Monday, November 13, 2017

کراچی کی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی

Nai Baat Nov 10, 2017
میرے دل میرے مسافر     سہیل سانگی

کراچی کی سیاست میں ایک بار پھر ڈرامائی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ مہاجر نعرے پر کام کرنے والی دوجماعتوں ، ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی نے کھل کر ساتھ چلنے کا اعلان کردیا ہے۔ 1984 میں مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے مہاجروں کے حقوق کے نام پر قائم ہونے والی جماعت نے پہلے متحدہ قومی موومنٹ کا روپ لیا۔ اس میں پہلی دھڑے بندی نوے کے عشرے میں ہوئی جب آفاق احمد اور عامر خان کی قیادت میں ایک گروپ نے ایم کیو ایم حقیقی میں گروپ بنایا۔اس کے بعد کئی متوازی رجحانات اور گروپ اندرون خانہ چلتے رہے۔

 کراچی میں 2013 میں شروع ہونے والے حالیہ آپریشن کے بعد اس توڑ پھوڑ میں اضافہ ہوا۔ فاروق ستار کی قیادت میں ایک بہت بڑے حصے نے ایم کیو ایم پاکستان کا قائم کرنے اور لندن سے علحدگی کا اعلان کیا۔ تین جون 2016 کو مصطفیٰ کمال نے وطن واپسی پر ایم کیو ایم چھوڑ کر نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ دونوں جماعتیں متوازی چلتی رہی، اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتی رہی۔ فاروق ستار کی قیادت میں چلنے والی ایم کیو ایم تمام تر اعلانات اور بیانات کے باوجود خود کو الگ ثابت نہیں کر سکی۔ سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر یہ بحث چل رہی ہے کہ جنہوں نے ایم کیو ایم کو توڑا تھا اب واپس اس وک جوڑ رہے ہیں۔ 

گزشتہ دنوں سے فاروق ستار کے بیانات لگ رہا تھا کہ این پر سخت دباﺅ ہے۔ حکمت عملی کے حوالے سے ان کا آخری بیان یہ تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے منتخب اراکین کو پی ایس پی میں شامل کرایا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اگر برابری کی بنیاد پر کھنے دیا جائے تو ان کی قیادت میں چلنے والا گروپ زیادہ طاقتور ہے۔ ان کے اس بیان سے لگتا ہے کہ وہ کراچی کی سیاست میں نئی صف بندی میں اپنا حصہ زیادہ مانگ رہے تھے اور بالادستی چہاتے تھے۔ لیکن ان کی شاید ایک بھی نہیں مانی گئی۔ اس کے جواب میں مصطفیٰ کمال کا یہ موقف شیاع ہوا کہ اب ایم کیو ایم کا نام بھی نہیں رہے گا۔ 
ایم کیو ایم پاکستان کے بعض رہنماﺅں نے نجی محفلوں میں یہ بھی کہا کہ ہمیں واضح طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ اگر نام اور جھنڈہ ت تبدیل نہیں کریں گے تو ہمارے سب لوگ پی ایس پی میں چلے جائیں گے۔ ہر حال میں نام بدل کر نئی پارٹی بنانی پڑے گی۔بلدیہ فیکٹری کے آتش زدگی کے واقعہ کے ایک ملزم محمد حماد کی گرفتاری نے بھی ڈرا دیا۔
 کراچی کے ڈپٹی میئر ارشد وہرا کی پاک سر زمین پارٹی میں شمولیت کے بعد ایم کیوایم پاکستان اور پی ایس پی رہنماﺅں کے بیانات میں شدت آگئی تھی، یہ بیان بازی اتنی بڑھی کہ گزشتہ روز پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا تھا کہ اعلانیہ کہہ رہاہوں کہ ایم کیوایم کو دفن کرنا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان پہلے خفیہ رابطے بھی چلتے رہے۔ مختلف آپشنز بھی زیر غور رہے یعنی انضمام ہو کہ اتحاد ہو؟ یا مل کر کوئی نئی پارٹی بنائی جائے؟ 

 متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس میں پاک سرزمین پارٹی سے مفاہمتی پالیسی پر چلنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں فاروق ستار نے نیا سیاسی منصوبہ رابطہ کمیٹی کے سامنے رکھ دیا ہے ،جس کے مطابق پہلے مرحلے میں سیاسی اتحاد پھر انضمام کیا جائے گا۔سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہ کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ فاروق ستار نے پاک سرسبر پارٹی کے ساتھ چلنے کا تو فیصلہ کر لیا۔ لیکن خود ان کی پارٹی میں سب کچھ صحیح نہیں۔ 
ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینر عامر خان کہتے ہیں کہ صورت حال سامنے آئی ہے اس پر تشویش ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو طے ہوا تھا وہ یہ نہیں تھا، صورتحال اس سے مختلف ہے۔ مطلب فاروق ستار اور دیگر کو مذاکرات کے لیے جو مینڈٹ دیا گیا تھا وہ اس فیصلے سے مختلف تھا۔ 
متحدہ اور پی ایس پی کے ایک ہونے پر شبیرقائم خانی اور کشور زہرہ ناراض ہو کر اجلاس چھوڑ کر چلے گئے، جبکہ ایم این اے علی رضاعابدی نے ایم کیوایم پاکستان چھوڑنے اور ایم این اے کی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کردیا۔ایم کیو ایم رہنما شبیر قائم خانی کا نارضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ سب کرنا تھا تو پہلے ہی کردیتے۔
 پی ایس پی کا دعوا ہے کہ انہوں نے ایم کیوایم سے نہیں بلکہ ایم کیوایم نے پی ایس پی سے رابطہ کیا ہے۔ پی ایس پی کو ایم کیو ایم کا نام کسی صورت قبول نہیں ہے لیکن فوری انضام بھی مناسب نہیں سمجھتی۔ یعنی معاملات مرحلیوار طے ہوں۔
 ایم کیو ایم لندن اس اتحاد کو ایم کیو ایم ختم کرنے کی سازش سمجھ رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 23 اگست کا فاروق ستار نے اعلان ایم کیو ایم کو بچانے کے نام پر کیا تھا ۔ لیکن اب بات کہاں جا پہنچی ہے؟
سوال یہ ہے کہ دونوں جماعتیں اگر انضمام کی طرف جاتی ہیں تو قیادت کون کرےگا؟ یہ ایک متنازع معاملہ ہے۔ کیونکہ کوئی بھی گروپ دوسرے گروپ کے لیڈر کی قیادت میں چلنے کے لئے تیار نہیں۔ 
سندھ کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد اور ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے ا نام ٹاپ لسٹ پر ہیں۔ عشرت العباد گورنری کے عہدے سے متسعفی ہونے کے بعد دبئی میں رہائش پزیر ہیں۔عشرت العباد نے ماضی میں مختلف جماعتوں کو ایک میز پر بٹھانے کی کوشش کی تھی تاکہ ان میں ہم آنگی پیدا ہو۔ لیکن وہ فی لاحال اس صورتحال سے خود کو لاتعلق ظاہر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دونوں جماعتوں میں کسی سے بھی رابطے میں نہیں، البتہ ان دونوں پارٹیوں میں ہی اچھے لوگ موجود ہیں۔ وہ اس اقدام کو بہرحال مثبت سمجھتے ہیں انہیں امید ہے کہ ملک اور شہر کے لیے مثبت اور مل کر کام کریں آپس میں لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔سابق گورنر سندھ فی الحال ممکنہ قیادت کے لیے ذہنی طور پر آمادہ ہی نہیں ہوں۔ وہ ایم کیو ایم حقیقی کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے یہ دونوں پارٹیاں حقیقی کو نہ بھی ساتھ ملائیں تو بھی ورکنگ ریلیشن شپ توہو ہی سکتی ہے۔
 ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو سب سے زیادہ خوشی ہے۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے دونوں گروپوں کے ایک ساتھ ہونے پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔ ملک میں ان کے خلاف زیر سماعت مقد مات کے باوجود آج کل بیرون ملک ہیں۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں ایم کیو ایم کو مضبوط کیا تھا۔ ان کے ترجمان کے ذریعے موقف سامنے آیا ہے ۔ کہ جنرل ریٹائر مشرف کی اپنی پارٹی ہے، وہ اس پر توجہ دے رہے ہیں،قیادت عوام کی خواہش پر کی جاتی ہے۔ مہاجروں کے اتحاد پرخوشی ہے، ہمدردی ایم کیوایم کےساتھ نہیں مہاجروں کےساتھ ہے،مہاجر قوم کو اکٹھاہوکر ایک نئی طاقت کو ابھر کر سامنے آنا چاہیے۔ 
وہ سمجھتے ہیں کہ ایم کیو ایم نا اپنے آپ کوپاکستان بھرمیں بدنام کر دیا ہے، اس کا کوئی سیاسی مستقبل نظر نہیں آتا۔انہوں نے دونوں متحد ہونے والی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ دیہی سندھ میں اپنی طاقت کوابھاریں، پیپلز پارٹی کو ہرا کر حکومت بنا سکتے ہیں۔
یعنی عشرت العباد اور پرویز مشرف دونوں مہاجروں کا بڑا اتحاد چاہتے ہیں اور ایم کیو ایم کے نام اور کام سے وابستہ پرانا بوجھ اٹھانا نہیں چاہتے۔ لہٰذا نام میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ ان کے خیالات پی ایس پی کے مصطفیٰ کمال سے ملتے ہیں۔جنہوں نے مہاجر سیاست کی بنیاد پر کراچی سے باہر صوبے اور ملک میں سیاسی رول ادا کرنے کی بات کی ہے۔

ایم کیو ایم کے سابق رہنما سلیم شہزاد نے کہا ہے کہ فاروق ستار، مصطفیٰ کمال اور آفاق احمد ایک ہوجائیں ورنہ مہاجروں کا مینڈیٹ تقسیم ہو جائے گا۔وہ آج کل مہاجر اتحاد تحریک کے چیئر مین سلیم حیدر کے ہمراہ ہیں۔ کراچی کی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے وہ آئندہ چند روز میں مہاجر الائنس کے اتحاد کیلئے گرینڈ مہاجر کنونشن بلا رہے ہیں۔ 
ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کا یہ اتحاد آگے چل کر کیا شکل اختیار کرتا ہے؟ اور مہاجر نام پر کی جانے والی سیاست میں مزید کیا پیچ وخم آنے والے ہیں۔ ابھی تک کچھ واضح نہیں۔ 
اگرچہ پیپلز پارٹی ی کا فوری ردعمل ہی ہے کہ ایم کیو ایم کے دھڑے مل جائیں تو اچھا ہوگا۔ لیکن ریٹائرڈ جنرل مشرف یہ مشورہ اہم ہے کہ دیہی سندھ میں اپنی طاقت کوابھاریں، پیپلز پارٹی کو ہرا کر حکومت بنا سکتے ہیں۔یا مصطفٰ کمال کا یہ کہنا کہ مہاجر متحد ہوں تو ویزراعلیٰ کیا وزارت عظمیٰ کا بھی عہدہ لے سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ لیا جارہا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف گرپوں کو کٹھا کر کے شہری سیاست کے نام پر بننے والی نئی تنظیم کے ساتھ مل کر حکومت بنائی جائے۔ یہ کوئی نیا فارمولا نہیں۔ لیکن اسٹبلشمنٹ اس فارمولے کو نئی شکل میں آزما سکتی ہے۔

Sohail Sangi Column 
Nai Baat Nai Baat Nov 10, 2017


No comments:

Post a Comment