Wednesday, February 5, 2020

وڈیروں کی شمولیت اور پی پی کا نیا پروفائل March 2013


وڈیروں کی شمولیت اور پی پی کا نیا پروفائل 
March 16, 2013 
Dawn.com
پیپلز پارٹی سندھ ایک نئی انتخابی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے کہ کوئی بھی بااثر وڈیرہ یا گروپ پارٹی سے باہر نہ رہے۔ اس حکمت عملی سے پارٹی کا نیا پروفائل سامنے آیا ہے ۔ اب پارٹی کارکنوں کے بجائے ذاتی طور پر قریبی دوستوں اور بااثر شخصیات پر انحصار کر رہی ہے۔
ٹھٹہ، گھوٹکی۔ لاڑکانہ، نوشہروفیروز، جامشوروسمیت کئی اضلاع میں پارٹی اس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
ضلع جامشورو ملک اسد سکندر کے زیر اثر رہا ہے۔ بظاہر یہ پہاڑی علاقہ ہے مگریہاں نوری آباد کا صنعتی علاقہ اور سپر ہائی وے واقع ہیں جس کی وجہ سے ایک اہم ضلع ہے۔
سال 2008ء میں اسمبلی امیداور کے لیے گریجویشن کی شرط کی وجہ سے ملک اسد خود انتخابات نہیں لڑ سکے۔ چنانچہ ان کے بہنوئی نواب غنی تالپور پی پی کے ٹکٹ پرکامیاب ہوئے۔ اب وہ خود امیدوار ہیں۔
پارٹی کی اعلیٰ قیادت صدر زرداری کے منہ بولے بھائی اویس ٹپّی کو ہر حال میں اسمبلی میں لانا چاہ رہی ہے اور اُن کے لیے کسی محفوظ نشست کی تلاش میں تھی تو اس کی نظر ملک اسد کے حلقۂ انتخاب پر پڑی۔
ملک اسد سے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور صدر زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور نے رابطہ کیا۔ مگر انہوں نے ماننے سے انکا رکر دیا۔
اب صدر زرداری نے ان سے رابطہ کیا اور ملک اسد کو راضی کرلیا ہے۔ حال ہی میں صدر زرداری نے دراوت ڈیم کا افتتاح کیا ،اس ڈیم میں تقریباً بارہ ہزار ملین ایکڑ فٹ بارش کا پانی جمع کیا جا سکے گا۔ جس سے ہزاروں ایکڑ زمین آباد ہو گی، اور ظاہر ہے کہ جس کابراہ راست یا  بلاواسطہ طور پر اس کا فائدہ ملک اسد کو ہی پہنچے گا۔
دوسری اہم پیش رفت ٹھٹہ میں ہوئی ہے، جہاں ضلع کے بااثر شیرازی خاندان نے مسلم لیگ(ق) کو خدا حافظ کہہ کر پی پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔
شیرازیوں کے قاف لیگ چھوڑنے کے بعد اس  پارٹی کے لیے سندھ میں جگہ ختم ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے غوث بخش مہر قاف لیگ چھوڑکر فنکشنل لیگ میں شمولیت اختیارکر چکے ہیں۔
شیرازی برادران ٹھٹہ میں پارٹی کے سب سے بڑے حریف تھے۔ ان کی پارٹی میں شمولیت کے بعد عملاً یہ ضلع بلامقابلہ پی پی کے حق میں ہوگیا ہے۔
یہ ضرور ہے کہ اس کے بدلے پارٹی کارکن ناراض ہوگئے ہیں اور صوبائی وزیر ثقافت سسی پلیجو بھی اس فیصلے پر ناخوش ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شیرازیوں سے ڈیل میں ان کی نشست بھی شیرازی برادران کو دے دی گئی ہے۔
شکارپور میں غوث بخش مہر کی فنکشنل لیگ میں شمولیت کے بعد فنکشنل لیگ کے نیشنل پیپلز پارٹی سے اتحاد نے اپ سیٹ کی صورتحال کردی تھی۔ جس کا توڑ مقبول شیخ کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے ذریعے نکالا گیا ہے۔
طویل عرصے تک پیپلز پارٹی کی مخالفت کرنے والے مقبول شیخ اب شکارپور سے آغا تیمور خان کی نشست پر پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔ ان کی شمولیت وفاقی وزیرخورشید شاہ کی کوششوں کا نتیجہ ہے جس پر پارٹی کے اہم رہنما سراج درانی کے علاوہ شکارپور کی مقامی قیادت بھی ناراض ہے۔
سندھ میں بھوتاروں (وڈیروں ) کی پارٹی میں شمولیت اور کارکنوں کو نظرانداز کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ شاید طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں وڈیرے ہو گئے ہیں۔مخصوص قسم کے لوگ پارٹی میں لائے جارہے ہیں، جبکہ پہلے ایسا نہیں تھا۔
ستر کی دہائی مکیں ایک زمانہ وہ بھی تھا جب میر، پیر اور وڈیرے ملامت کا نشان بنے ہوئے تھے۔ روٹی، کپڑا اور مکان مقبول نعرہ تھا۔ کسان، مزدور اور طلبا کے حقوق اولین ترجیحات تھیں۔ہر سو عوام، عوام کے حقوق اور نعروں کا چرچا تھا۔
جو حضرات واقعی عوام کو طاقت کا سرچشمہ سمجھتے تھے یا ایسے لوگ جو عوام دوست تو نہیں تھے مگر انہوں نے عوام کی بیداری کوبھانپ لیا تھا،وہ بھی سمجھ گئے تھے کہ اب عوام کی بات کیے بغیر کام نہیں چلے گا، انہوں نے خلوص دل سے یا بحالت مجبوری ان نعروں اور پارٹیوں کا ساتھ دیا۔
یوں کہیے کہ سیاست نے رُخ تبدیل کیا اور سیاسی گروپس اور لوگوں نے بھی اس کے مطابق اپنا رُخ تبدیل کیا۔
اگرچہ جنرل ضیاء الحق نے فکری اور پروگرام کی سیاست کو پیچھے دھکیلا،مگر پھر بھی زمینی حقیقت یہ رہی کہ پیپلز پارٹی اگر کسی کھمبے کو بھی ٹکٹ دے رہی تھی تو اس کی کامیابی یقینی تھی۔ وڈیرے، میر پیراور چوہدری انتخابی جیت کے لیے پی پی سے رجوع کر رہے تھے۔وہ پیپلز پارٹی کی سیاسی مہم کے اخراجات برداشت کر رہے تھے۔
یہ رجحان دو تین عشروں تک ملکی سیاست خاص طور پر سندھ کی سیاست پر چھایا رہا۔ یہ عوامی سیاست کا وہ بہاؤ اور ریلا تھا جس نے اٹھاسی کے انتخابات میں پیر پگارا، غلام مصطفیٰ جتوئی جیسے پہاڑوں کو بھی خس و خاشاک کی طرح بہا دیا، جبکہ ان کے مقابلے میں معمولی امیدوار تھے۔
قلاباز وڈیرے اور روایتی سیاستداں پیپلز پارٹی کے دروازے پر قطار بنائے کھڑے رہتے تھے۔ شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ ستر، اسّی، اور نوّے کے عشروں میں پیپلز پارٹی کسی ایسے میر، پیر یا وڈیرے کے پاس چل کے گئی ہو کہ پارٹی میں آؤ یا پارٹی کی حمایت کرو۔
پیپلز پارٹی ان وڈیروں سے بڑی تھی،اقتدار کے پیاسے پیپلز پارٹی کے پاس جاتے تھے۔
اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ پیپلز پارٹی ان میروں، پیروں اور وڈیروں کے پاس چل کر جاتی ہے۔
وہ بھی ایک بار نہیں بلکہ کئی بار۔
گھوٹکی کے مہر برادران اور ٹھٹہ کے شیرازیوں کے ساتھ ڈیڑھ سال تک بات چیت ہوتی رہی۔ نوشہروفیروز کے عالمانیوں کے پاس صدر زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپورچل کر گئیں۔ دادو اور لاڑکانہ میں موجود ایسی شخصیات کے پاس بھی پیپلز پارٹی کو جانا پڑا۔
اس مرتبہ خود پی پی اُن عناصر کو بُلا بُلا کے شامل کر رہی ہے،گویا پارٹی کوکارکنوں کی نہیں بلکہ وڈیروں کی ضرورت ہے۔
ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟
پارٹی قیادت کے پاس یہ دلیل ہے کہ اگر کوئی ایسا گروپ پارٹی کے دائرے سے باہر رہ جاتا ہے تو صوبائی سطح پر پارٹی کے مقابلے میں آجائے گا۔
علی محمد مہر اس کی ایک مثال ہیں جنہوں نے 2002ء کے انتخابات میں پارٹی کا ٹکٹ ٹھکرا کر آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑا اور وزیراعلی سندھ بنے۔
یہ بات دلیل سے کہیں زیادہ پارٹی قیادت کے ڈر کو ظاہرکرتی ہے۔
ایک عوامی پارٹی کو“افراد” سے ڈر ہے؟ تعجب کی بات ہے۔
ضیا اور جونیجو دور سے ایک نئے سیاسی کلچر کو پروان چڑھایا گیا۔ سیاست میں ذاتی تعلق اور ذاتی مفاد کو نچلی سطح تک متعارف کرایا گیا۔ اس کلچر نے انتخابی سیاست کا رنگ ہی بدل دیا،اور اسمبلی ممبر ، ووٹر یا کارکن کے بیچ میں موجود سیاسی رشتہ ختم کرکے اس کو ذاتی تعلق یا ذاتی مفاد میں تبدیل کردیا گیا۔ جب ذاتی مفاد اور تعلق ہی اہم ٹھہرے تو پھر ووٹر اورپاور بروکرز کے لیے کئی آپشنز کھل گئے۔
ضیاء کے متعارف کردہ اس نظام کو بے نظیر بھٹو بھی ختم نہ کرسکیں، بلکہ اسے اپنے دور حکومت میں جاری رکھا۔
ترقیاتی فنڈ، ملازمتیں ،بجٹ وغیرہ اسمبلی ممبران کو ذاتی طور پر ملنے لگیں اور وہ ان کی تقسیم بھی ذاتی طور پر کرنے لگے۔
یہ ایک خطرناک رجحان تھا جس کے اثرات اب بھرپور انداز سے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اس رجحان کو ختم کرنے کے بجائے خود اس کا شکار ہو گئی۔
اب پیپلز پارٹی اس پچ پر آگئی جو عوامی نہیں بلکہ سیاسی خاندانوں یا سیاسی کھلاڑیوں کی روایتی پچ تھی۔
آج پارٹی کی قیادت اور کارکنوں خواہ ووٹروں کے درمیان خلاء نظر آتا ہے۔ پہلے ایسا نہیں تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو ہر ماہ کہیں نہ کہیں جلسہ کرتے تھے یا پارٹی کارکنوں کا ڈویژنل یا صوبائی کنوینشن بلاتے تھے۔ بینظیر بھٹو نے اس روایت کو برقرار رکھا۔ جلسے، جلوس، کارکنوں سے رسمی و غیر رسمی ملاقاتیں، ان کو سننا، ان سے پوچھنا جاری رکھا۔
اندازہ کریں کہ بھٹو جب شملہ معاہدہ کرنے انڈیا جا رہے تھے تو انہوں نے دادو، ٹھٹہ اور دیگر مقامات پر جلسوں میں آکر عوام سے پوچھا کہ “آپ اگر کہو تو انڈیا سے معاہدہ کرکے آؤں۔”
اب نہ جلسے جلوس ہیں نہ ہی پارٹی قیادت کی کارکنوں سے ملاقاتیں اور ڈویژنل کنوینشن۔ نتیجتاً پارٹی قیادت اور کارکنوں کے درمیان رشتہ کمزور ہوا ہے۔ اب پارٹی کارکن اہم رہے نہیں بلکہ سیاسی کھلاڑی اور پاور بروکرز اہم ہیں، جن کو خوش رکھنا پی پی ضروری سمجھنے لگی ہے۔
اس رجحان کے بعد اسمبلی ممبران پر کارکنوں کا چیک بھی ختم ہو گیا۔ اب شکایت کرنے کا دروازہ بھی نظرنہیں آتاہے۔
یہ خلا کس طرح سے پُر کیا جائے؟ پارٹی کے پاس ایسی نہ میکانزم ہے اور نہ ہی صلاحیت۔ لہٰذا سیاسی کھلاڑیوں ، باثر افراد اور وڈیروں پر انحصار کیا جا رہا ہے، یوں عوام اور پارٹی کارکن غیر اہم ٹہرے۔ بااثر اور منتخب ہونے کے قابل افراد ضروری اور اہم ہوگئے۔ وڈیروں کے خلاف نعرے دب گئے ہیں۔
شاید جو سیاست اور سیاسی کلچر جو ذوالفقار علی بھٹو نے متعارف کرایا تھا، وہ آخری سانسیں لے چکا۔ اس کی جگہ روایتی یا مسلم لیگی سیاست جگہ لے رہی ہے، جس کی رو سے انتخابات لڑنے اور سیاسی حمایت کے لیے وڈیرے، میر اور پیر ضروری ہیں۔

No comments:

Post a Comment