سندھ میں کچھ تبدیل کرنے کی کوشش
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
سندھ نہایت ہی اہم دور سے گزر رہا ہے ۔ جہاں سیاسی ، انتظامی تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ بعض ایسی بھی تبدیلیاں ہو رہی ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتی، لیکن ان کا اثر کچھ مستقبل قریب میں اور کچھ آنے والے وقتوں میں نظر آئے گا۔ پہلے مرحلے میں بعض اعلیٰ افسران کت تبادلے کئے گئے، دوسرے مرحلے میں کابینہ میں ردوبدل کیا گیا۔ ان تبدیلیوں کو پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کور کمانڈر سے ملاقات کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔
چاند رات کوآٹھ سے زائد ڈپٹی کمشنروں اور بعض دیگر اعلیٰ افسران کے تبادلوں اور بعد میں دبئی میں پارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس بلانے کے بعد پختہ خیال تھا کہ اب پیپلز پارٹی خود کو بھی تبدیل کرے گی اور سندھ میں بھی تبدیلی لے آئے گی۔
اس تمام مشق کا نتیجہ کیا نکلا؟ بعض وزرائے کے قلمدان تبدیل کردیئے گئے ہیں کچھ افسران کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ کیا یہ ردوبدل ان حلقوں کو مطمئن کرنے کے لئے کافی ہے جو معاملات کو ٹھیک کرنے کا دعوا کرتے رہے ہیں۔ اسی دعوے سے کے ساتھ مختلف دفاتر پر چھاپے مارتے رہے ہیں اور کچھ گرفتاریاں بھی کر چکے ہیں۔
یہ امر باعث حیرت ہے کہ سندھ کے بارے میں اہم فیصلے کرنے کے لئے پارٹی کا اہم اجلاس آخر دبئی میں بلایا گیا۔ اس جلاس میں شرکت کے کئے نصف درجن سے وزراء اور وزیراعلیٰ نے دبئی کا سرکاری خرچ پر سفر کیا ۔ دبئی کے اجلاس میں کابینہ میں ردو بدل، مختلف انتظامی معاملات، اپیکس کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمداوربلدیاتی انتخابات پر غور کیا گیا۔ ان سب معاملات پرغور کے لئے اجلاس صوبے کے دارلحکومت کراچی میں بھی ہو سکتا تھا۔ کراچی دبئی سے ایک گھنٹے کا ہوائی سفر ہے۔
دبئی میں اجلاس منعقد کرنے پر سیاسی حلقے دو طرح کے سوالات اٹھارہے ہیں۔ کیا سابق صدر آصف علی زرداری نے اپیکس کمیٹی کے کرپشن کےخلاف اقدامات کے بعد خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی ہے؟ دوسرے یہ کہ کیاسندھ کے معاملات اتنے آسان ہیں کہ انہیں بڑے مزے سے ریموٹ کے ذریعے دبئی سے چلایا جاسکتا ہے؟
ایسا صوبہ جس کے دارحکومت میں امن و مان کی بدترین صورتحال کے بعد آپریشن چل رہا ہو، جس کا ساٹھ فیصد بارانی علاقہ دو سال سے قحط کا شکار ہو، تعلیم ، صحت اور بنیادی شہری سہولیات کا نظام ٹوٹ چکا ہو۔ اس کو ریموٹ پر کسے چلایا جارہا ہے؟
کابینہ میں ردوبدل ہو یا بعض افسران کا تبادلہ یہ فیصلے پیپلزپارٹی نے رضاکارانہ یا اپنے طور پر نہیں کئے ہیں۔ یہ سب بعد از خرابی بسیار کئے گئے ہیں۔ یہ تب ہوا جب صوبے کی حکمران جماعت عوام کا مینڈیٹ پورا کرنے میں ناکام رہی۔ کرپشن، خراب حکمرانی اور خراب کارکردگی کے شدید الزامات کے بعد یہ فیصلے کئے ہیں۔
لہٰذا یہ مجبوری کے فیصلے ہیں۔ تبدیل کچھ بھی نہیں ہوا۔ وہی پرانے چہرے کابینہ میں رکھے گئے ہیں ان کے صرف قلمدان تبدیل ہوئے ہیں۔ کیا اس سے کوئی فرق پڑ سکتا ہے؟ اگر کسی وزیر کے خلاف خراب کارکردگی ، خراب حکمرانی یا مبینہ بدعنوانی کے الزامات تھے، اس کا قلمدان تبدیل کرنے سے حالات اور معاملات سدھر جائیں گے؟
پیپلزپارٹی کے پاس تجربہ کار لوگ موجود ہیں۔ اس پارٹی کے حصے میں ایسے لوگ آئے ہیں جو کسی دوسری حکومت کو حاصل نہیں تھے۔ ان وزراءاور ایم پی ایز کو صرف حکومت میں وزیر یا حزب اقتدار میں رہنے کا ہی نہیں بلکہ اپوزیشن میں رہنے اور وہاں بیٹھ کر سیاست کرنے کا بھی تجربہ ہے۔ یہ صرف افسوس کا نہیں بلکہ تعجب کا مقام بھی ہے۔
ہوتا یہ رہا ہے کہ محکمے کا قلمدان خواہ کسی کے پاس ہو، اس کو زیر کے بجائے عملی طور پر مختلف اشکال میں پراکسی ہی چلاتے رہے ہیں۔ یہ پراکسی کبھی سیکریٹری کی شکل میں تھی جو وزیر سے بھی زیادہ بااختیار تھی۔ تو کبھی نجی شخص جس کی سرکاری یا پارٹی میں خواہ کوئی حیثیت نہ ہو، کی شکل میں تھی جس کو تمام عملی اختیارات ہوتے تھے۔ مختلف وزراءیہ شکایات کرتے رہتے تھے کہ پارٹی کی ایک اہم رکن یا ان کی ” کچن کابینہ“ تمام فیصلے کرتی تھی اور حکم دیتی تھی۔ اس کے فیصلے اور احکامات کو وزیراعلیٰ، صوبائی کابینہ بلکہ سندھ اسمبلی سے بھی برتری اور بالادستی حاصل ہوتی تھی۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بعض فیصلے سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور جو گزشتہ چند برسوں سے سندھ کے معاملات دیکھ رہی تھیں اور چند ہفتے قبل اچانک بیرون ملک چلی گئی تھیں، ان کی لندن سے دبئی پہنچ کر اجلاس میں شرکت کے بعد تبدیل کئے گئے ہیں۔
حد کمال یہ ہے کہ ان تمام شکایات اور الزامات کی بنیاد پر کابینہ میں ردوبدل کیا گیا۔ نہ کسی وزیر کو کابینہ سے نکالا گیا اور نہ ہی کوئی اور کارروائی کی گئی۔ اس کی سزا یہ قرار دی گئی کہ محکمہ تبدیل کردیاگیا۔ سوائے ناصر شاہ کے کوئی نیا چہرہ بھی کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ حالانکہ سردار علی شاہ اور فیاض بٹ دو ایسے نام تھے جن سے نوجوانوں کی امنگوں کی ترجمانی کی امید کی جاسکتی رہی ہے۔ان دونوں کے نام آخری مرحلے پر خارج کردیئے گئے۔ لہٰذا اب کابینہ کی ٹیم بھی پرانی ہے اور کپتان بھی پرانا ہے۔ جو ٹیم گزشتہ سات سال میں کارکردگی نہ دکھا سکی وہ اب کیا بہتری لے آئے گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہر ایک کے پاس ہے۔
پرانی ٹیم کے قلمدان تو تبدیل کردیئے گئے لیکن اس کو کیسے یقینی بنایا جائے گا کہ ان وزراءکو خود مختاری کے ساتھ فیصلہ سازی اور اپنے محکمے کے انتظامات چلانے کا اختیار حاصل ہوگا؟ تاکہ وہ اپنی کارکردگی دکھا سکیں۔
حالیہ ردوبدل میں ایساکچھ ہونا خارج از امکان لگتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ متوقع بلدیاتی انتخابات عام لوگوں کو یہ تاثر دیا جاسکتا ہے کہ کابینہ یا بعض افسران کی رد وبدل سے معاملات ٹھیک ہ وجائیں گے۔ لیکن عملی طور پر یہ سب کچھ ” آئی واش“ لگتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پیپلزپارٹی خود کو خراب حکمرانی، خراب کارکردگی اور مبینہ کرپشن کے الزامات سے بری کرے۔ یہ وہ الزامات ہیں جو عوام بھی لگا رہے ہیں اور ریاستی ادارے بھی۔ ایسے عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھاے جو نہ صرف لوگوں کو نظر آئیں بلکہ عملی طور پر محسوس بھی ہوں ۔
اگر فخر ایشیا ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کو بطور متحرک جماعت رہنا ہے تو ضروری ہے کہ وہ عوام کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل کرے۔ اسکو حقیقی معنوں میں عوام دوست بنائے۔
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
سندھ نہایت ہی اہم دور سے گزر رہا ہے ۔ جہاں سیاسی ، انتظامی تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ بعض ایسی بھی تبدیلیاں ہو رہی ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتی، لیکن ان کا اثر کچھ مستقبل قریب میں اور کچھ آنے والے وقتوں میں نظر آئے گا۔ پہلے مرحلے میں بعض اعلیٰ افسران کت تبادلے کئے گئے، دوسرے مرحلے میں کابینہ میں ردوبدل کیا گیا۔ ان تبدیلیوں کو پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کور کمانڈر سے ملاقات کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔
چاند رات کوآٹھ سے زائد ڈپٹی کمشنروں اور بعض دیگر اعلیٰ افسران کے تبادلوں اور بعد میں دبئی میں پارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس بلانے کے بعد پختہ خیال تھا کہ اب پیپلز پارٹی خود کو بھی تبدیل کرے گی اور سندھ میں بھی تبدیلی لے آئے گی۔
اس تمام مشق کا نتیجہ کیا نکلا؟ بعض وزرائے کے قلمدان تبدیل کردیئے گئے ہیں کچھ افسران کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ کیا یہ ردوبدل ان حلقوں کو مطمئن کرنے کے لئے کافی ہے جو معاملات کو ٹھیک کرنے کا دعوا کرتے رہے ہیں۔ اسی دعوے سے کے ساتھ مختلف دفاتر پر چھاپے مارتے رہے ہیں اور کچھ گرفتاریاں بھی کر چکے ہیں۔
یہ امر باعث حیرت ہے کہ سندھ کے بارے میں اہم فیصلے کرنے کے لئے پارٹی کا اہم اجلاس آخر دبئی میں بلایا گیا۔ اس جلاس میں شرکت کے کئے نصف درجن سے وزراء اور وزیراعلیٰ نے دبئی کا سرکاری خرچ پر سفر کیا ۔ دبئی کے اجلاس میں کابینہ میں ردو بدل، مختلف انتظامی معاملات، اپیکس کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمداوربلدیاتی انتخابات پر غور کیا گیا۔ ان سب معاملات پرغور کے لئے اجلاس صوبے کے دارلحکومت کراچی میں بھی ہو سکتا تھا۔ کراچی دبئی سے ایک گھنٹے کا ہوائی سفر ہے۔
دبئی میں اجلاس منعقد کرنے پر سیاسی حلقے دو طرح کے سوالات اٹھارہے ہیں۔ کیا سابق صدر آصف علی زرداری نے اپیکس کمیٹی کے کرپشن کےخلاف اقدامات کے بعد خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی ہے؟ دوسرے یہ کہ کیاسندھ کے معاملات اتنے آسان ہیں کہ انہیں بڑے مزے سے ریموٹ کے ذریعے دبئی سے چلایا جاسکتا ہے؟
ایسا صوبہ جس کے دارحکومت میں امن و مان کی بدترین صورتحال کے بعد آپریشن چل رہا ہو، جس کا ساٹھ فیصد بارانی علاقہ دو سال سے قحط کا شکار ہو، تعلیم ، صحت اور بنیادی شہری سہولیات کا نظام ٹوٹ چکا ہو۔ اس کو ریموٹ پر کسے چلایا جارہا ہے؟
کابینہ میں ردوبدل ہو یا بعض افسران کا تبادلہ یہ فیصلے پیپلزپارٹی نے رضاکارانہ یا اپنے طور پر نہیں کئے ہیں۔ یہ سب بعد از خرابی بسیار کئے گئے ہیں۔ یہ تب ہوا جب صوبے کی حکمران جماعت عوام کا مینڈیٹ پورا کرنے میں ناکام رہی۔ کرپشن، خراب حکمرانی اور خراب کارکردگی کے شدید الزامات کے بعد یہ فیصلے کئے ہیں۔
لہٰذا یہ مجبوری کے فیصلے ہیں۔ تبدیل کچھ بھی نہیں ہوا۔ وہی پرانے چہرے کابینہ میں رکھے گئے ہیں ان کے صرف قلمدان تبدیل ہوئے ہیں۔ کیا اس سے کوئی فرق پڑ سکتا ہے؟ اگر کسی وزیر کے خلاف خراب کارکردگی ، خراب حکمرانی یا مبینہ بدعنوانی کے الزامات تھے، اس کا قلمدان تبدیل کرنے سے حالات اور معاملات سدھر جائیں گے؟
پیپلزپارٹی کے پاس تجربہ کار لوگ موجود ہیں۔ اس پارٹی کے حصے میں ایسے لوگ آئے ہیں جو کسی دوسری حکومت کو حاصل نہیں تھے۔ ان وزراءاور ایم پی ایز کو صرف حکومت میں وزیر یا حزب اقتدار میں رہنے کا ہی نہیں بلکہ اپوزیشن میں رہنے اور وہاں بیٹھ کر سیاست کرنے کا بھی تجربہ ہے۔ یہ صرف افسوس کا نہیں بلکہ تعجب کا مقام بھی ہے۔
ہوتا یہ رہا ہے کہ محکمے کا قلمدان خواہ کسی کے پاس ہو، اس کو زیر کے بجائے عملی طور پر مختلف اشکال میں پراکسی ہی چلاتے رہے ہیں۔ یہ پراکسی کبھی سیکریٹری کی شکل میں تھی جو وزیر سے بھی زیادہ بااختیار تھی۔ تو کبھی نجی شخص جس کی سرکاری یا پارٹی میں خواہ کوئی حیثیت نہ ہو، کی شکل میں تھی جس کو تمام عملی اختیارات ہوتے تھے۔ مختلف وزراءیہ شکایات کرتے رہتے تھے کہ پارٹی کی ایک اہم رکن یا ان کی ” کچن کابینہ“ تمام فیصلے کرتی تھی اور حکم دیتی تھی۔ اس کے فیصلے اور احکامات کو وزیراعلیٰ، صوبائی کابینہ بلکہ سندھ اسمبلی سے بھی برتری اور بالادستی حاصل ہوتی تھی۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بعض فیصلے سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور جو گزشتہ چند برسوں سے سندھ کے معاملات دیکھ رہی تھیں اور چند ہفتے قبل اچانک بیرون ملک چلی گئی تھیں، ان کی لندن سے دبئی پہنچ کر اجلاس میں شرکت کے بعد تبدیل کئے گئے ہیں۔
حد کمال یہ ہے کہ ان تمام شکایات اور الزامات کی بنیاد پر کابینہ میں ردوبدل کیا گیا۔ نہ کسی وزیر کو کابینہ سے نکالا گیا اور نہ ہی کوئی اور کارروائی کی گئی۔ اس کی سزا یہ قرار دی گئی کہ محکمہ تبدیل کردیاگیا۔ سوائے ناصر شاہ کے کوئی نیا چہرہ بھی کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ حالانکہ سردار علی شاہ اور فیاض بٹ دو ایسے نام تھے جن سے نوجوانوں کی امنگوں کی ترجمانی کی امید کی جاسکتی رہی ہے۔ان دونوں کے نام آخری مرحلے پر خارج کردیئے گئے۔ لہٰذا اب کابینہ کی ٹیم بھی پرانی ہے اور کپتان بھی پرانا ہے۔ جو ٹیم گزشتہ سات سال میں کارکردگی نہ دکھا سکی وہ اب کیا بہتری لے آئے گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہر ایک کے پاس ہے۔
پرانی ٹیم کے قلمدان تو تبدیل کردیئے گئے لیکن اس کو کیسے یقینی بنایا جائے گا کہ ان وزراءکو خود مختاری کے ساتھ فیصلہ سازی اور اپنے محکمے کے انتظامات چلانے کا اختیار حاصل ہوگا؟ تاکہ وہ اپنی کارکردگی دکھا سکیں۔
حالیہ ردوبدل میں ایساکچھ ہونا خارج از امکان لگتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ متوقع بلدیاتی انتخابات عام لوگوں کو یہ تاثر دیا جاسکتا ہے کہ کابینہ یا بعض افسران کی رد وبدل سے معاملات ٹھیک ہ وجائیں گے۔ لیکن عملی طور پر یہ سب کچھ ” آئی واش“ لگتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پیپلزپارٹی خود کو خراب حکمرانی، خراب کارکردگی اور مبینہ کرپشن کے الزامات سے بری کرے۔ یہ وہ الزامات ہیں جو عوام بھی لگا رہے ہیں اور ریاستی ادارے بھی۔ ایسے عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھاے جو نہ صرف لوگوں کو نظر آئیں بلکہ عملی طور پر محسوس بھی ہوں ۔
اگر فخر ایشیا ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کو بطور متحرک جماعت رہنا ہے تو ضروری ہے کہ وہ عوام کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل کرے۔ اسکو حقیقی معنوں میں عوام دوست بنائے۔
No comments:
Post a Comment