زرداری کی نئی حکمت عملی
میرے دل میرے مسافر
سہیل سانگی
پیپلزپارٹی کے شیرک چیئرمین آصف علی زرداری کی طرف سے ’’سخت ‘‘ دفاعی لائین اختیار کرنے کے باوجود سندھ اور پیپلزپارٹی پر دباؤ کم نہیں ہوا ہے بلکہ بڑھ گیا ہے۔ مزید گرفتاریوں کی وجہ سے خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے۔ عسکری قوتوں نے تین صوبائی وزراء کو تفتیش کے لئے پیش کرنے کی فرمائش کردی ہے۔ محسوس ہو رہا ہے کہ عسکری قوتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد پارٹی ایک بار پھر سندھ کابینہ میں ردوبدل کرنے جارہی ہے۔ جون کے واقعات کے بعد پہلی مرتبہ پارٹی نکا جلاس ہوا ہے جس کی صدارت بلاول بھٹو نے کی۔ بلدیاتی انخابات کے پس منظر میں عمران خان سندھ کے دورے پر نکل پڑے ہیں۔ جس سے پارٹی پر سیاسی دباؤ بڑھ جائے گا۔ زرداری حالیہ بیان بیان کے بعد ایم کیو ایم کے موقف میں تبدیلی آئی ہے۔ اور وہ استعیفوں پر مصر ہے۔ ایک بار پھر پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم قریب آگئی ہیں۔ گورنر سندھ زرادری صاحب سے ملاقات کے لئے دبئی میں ہیں۔ وفاقی وزیر ریٹائرڈ جنرل عبدالقادر بلوچ نے گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کو نواز لیگ حکومت کے نمائندے کے طور پر نہیں لیا گیا۔ یہاں تک کہ خود ریٹائرڈ جنرل بلوچ نے بھی واضح کیا کہ یہ ملاقات ذاتی حیثیت میں کی تھی۔ لگتا ہے کہ انہوں نے ذات طور پر سید قائم علی شاہ کو مشورہ دیا یا کوئی ذاتی پیغام پہنچایا ہے۔
کیا پیپلزپارٹی جن مسائل اور بحران میں گھری ہوئی ہے، اس کا مقابلہ کرنے یا اس سے نکلنے کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں بنا پائی ہے؟ سندھ میں یہ معاملہ بھی زیر بحث ہے کہ جب پارٹی اور سندھ اتنی تکلیف میں ہیں ایسے وقت میں قیادت بیرون ملک سے بیانات دے رہی ہے۔
جون کے وسط میں جب عسکری اسٹبلشمنٹ نے سندھ میں اعلیٰ سطح پر کرپشن کا حوالہ دیا تو زرادری صاحب عسکری اسٹبلشمنٹ پر برس پڑے تھے۔ اور کہا کہ فوج اپنی آئینی حدود میں رہے۔ لیکن حالیہ بیان میں وہ اب زرداری صاحب فوج کی تعریفیں کر رہے ہیں۔ اور اسکے بجائے نواز شریف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے نواز شریف پر بدعنوانی، خراب حکمرانی کے الزامات عائد کئے۔ تاہم انہوں نے سندھ میں کرپشن اور خراب حکمرانی اور اس کو ٹھیک کرنے کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔ ان کا پورا زور اس پر تھا کہ دوسرے بھی کرپشن کر رہے ہیں۔ صرف ہمیں کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے۔
معاملہ کا ایک اور رخ بھی ہے۔ نواز لیگ حکومت سندھ میں آپریشن کو کس طرح سے چلا رہی ہے۔ بطور پارٹی کے اس کے پاس کوئی منصوبہ یا حکمت عملی نہیں کہ آپریشن کے کیا نتائج نکل رہے ہیں؟ آنے والے وقتوں میں کیا کرنا ہے؟ ایسے لگتا ہے کہ وہ ایک اچھے سرکاری ملازم کے طور پر صرف فرائض کی بجاوری کر رہے ہیں۔ زرداری کے اتنا مشتعل ہونے پر نواز لیگ کو جواب دینا چاہئے تھا۔ لیکن اس نے اس موضوع پر فراریت اختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔
فوج کے خلاف بیان کے حوالے سے زرداری کی حکمت عملی نے کام نہیں دکھایا تو انہوں نے اپنی توپوں کا رخ جنرلوں کے بجائے وفاقی حکومت کی جانب کیا۔ زرداری صاحب نے نواز لیگ کے ساتھ اپنی طویل قربت اور مفاہمت کو خیر باد کہا اور اب نواز شریف کو بے وفائی کا طعنہ دے رہے ہیں۔ زرداری کا تازہ غصہ ان کے قریبی ساتھ ڈاکٹر عاصم کی کرپشن اور دہشتگردی کے لئے فنڈنگ کے الزامات کے تحت گرفتاری کے بعد ظاہر ہوا۔ سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف ہی ان کے اس غصے کا واقعی ان کا نشانہ ہیں؟ یا دراصل سیکیورٹی فورس ہیں جو یہ کریک ڈاؤن کر رہی ہیں؟ اگرچہ کچھ عرصے سے پیپیلزپارٹی کا گھیراؤ تنگ ہورہا تھا لیکن ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری نے پارٹی قیادت کے اندرطوفان برپا کر دیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور خورشید شاہ کا لہجہ بھی تیز ہوگیا تھا۔ لیکن زرداری کا بیان اپنی پارٹی کے دفاع کیبجائے دراصل نواز لیگ کو ایک چارج شیٹ تھی۔ زرداری کو پہلے سے اس حملے کا پتہ تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تقریبا ڈیڑھ ماہ قبل عسکری قوتوں کے خلاف نہایت ہی سخت لہجے میں اظہار کیا تھا۔ انہوں نے عقلمندی یہ کی کہ بیرون ملک چلے گئے۔ اور اس علقمندی کی پیروی ان کے بعد دیگر رفقاء نے بھی کی۔ اب انہوں بھلے نواز شریف پر غصہ دکھایا ہے لیکن وہ بھی اور سب متعلقہ لوگ جانتے ہیں کہ آپریشن کے پیچھے نواز لیگ کی حکومت نہیں رینجرز ہے۔
ان کی نئی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ نواز شریف پر دباؤ ڈالنا چاہ رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف فیصلہ کریں کہ وہ کونسی سائڈ میں کھڑے ہونا چاہتیہیں۔ نہیں لگتا کہ آصف علی زرداری کی یہ حکمت عملی اور دباؤ نواز شریف اور عسکری اسٹبلشمنٹ کے درمیان کراچی آپریشن کے حوالے سے کوئی دراڑ ڈال سکے گا۔ زرداری کے اس بیان کے بعد نواز شریف نے بغیر کسی رکاوٹ کے یہ آپریشن جاری رکھنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔ بلکہ پیپلزپارٹی کی یہ حکمت عملی فوجی قیادت کو اپنا موقف سخت کرنے کی طرف بھی لے جاسکتی ہے۔ یاد رہے کہ زرداری کے گزشتہ بیان کے بعد سندھ حکومت کے دفاتر پر رینجرز اور نیب کے چھاپوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔
ڈاکٹر عاصم اس یقین دہانی پر حال ہی میں بیرون ملک سے وطن لوٹے تھے کہ ان کا نام مطلوبہ افراد کی لسٹ میں شامل نہیں۔ انہیں پتہ نہیں تھا کہ رینجرز کی مطلوبہ افراد کی لسٹ سے وزیراعلیٰ کو بھی بے خبر ہوتے ہیں۔ اور وزیراعلیٰ نے اسی حوالے سے کہا تھا کہ کم از کم ہمیں بھی بتایا جاتا۔ وہ یہ کہہ کر اپنی پوزیشن پارٹی کے پاس کلیئر کر رہے تھے۔
سوال یہ ہے کہ اب کس کی باری ہے؟ پیپلزپارٹی کے لئے یہ صدمے کی بات ہے کہ ان کا پیٹرولیم وزیر انسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت کرفتار ہے۔ انسداد دہشتگردی کا قانون رینجرز کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو بھتہ خوری اور کرپشن میں ملوث ہونے پر گرفتار کر سکتا ہے۔ اب پیپلزپارٹی صرف اتنا ہی کر سکتی ہے کہ وہ ڈاکٹر عاصم کے دفاع کے لئے عدالتی جنگ لڑے۔ رینجرز کو زیادہ اختیارات نے آپریشن کا دائرہ سیاسی کارکنوں تک بڑھا دیا ہے۔ جو بھتہ خوری، زمین پر قبضے اور دیگر کرائیم میں ملوث ہیں۔ اس کا آغاز ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر نائین زیرو سے ہوا تھا۔ جہاں سے درجنوں کارکنان گرفتار ہوئے تھے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت ایجنسیوں کے اس عمل کو درست قرار دیتی رہی ۔
کچھ ہی عرصے بعد توپوں کا رخ پیپلزپارٹی طرف ہو گیا۔ کرپٹ افسران کو نیٹ میں لانے کے لئے بہت سارا مواد موجود تھا۔
فوج کی نگرانی میں جاری کراچی آپریشن کی وجہ سے شہر میں تشدد کے واقعات میں نمایاں میں آئی ہے۔ جو ملک کا معاشی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ کمی ٹارگیٹ کلنگ، مختلف جرائم کی مافیاؤں کی سرگرمیوں میں بھی آئی ہے جو اپنا اثر اور دائرہ اختیار بڑھانے کے لئے لڑ رہی تھیں۔
لیکن یہ سوال ضرور اٹھ رہا ہے کہ کیا عسکری اسٹبلشمنٹ سیاسی دندل میں تو نہیں پھنس رہی؟ آپریشن کا دائر بڑھنے کی وجہ سے وہ صوبے کی دو طاقتور سیاسی جماعتوں ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے مقابلے میں آگئی ہے۔
حکومت ایم کیو ایم سے مذاکرات کرنے میں مصروف ہے کہ وہ اسمبلیوں سے اپنے استعیفے واپس لے۔ لیکن اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ وہ خود کو آپریشن کریک ڈاؤن سے الگ کر لے۔ اب جب پیپلزپارٹی بھی میدان میں آ گئی ہے تو صورتحال کچھ مزید گڑبڑ ہو گئی ہے۔ بلاشبہ پیپلزپارٹی نے حساب لگا کر کھیل شروع کیا ہے۔ لیکن وہ اس میں ہار سکتی ہے۔ وفاقی حکومت اس عمل میں عسکری اسٹبلشمنٹ کو مزید اسپیس دے سکتی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے زور دینے پر کرپشن کے خلاف کارروائی کا دائرہ صرف سندھ
تک محدود نہ رہے اور پنجاب وغیرہ بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں۔
sent on -
Sohail Sangi
published on Sept 7, 2015 Nai Baat
No comments:
Post a Comment