سندھ پیپلزپارٹی کی بادشاہت کے دہانے پر
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے ظاہر کر دیا تھا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے مقابلے میں کوئی بھی پارٹی یا اتحاد مضبوط شکل میں سامنے نہیں آ پایا ہے۔ یوں صوبے میں معاملہ یکطرفہ بن رہا تھا۔ پیپلزپارٹی کے خلاف عام رائے اورتاثر خراب ہونے کے باوجود پارٹی سیاسی حوالے سے اپنی پوزیشن مضبوط بنائے ہوئی تھی۔ لیکن صوبے میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے بعدیہ تبدیلی زیادہ نمایاں ہوئی۔
اول یہ کہ پارٹی کے اندر جو ناراض گروپ یا خاندان تھے ان کو کابینہ ، بلدیاتی اداروں کی سربراہی یا پارٹی عہدوں میں ایڈجسٹ کیا۔ اور اقدار میں حصہ پتی دے کر شراکت کا احساس دلایا۔ یوسف تالپور جو ایک عرصے تک پارٹی سے دوری رکھے ہوئے تھے جن کے لئے سیاسی مارکٹ میں یہ باتیں چل رہی تھیں کہ وہ تحریک انصاف میں شامل ہونے والے ہیں۔ نئی کابینہ میں بیٹے کی شمولیت پر واپس پارٹی کے قریب آگئے ہیں۔ اسی طرح سے میر ہزار خان بجارانی کو بھی خوش کردیا گیا۔
پارٹی کے اندر معاملات ٹھیک کرنے کی یقیننا اہمیت ہے لیکن اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ اندرون سندھ کی دوسری بڑی پارٹی سمجھی جانے والی مسلم لیگ فنکشنل کے لوگ پیپلزپارٹی کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ معاملے کا آغا ز کچھ اس طرح سے ہوا کہ دبئی میں جب پیپلزپارٹی نے سید مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ نامزد کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا تب وہ دبئی میں موجود پیرپاگارا کے آشیرواد لینے پہنچ گئے۔ اس آشیر واد ملنے کے بعدفنکشنل لیگ نے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا ۔ بلکہ تحریک انصاف کے امیدوار کو بھی ووٹ نہیں کیا اور ووٹنگ کے وقت اس کے راکین ایوان سے باہر نکل آئے۔یہی فیصلہ ایم کیو ایم اور نواز لیگ نے بھی کیا۔ بہر حال ٹھٹہ کے شیرازی اور نوشہروفیروز کے جتوئی خاندانوں نے جو بظاہر نواز لیگ میں تھے انہوں نے ایک ووٹ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو دیا۔
نواز لیگ اس پورے سین کے دوران غائب رہی۔ سندھ میں سیاسی طور پر خواہ کم وزن رکھنے کے باوجود تحریک انصاف نے اسٹینڈ کیا جبکہ ایم کیو ایم، نواز لیگ اور فنکشنل لیگ تینوں نے اس طرح کوئی اسٹینڈ نہیں لیا۔ جو کہ پارلیمانی سیاست میں اپنے وجود کو منوانے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔
اگرچہ فنکشنل لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان بلدیاتی انتخابات کے دوران خیرپور اور سانگھڑ میں سخت کشیدگی رہی اور خیرپور کے شہر درازاں کے پولنگ اسٹیشن پر تصادم میں ایک درجن کے لگ بھگ فنکشنل لیگ کے اہم کارکن مارے گئے تھے۔
بلدیاتی انتخابات کے سربراہان کے انتخابات کے موقع پر خاص طور پر ضلع شکارپور میں بڑے پیمانے پر ایڈجسٹ مینٹ نظر آیا۔ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں غوث بخش مہر کے بیٹے شہریار مہر ضلع کونسل کے چیئرمن تھے۔ اس مرتبہ بھی غوث بخش مہراس عہدہ اپنے دوسرے بیٹے کو لانا چاہ رہے تھے۔ لیکن اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے اپنے بھائی مسیح الدین خان درانی کو چیئرمین کا عہدہ دلانے کے لئے مہر سے سمجھوتہ کرلیا۔ دوسرا سمجھوتہ یہ ہوا کہ فنکشنل لیگ کے رہنما امتیاز شیخ نے تاؤن کی چیئرمن شپ کے لئے اپنے بیٹے کو پیپلزپارٹی کے امیدوار کے حق میں دستبردار کرا دیا۔
گزشتہ مرتبہ جب پیپلزپارٹی حکومت میں اپنی آئینی مدت پوری کرنے جارہی تھی تو سندھ میں پیر پاگارا کی قیادت میں ایک بڑا الائنس بنا تھا۔ جس میں نواز لیگ، اکثر قوم پرست جماعتیں بھی شامل تھیں۔اور کچھ سندھی دانشور بھی اس دھارے میں بہہ گئے تھے۔ لیکن اس مرتبہ اس کے برعکس ہو رہا ہے۔
اگرچہ ابھی عام انتخابات میں تقریبا ڈیڑھ سال باقی ہے۔ لیکن پیپلزپارٹی کے خلاف کسی پارٹی کی بڑے پیمانے پر سرگرمی یا کسی اتحاد کے قیام کی صورتحال دور کی بات ہے، بلکہ مختلف جماعتوں کے رہنما ٹوٹ کر پارٹی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق فنکشنل لیگ کے اہم رہنما امتیاز شیخ پارٹی میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کر چکے ہیں۔ اسی طرح سے فنکشنل لیگ کے رہنما غوث بخش مہر کے بیٹے شہریار مہر جو کہ سندھ اسمبلی میں فنکشنل لیگ کے پارلیمانی لیڈر ہیں وہ بھی پیپلزپارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ نوشہروفیروز کے جتوئی اور ٹھٹہ کے شیرازی برادران سے مذاکرات چل رہے ہیں اسی طرح سے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے لاڑکانہ میں شفقت انڑ ، گھوٹکی کے نادر اکمل لغاری اور فیاض لنڈ سے بھی مذاکرات چل رہے ہیں۔
جام خاندان کے جام مددعلی فنکشنل لیگ میں ہیں لیکن امتیاز شیخ اور شکارپور کے مہروں کے بعد وہ بھی پیپلزپارٹی میں جانے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ اس ضمن میں میڈم مہتاب اکبر راشدی، اور مٹیاری کے جاموٹ برادران کے بھی نام آرہے ہیں۔ یہ سب لوگ فنکشنل لیگ سے اس وجہ سے بھی جڑے تھے کہ یہ سیاسی جماعت کے طور پر عمل کرے گی اور سیاسی رویہ رکھے گی۔ اب جب فنکشنل لیگ کا سیاسی رنگ اڑ گیا تو ا یہ سب لوگ خود کو یہاں ٖت نہیں سمجھ رہے ہیں۔
فکشنل لیگ کا دعوا ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ان کی جماعت نے ساڑھے بائیس لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے۔یہ جماعت خود کو پی پی پی کا متبادل سمجھتی ہے۔ مسلم لیگ فنکشنل کا کوئی واضح پروگرام یا منشور کبھی سامنے نہیں آیا۔ اس کی تنظیم کاری بھی جمہوری اصولوں پر مبنی نہیں۔ سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عملا یہ مریدوں کی جماعت ہے۔
فنکشنل لیگ کو گزشتہ آٹھ سال کے دوران کم از کم دو مرتبہ موقعہ ملا تھا کہ وہ سندھ میں متبادل کے طور پر آگے آئے۔ لیکن دونوں مرتبہ وہ ایسا نہیں کر سکی۔ اس نے سیاسی جماعت کے بجائے روحانی جماعت کے طور پر خود کو ثابت کیا جہاں حر جماعت کے خلیفوں کی اہمیت تھی۔ نہ پارٹی کا کوئی باضابطہ ڈھانچہ بنایا گیا۔
امتیاز شیخ ، غوث بخش مہر اور دیگر افراد یہ سمجھ کر شامل ہوئے تھے کہ یہ سیاسی جماعت کے طور پر عمل کرے گی۔ جس میں سیاسی موقف، سیاسی نقط نظر کے ساتھ ساتھ نچلی سطح پر تنظیم سازی اور فیصلہ سازی کے معاملات شامل تھے۔ لیکن یہ جماعت ایسا نہیں کر سکی۔ فنکشل لیگ اسی وجہ سے cold and mould ہوتی رہی۔ میں نے گزشتہ سال نومبر میں اپنے ایک کالم میں تفصیل سے لکھا تھا :’’کیا فنکشنل لیگ کا اب کوئی رول باقی ہے؟‘‘ ۔ یہ بات اب سچ ثابت ہو رہی ہے۔
صورتحال یہ بنی کہ فنکشنل لیگ اپنے حروں کے ضلع سانگھڑ میں بھی ضلع کونسل کی چیئرمین شپ حاصل نہ کر سکی۔ فنکشنل لیگ کی عملی طور پر وہی صورتحال بن رہی ہے جو شہری علاقوں میں مولانا نورانی کی جمیعت علمائے پاکستان کی تھی۔ یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ فنکشنل لیگ کے بانی بڑے پیر پاگارا صاحب اور مولانا نورانی دو نوں اچھے دوست تھے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی خراب حکمرانی اور دیگر شکایات انتہا پر ہیں لیکن ر زمین پر اس کی سیاسی مخالفت موجود نہیں۔
کشمیر میں انتخابی شکست اور پنجاب سمیت باقی صوبوں میں کسی بڑی توقع نہ ہونے کے بعد پارٹی قیادت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جو صوبہ ان کے ہاتھ میں ہے اس پر گرفت مضبوط کی جائے۔اسی بنیاد پر اسٹبلشمنٹ کے ساتھ معاملات اورباقی سیاست چلائی جائے۔ اس کے دو طریقے ہو سکتے تھے۔ پہلا یہ کہ براہ راست عوام سے رابطہ کیا جائے جو بھٹو اور بینظیر کا اسٹائل تھا۔ دوسرا یہ کہ electables کو قابو میں کیا جائے۔
پہلی صورت میں در در جا کر عوام سے رجوع کرنا اور براہ راست رابطہ کرنا پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت اپنے بس میں نہیں سمجھتی۔یہ زیادہ محنت، خرچ ، برادشت کا کام ہے۔ یہ کام ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹوہی کر سکتے تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری ایک نئے ڈاکٹرین کے تحت 2018 کے انتخابات لڑنا چاہتے ہیں۔ وہ ہے الیکشن بغیر اپوزیشن کے۔ یعنی جو لوگ بااثر ہیں انتخابات لڑ سکتے ہیں انہیں اپنے ساتھ ملا لیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے بعض رہنما یہ دعوا کر رہے ہیں کہ سندھ میں پیپلزپارٹی آج اتنی مقبول ہے جتنی بینظیر بھٹو کے دور میں بھی نہیں تھی۔
تحریک انصاف، نواز لیگ وغیرہ جن کا ’’ آبائی صوبہ‘‘ سندھ نہیں، سندھ میں تنظیم سازی یا پارٹی کا سرگرم وجود ان کی ترجیح نہیں۔ یہ
جماعتیں پیپلزپارٹی کے مخالف شخصیات یا انفرادی طور پر بعض افرادپر تکیہ کرتی رہیں۔لہٰذا ن وجود صوبے میں خال خال ہی ہے۔ نیتجے میں سندھ کے اس جنگل میں اب پیپلزپارٹی اکیلے شیر ہے۔ اب سندھ میں پیپلزپارٹی کی بادشاہت قائم ہو رہی ہے جس میں پارٹی کی پالیسیاں او ر حکمت عملی کے بجائے دیگر پارٹیوں کی کوتاہیوں کا عمل دخل زیادہ ہے۔
No comments:
Post a Comment