Friday, November 24, 2017

سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں لانے کی ضرورت

Dharna, PMLN, Faizabad,

Column  Sohail Sangi
Nai Baat Nov 24-11-2017
سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں لانے کی ضرورت 

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی


وزیراعظم کو ناہل قرا دے دیا گیا ہے۔احتساب عدالت میں زیر سماعت مقدمات اپنی جگہ پر، ان کی پارٹی کو ان سے الگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ حکمران جماعت نواز لیگ سیاسی جماعتوں کے قانون میں پارلیمنٹ سے ترمیم کراکے اس قدم کو روک چکی ہے۔ ایک بار پھر ناکام کوشش ہوئی کہ اس ترمیم کو ختم کرکے نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے روکا جائے۔ 
یہ ترمیم گزشتہ روز پیپلزپارٹی اور دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں پیش کی تھی۔ نااہل قرار پانے کے بعد نواز شریف نے عدالتی فیصلے اور عمران خان کی سیاسی مقبولیت کے مظاہروں کا توڑ جی ٹی روڈ کا راستے لاہور جانے کے سفر کے ذریعے نکالا۔ مقتدرہ حلقوں اور اپنے مخالفین کو یہ پیغام دیا کہ وہ عوام میں اب بھی مقبول ہیں۔
دوسرا پیغام پارلیمنٹ کے ذریعے دیا جہاں نااہلی کے باوجود پارٹی کا عہدہ رکھنے سے متعلق ترمیم منظور کرائی۔ چاہے آپ سابق وزیراعظم کی سیاست سے اختلاف رکھتے ہوں لیکن یہ دونوں سیاسی راستے تھے۔ ان دو اقدامات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سیاسی طور پر انہیں شکست نہیں دی جا سکی ہے۔ اس کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسی پس منظر میں فیض آباد کا دھرنا ہے۔
فیض آباد کا دھرنا دو چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اول یہ کہ اگر نواز شریف عوام سے بارہ راست رجوع کر سکتے ہیں تو کسی جذباتی نعرے پر ان کا اس طرح بھی راستہ روکا جاسکتا ہے۔ اور پارلیمنٹ اور اس کے فیصلے کو ایک طرف رکھا جاسکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ سابق وزیراعظم اور ان کی پارٹی جس طرح سے ملک کی تجارتی اور خارجہ پالیسی خاص طور پر پڑوسی ملک سے تعلقات کے حوالے سے اختیار کرنا چاہتی ہے اس کے آگے بھی بند باندھا جاسکتا ہے۔ اور ملک میں مذہبی اور جذباتی ماحول بنا کر اس کو اس طرح کی پالیسیوں سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ 
ملک کا حالیہ بحران جس نہج پر پہنچا ہے اس کو حل کرنے کے ماہرین چار نسخے تجویز کر رہے ہیں۔ اول یہ کہ تمام معاملات منتخب ادارے یعنی پارلیمنٹ کے ذریعے حل ہوں۔ دوسرا یہ کہ عوام سے رجوع کیا جائے۔ یعنی احتجاجی سیاست۔ تیسرا یہ کہ کوئی عدالتی حل ڈھونڈھا جائے۔ چوتھا فوج کی مداخلت ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان تینوں نسخوں میں بالآخر بات دیر یا سویر انتخابات کرانے پر جاتی ہے۔ 
درحقیقت آئین، پارلیمنٹ اور جمہوریت پر یقین کا اظہار ہیں۔آج کے اطلاعاتی اور ٹیکنالاجی کے دور میں اگر کوئی یہ سمجھتاہے کہ کروڑوں عوام کے منتخب ادارے پر کسی اور ادارے یا مخصوص افراد کو مسلط یا حاوی کیا جاسکتا ہے تو یہ عملا ممکن نہیں اور دیرپا بھی نہیں۔ 
وزیر اعظم پر دباؤ ہے کہ وہ عدالتی فیصلے پر عمل کرائیں۔ لیکن صورتحال ایسی بنائی گئی ہے کہ حکومت کے لئے یہ دھرنا نہ نہ نگلنے کی اور نہ نکالنے کی چیز ہو گئی ہے۔ 
سنیئر مسلم لیگی رہنما ر ظفرالحق رپورٹ کی رپورٹ آنے کے بعد اس ضمن میں مطالبے کا اب کوئی جواز نہیں۔ رپورٹ میں میں کہا گیا ہے کہ ہے کہ کاغذاتِ نامزدگی سے متعلق شق میں تبدیلی کا فیصلہ پہلے 16رکنی ذیلی کمیٹی نے اور پھر 34رکنی پارلیمانی کمیٹی نے کیا اور پھر ایوان نے منظوری دی۔ یہ کسی فردِ واحد کا کام نہیں تھا ۔ کیا پوری پارلیمنٹ کو غلط قرر دیا جاسکتا ہے؟ اب تو عدالتِ عظمیٰ بھی یہ کہہ رہی ہے کہ یہ کونسا دین ہے جو لوگوں کو تکالیف پہنچانے راستے بند کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ 
ایک اور تبدیل رونما یہ ہوئی ہے کہ سپریم کورٹ نئے نتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء کیخلاف دائردرخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کردیئے، چیف جسٹس نے نااہل شخص کی پارٹی سربراہی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقررکرنیکا حکم دیدیا۔ اس سے قبل ۔ انتخابی اصلاحات ایکٹ2017ء کیخلاف دائر پیپلز پارٹی، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید سمیت مختلف افراد کی جانب سے دائر9درخواستوں رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگا کر ہدایت کی تھی کہ درخواست گذارمتعلقہ فورم سے رجوع کریں۔ 
بعد میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے اپنے چیمبرمیں کی اور ہدایت کی کہ درخواستوں کو3رکنی بنچ کے سامنے سماعت کیلئے مقررکیا جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ان درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کھلی عدالت میں ہوگا۔
مردم شماری کے بعد نشستوں کی تقسیم اور حلقہ بندیوں کا معاملہ ضرری ہو گیا ہے۔ چونکہ سیاسی تناؤ اور صف بندی کی وجہ سے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں حل نہیں ہو پارہا ہے۔ قومی اسمبلی سے اس بل کی منظوری کے بعد لیکن مطلوبہ اعداد (دو تہائی اکثریت) نہ ہونے کی وجہ سے اسے سینیٹ نہیں بھیجا جا رہا۔ واضح رہے کہ سنیٹ میں حکمران جماعت نواز لیگ کو اکثریت حاصل نہیں۔
اب یہ معاملہ عدالت میں پہنچ چکا ہے ۔ یہ ایک اور کوشش ہے کہ سیاسی معاملہ سیاسی جماعتوں یا پارلیمنٹ کے اندر حل کرنے کے بجائے عدالیہ کو زحمت دی جارہی ہے۔ جس سے پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ بعض ماہرین اس بات کی وکالت کر رہے ہیں کہ مردم شماری کے نتائج کو فی الحال نہ چھیڑا جائے اور عدالت کے ذریعے یہ فیصلہ لیا جا ئے کہ موجودہ پارلیمنٹ کی مدت میں اضافہ کیا جائے یا پھر عبوری حکومت کی مدت میں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے مجوزہ حل کوقبول نہ کیا گیا تو آئندہ عام انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ 
موجودہ پارلیمنٹ کی مدت میں اضافہ بظاہر حکمران جماعت نواز لیگ کے حق میں نظرآتا ہے، لیکن کیا یہ جماعت مزید عرصے تک اپوزیشن کا مسلسل دباؤ برداشت کرتے ہوئے اپنی مقبولیت برقرار رکھ سکے گی؟ اس اضافی مدت میں مزید کیا کیا تبدیلیاں ہونگی؟ یہ سب کچھ تاحال ڈبے میں بند ہے۔ اگر عبوری حکومت کی مدت میں اضافہ کیا جاتا ہے ، یہ معاملہ کسی بھی طور رپ نواز لیگ کے حق میں نظر نہیں آتا۔ ویسے بھی عبوری حکومت طویل عرصے تک کسی مینڈیٹ اور مکمل اختیارات کے ساتھ رکھی جائے گی، اگر مینڈیٹ ہوگا تو اس کو کئی سخت فیصلے کرنے کے لئے کہا جائے گا۔ کیا ہم اہم فیصلے چاہے سخت ہو یا نرم ایک غیر منتخب حکومت کے ذریعے کرانے جارہے ہیں؟ 
آئین کے ا مطابق قومی اسمبلی میں نشستیں مردم شماری کے حتمی نتائج کے تحت آبادی کی بنیاد پر ہر صوبے، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات اور دارالحکومت کیلئے متعین کی جائیں گی۔ محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ عبوری نتائج کے پیش نظر ضروری ہوگیاہے کہ وفاقی وحدتوں میں آبادی کے لحاظ سے تبدیلیاں کی جائیں تاکہ قومی اسمبلی اور ساتھ ہی صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی تعداد میں اضافہ یا ان کی ری ایلوکیشن کی جا سکے۔ اس وجہ سے حلقہ بندیاں بھی ازسرنو ہونی ہیں۔ جس کے لئے مطلوبہ قانون سازی کی ضرورت ہے۔ 
اس وقت حکومت اور اپوزیشن جماعتیں بالخصوص پیپلز پارٹی ملک میں مقررہ وقت پر آ ئندہ عام انتخابات چاہتی ہے۔ لیکن پیپلزپارٹی سنیٹ میں اکثریت کا سیاسی فائدہ لینا چاہتی ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ بلامشروط آصف زرداری سے ہاتھ ملانے کو تیار ہوں۔ اگرچہ انہیں شکوہ ہے پیپلزپارٹی نے عدالتوں سے ناہل قراردیئے گئے شخص کوپارٹی صدارت سے روکنے کا بل اسمبلی میں لانے پر تحریک انصاف کا ساتھ دیا۔ سیاسی معاملات سیاسی پلیٹ فارم سے ہی طے ہونے چاہئیں۔ اس امر کو سیاسی جماعتوں، عدلیہ سمیت ملک کے اہم داروں کو بھی یقینی بنانا چاہئے۔ کیونکہ ملک کے اندر سیاسی نظام کو بنانے یا از سرنو ترتیب دینے میں انکا کردار اہم ہوتا ہے۔ 
سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب کے حالیہ بیان کو اسی حوالے سے لیا جاسکتا ہے۔ اس سے سیاسی معاملات واپس پارلیمنٹ میں آسکتے ہیں۔ لہٰذا پیپلزپارٹی کو بھی چاہئے کہ وہ اس کا مثبت جواب دے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ سیاسی بحران سے نکلنے کے باقی نسخے مثلا عوام سے رجوع کرنا یعنی احتجاجی سیاست۔ کوئی عدالتی حل ڈھونڈنا۔ یا فوج کی مداخلت کبھی بھی ملک اور قوم کے مفاد میں کارگر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔
Column  Sohail Sangi
Nai Baat Nov 24-11-2017 
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/52490/Sohail-Sangi/Siyasi-Moamlat-Parliament-Mein-Lane-Ki-Zaroorat.aspx 

Kawish Nov 24, 2017

No comments:

Post a Comment