Saturday, October 1, 2016

مودی کی پالیسی سے خطے میں انتہا پسندی بڑھنے کا خطرہ

مودی کی پالیسی سے خطے میں انتہا پسندی بڑھنے کا خطرہ


میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

خطے میں موثر دو ممالک امریکہ اور چین نے پاکستان اور بھارت پر آپس میں کشیدگی ختم کرنے اور معاملات پرامن اور مذاکرات کے ذرریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ تاہم بھارتی وزیر اعظم نے مودی جارحانہ رویہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں رواں سال نومبر میں مجوزہ سارک سربراہی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے ۔ اب سارک کانفرنس کا رواں سال انعقاد ممکن نظر نہیں آتا۔ 



پاکستان اور بھارت کے درمیان بلواسطہ جنگ اور کشیدگی گزشتہ چند دہائیوں سے جاری ہے ۔ لیکن اس میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب انڈیا نے کھلے عام بلوچستان کے معاملے میں مداخلت کا اعلان کیا۔ بھارت کے اس اعلان سے بلوچستان کے عوام یا وہاں کی قوم پرست تحریک کا بھلا ہونے کے بجائے نقصان ہی پہنچا۔ بلکہ اس بھارتی رویے سے پاکستان میں موجود جہادی قوتوں کی حامی لابی کو تقویت ملے گی۔ جو کہ خطے میں قیام امن کے لئے نہایت ہی خطرناک ہوگا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اب پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ علاقائی بن چکا ہے۔ 



لگتا ہے کہ معاملہ ایک مرتبہ پھر ایک اور پراکسی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان پراکسی جنگ لڑنے کی پہلے بھی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ امریکہ کے ساتھ خصوصی تعلقات اور پھر امریکہ کی جانب سے افغانستان میں بھارت کو خصوصی رول دینے کے بعد ان تینوں ممالک کے حکمت عملی کے تعلقات قائم ہو چکے ہیں۔ بھارت ان تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے کابل میں موجود حکومت کے ذریعے پاکستان کو گھیرے میں لانے اور دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے جو یقیننا پاکستان کے لئے باعث تشویش ہے۔ پاکستان ایک عرصے سے شکایت کرتا رہا ہے کہ بھارت پاکستان میں تخریبی کارروائیوں کے لئے افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے۔ مودی کے حالیہ بیانات نے پاکستان کے اس موقف کو مضبوط کیا ہے۔ افغانستان کوپاکستان کے خلاف استعمال کرنا خود امریکہ اور اسکے دیگر حلیف مغربی ممالک کے لئے بھی باعث تشویش ہونا چاہئے۔ اس طرح کے اقدامات سے افغانستان میں عدم استحکام بڑھے گا۔ اور وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان پراکسی جنگ کا میدان بن جائے گا۔ کای ایسے میں افغان بحران کا پرامن اور قابل قبول حل تلاش کیا جاسکتا ہے؟ 



پاکستان کو عالمی طور پر اکیلا کرنے کے اعلان کے بعدبھارت نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ سندھ طاس پانی کا معاہد منسوخ کر دے گا۔ پاکستان کا پانی بند کر کے مودی برصغیر میں غربت کے خلاف کس طرح سے مشترکہ جنگ لڑنا چاہتے ہے؟ یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگوں اور مختلف تضادات کے بعد بھی برقرار رہا۔ یہ پہلا موقعہ ہے بھارتی وزیر اعظم نے اس معاہدے کی تنسیخ کی بات کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان عالمی بینک کے توسط سے ہوا تھا۔ ایک عالمی معاہدے کو منسوخ کرنا اتنا آسان نہیں۔ لیکن اس طرح کے بیانات سے اس معاہدے کو متنازع بنایا جارہا ہے جس کے اثرات آنے والے وقتوں میں پڑنا ناگزیر ہیں۔ 
پانی کا معاملہ اتنا حساس ہے کہ معاہدے کی ایک معمولی خلاف ورزی دونوں ملکوں کو فوجی تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ 
یہ سمجھنا اہم ہے کہ مودی نے یہ اشو کیوں کھڑا کیا؟ کیا کل کو انہیں اس پوزیشن سے نیچے آنے میں دقت نہیں ہوگی؟ بھارت کے اکثریتی عوام مودی کی اس پالیسی کے خلاف ہیں۔ ایک عالمی ادارے کے سروے کے مطابقاگرچہ انڈیا میں پاکستان مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے تاہم پچاس فیصد لوگ مودی کی پالیسیوں کو ٹھیک نہیں سمجھتے۔ مودی نے اس انتہاپسندانہ موقف کے نقصانات کا ازالہ کر لے گا۔ کیونکہ انڈیا عالمی طور پر اس وقت بہتر پوزیشن میں ہے۔ اس کی معیشت میں بہتری وغیرہ کو خاص طور پر اہم سمجھا جاتا ہے۔ کیا وہ پاکستان کے ساتھ تصادم اور کشیدگی کے اس طرح کے موقف اور اقدامات کے بعد عالمی سطح پر اپنی ساکھ اور حیثیت کو برقرار رکھ پائے گا؟ 



مودی کہتے ہیں کہ انڈیا پاکستان کو دہشتگردی ایکسپورٹ کرنے کے نام پرقابل نفرت ملک بنا کر دنیا میں اکیلا کر دے گا۔ اس میں شبہ نہیں کہ ہماری غلط پالیسیوں اور اور نااہلی کی وجہ سے ملک کے اندر دہشتگرد گروپ سرگرم ہیں۔ جس کے نقصانات ہم اندرونی خواہ بیرونی طور پر اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان کے بارے میں اس حوالے سے عالمی طور پر شدید شک و شبہات ہیں، جنہیں ہم تاحل دور نہیں کر سکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اختیار اور فیصلہ سازی کے ایک سے زائد مراکز ہیں لہٰذا پاکستان اپنی مربوط خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی بنا نہیں سکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتی حوالے سے گزشتہ چند برسوں میں ملک کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ لیکن اپنی جغرافیائی محل وقع کی وجہ سے دنیا کے لئے ابھی بھی اہم ملک ہے۔ 



پاکستان کو الٹے سیدھے اقدامات کے ذریعے غیر مستحکم کرنے کی کوشش کے نہ صرف خطے پر بلکہ خود انڈیا پر بھی منفی اثرات ہونگے۔ پاکستان کو غربت بیروزگاری، اور ناخواندگی کا بھاشن دینے کے ایک روز بعد بھارتی وزیراعظم نے 360 درجے کی ڈگری کا موقف لیا ہے۔ اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں معیشت کی بنیاد زراعت ہو، اور جہاں زندہ رھنے کا بنیادی ذریعہ بھی یہ ہو وہاں کس طرح سے ایک اتنے بڑے ملک کا وزیراعظم ایک غیرانسانی عمل کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ حکم صادر کر دیا کہ بھارت ان تین مغربی دریاؤں پر بجلی گھر تعمیر کرے جن کا پانی معاہدے کے تحت پاکستان کے لئے مخصوص ہے۔ وہ ایسا کر کے ممکن ہے کہ انڈٰا کے بعض انتہا پسندوں کو خوش کر لیں لیکن خطے کو مزید غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ وہ اس کوشش یں دونوں ملکوں کے درمیان ایک اور تنازع کھڑا کر رہے ہیں۔ 



پاکستان کے پالیسی سازوں کو محتاط اور دانشمندانہ ردعمل دینا چاہئے۔پاکستان کی جانب سے جذباتی اور ہراسگی کا ردعمل صورتحال کو مزید خراب کرے گا۔ پاکستان پانی کے ماہرین کی اور عالمی ثالثوں کی مضبوط ٹیم بنائے اور عالمی بینک کو بھی بیچ میں لے آئے۔ تاکہ بھارتی تحرک پر جلد اور موثر جواب دیا جاسکے۔ کرشنا گنگا اور بلگیار کی ثالثی سے سبق ملتا ہے کہ کمزور پالیسی، لیڈرشپ کے فیصلہ سازی میں عدم بلوغت، اور دنیا میں کیس کو کمزور طریقے سے رکھنے کی وجہ سے پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑا۔ ضرورت اس مار کی ہے کہ پاکستان خود کو سفارتی اور قانونی حوالے مضبوط کرے۔ 



معاملہ خطے میں بالادستی کا ہے۔ اپنے مفادات کو جارحانہ سفارتکاری کے ذریعے بچانے کا ہے۔ معاملہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو اپنا ہمنوا بنا کر اقتصادی میدان میں آگے بڑھنے کا ہے۔ 
پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کشیدگی کا باعث ہے۔ جنرل ضیا سے لیکر جنرل مشرف تک اور بعد میں میاں نواز شریف تک جب بھی دونوں ممالک کے سربراہوں کی ملاقاتیں ہوئی یہ طے پایا گیا کہ کشمیر کے معاملے کا تصفیہ پرامن اور بات چیت کے ذریعے سے کیا جائے گا۔ لیکن ابھی اچانک بھارتی وزیراعظم کے موقف میں تبدیلی آگئی ہے۔ اور چند ہفتے قبل کشمیر میں بھارتی فورسز نے جو مظالم کئے اور ایسی گیس کا استعمال کیا گیا جس سے مظاہرین کے آنکھوں کا نور ختم ہو گیا۔ ابھی تک کوئی ایسا فارمولا نہیں پیش کیا جاسکا ہے جو بیک وقت پاکستان، بھارت کو کشمیریوں تینوں کے لئے قابل قبول ہو۔ ممبئی واقعہ سے پہلے بھارت کشمیر کے معاملے کو اولیت دیتا رہا۔ لیکن اس کے بعد وہ دہشتگردی کو نمبر و قرار دیتا رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دکھتی رگ بلوچستان پر بھی ہاتھ رکھا۔ 
جس طرح کشمیر میں حال ہی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی اس کو بڑے پیمانے پرعالمی سطح پر اٹھایا جاتا تو بھات خاصی مشکل میں پڑ سکتا تھا۔ بھارت کو کشمیر کے واقعہ سے توجہ ہٹانے کے لئے کوئی بہانہ چاہئے تھا۔ جس سے دہشتگردی دوبارہ فوکس میں آئے۔ اڑی واقعہ نے اسے یہ موقعہ فراہم کیا۔ اڑی واقعہ کے بارے میں کئی شبہات اور تحفظات ہیں۔ 
سوال یہ ہے کہ مودی کی اس ضارحانہ پالیسی اور سفارت کاری سے فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ ظاہر ہے کہ خطے میں انتہا پسندانہ سوچ بڑھے گی۔ نقصان خطے کے امن اور یہاں کے لوگوں کا ہوگا۔ 

No comments:

Post a Comment