Friday, June 9, 2017

نواز شریف سیاسی جنگ لڑنا چاہتے ہیں؟



نواز شریف سیاسی جنگ لڑنا چاہتے ہیں؟ 

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

جے آئی ٹی نے اپنی تحقیقات کے بارے میں دوسری رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ہے اس رپورٹ میں بعض رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

جے ٹی آئی کی تشکیل اور اس کے کام کرنے کے حوالے سے تین پیچیدگیاں ہیں۔ جس کی وجہ سے اس ٹیم کے بارے میں سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ حسین نواز کی تصویر جاری ہونے سے یہ سوال اٹھا کہ جے ٹی آئی کی کارروائی کی سی سی ٹی وی کے ذریعے ریکارڈنگ ہو رہی ہے۔ یہ رکارڈنگ کون کر رہا ہے؟ اور کہاں پر اسکو محفوظ کیا جارہا ہے؟ اس حوالے سے میڈیا میں آنے والی باتیں تحقیقات اور عدلیہ کے عمل کے امیج کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ دوسرا سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے ٹیم کے ممبران کی نامزدگی کے حوالے سے میڈیا پر آنے والا واٹس اپ مسیج ہے۔ تیسرا نقطہ اس نیم عدالتی نیم تحقیقی کام میں عسکری اداروں کے نمائندوں کی شمولیت ہے۔ 
پہلے نواز لیگ کے سنیٹر نہال ہاشمی کی جے آئی ٹی کے بارے میں’’ دھمکی آمیز‘‘ ویڈیو بھی سامنے آئی۔ جس پر پہلے وزیراعظم نے نوٹس لیا اور ان کی پارٹی رکنیت معطل کرکے انہیں سنیٹ کی نشست سے مستعفیٰ ہونے کے لئے کہا۔ نہال ہاشمی نے ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے استعیفا دے دیا لیکن بعد میں سنیٹ چیئرمن رضا ربانی نے تصدیق کے لئے بلایا تو انہوں نے یہ استعیفا واپس لے لیا۔ تاہم عدلیہ نے نہال ہاشمی کی اس تقریر کا نوٹس لیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ قائم کردیا گیا ہے۔ 
وزیراعظم نواز شریف اور اس کے بچوں کے خلاف پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے ٹی آئی سے مسلم لیگ نواز کوئی زیادہ پر امید نہیں ۔ حکمران جماعت معاملے پر سیاسی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کے بیٹے نے پہلے جے ٹی آئی کے دو ممبران پر اعتراض کیا تھا، اور یہ اعتراض بیانات کے ساتھ ساتھ عدالت کے سامنے بھی لایا گیا۔ لیکن عدالت نے ان کی یہ درخواست مسترد کردی۔ اب پارٹی جے ٹی آئی میں دوعسکری اداروں کے نمائندوں کی شمولیت پر اعتراض کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ وہ ان اداروں کے نمائندوں کی اس مالی معاملے میں تحقیقات کے لئے مہارت جاننا چاہتے ہیں۔ یہ اعتراض نواز شریف خاندان نے عدالت میں دائر کردہ درخواست میں نہیں کیا تھا۔ اور جے ٹی آئی کی کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ایک ماہ پہلے جب عدالت نے پاناما پیپرز سے متعلق مقدمے میں فیصلہ سنایا تھا، تب مسلم لیگ نے سکون کا سانس لیا تھا کہ حکومت کے سر پر فوری خطرہ ٹل گیا ہے۔ لیکن یہ خطرہ ٹلا نہیں تھا بلکہ حکومت کو کچھ وقت مل گیا تھا۔ پارٹی سمجھتی ہے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے اسٹیٹ بنک اور سیکورٹیز ایند ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے دو ممبران کو جے ٹی آئی میں شامل کرنے کے لئے واٹس اپ میسج، حسین نواز کی تصویر جاری ہوناجس میں وہ تفتیش کے لئے بطور ملزم دکھائے گئے ہیں، اور دوعسکری اداروں کے نمائندوں کی شمولیت کے اسباب کافی ہیں کہ پارٹی احتجاج کی لائن اختیار کرے۔ اس کا اظہار پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان کا حالیہ بیان سے بھی ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک قانونی نقطہ بھی اٹھایا جارہا ہے کہ جے ٹی آئی کی تشکیل کرمنل پروسیجر کی شق 184 کے تحت کی گئی ہے جس کا کام ہے لیکن وہ ان حدود سے تجاوز کر رہی ہے۔ اس شق کے تحت ٹیم صرف انکوائری کر سکتی ہے لیکن یہ تفتیش کر رہی ہے۔ تفتیش تب کی جاتی ہے جب ایف آئی آر درج ہو، لیکن اس معاملے کی کوئی ایف آئی آر بھی درج نہیں۔ اسی طرح کا اظہار پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ بھی کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہین کہ جے ٹی آئی غیر جاندارانہ تحقیقات نہیں کر رہی۔وہ نواز خاندان کے خلاف بیانات لینے کے لئے گواہوں پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ انہوں نے ایک قدم آگے بڑھ کر کہا ہے کہ نواز خاندان کے پاس یہ آپشن بھی ہے کہ وہ جے ٹی آئی بائکاٹ کرے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر جے ٹی آئی کوئی ایسا فیصلہ دیتی ہے جو نواز لیگ کی قیادت کے خلاف ہے تو کارکنان سڑکوں پر آ جائیں گے۔ 
منگل کے روز وزیراعلیٰ پنجاب شہبازنے صرف شریف خاندان کا محاسبہ اور تحقیقات کرنے کے خلاف اپنے بڑے بھائی کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا۔اور سپری کورٹ سے کہا کہ دوسرے لٹیروں کے کلاف بھی کارروائی کیجائے۔ شہباز شریف کے حالیہ بیان کے بعد قریبی حلقے بھی اس بیانیہ میں شامل ہو گئے ہیں۔ 
یوں جے ٹی آئی کے حوالے سے متعدد سوالات جنم لے چکے ہیں۔ اور اس کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ وہ اس معاملہ کا نوٹس لے۔ 
پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف اس معاملے پر نواز لیگ کے خلاف پارلیمنٹ میں بھی سرگرم ہیں۔ ا اپوزیشن نے گزشتہ روز قومی اسمبلی کی کارروائی کا بائکاٹ کیا۔ اور خاص طور پر شہباز شریف کیاس بیان بیان کا نوٹس لینے کے لئے کہا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عدلیہ نے احتساب کے لئے صرف ایک ہی خاندان پر بندوق تان رکھی ہے۔ 
نواز شریف خاندان کے خلاف پاناما پیپرز کے معاملے کو پہلے بھی بعض حلقے سیاسی قرار دے رہے تھے۔ اور اس کو تحریک انصاف کے انتخابات میں دھاندلیوں کے اس مطالبے کے ساتھ جوڑ رہے تھے ۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ ویزراعظم نواز شریف استعیفا دیں۔ اور نئے انتخابات منعقد ہوں۔ تحریک انصاف کے اس مطالبے پر دھرنا اور بعد میں دھاندلیوں کے خلاف عدالتی کمیشن کے قیام نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تحریک کو ٹھنڈا کر دیا۔ ایسے میں پاناما پیپرز کا معاملہ اٹھا۔ اس سے ایک بار پھر تحریک انصاف کو موقعہ ملا۔ اور اس نے تحریک چلائی۔ لیکن یہ معاملہ بھی عدالت کے بیچ میں آنے کی وجہ سے سیاسی حدود سے نکل کر عدالتی حدد میں آگیا۔ نواز شریف گزشتہ دونوں مرتبہ اس کے خلاف چلنے والی تحریک کا جواب سیاسی طور پر نہیں دیا۔ وہ حکومت بچانے کے لئے معاملے کو طول دینا چاہتی تھی۔ لیکن اب پہلے جیسی صورتحال نہیں رہی۔ لہٰذا وہ اس کا جواب سیاسی طور پر دینا چاہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی جو پہلے والی دو تحریکوں میں نواز شریف کو کسی نہ کسی طرح سے تحفظ دے رہی تھی اس نے بھی اس کے خلاف کھلی سیاسی لڑائی کا اعلان کر دیا ہے۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات کے نتائج وزیراعظم اور ان کے خاندان کے خلاف آنے کی صورت میں احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ اس کے جواب میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی تحریک چلانے کی دھمکی دی ہے۔ دوسری جانب اداروں کے درمیان تصادم کی بھی صورتحال بنے نظر آئی۔
عدلیہ کا فیصلہ تاریخی کام تھا کہ سپریم کورٹ ایک وزیر اعظم کے اثاثوں اور املاک کے بارے میں تحقیقات کر رہی تھی۔ اس میں صرف
وزیراعظم ار اس کے خاندان کا ہی مستقبل وابستہ نہیں بلکہ خود جمہوری عمل کے لئے بھی ایک امتحان ہے۔ اس کو کتنا غیر جانبدار اور تنازع سے بالا تر رکھا جاتا ہے؟ یہی اہم سوال عدلیہ، مختلف اداروں اور کود سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کے سامنے بھی ہونا چاہئے۔



Sohail Sangi Column, Nai Baat

Nai Baat June 9, 2017 

No comments:

Post a Comment