Sunday, April 29, 2018

نواز لیگ سندھ کے سنجیدہ نہیں؟

PMLN not serious in Sindh 
نواز لیگ سندھ کے سنجیدہ نہیں؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
ملکی سیاست میں بدلاﺅ کے اثرات دوسرے صوبوں میں بھی پہنچنا شرو ع ہو گئے ہیں۔ پنجاب کے بعد ملک کا دوسرا بڑا صوبہ سندھ گزشتہ دو ہفتے سے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ملک گیر کہلانے والی سیاسی جماعتوں اب سندھ میں پہنچ رہی ہیں۔ صوبے میں تین اہم پیش رفت ہوئی ہیں۔ چوہدری پرویز الاہی گزشتہ دنوں یہاں پر تھے۔ انہوں نے پیر پاگارا سے ملاقات کی۔ اور آئندہ انتخابات میں مشترکہ امیدوار کھڑے کرنے کا علان کیا۔ سندھ میں جب بھی پیپلزپارٹی کے بغیر جو اتحاد یا حکومت بنتی ہے پیر پاگارا اس کا اہم جز رہے ہیں۔ تاہم اکثر اوقات سندھ کے مخصوص حالات کے پیش نظر اس فارمولے میں تھوڑا بہت قوم پرستی کا ذائقہ ڈالا جاتا رہا ہے۔ یہ سلسلہ ستر کی دہائی یعنی بھٹو دور سے چلا آرہا ہے۔ نو ستاروں والی پی این اے کی تحریک میں بھی ایسا ہوا۔ اس کے بعد جنرل ضیا نے بھی اسی فارمولے پر عمل کیا، اور غیر جماعتی انتخابات کے بعد پیر پاگارا کے تجویز کردہ شخص محمد خان جونیجو کو ویراعظم منتخب کیا۔ یہ فارمولا نوے کے عشرے میں جب پیپلزپارٹی اور نواز لیگ آمنے سامنے تھیں، نواز شریف نے کم از کم تین مرتبہ بھی آزمایا، جنرل مشرف نے بلدیاتی خواہ عام انتخابات میں اسی نسخے سے استفادہ کیا۔ 2008 اور 2013 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر پیپلزپارٹی کی مخالفت میں نواز شریف نے سندھ میں اسی مسالے کا چورن بیچنے کی کوشش کی۔ اب پہلی مرتبہ یہ نسخہ بیک وقت پیپلزپارٹی اور نواز شریف کے خلاف آزمایا جائے گا۔ 2013 کے انتخابات کے موقع پر نواز شریف کی آشیر واد سے پیر پاگارا کی چھتری میں قائم ہونے والے اس اتحاد نے بظاہر کوئی کامیابی حاصل نہیں کی ماسوائے اس کے کہ وہ پیپلزپارٹی کو سندھ میں ہی مصروف رکھے اور وہ پنجاب میں توجھ نہ دے پائے۔اگرچہ اس اتحاد میںقوم پرست اور بعض ”دانشور“ بھی شامل تھے، لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود دس جماعتی اتحاد تمام حلقوں پر امیدوار بھی کھڑے نہیں کر پایا تھا۔ 2013 کے اس اتحاد کے لئے دو اور باتیں اہم رہی۔ ایک یہ کہ بڑے پیر پاگار ا کے انتقال کے بعد خاندان میں روحانی جماعت اور سیاسی قیادت کے حوالے سے اختلافات ابھر کر سامنے آئے۔ روحانی قیادت پیر صبغت اللہ شاہ کے پاس تھی اور سیاسی قیادت ان کے بھائی پیر صدرالدین شاہ کے پاس تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ان اختافات کی وجہ سے پیر پاگارا نے انتخابات میں اپنا بھرپور رول ادا نہیں کیا۔ بعد میں ایک اور بھی دلیل سامنے آئی جو پیر پاگارا کی جانب سے ہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اپنے وعدے سے مکر گئے تھے۔ جس کی وجہ سے انہوں فعال کردار ادا نہیں کیا۔ 
چند روز قبل پیر پاگارا لاہور میںچوہدری پرویز الاہی اور چوہدری شجاعت سے ملاقات کر چکے ہیں۔ چوہدری برادران کی پیر پاگارا کے ساتھ یہ ملاقاتیں اشارہ ہیں کہ اگر ملک میں غیر مقبول سیٹ اپ بننے کی صورت میں یہ” بڑے لوگ“ اقتدار پرستوں کے لئے کام کے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ اورنواز شریف کے درمیان جاری محاذ آرائی میں نواز لیگ کا ساتھ دینا ان کے لئے سود مند نہیں ہوگا۔ اور نیا سیٹ اپ غیر جماعتی اور آزاد امیدواروں کا بننے جارہا ہے ایسے میں یہ نسخہ نئی پیکنگ کے ساتھ مارکیٹ کیا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف ملک میں تیسرے بڑے سیاسی دھارے کے طور پر ابھر آئی ہے۔ انتخابات کے چوہدری بردران اور پیر پاگارا کا اتحاد اور عمران خان ایک دوسرے کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ 
 ایک اور اہم پیش رفت شہباز شریف کا دورہ سندھ ہے۔ نواز لیگ پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھالیکن انہوں نے یہ دورہ صرف صوبائی داالحکومت یعنی کراچی تک محدود رکھا۔ اور پریس کانفرنس کر کے چلے گئے۔ نواز لیگ نے گزشتہ پندرہ سال کے دوران سندھ میں پارٹی کی تنظیمی صورتحال پر کوئی توجہ نہیںدی۔ وہ خود کو بعض دیگر گروہوں کے ساتھ مل کر پیپلزپارٹی کے خلاف پریشر گروپ کے طور پر رہی ہے۔ پارٹی قیادت کا رویہ ہی ہے کہ جو پارٹی میں رہیں وہ بھلی رہیں ، جو جارہے ہیں وہ بھلے جائیں۔ کبھی کسی کو پارٹی میں لانے کی یا رکنیت سازی کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ بلکہ جو پارٹی میں تھے ان کے ساتھ بھی کوئی اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ نتیجے میں پارٹی کے کراچی سے رکن قومی اسمبلی اور مملکتی وزیر عبدالحکیم بلوچ ، پارٹی کے صوبائی صدر اسماعیل راہو برسہا برس تک ساتھ رہے، اور عرفان مروت پارٹی چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں چلے گئے۔ ٹھٹہ کے شیرازی برادران، ارباب غلام رحیم، غلام مرتضیٰ جتوئی سمیت دیگر شکایت رہی کہ پارٹی ان کی دیکھ بھال نہیں کی ، اہمیت نہیں دے رہی، حال احوال بھی نہیں پوچھتی۔ پارٹی میں اتنے بڑے خلاءکے باوجود نواز لیگ کے نئے سربراہ شہباز شریف نے تاحال کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ پارٹی کی عدم موجودگی میں یہ خلاءچوہدری برادران اور عمران خان کے لئے کھلا ہوا ہے ۔ 
 نواز لیگ بھی دیگر ملک گیر سطح کی سیاست کرنے والی پارٹیوں کی طرح کراچی کو فوکس کر رہی ہے۔ نواز لیگ باقی سندھ کو چھوڑ کر صرف کراچی پر فوکس کیوں کر رہی ؟ سندھ میں شہباز شریف کی پہچان نواز لیگ کے لیڈر کے طور پر نہیں بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب کی رہی ہے۔ کراچی ایم کیو ایم اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والے گروپوں میں میں بٹا ہوا ہے۔ ہر گروپ زیادہ ” مہاجر پرست“ بننے یا اسٹبلشمنٹ کے قریب ہونے کی کوشش کے ساتھ دعوا بھی کر رہا ہے۔ وہ نواز شریف کا ساتھ تب تک نہیں دیں گے جب تک اسٹبلشمنٹ نہیں چاہے گی۔ فی الحال اسٹبلشمنٹ نواز شریف اور نواز لیگ سے جھگڑے کے موڈ میں ہے۔ نواز لیگ کی حکمت عملی یہ ہے کہ میٹروپولیٹین شہر ترقیاتی منصوبوں کو بنیاد بنا کرسیاست میں اپنا حصہ نکالنا چاہتی ہے۔اس کے علاوہ کراچی میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن کے ووٹ اور سیاسی حمایت پر بھی اس کو یقین ہے۔ ماضی میں بلدیاتی انتخابات میں ان غیر ملکیوں نے کونسلرز اور یونین کونسل ناظمین کی نشستیں جیتنے کے بعد نواز لیگ کی حمایت کی تھی اور پارٹی میں شمولیت کی تھی۔ اس مرتبہ نواز لیگ حکومت نے قومی شناختی کارڈ بنا کر دینے والے ادارے نادرا کو نئی پالیسی دی ہے جس کے تحت پاکستان میں مقیم تمام لوگوں کو بغیر تحقیقات اور ثبوتوں کے شناختی کارڈ جاری کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ اس مقصد کے لئے کراچی میں تین منزلہ چار میگا سینٹرز قائم کر دیئے گئے ہیں جہ جو چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔ اور ہر شفٹ میں 32سے زیادہ کونٹر کام کر رہے ہیں۔ دراصل تمام قانونی اور آئینی تقاضوں کو ایک طرف رکھ کر لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کو پاکسانی شہریت دی جارہی ہے جو کہ ملک کی معاشی صورتحال اور سیاسی، ثقافتی و سماجی طور پر منقسم ملک میں مزید پیچیدگیاں پیدا کرے گا۔ 80 کے عشرے میں جنرل ضیاء اپنے سیاسی مفادات کے لئےا فغان پناہ گزینوں کو پاکستان لے آئے اور یہاں آباد کیا، اس کے اثرات سے پاکستان تاحال نہیں کل پایا ہے۔ اس طرح کی پالیسیاں کس طرح قومی مفادات کے منافی ہوتی ہیں، وقت نے ثابت کردیا ہے کہ اس پر دو رائے نہیں۔ ابھی نواز لیگ یہی کام کر رہی ہے۔ نو از لیگ حکومت کے اس عمل کے خلاف اگرچہ سندھ کی قوم پرست گروپوں کو تحفظات ہیں اور وہ اس پر احتجاج بھی کر چکے ہیں۔ لیکن تاحال نواز لیگ کی وفاقی حکومت اسی پر کاربند ہے۔ لگتا ہے کہ نواز لیگ نے سندھ کے قوم پرستوں کے بجائے تارکین وطن کو اپنا فطری اتحادی سمجھ لیا ہے۔ یہ نقطہ مستقبل میں نواز لیگ اور قوم پرستوںکو ایک دوسرے سے دور کرے گا۔ نواز لیگ کے پاس سندھ کے لئے ٹھوس پالیسی نظر نہیں آتی۔ اور نہ ہی وہ سندھ کے لئے زیادہ سنجہدہ ہے۔

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/58238/Sohail-Sangi/Nawaz-League-Sindh-Ke-Hawalay-Se-Sangeda-Nahi.aspx

http://insightpk.com/urducolumn/nai-baat/sohail-sangi/nawaz-league-sindh-ke-hawalay-se-sangeda-nahi
نواز لیگ سندھ کے سنجیدہ نہیں؟

No comments:

Post a Comment