پارٹی پنجاب میں تحریک انصاف کے مظہر کو سمجھ نہیں پائی اور اس کو انڈر اسٹیمیٹ کیا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب میں مذہبی اور دائیں بازو کے فکر حاوی ہونے اور روشن خیال اور ترقی پسند نظریات کے پیچھے چلے جانے کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے لئے مشکلات پیش آئی۔ یہ وہ نکتہ ہے جس کو پارٹی کبھی حساب میں نہیں لائی۔ اس فکر کے ایک طرف رکھنے کے بعد پارٹی صرف اور صرف جاگیرداروں، ذمینداروں اور بااثر شخصٰات کے پیچھے دوڑتی رہی۔ 

 اب پیپلزپارٹی صرف سندھ کے بل بوتے پر کھڑی ہے۔ جہاں پر بھی پارٹی پالیسی کوئی بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔ کسی بھی جماعت کی پالیسی چونکہ پبلک پالیسی ہوتی ہے لہٰذا اس کی تشکیل اور عمل درآمد میں بھی عواام کو کسی نہ کسی طرح سے شامل رکھا جاتا ہے۔ یہاں پر بھی زیادہ زور وڈیروں کا شامل کرنے پر ہے۔ ہاں پارٹی کی یہ خوش قسمتی ہے کہ سندھ میں تاحال لبرل، جمہوری، روشن خیال فکر حاوی ہے ۔ دلچسپی رکھنے والے حلقوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود اس فکر سے سندھ کو خالی نہیں کیا جاسکا۔ پیپلزپارٹی اس کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ لیکن اس فکر سے تعلق رکھنے والے بھی پیپلزپارٹی سے بیزار ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ان کے پاس متبادل نہیں۔ عمران خان ان کے لئے متبادل نہیں بن سکتے۔ 

October 16, 2015

No comments:

Post a Comment