Thursday, January 25, 2018

سیاست کا میدان جنگ اسلام آباد سے لاہور منتقل

Sohail Sangi
Jan 19, 2018
سیاست کا میدان جنگ اسلام آباد سے لاہور منتقل
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اب سیاست کا میدان جنگ حکمران جماعت کے قلعہ لاہور منتقل ہو گیا ہے۔ طاہرالقادری کی قیادت میں ایک دوسری کی کٹر حریف جماعتوں کو ساتھ بٹھانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اس میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ پہلے نواز شریف کے خلاف مہم چل رہی تھی۔ لیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بارے میں جسٹس نجفی کی رپورٹ اور گزشتہ ہفتے قصور میں معصوم بچی زینب کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعہ شہباز شریف کو احتجاج کی زد میں لے آیا۔ اس سے پہلے نواز لیگ کے اندر مقامی بااثر مذہبی رہنماؤں کے ذریعے اندرونی بغاوت کی کوشش کی گئی۔ بعد کے واقعات میں نشانہ شہباز شریف تھے جو آئندہ انتخابات کے بعد نواز لیگ کے وزیراعظم امیدوار ہیں۔ میاں شہباز شریف نے بڑے بھائی کی محاذ آرائی کی حکمت عملی سے خود کو دور رکھ کر خود کو اسٹبلشمنٹ کے پاس قابل قبول بنایا تھا۔ لیکن اب وہ مخالف جماعتوں کا ٹارگٹ ہیں۔ 
احتجاج کی سیاست میں ایک نئے اور پیچیدہ باب کا اضافہ ہو گیا ہے۔ علامہ قادر ی خبط نے اس کے حامیوں اور نواز شریف کے مخالفین کو ایک لپیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ بظاہر ماڈل ٹاؤن واقعہ کے متاثرین کوانصاف دلانے کے نعرے پر جمع ہونے والے اب بات کو ہر جگہ نواز لیگ کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ بلوچستان میں تو ایسا کر دیا۔

مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے بھی اپنا وزن قادری کے پلڑے میں ڈالا۔ جو کہ ملک میں جمہوری عمل کے لئے اچھا شگون نہیں۔ قادری کے اس احتجاج نے ایک تیز مہم کو نیا رخ دے دیا ہے۔بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ غیر جمہوری قوتیں بھی اس نقطے پر جمع ہو گئی ہیں 
لاہور شو ر دراصل پنجاب کے لئے جنگ ہے۔پنجاب کی بڑی جماعت نواز لیگ کو آؤٹ کرنے کے لئے وہ پارٹیاں بھی یکجا ہو گئی ہیں جو ایک دوسرے کی مخالف رہی ہیں۔ مہم کی اٹھان کچھ اس طرح سے کی جارہی ہے کہ جب انتخابی مہم شرو ع ہو یہ معاملہ بہت ہی اونچی سطح پر پہنچ چکا ہو۔ لگتا ہے کہ آئندہ پانچ ماہ پنجاب ہی سیاسی جنگ کا اکھاڑا ہو گا۔ پنجاب میں اقتدار کے حوالے سے تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے بڑے اسٹیک ہیں۔ علامہ طاہر القادری انتخابی حوالے سے کسی گنتی میں نہیں آتے، ان کی حیثیت پریشر گروپ کی رہی ہے جو لاہور شہر یا پنجاب کے بعض شہروں میں زندگی معطل اور مفلوج کر سکتی ہے۔ 
لاہور شو نے کئی چیزوں کو واضح کردیا۔ اس شو میں پنڈال بھرا ہوا تھا یا نہیں، لیکن اسٹیج تو بھرا ہوا تھا۔ شو کے اہم باتوں میں شیخ رشید کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعیفا کا اعلان ، امبلی پر لعنت بھیجنا اور پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کا ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا تھا۔ شیخ رشید نے بار بار اسمبلی پر لعنت بھیجی اور عمران خان نے بھی لعنت کی حد تک ان کے ساتھ سر ملایا۔ استعیفا دینا ان کا ذاتی یا سیاسی فیصلہ ہو سکتا ہے ۔ لیکن ایک منتخب ایوان اور ادارے پر لعنت بھیجنا کسی طور پر بھی سیاسی یا جمہوری ا فعل نہیں کہا جاسکتا۔ اسمبلی پر لعنت بھیجنا تیکنکی طور پر بھی منطقی نہیں۔ عمران خان نے شیخ رشید کے اصرار پر کہا کہ وہ اسمبلیوں سے استعیفا کا معاملہ پارٹی میں رکھیں گے۔ اگر عمران خان کی پارٹی استعیفا نہیں دیتی تو کیا وہ لعنتی ہو جائے گی؟ یا جب تک فیصلہ کرے، تب تک ان اراکین کو اس خطاب سے پکارا جاسکتا ہے؟ ساڑھے چار سال اسی پارلیمنٹ کا حصہ بنے رہے۔ عملی طور پر استعیفا کے حق میں کوئی جماعت نہیں۔ پیپلزپارٹی نہ سینیٹ کے انتخابات میں تاخیر چاہتی ہے اور نہ صوبائی اسملبیوں کو وقت سے پہلے تحلیل کرنے کے حق میں ہے۔ خیر پختونخوا سے تحریک انصاف کے ایم این ایز، اور خود صوبائی وزیراعلیٰ بھی استعیفا نہیں چاہتے ۔ 
پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کا سیاسی پاور شو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کے انصاف دلانا تھا۔ اس احتجاج کا مقصد وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ کا استعفیٰ لینا تھا ۔ جلسہ حکومت کے خلاف لائحہ عمل کے اعلان کے بغیر ختم ہوگیا۔ 
تحریک انصاف اور علامہ قادری تحریک چلانا چاہتے ہیں، احتجاج کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ نہیں لگتا کہ پیپلز پارٹی اس حد تک احتجاج کی طرف جائے۔، پیپلز پارٹی پنجاب میں حصہ چاہتی ہے۔ خورشید شاہ کہتے ہیں کہ ہیں کہ ہم انصاف مانگنے آئے ہیں احتجاج کرنے نہیں۔
آصف زرداری اور عمران خان قادری کے بلاوے پر آئے لیکن ان دونوں پارٹیوں نے اپنے ورکرز اور سپورٹرز کو جلسہ کامیاب کرنے کی ہدایات نہیں دی۔ بندے کٹھے کرنے کا سارا بوجھ طاہر القادری پر ڈال دیا۔یعنی تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی نہ صرف ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کر رہی تھی، بلکہ وہ اپنی طاقت قادری کے حصے میں بھی ڈالنا نہیں چاہ رہی تھی۔ جلسہ میں تقریریں تو اچھی اچھی ہوگئی ہیں لیکن اختلافات بھی کھل کر سامنے آگئے۔ یہ اختلافات نقطہ نظر کے بھی تھے اور ایک دوسرے کی قیادت کو تسلیم کرنے کے بھی تھے۔ 
پیپلزپارٹی اسلام آباد کی طرح الگ سے لاہور میں جلسے کا پروگرام بنائے رہے ہیں ۔
تحریک انصاف ، پاکستان عوامی تحریک اور شیخ رشید جاتی امراء کی طرف لانگ مارچ کرنے پر سے غور کررہے ہیں ۔لیکن پیپلز پارٹی احتجاج میں فی الحال کے موڈ میں نہیں۔ پیپلزپارٹی سندھ اسمبلی نہیں توڑتی اور تحریک انصاف خیبر پختونخوا اسمبلی توڑ د یتی ہے تو بھی سینیٹ کے انتخابات ہوجائیں گا۔ بلوچستان میں اسمبلی توڑنے کے حامیوں کو نئی صوبائی حکومت میں شامل کرلیا گیا ہے۔ یہ لوگ کیونکر اپنے اقتدار کا دورانیہ جو ویسے بھی پانچ ماہ ہے، اس کو کم کریں گے؟ زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ بلوچستان سے نواز لیگ کو سینیٹ کی کچھ نشستیں کم لیں گی۔ یوں بلوچستان اسمبلی کے توڑنے کا خطرہ بھی فی الحال ٹل گیا ہے۔ پیپلز پارٹی، بی این پی مینگل اگرچہ نواز لیگ کے خلاف ہیں لیکن وہ اس نقطے پر متفق ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات ملتوی نہ ہوں۔ اسمبلیاں ٹوٹنے سے کسی کو کچھ نہیں ملے گا۔ اب سینیٹ کے الیکشن روکنے کے بجائے وہاں نواز لیگ کی اکثریت روکنے کے لئے کام ہورہا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ضروری نہیں کہ آئندہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی اکثریت میں ہو۔
عمران خان اور آصف زرداری ایک ساتھ جلسے میں تو شریک نہیں ہوئے لیکن دونوں رہنما ن لیگ کی حکومت کے خاتمے پر متفق نظر آئے۔ آصف زرادری جب تک کٹینر پر تھے عمران خان وہاں نہیں آئے۔ یعنی آصف زرداری کے ساتھ اسٹیج شیئر نہیں کیا ۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ دو سیشنز ہوئے ۔آصف زرداری نے بھی حکومت کے خلاف اپنے عزائم واضح کیے۔ 
پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ایک دوسرے کے کے ساتھ کنٹینر شیئر کرنے کو تیار نہیں۔ لہٰذا اس بات کا امکان نہیں کہ یہ دونوں جماعتیں باضابطہ طور پر کوئی اتحاد بنا لیں۔ لیکن سیاسی مصلحت کے تحت قادری کے بلائے گئے احتجاج میں ساتھ بیٹھ سکتی ہیں۔ ان کا بڑا مقصد یہ ہے کہ پنجاب حکومت کو دباؤ میں رکھا جائے۔ پیپلزپارٹی کا مقصد اس صوبے میں اثر بڑھانا ہے جہاں اس کے پاؤں نکل چکے تھے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس سے تحریک انصاف کو کتنا فائدہ ملتا ہے۔ قادری صرف ایک آلہ کار ہے۔ 
قادری کی حکومت کے خلاف تحریک اور بلوچستان کے واقعات کے درمیان بظاہر کوئی تعلق نہیں۔ لیکن اس سے غیر منتخب عناصر کو موقعہ دیا کہ وہ نواز شریف اور شہباز شریف کی پوزیشن کو مزید کمزور کریں۔ جس سے پنجاب حکومت کمزور ہو سکتی ہے ۔ نتیجے میں پارٹی کے اندر دراڑیں گہری ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ بلوچستان کی طرح شہباز شریف کے خلاف اسمبلی کے اندر بغاوت کا امکان نہیں لیکن سیاسی طور پر پارٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خاص طور پر جب انتخابات قریب ہیں۔نواز شریف نے عدلیہ پر حملے تیز کر دیئے ہیں۔ وہ اسٹبلشمنٹ کو چھیڑ رہا ہے اور اسٹبلشمنٹ کیس بھی قیمت پر ان کو دوبارہ حکومت میں نہیں آنے دے گی۔ اس محاذ آرائی کے پورے جمہوری تسلسل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ 
اپوزیشن جماعتیں اس کے خلاف متحد ہو رہی ہیں، اور پارٹی کی اندرونی دراڑیں گہری ہوتی نظر آتی ہیں۔ ایسے میں نواز شریف کو دیوار کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ احتساب عدالت سے کرپشن کے الزامات میں سزا ان کے سیاسی مستقبل کو سر بمہر کردے گی۔ ایسے میں ان کے بعض کوئی زیادہ آپشنز نہیں۔ لیکن معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں۔ نواز شریف ریاست کے دو اہم اور حاوی اداروں کے ساتھ محاذ آرئی میں ہیں۔ ان کی پارٹی مرکز اور ملک کے ایک بڑے صوبے میں اقتدار میں ہے۔ نااہل قرار دیئے جانے کے باوجود وہ حکمران پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔ ایک بڑا بحران ملک کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ 
دیکھتے ہیں کہ نواز شریف کی سزا کے بعد وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے کیا کرتے ہیں؟ مخالف سیاسی جماعتوں، اسٹبلشمنٹ اور حکمران جماعت اس صورتحال میں کیا کرتی ہیں؟ 

Sohail Sangi
Nai Baat Jan 19, 2018

No comments:

Post a Comment