Thursday, March 29, 2018

سیاسی مسائل جوں کے توں رہے

Feb 26
سیاسی مسائل جوں کے توں رہے
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 
 دنیا معاشی و تجارتی حوالے سے ایک جہت کے ساتھ نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ دنیا بھر میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ مختلف ممالک اپنی ترقی، تحفظ کے لئے مختلف حکمت عملیاں ترتیب دے رہے ہیں۔ لیکن پاکستان کی جانب سے نہ طویل اور نہ ہی قلیل مدت کی تیاری ہے۔ بلکہ ایسا لگ رہا ہے کہ ہم کو ان تمام تبدیلیوں کا ادراک ہی نہیں۔ پاکستان نے پاکستان میں بمشکل ایک منتخب حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور دوسری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کیا۔ لیکن دوسری حکومت کو اپنی بقا کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ریٹائرڈ جنرل مشرف کے بعد جو عشرہ بحالی جمہوریت شروع ہوا تھا وہ اب اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ اس کی جگہ پر اسٹبلشمنٹ کی بالادستی ہی نہیں بلکہ اجارہ داری کا نظام نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاہم کٹھن حالات کے باوجود وہ اپنی آئینی مدٹ مکمل کرنے کی دہلیز پر ہے۔ ایک مرتبہ پھر سیاسی انجنیئرنگ سامنے آئی ہے۔ جس کا مقصد پسند کے منتخب ایوان لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگرچہ عام انتخابات میں اببھی تین چار ماہ باقی ہیں۔ الیکن مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں انجیئرنگ کرنا ضروری سمجھی جارہی ہے۔ اس مقصد کے لئے ملک کی حکمران پارٹی کو سینیٹ کے انتخابات سے آﺅٹ کرنے کی مکینزم پر عمل کیا جارہا ہے۔ عدلیہ نے وہ تمام فیصلے جو انہوں نے آئینی ترمیم کے ذریعے دوبارہ پارٹی کا صدر بننے کے بعد کئے تھے ان کو کالعدم قرار دیا ہے۔ جس میں خاص طور پر سینیٹ کے الیکشن کے لئے حال ہی میں جاری ہونے والے پارٹی تکٹس ہیں۔ 
یہ درست ہے کہ حالیہ سیاسی بحران کے دوران پنجاب میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہے۔ اور میاں صاحب اسٹبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کی سخت پالیسی کے انتہا پر پہنچے ہوئے ہیں۔ جوابا اسٹبلشمنٹ بھی انہیں اپنے مروجہ اور غیر مروجہ طریقوں سے جواب دے رہی ہے۔ ملک ایک شدید محاذ آرائی کی لپیٹ میں ہے۔ ایسی محاذ آرائی جس کا بم کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ 
 ملک میں بدترین حکمرانی، عوام کے مسائل پر کم توجہ دینے، حکمرانوں کی جانب سے منتخب نمائندوں اور ایوانوں کو حساب میں نہ لانے جیسے معاملات کی وجہ سے سیاسی مسائل بہرحال موجود ہیں۔ملک کی دو بڑی جماعتیں خود کو جمہوری بنانے میں ناکام رہی۔ جس سے یہ تاثر بھی ابھرا کہ کہ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ تو اپنی تمام تر عوامی حیثیت اور مقبولیت کے باوجود زوال پذیر ہونا شروع ہو گئیں۔ سیاسی جماعتوں میں عوام کی حقیقی نمائندگی اور شرکت کی عدم موجودگی اور خراب حکمران نے ایک خلاءپیدا کیا۔اس خلاءکا کسی کو فائدہ تو لینا تھا۔ یہ خلاءکسی کو تو بھرنا تھا۔ فوج نے ماضی کے تلخ تجربات اور نتائج کی وجہ سے اس مرتبہ یہ خلاءبراہ راست فوج نے نہیں بھرا۔ بلکہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کے عزم کا بار بار اظہار کیا۔ یہ خلاءاسٹبلشمنٹ اور عدلیہ نے بھرا۔ ان میں سے عدلیہ ایک آئینی ادارہ ہے۔اس کے فیصلوں کو آئینی و قانونی تحفظ حاصل ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عدلیہ کا کردار فعال ہوا ا اور قومی امور میں بڑھتا گیا، جبکہ عشرہ جمہوریت کی دونوں ادوار میںحکمران جماعتوں میں پارلیمان کا مقام اپنے آئینی کردار کے حوالے سے پہلے سے بھی بدتر ہو گیا۔ یہ وہ حقائق ہیں جن سے منہ نہیں موڑا جاسکتا۔ 
سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کیا اب سیاست میں رہ سکیں گے یا نہیں ؟ یہ ا?ج کا بہت اہم سوال ہے۔ بظاہر یوں محسوس ہو رہا ہے کہ میاں محمد نواز شریف پر سیاست کے
 دروازے بند ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 28 جولائی 2017 ءکو پاناما کیس میں انہیں وزارت عظمی سے ہٹا دیا تھا اور کسی سرکاری عہدے کے لئے نااہل قرار دے دیا تھا۔ 21 فروری 2018 ءکو سپریم کورٹ نے انہیں اپنی پارٹی کی صدارت سے بھی ہٹا دیا اور کسی بھی سیاسی عہدے کے لئے نااہل قرار دے دیا۔ اب ایک کیس کا فیصلہ ہونا باقی ہے کہ نااہلی کی مدت کیا ہونی چاہئے۔ اس کیس کے فیصلے پر منحصر ہو گا کہ میاں محمد نواز شریف جلد یا بدیر سیاست میں واپس آسکتے ہیں یا نہیں۔ 
 نواز لیگ پنجاب میں تو مضبوط ہو رہی ہے۔ جس کی سیاسی وجوہات ہ کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق بھی ہیں کہ کس طرح سے صرف پنجاب حکومت ہی نہیںوفاقی حکومت نے بھی چھوٹی خواہ طویل مدت کے ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ پنجاب کی ترقی ہونی چاہئے۔ لیکن اس طرح کی توجہ وفاق کی جانب سے سندھ یا دیگر صبوں میں نظر نہیں آتی۔ سندھ ترقیاتی منصوبوں کے لئے کوئی رقم نہیں دی۔ پہلے یہ شکایات سیاسی سطح پر تھی۔ گزشتہ روز سندھ حکومت نے معاملے کو حکومتی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاق کی جانب سے سندھ کو کس طرح نظرانداز کیا جا رہا ہے اس کی چند مثالیں دی جاسکتی ہے۔ تھر کول پانی کی فراہمی، لیاری ایکسپریس وے، حیدرآباد ، پیکیج، منصوبوں سمیت گزشتہ سات ماہ کے دوران کوئی رقم نہیں جاری کی گئی۔ کراچی کے منصوبے جی تھری کے 36 ارب روپے میں سے پچاس فیصد رقم جاری ہو سکی۔ وفاقی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سندھ کے لئے 27 ارب روپے مختص کئے تھے۔ مگر اس میں سے صرف 7 ارب روپے جاری کئے گئے۔ حیدرآباد ٹریٹمنٹ پلانٹس کے لئے پونے تین کروڑ روپے رکھے گئے تھے ۔ یہ وہ منصوبے اور رقومات ہیں جن کا نواز لیگ کی وفاقی حکومت نے دینے کا اعلان اور وعدہ کیا تھا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق زرعی ترقیاتی بینک کے جاری کئے گئے قرضوں میں بھی سندھ کو نظرانداز کیا گیا۔سندھ حکومت نے حیدرآباد کراچی موٹر موٹر وے کے لئے زمین مفت دینے سے ناکر کردیا ہے۔ ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ شاہراہ کے دونوں ا طراف کیٹل فارم، بستیاں، فیکٹریز اور لوگوں کی ذاتی زمینیں ہیں۔ حکومت سندھ سے موٹر وے کے لئے 7 ہزار ایکڑ زمیں طلب کی تھی۔ بعد میں رقم کی ادائیگی نہ ہونے پر زمین کی الاٹمنٹ رد کردی گئی تھی۔ اس طرح کی صورتحال سے یہ تاثر مزید پختہ ہو رہا ہے کہ معاشی، تجارتی اور ترقیاتی معاملات میں وفاقی حکومت خصوصا سندھ کو وہ جگہ نہیں دے رہی جو پنجاب کو دے رہی ہے۔ اس سے یہ تاثر ابھرا کہ نواز لیگ ملک بھر کی ترقی کے بجائے صرف پنجاب کی حد تک ترقی چاہتی ہے۔ اس صورتحال سے پیپلزپارٹی سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہے۔ جتنا پنجاب میں پیپلزپارٹی کو سکڑیا گیا اتنا یہ پارٹی چھوٹے صوبوں کی سیاست کی طرف لے کر جارہا ہے۔ بلوچستان میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی اور بلوچستان میں پارٹی کا ایک بھی ایم پی اے نہ ہونے کے باجود سینیٹ میں امیدوار کھڑے کرنے کے پیچھے دوسری سیاست کے ساتھ ساتھ چھوٹے صوبوں کو نواز لیگ کی جانب سے نظرانداز کرنے کا فائدہ اٹھانا ہے۔ اس رخ میں نواز لیگ کی تاحال کوئی حکمت عملی موجود نہیں۔ جبکہ پارٹی کی موجودہ وفاقی حکومت کی پالیسیاں اسکو صوبوں میں کمزور کررہی ہیں۔ 
 ممکن ہے کہ حالیہ بحران نواز شریف ذاتی طور پر آﺅٹ ہو جائیں۔ لیکن نواز لیگ کو آﺅٹ کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ سینیٹ کے انتخابات بلاشبہ فیصلہ کن ہیں جس میں نواز لیگ کے امیدواروں آزاد حیثیت میں کھڑے ہیں۔ جینتے کے بعد وہ پارٹی ڈسپلن کے پابند نہیں ہونگے۔ لہٰذا نواز لیگ کی سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی خواہش پورے نہیں ہو رہی۔ کھیل صرف یہیاں پر ختم نہیں ہوتا۔ عام انتخابات باقی ہیں۔ جس میں نواز لیگ پنجاب کی بنیاد پر اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ آئندہ انتخابات میں نواز لیگ حکومت بنا لیتی ہے تو وہ کسی طرح سے سینیٹ کو مینیج کر لے گی۔ لیکن اس موقع پر باقی تین صوبوں کو مینج کرنا باقی رہے گا۔ یہ ایک اہم سیاسی مورچہ ہے۔ نواز لیگ کی حالیہ یا آئندہ قیادت کو اس کا ادراک ہونا چاہئے۔ 

No comments:

Post a Comment