Friday, May 26, 2017

Decrease in nationalists popularity

سندھ کی قوم پرست سیاست اور پیپلزپارٹی
سندھ کی قوم پرست سیاست کی مقبولیت میں کمی
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
سندھ میں پیپلزپارٹی حکومت میں ہے لیکن وفاق کے حوالے سے حکومت کی مخالف بھی ہے۔ روایتی طور پر سندھ کے قوم پرست وفاق کے ساتھ مخالفت میں رہے ہیں۔ سندھ میں قوم پرست تحریک کے ماٹھے ہونے کی جہاں اور اسباب ہیں وہاں ایک وجہ اٹھارویں آئینی ترمیم بھی ہے۔جس میں صوبوں کو زیادہ اختیارات تفویض کئے گئے ہیں۔یعنی قوم پرست عمومی طور پر جو مطالبات اٹھاتے تھے ان کو آئین اور قانون میں تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ان مطالبات پر عمل درآمد کتنا ہورہا ہے؟ اور کس طرح سے ہو رہا ہے؟ یہ شکایات بھی موجود ہیں۔ماضی میں جو مطالبات قوم پرست اٹھاتے رہے ہیں وہ مطالبات اب پیپلزپارٹی اٹھارہی ہے۔ مثلا مالیات وسائل و اختیارات ، پانی کی منصفانہ تقسیم، گیس اور دیگر معدنی وسائل کی رائلٹی اور اس کے استعمال کا حق، سندھی کو قومی زبان کا درجہ دلانا، وفاقی ملازمتوں میں سندھ کی کوٹہ کا معاملہ وغیرہ۔ ان سب معاملات کو اب آئینی اور قانونی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، یہ الگ بات ہے کہ ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ابھی بھی مسئلہ ہے۔ اب قوم پرستوں کی جانب سے یہ مطالبات نہیں کئے جارہے ہیں۔
قوم پرست اس بات کے لئے تیار ہی نہیں تھے کہ ان کو ایسی صورتحال میں بھی سیاست کرنی پڑے گی۔ یہ بات سندھ کے مختلف قوم پرست گروپ مانتے بھی ہیں کہ بدلے ہوئے حالات سے مطابقت رکھنیوالی سیاست نہیں ہو پارہی۔
سندھ میں قوم پرست سیاست کا محدود ہو جانا کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ قوم پرست سمجھتے ہیں کہ وہ کسی طور پر بھی اقتدار میں نہ شامل ہیں اور نہ ان کو اقتدار واختیارات کے تعین کے وقت گنا جاتا۔ایسے میں مطالبات کے اٹھانے کا مطلب ہوگا کہ پیپلزپارٹی کے موقف کو مضبوط کرنا۔ رفتہ رفتہ سندھ میں پرامن طریقے سے قوم پرست سیاست کی مقبولیت میں کمی محسوس کی جارہی ہے۔ ا۔ اور ان کے پاس کسی واضح موقف نہ ہونے کی وجہ سے کشش کھو بیٹھی۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق ابھی زیادہ تر قوم پرست گروپ صرف اپنا وجود باقی رکھے ہوئے ہیں۔ جب کہ عملی میدان میں خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ اس صورتحال کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ میں ایک گروہ نے انتہا پسندی کی سیاست شروع کی۔ جس کی نتیجے میں پراسرار گمشدگیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ جس میں کئی نوجوانوں کی جانیں چلی گئیں۔
دراصل یہ قوم پرست اور خود پیپلزپارٹی کی ناکامی ہے کہ وہ اس صورتحال کے لئے کوئی حکمت عملی نہ بنا سکی اورنوجوانوں کو اپنی طور راغب نہ کر سکی۔ کچھ عرصے تک سندھی مہاجر تضاد کی بنیاد پر بھی سیاست چلتی رہی، لیکن ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن اور اس کے اندر تین گروپ بن جانے کے بعد بظاہر کوئی جواز نہیں رہا کہ سندھی حلقے سے مہاجر مخالف نعرے پر سیاست کی جائے۔
اب چونکہ انتخابات کا موسم شروع ہونے والا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنے وجود کو منوانے اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کے موڈ میں ہیں۔ وہاں دیگر چھوٹے موٹے گروپ بھی یہ کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایم کیو ایم پاکستان نے کراچی میں کراچی حقوق ریلی نکالی، اس کے بعد ایم کیو ایم سے علحدگی اختیار کر کے پاک سرزمین پارٹی کے نام سے الگ پارٹی قائم کرنے والے نے بھی حیدرآبادد اور کراچی میں ریلی نکالی۔ یہ تمام پارٹیاں مہاجر ووٹ کو ہی اپنی طرف متوجہ کرنا چاہ رہی ہیں۔ لہٰذا وہ اس بنیاد پر ہی کھڑی ہیں جو الطاف حسین نے ڈالی تھی۔
سندھی قوم پرستوں کا ایک اجلاس کثیر جماعتی کانفرنس کے نام سے گزشتہ دنوں حیدرآباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بعض بائیں بازو کے گروپوں نے بھی شرکت کی۔ لیکن مین اسٹریم سیاست کرنے الی جماعتوں مثلا پیپلزپارٹی، نواز لیگ، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، اور ایم کیو ایم کے کسی گروپ کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ ایک طویل مدت کے بعد یہ مشترکہ اجلاس تھا ۔ لیکن اس اجلاس میں عوامی تحریک کے دونوں گروپوں، اور ڈاکٹر قادر مگسی کی ترقی پسند پارٹی نے شرکت نہیں کی۔ یہ تینوں وہ جماعتیں ہیں جو پارلیمانی سیاست کرنا چاہتی ہیں اور گزشتہ دو تین انتخابات میں حصہ بھی لیتی رہی ہیں۔ لہٰذا اس اجلاس میں ان پارٹیوں نے شرکت کی جو پارلیمانی سیاست نہیں کرنا چاہتی۔ اس اجلاس میں زیادہ تر سیاسی کارکنوں کی گمشدگیوں کا معاملہ زیر موضوع رہا۔ اجلاس کے شرکاء کے مطابق سندھ میں اس وقت تیس سے زائد افراد پراسرار طور پر گم ہیں۔ ان کا موقف یہ تھا کہ ملک کےّ ئین اور قانون کے مطابق ہر شہری کو اظہار کی آزادی کا حق ہے۔ اور کسی بھی کارکن کو محض اس وجہ سے گرفتار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی سیاسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے۔ کانفرنس میں میں کہا گیا کہ ہمیں پرامن جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کو بچانا ہوگا۔ کانفرنس کے میزبان جیئے سندھ محاذ آریسر گروپ کے صدر میر عالم مری نے کہا کہ انسانی حقوق، سیاسی جدوجہد کرنے اور اظہار آزادی کو ممنوع قرار دیا جارہا ہے۔ ہمیں ملک کے تمام قوم پرست، ترقی پسند، لبرل سیاستدانوں اور دانشوروں کو یکجا کرنا ہوگا۔لیکن اس موقع پر مجموعی طور پر سندھ میں قوم پرست سیاست اور اسکی حکمت عملی کے معاملات پر بھی بات ہوئی۔ جیئے سندھ قومی محاذ (بشیر خان گروپ)کے نائب صدر نیاز نے کہا کہ جو لوگ ملک سے باہر بیٹھ کر سندھ کا کیس لڑنے والے سندھ میں آکر عملی سیاست کریں۔ جیئے سندھ کے پرانے رہنما اور اب عوامی جمہوری پارٹی کے صدر امان اللہ شیخ کا ماننا تھا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ قومی تحریک اکیسویں صدی کے تقاضوں سے میل نہیں کھاتی۔شخصیت پرستی کا رجحان ہے فکر کا فقدان ہے۔
ڈاکٹر قادر مگسی، رسول بخش پلیجو اور ان کے بیٹے ایاز لطیف پلیجو پیپلزپارٹی کی مخالفت میں سیاست کر رہی ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کرپٹ ہے اور اس کی قیادت سندھ کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔ یہ بنیادی طور پر وہی سیاست ہے جو ملکی سطح پر کی جارہی ہے۔ جس میں پیپلزپارٹی پر کرپشن، خراب حکمرانی وغیرہ کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ لہٰذا ان جماعتوں کی الگ حیثیت ہونے کے باوجود بھی کوئی الگ حیثیت نہیں بن رہی۔
طویل مدت کے بعد منعقدہ قوم پرستوں کا یہ پہلا اجتماع ہے۔ ان کے لئے انتخابات میں کوئی نشست جیتنا شاید مشکل ہو ، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس اتحاد کو کوئی عملی شکل دے کر ایک پریشر گروپ کی شکل اختیار کر پاتے ہیں یا نہیں۔

روزنامہ نئی بات
may 27, 2017

Decrease in nationalists popularity
Daily Nai Baat May 26, 2017



Also published on : http://www.bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-may-26-2017-123042

No comments:

Post a Comment