Dec 28
بلاول بھٹو کی چار باتیں
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی میں پیپلزپارٹی کے ملک بھر سے رہنما اور کارکنان شرکت کرتے ہیں۔ بلاشبہ پارٹی کا یہ ایک بڑا سالانہ اجتماع بھٹو خاندان کے آبائی قبرستان گرھی خدابخش میں ہوتا ہے جہاںاتنی بڑی تعداد میں شرکت محترمہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ اب پارٹی قیادت کی جانب سے پارٹی کے اراکین اسمبلی اور رہنماﺅں پر لازم قرار دیا جاتا ہے کہ وہ مقررہ تعداد میں لوگوں کو لے آئیں۔ پہلے پیپلزپارٹی کے علاوہ دیگر مکاتب فکر کے بھی لوگ برسی کے موقع پر آیا کرتے تھے۔ لیکن اب لگتا ہے کہ صرف پارٹی سے متعلق لوگ ہی آتے ہیں۔ ہر سال پارٹی کی قیادت اس موقع پر کوئی بڑا اعلان یا نئی حکمت عملی کا اعلان کرتی ہے۔ یوں جذباتی کارکنوں کو پارٹی پالیسیوں کے بارے میں براہ راست نہ سہی، بلاواسطہ طور پر اعتماد میں لیا جاتا پارٹی کارکنان اور سیاسی حلقے اس موقع پر پارٹی قیادت کی تقاریر کو غور سے سنتے ہیں کہ ملک کی یہ اہم پارٹی کیا حکمت عملی بنانے جارہی ہے؟گزشتہ برسوں کے دوران بلاول بھٹو کی تقریر اس وجہ سے بھی غور سے سنی جاتی رہی ہے کہ ان کی باتوں میں کتنی بلوغت اور نقطہ نظر میں بصارت آئی ہے۔
محترمہ کی دسویں برسی کے موقع پر پیپلزپارٹی کے جوان سال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تقریر میں جذباتیت کم اور سنجدگی زیادہ تھی۔اگرچہ محترمہ کا دسویں برسی ایسے موقع پر منائی گئی جس کے چھا سات ماہ بعد ملک میں عام انتخابات منعقد ہونے ہیں۔ لیکن بلاول بھٹو کی تقریر میں کوئی پروگرام یا نیا نعرہ نہیں تھا۔ اس کے بجائے چند وضاحتیں اور الزامات تھے، جو ملک کے سیاسی منظر میں کی گئیں۔ تاہم ان کی تقریر اہمیت کی حامل ہے۔ اس سے پارٹی کی آئندہ حکمت عملی اور پالیسی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ان کی تقریر کا خلاصہ سات نکات میں بیان کیا جاسکتا ہے: ۱) آزاد علیہ کے لئے جدوجہد کریں گے۔ ۲) مذہب اور سیاست میں مذہب میں ملاوٹ درست نہیں ۔ ۳) بینظیر بھٹو کا قاتل مشرف ہے۔ اس کے لئے انہوں نے مشرف قاتل قاتل کے نعرے بھی لگائے۔ ۴) سیاسی کارکنوں کی گم شدگیاں ۵) نواز شریف نے پارلیمنٹ کو مزور کیا ہے۔ ۶) صوبوں کو دھکیلا جارہا ہے۔ ۷) جمہوریت کی مضبوطی۔ ان سات میں سے آزاد عدلیہ کے لئے جدوجہد، بینظیر بھٹو کا قاتل مشرف ہے، سیاسی کارکنوں کی گم شدگیاں صوبوں کو دھکیلنے کی بات اہمیت کے حامل ہیں۔
پیپلزپارٹی کو عدلیہ سے بھٹو قتل کیس سے رہی ہے کہ اس کو انصاف نہیں ملا۔ محترمہ بینظیر بھٹو بھی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل کہتی تھی۔ اس کے بعد محترمہ اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف احتساب کے مقدمات میں بھی محترمہ کا یہی موقف تھا کہ لاہوراور لاڑکانہ میں فرق برتا جارہا ہے۔ لیکن نواز شریف کے خلاف حالیہ مقدمات اور ان کو اقامہ کی بنیاد پر نااہل قرار دینے کے بعد پیپلزپارٹی کی ایک شکایت دور ہو گئی۔ اب لاڑکانہ اور لاہور کے درمیان خط امتیاز ختم ہوگیا۔یہی وجہ ہے کہ برسی کے موقع پر آصف علی زرداری نے بھی عدلیہ کی آزادی کی بات کی لیکن انہوں نے کہا کہ عدلیہ اپنا کام جاری رکھے۔ یعنی وہ نواز شریف کے خلاف جاری عدالتی کارروائیوں کے حق میں ہیں۔
عمران خان کے دھرنوں، اسٹبلشمنٹ کے دباﺅ اور عدالتی رویے کے پیش نظرملک میں ایک ماحول بن رہا ہے کہ اب ججز اور جرنیلوں کا بھی احتساب ہو۔ یہ نعرہ بنیادی طور پر حکمران جماعت نواز لیگ نے لگایا تھا۔ رواں سال اپریل میں جب احتساب قانون تبدیل کیا جارہا تھا تب وزیر قانون انصاف زاہد حامد کی سربراہی میں قائم پارلیمانی کمیٹی میں یہ تجویز شدت کے ساتھ زیر غور آئی۔ لیکن پارلیمنٹ میں موجود مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے یہ تجویز مجوزہ قانون میں شامل نہیں کی جاسکی۔ اکتوبر اور نومبر میں بھی پارلیمانی حلقوں میں زیر بحث رہا۔ جماعت اسلامی نے سرے سے اس بل کی مخالفت کردی تھی۔ لیکن پیپلزپارٹی عین موقع پر موقف سے پیچھے ہٹ گئی اور کہا کہ اس سے حکمران جماعت نواز لیگ اور اداروں کے درمیان تصادم ہو جائے گا۔ ملک میں رائج احتساب آرڈیننس 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے نافذ کیا تھا جس میں عوامی عہدہ رکھنے والے، سول ملازمین، سیاستدان اور عام شہری کو بھی اس دائرہ لے لیا گیا تھا۔ لیکن مسلح افواج اور اعلیٰ عدالتوں کے ججز کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ اکتوبر کے اوائل میں منعقدہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کے سنیٹر فرحت اللہ با بر نے تجویز دی کہ عوامی عہدے کی تعریف کو اس طرح سے تشکیل دیا جائے کہ ججز اور جرنیل بھی اس میں شامل ہوں۔ چونکہ یہ معاملہ احساس تھا لہٰذا کمیٹی نے پارٹی قیادتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم یہ سمجھا جارہا ہے کہ آنے والے وقت میں یہ مطالبہ زور پکڑے گا۔
حکمران جماعت نواز لیگ کے اندر توڑ پھوڑ کی کوششوں اور عمران خان اورجہانگیر ترین کو نااہل قرار دینے کی درخواست پر عمران خان کو اہل قرار دینے کے فیصلے میں دہرے معیار کی باتیںہونے لگی۔ اس عدالتی فیصلے پر قانوندانوںاور سیاسی حلقوں میں تعجب کا اظہار کیا جانے لگا۔حکمران جماعت پارٹی کے صدر نواز شریف نے تحریک عدل چلانے کا علان کیا اور براہ راست عدلیہ پر تنقید کرنے لگے۔س سے صورتحال تبدیل ہوگئی۔نواز شریف واقعی تحریک عدل چلائیں گے؟ا یہ ایک الگ سوال ہے لیکن ایک مضبوط بیانیہ کے طور پر یہ بات یقیننا سامنے آئی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے آزاد عدلیہ کے لئے جدوجہد کا اعلان تو کیا ہے لیکن کیا وہ عملی طور پر ایسا کریں گے؟ کیونکہ موجودہ حالات میں آزاد عدلیہ کی بات کرنا نواز لیگ کے موقف کی حمایت میں جائے گا۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ آزاد عدلیہ کے نعرے میں وزن ہے۔اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو بھی کئی معاملات میں عدلیہ کا سامنا ہے۔ لہٰذا پیپلزپارٹی اس بیانیہ کو اپنے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ ممکن ہے کہ کل کو اس بیانیہ کی بنیاد پر کوئی تحریک چلے۔
بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق سیاسی کارکنوں کی گم شدگیاںاور صوبوں کو دھکیلنے کی بات پیپلزپارٹی کے سندھ کارڈ کا حصہ ہیں۔ سندھ میں سیاسی کارکنوں کی گمشدگی ایک سیاسی اشو کے طور پر ابھر آئی ہے۔ پیپلزپارٹی کے بعض سینیٹرز یہ معاملہ ایوان بالا میں اٹھا چکے ہیں۔ پارٹی سندھ کے مقبول جذبات کے ساتھ اپنی شناخت کرانا چاہتی ہے۔ صوبوں کو دھکیلنے کی بات ایک طرف پیپلزپارٹی کے لئے وفاق میں شیئر کو لازمی قرار دینا اور اس کے ساتھ ساتھ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے مطالبات کی حمایت کرنا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کی تقریر موجودہ حالات میں پارٹی کے موقف اور حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے۔ ریٹائرڈ جنرل مشرف کے خلاف بھی مجموعی طور پر ماحول بن رہا ہے۔ آرمی چیف جنرل باجوہ کی سینیٹ میں بریفنگ میںاس طرح ریٹائرڈ جنرل جو فوج کے ترجمان بنے ہوئے ہیں ان سے لا تعلقی کا اظہار کیا گیا۔ اب نواز شریف نے بھی پہلی مرتبہ یہ کہا ہے کہ ان کی نااہلی کے پیچھے جنرل مشرف کے خلاف غداری کا مقد مہ ہے۔ اگرچہ پارٹی قیادت نے نواز شریف اور نواز لیگ کو اپنی تقاریر میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے لیکن آزاد عدلیہ، مشرف کے خلاف مقدمہ اور پارلیمنٹ کی بالدستی تین ایسے نکات ہیں جو کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ بنتے ہیں۔ جبکہ جمہوریت کی بات جس پرجوش انداز میں بلاول بھٹو نے کی ہے، اتنے ہی پرجوش انداز میں مریم نواز بھی کر چکی ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں بڑی جماعتیں متحد ہو کر کوئی جدوجہد کرلیں گی۔یہ مشترکہ نکات سے پتہ چلتا ہے کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کا بنیادی طور پر سیاست میںایک ہی رخ بنتا ہے۔ وہ اپنی حکمت عملی اور اقدامات کے ذریعے منطقی طور پر ایک دوسرے کی حمایت میں جائیں گے۔
No comments:
Post a Comment