Thursday, March 29, 2018

سینیٹ اور بلوچستان - طویل مدت کی نگراں حکومت

سینیٹ بلوچستان 
 میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
سینیٹ الیکشن نوشتہ دیوار ہے، نوشتہ دیوار بلوچستان میں صوبائی حکومت کی تبدیلی بھی لیکن اسے بہت کم لوگوں نے پڑھا۔ تجزیہ نگار اس امر پر متفق نظر آتے ہیں کہ پارلیمنٹ کا ایوان بالا جو ملک میں جمہوری عمل اور نظام کو مضبوط کر رہا تھا وہ اسٹبلشمنٹ کے ماتحت ہو گیا ہے۔ بالفاظ دیگرے اس ایوان کی وہی صورتحال جا کر بنی ہے جو جونیجو دور کے ایوان کی تھی۔ لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، یہ نواز شریف کے امکانی طور پر سیاسی بحالی کو روکنے کا عمل بھی بن رہا ہے۔ اگر سینٹ میں اپنا چیئرمین منتخب کر کے نواز لیگ اکثریت ثابت کر لیتی تو بلاشبہ نواز لیگ نہ صرف عوام میں بلکہ ایوان میں بھی سہولت ہوتی اور ان کا بیانیہ ایک اہم ادارے میں مضبوط ہوتا۔ نواز شریف اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان اس مقابلے باقی میں چھوٹے چھوٹے گروپ اہم بن گئے۔ لہٰذا ضیا نے غیر جماعتی انتخابات کرائے اور ابھی سینیٹ کے انتخابات غیر جماعتی ہوگئے۔
سینیٹ چیئرمین کے انتخابات میں اچانک بلوچستان اہمیت اختیار کر گیا۔ اور اس کے ساتھ بلوچستان ، پختونخوا اور فاٹا بھی شامل ہوگئے ۔ فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ ماضی میں بھی اسٹبلشمنٹ پارلیمنٹ کے اندر توازن اپنے حق میں رکھنے کے لئے استعمال کرتی رہی ہے۔ لیکن اس مرتبہ بلوچستان کو بھی استعمال کیا گیا۔ بلوچستان میں کئی دہائیوں سے سیاسی بحران چل رہا ہے ، جس کے لئے مخلتف نسخے ہائے بھی استعمال ہوتے رہے۔ یعنی جام آف لسبیلہ سے لیکر نواب اکبر بگٹی تک اور بلوچستان کے متوسط طبقے کی نمائندگی کرنے والے رہنماﺅں تک مختلف فارمولے آزمائے گئے۔ پہلے یہ ہوتا رہا کہ وہاں کے لوگوں اور سیاسی جماعتوں کو مقوعہ نہیں دیا جاتا رہا ۔اس مرتبہ حد یہ ہوئی کہ بلوچستان کے منتخب نمائندوں کواپنی مرضی پر نہیں چھوڑا گیا۔ یہ تاثر ابھرا کہ یہاں کے منتخب نمائندے چمک یا پھر دھمک ( ڈنڈے) کے ماتحت ہیں۔ بظاہر بھلے یہ نظر آئے کہ بلوچستان اہمیت حاصل کر گیا ہے، سنجرانی صاحب کو چیئرمین سینیٹ بنا کر بلوچستان کواقتدار میں حصہ دار بنانے کی کوشش ہوری ہے۔ لیکن ماضی اس سے زیادہ موثر تجربات بھی بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں کر سکے ہیں۔
 ایک صورتحال یہ بھی ہے کہ عمران خان، اور مذہبی بیانیے کو مضبوط کرنے کے باوجودنواز شریف کو جب پنجاب سے نہیں نکالا جاسکا تو حکمت عملی تبدیل کردی گئی۔ پنجاب نواز لیگ کی مضبوط پچ ہے۔ اب حکمران جماعت کو ایک ایسی پچ کی طرف دھکیلا گیا جو کمزور تھی۔ وہ تھی چھوٹے صوبے اور چھوٹے گروپ۔ لہٰذا نواز لیگ کو قومی اسمبلی کے بجائے صوبوں کے نمائندہ ایوان یعنی سینیٹ میں اکیلا کیا گیا اور شکست دی گئی۔ کیونکہ نوا لیگ نے سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ چھوٹے صوبوں اور چھوٹے گروپوں کی حمایت نہ ہونے کی وجہ سے ہارا ہے۔ کل جب نواز لیگ حکومت پر کوئی چارج شیٹ بنے گی تو یہ نقطہ بھی اس میں اہم ہوگا کہ تین صوبوں اور فاتا نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہوا ہے۔ نواز شریف اور ان کی پارٹی کا یہ نعرہ ہے کہ سویلین بلادستی اور جمہوری نظام کاتسلسل رہے۔ یعنی اسٹبلشمنٹ بمقابہ نواز شریف یا جمہوریت ہیں۔ اس بات کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ فی الحال پنجاب بمقابلہ چھوٹے صوبے ہیں۔ اس سوچ کو نواز لیگ نے کسی بھی مرحلے پر نہ چیک کیا نہ ایڈریس کیا۔ یہاں تک کہ چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد کرتے وقت بھی اس کا خیال نہیں رکھا۔ راجا ظفرالحق کو میدان میں لایا گیا۔ راجا صاحب ضیا دور کے اوپننگ کھلاڑی کہلاتے تھے۔ لیکن آج نہ وہ دور ہے کہ وہ صورتحال۔ آج تو صوبوں کے سیاسی مضہر کو ایڈریس کرنا اہم ہو گیا تھا۔ جب صوبوں کی پچ پر کھیل چل رہا تھا ایسے میں راجا صاحب کے بجائے حاصل بزنجو سیاسی طور پر بہتر امیدوار ہو سکتے تھے۔ یقیننا حاصل بزنجو سینیٹ کا الیکشن جیت نہیں سکتے تھے لیکن اس کا سیاسی فائدہ یقیننا ہوتا۔ راجا صاحب کی فراست، تجربہ اپنی جگہ پر، لیکن یہ نامزدگی موجودہ صورتحال میں میچ نہیں کر رہی تھی۔
جنرل ضیاءالحق نے مارشل لاءکے بعد جب انتخابات کرائے تو وہ غیر جماعتی تھے۔ لیکن بعد میں مسلم لیگ کو فعال کر کے محمد خان جونیجو کی قیادت میں ایوان کو سیاسی بنایاگیا۔ 
ایک طرف چھوٹ صوبے بمقابلہ پنجاب ہو رہے ہیں دوسری طرف جمہوریت کے حامیوں اور مخالفین کو آ منے سامنے لایا جارہا ہے۔ یعنی بیچ کا کوئی راستہ نہیں۔ جب بیچ کا کوئی راستہ نہیں تو معتدل سیاست کرنے والوں کا کوئی کردار ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اور موجودہ محاذ آرائی تصادم کی طرف جانے لگتی ہے۔ 
 اس طرح کی صورتحال کا ایک نقشہ مخدوم جاوید ہاشمی نے گزشتہ روز کھینچا ہے۔سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف کے اسلام آباد میں دھرنے کے موقع پر بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ اور انکشاف کیا تھا کہ پارلیمنٹ کی مدت کم کرنے یعنی قومی اسمبلی کو توڑنے کے لئے تمام تیاریاں کی گئی ہیں ۔ تب وہ تحریک انصاف میں ہی تھے۔ اب انہوں نے مزید کچھ پی پیشگوئی کی ہے کہ نگران حکومت پر وزیراعظم اور اپوزیشن متفق نہیں ہو سکیں گے ۔معاملہ الیکشن کمیشن میں جائے گا ۔ بالآخر سپریم کورٹ نگران حکومت بنائے گی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نگران حکومت انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرے گی۔اگر ایسا ہوا تو پھر اندھیرا ہے اجالا نہیں۔نواز شریف اور ایم کیو ایم کی باری آچکی۔ اب اگلا ہدف زرداری اور عمران خان ہوں گے۔نگران حکومت بننے کے بعد عمران خان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ جاوید ہاشمی ملک کے سینیئر سیاستداں ہیں۔ انہوں نے کئی اتار چڑھاﺅ دیکھے ہیں۔ ان کی اس پیشگوئی کا عکس نواز شریف کی بدھ کے روز کی تقریر سے بھی ملتا ہے کہ جس میں انہوں نے وقت پر انتخابات کے انعقاد پر شبہ ظاہر کیا ہے۔ نواز شریف کے پاﺅں نکالنے کے لئے اب ایک ہی نسخہ رہ گیا ہے وہ یہ کہ ہر حال میں نواز شریف کو آﺅٹ یا پھر نواز شریف اور مرین نواز کو بند میں رکھا جائے۔ اور وقت پر انتخابات نہ کرائے جائیں۔ جس کا اشارہ جاوید ہاشمی نے دیا ہے۔ طویل مدت کی نگراں حکومت اور نواز شریف اور مریم نواز کی منظر پر عدم موجودگی میں نواز لیگ اپنا ٹیمپو اور حکمت عملی شاید ہی برقرار رکھ 

No comments:

Post a Comment