Monday, November 6, 2017

نواز لیگ کا لندن پلان

Nai Baat Nov 2, 2017

نواز لیگ کا لندن پلان 
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے لندن میں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی سمیت ساتھ وزراء کے ساتھ ایک اہم میٹنگ میں پارٹی اور حکومت کو درپیش مسائل یہاں تک کہ آئندہ انتخابات تک کا خاکہ بھی ترتیب دے دیا گیا ہے۔بظاہر مائنس ون فارمولا کو کسترد کردیا ہے۔ تاہم اس کی پیش بندی کے طور پر حکمت عملی میں آپشن رکھے گئے ہیں۔ 


دلچسپ امر یہ ہے کہ دو روز کے بعد سابق وزیراعظم واپس وطن آرہے تھے جہاں انہیں احتساب عدالت میں پیش ہونا ہے۔ عدالت نے ان کے قابل گرفتاری وارنٹ جاری کئے ہوئے ہیں۔ لیکن انہوں نے ملک کے اندر پارٹی رہنماؤں سے اجلاس یا مشورہ کرنے کے بجائے بیرون ملک لندن میں حکمت عملی سے متعلق اہم فیصلے کئے۔ اس مقصد کے لئے وزیراعظم اور دیگر اہم رہنماؤں کو لندن طلب کیا تھا۔ انہوں نے ملک کے اندر شاید اہم معاملات پر مشورہ کرنا نامناسب یا غیر محفوظ سمجھا۔ یا پھر یہ کہ ان کے ذہن میں احتساب عدالت میں فی الحال ھاضر نہ ہونے کا آپشن تھا۔

سیاسی اصطلاحات بنانے والوں اور ان اصطلاحات کو معنی پہنانے والے نواز لیگ کے اس اجلاس کو لندن پلان کا نام دے رہے ہیں۔

شکر کریں کہ یہ اجلاس پنجاب سے تعلق رکھنے والی پارٹی اور ان کے رہنما کر رہے ہیں۔ اگر سندھ بلوچستان یا خیبر پختونخوا کے رہنما لندن میں اس طرح کا اجلاس کرتے تو انہیں دن میں تارے نظر آجاتے۔ لندن ماضی میں بھی پاکستانی سیاسی رہنماؤں کا ٹھکانہ رہا ہے۔ جہاں وہ مل کر مختلف وقتوں میں ملکی سیاست سے متعلق مختلف فیصلے کرتے رہے ہیں۔ ساٹھ کے عشرے میں نیشنل عوامی پارٹی پر لندن پلان کا الزام لگا کر اسکے رہنماؤں کو ملک دشمن قرار دیا گیا۔ شیخ مجیب الررحمان کے خلاف قائم کئے گئے اگرتلہ سازش کیس کے ایک حصے کا تعلق بھی لندن کی ایک میٹنگ سے بتایا گیا۔

ممتاز بھٹو اور حفیظ پیرزادہ نے کنفیڈریشن کا تصور بھی لندن میں بیٹھ کر دیا۔ اور اس مقصد کے لئے سندھی بلوچ پشتون محاذ بنایا۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ محاز اڑان بھی نہ کر سکا۔

ایم کیو ایم کے رہنما ایک عرصے تک لندن سے ہدایات حاصل کرتے رہے۔ 
مشرف دور میں محترمہ بینظیر بھٹو نے نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت کا معاہدہ بھی لندن میں کیا تھا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں لندن کی ہمیشہ بڑی اہمیت رہی ہے۔ نہیں معلوم، سیاست دان لندن میں خود کو زیادہ آزاد محسوس کرتے ہیں یا ان کی تخلیقی صلاحیتیں زیادہ کام کرتی ہیں۔ یہاں وہ شاید آزادی سے گھوم پھر سکتے ہیں، آپس میں بغیر روک ٹوک اور جواسوسی کے مل سکتے ہیں آزادی سے سوچ سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ انہیں یہ سب ماحول یہاں اپنے ملک میں میسر نہ ہوتا ہو۔
بہرحال نواز لیگ کے اس اجلاس کو ہم لندن پلان نہیں سمجھتے۔ میڈیا کیا طلاعات کے مطابق حکمران جماعت کے سرکردہ رہنماؤں نے اس اجلاس میں میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں جاری مقدمات، اور ان مقدمات کے امکانی فیصلوں، پارٹی کے ساتھ اسٹبلشمنٹ کی روش، مجموعی سیاسی صورتحال، ملک کی سیاسی و غیر سیاسی حلقوں کی موجودہ اور امکانی موقف اور حمت عملیوں پر غور کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں پارٹی کی قیادت کے حوالے سے بھی غور و فکر کیا گیا۔ کاص طور پر سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کے نیویارک ٹائیمز میں حال ہی شایع ہونے والے انٹریو کے بارے میں بھی غور کیا گیا جس میں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ ان خاتون کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر نظر ہے۔

مریم کے انٹرویو پر شریف خاندان اور پارٹی کے حلقوں میں بے چینی پائی گئی۔ اس بے چینی کا اظہار اس شکل میں کیا جارہا تھا کہ مریم نواز کے بیانات اور پالیسی پارٹی کو ملک کے بعض اہم اداروں سے محاذ آرائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ جس کا پارٹی کو نہ موجودہ ھالات میں فائدہ ہے اور نہ ہی آنے والے وقت میں۔ لہٰذا اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مصالحت کی پالیسی اپنائی جائے۔ 
لندن اجلاس کے غیر سمی طور پر جو فیصلے سامنے ؤئے ہیں ان مندرجہ ذیل نکات میں سمیٹا جاسکتا ہے:

(۱) میاں نواز شریف واپس وطن لوٹیں گے اور آکر مقدمات کا سامنا کریں گے۔ (۲) پارٹی اسٹبلشمنٹ اور دیگر اداروں کے ساتھ مھاذ آرائی کی پالیسی ترک کر دے گی۔ اس کے بجائے اپنی نظر آئندہ انتخابات پر رکھے گی۔ (۳) شہباز شریف کو اجازت دی گئی کہ وہ مقتدرہ حلقوں سے مصالحت کی پالیسی پر گامزن ہوں۔ (۴) آئندہ انتخابات کے بعدشہباز شریف کو وزیراعظم بنایا جائے۔
ابھی تک اس اہم اجلاس کے جو فیصلے سامنے آئے ہیں ان سے لگتا ہے کہ درمیانی راستہ کے حامیوں کے خیال کو مانا گیا ہے۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ پر ہے کہ پارٹی کی باگ دوڑ بدستور میاں نواز شریف کے پاس ہی ہے۔ نواز شریف پارٹی کے صدر رہیں، یہ امر نہ صرف نواز شریف کے لئے بلکہ پارٹی کے لئے بھی فائدمند ہے۔ کیونکہ ان کی قیادت میں پارٹی میں موجود مختلف لابیاں اور رجحانات متحد ہیں۔ اور پارٹی کے اندر اقتدار کی رسہ کشی کا معاملہ نہیں۔
 دوئم یہ کہ آئندہ انتخابات میں نواز شیرف کی مظلومیت پر ہمدردی کا ووٹ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل صرف پیپلزپارٹی ہی مظلومیت اور ہمدردی کا ووٹ لیتی رہی ہے لیکن اب اس تقسیم میں نواز لیگ بھی شریک ہو جائے گی۔

ویسے مصلحت پسندوں اور درمیان راستہ کے حامیوں کو ووٹ ملنے پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ خواہ یہ ووٹ کسی بھی طرح سے ملیں؟ لہٰذا پارٹی کی حکومتی کارکردگی کے ساتھ ایک اور کشش مل جائے گی۔
ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کے متنازع بیانات کے باوجودنواز شریف اگرعدالت اور سیاست کے میدان میں موجود ہیں ، ایسے میں مجموعی طور پر یہ تاثر بنتا ہے کہ نواز شریف جمہوریت اور سولین بالادستی کے لئے کھڑے ہیں۔ لہٰذاجمہوریت پسند کہلانے والے بھی نواز شریف کو ووٹ دیں گے۔ 
لیکن عملی طور پر صورتحال اتنی بھی سادہ نہیں۔ بعض مقامات پر رولا موجود ہے۔ اگر احتساب عدالت سابق وزیر اعظم کو سزا سنا دیتی ہے تو پھر کیا ہوگا؟ پارٹی کے لئے مشکل ہو جائے گا کہ وہ ایک سزا یافتہ رہنما کی قیادت میں الیکشن میں جائے۔ لیکن پارٹی کے پاس بظاہر کوئی اور آپشن بھی نہیں۔ 
یہ درست ہے کہ جب تک احتساب عدالت کا فیصلہ نہیں آتا، پارٹی اور حکومتمیاں صاحب کے کنٹرول میں ہیں۔ اگر انہیں سزا لگ جاتی ہے تو صورتحال تبدیل ہو جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مقتدرہ حلقوں کی برہمی ختم نہیں ہوئی ہے۔

یہ صورتحال وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے لئے بڑا ماتحان ہوگا۔ ایک طرف وہ بطور وزیراعظم اپنے اختیارات کرنا چاہیں گے۔ دوسری طرف ان پر میاں صاحب کی طرف سے دباؤ ہوگا۔ اس سے بھی زیادہ دباؤ اسٹبلشمنٹ کی طرف سے ہو گا، جو چاہے گی کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نواز شریف کے دائرہ اثر سے نکل کر فیصلے کریں۔

نواز لیگ کی اس غیر اعلانیہ حکمت عملی کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ پارٹی ایک ہی حکمت عملی پر کھڑی ہو گئی ہے۔ اور اسی پر عمل پیرا رہے گی۔ مثلا شہباز شریف کے ذمے جو مصالحت کے حوالے سے ٹاسک دیئے گئے ہیں ان میں کیا پیش رفت ہوتی ہے؟ اس حکمت عملی پر سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں کا کیا ردعمل اور اور جوابی حکمت عملی ہے؟
ایک اہم فیکٹر خو دعدلیہ بھی ہے۔
یہ صحیح ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف سیاسی فضا پر چھائے رہے گے۔ ہاں یہ بھی ہوگا کہ عدالتی کارروائی اور اس کے فیصلہ کا بھی سیاسی منظر سایہ پڑتا رہے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ میاں نواز شریف، ان کے نامزد کردہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، اور شہباز شریف کس کاریگری کے ساتھ پورے گیم کو اپنے حق میں کر سکتے ہیں؟ اور پارٹی کی حکومت کو جون میں متوقع انتخابات تک کے جا سکتے ہیں ۔ اپنے لئے موزون نگراں حکومت تشکیل دے کر انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

Nawaz League's London Plan ..  Nai Baat Nov 2, 2017  .. Sohail Sangi

No comments:

Post a Comment