Monday, November 6, 2017

سندھ میں کرپشن پر نیب کی از سرنو کارروائی


 سندھ میں کرپشن پر نیب کی از سرنو کارروائی 
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

سابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کی عدلیہ کی حدود سے ”ڈرامائی“ گرفتاری جس کے کچھ منظر ٹی وی کی اسکرین پر بھی دکھائے گئے تھے اس نے یہ پیغام دیا ہے کہ اب نیب سندھ میںکرپشن کے الزامات میں ملوث اہلکاروں و عہدیداران کے خلاف کارروائی کرنے جا رہی ہے۔ شرجیل میمن کی گرفتاری پونے چھ ارب روپے مالیت کی اشتہاری مہم میں کرپشن کا کیس ہے جس میں سیکریٹری اطلاعات بھی شامل ہیں۔ 

ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے گریڈ 17 میں 42 سے زائد انفرمیشن افسران کی بھرتی نہ صرف سندھ پبلک سروس کمیشن کو ایک طرف رکھ کر کی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی۔ بلکہ امیدواروں کی اہلیت ماس کمیونیکشن یا جرنلزم کی ڈگری کے بجائے سوشل سائنسز رکھی اور اشتہار ڈمی اخبارات میں شایع کرایا۔ان بھرتیوں نہ صرف ان کے بعض رشتہ دار بلکہ بعض
 وزراءاور اسمبلی ممبران کے رشتہ داروں کو بھی نوازا گیا۔ 

بتایا جاتا ہے کہ پلان یہ تھا کہ انفرمیشن ڈپارٹمنٹ میں 17 گریڈ میں بھرتی کے بعد، ترمیم شدہ سندھ سول سروسز ایکٹ کے تحت انہیں بعض چکنے محکموں میں منتقل کردیا جائے گا۔لیکن متاثرہ امیدوار عدالت میں چلے گئے تو معاملہ رک گیا۔

 رواں سال ان انفرمیشن افسران کو حرفت بازی کے ذریعے مستقل کردیا گیا۔ اگرچہ اس معاملے میں چار سے زائد درخواستیں سندھ ہائی کورٹ کے کراچی، حیدرآباد اور سکھر بینچوں میں تاحال موجود ہیں جنہیں نمٹائے بغیر سندھ حکومت نے یہ اقدام اٹھایا ہے۔
 شرجیل میمن کی گرفتاری کے بعد سندھ حکومت کے ایک ہزار کے لگ بھگ افسران سخت پریشان ہیں۔ کیونکہ ان پر نیب یا صوبائی محمکہ انسداد رشوت ستانی کے انکوائریز اور مقدمات ہیں۔ احتساب عدالت ملیر کراچی نے 77 ایکڑ زمین غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے کے الزام میں ڈپٹی کمشنر شوکت جوکھیو سمیت ساتھ افسران کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔
 ایک میگا کرپشن بینظیر بھٹو ہاو ¿سنگ اسکیم میں بھی کی گئی۔ اس اسکیم کے تحت دو مرحلوں میںہر سال چھ ہزار بے گھر افراد کو گھر تعمیر کر نے تھے۔ معاملہ وزیراعلیٰ سندھ تک پہنچا تو انہوں نے رپورٹ طلب کی۔ وزیراعلیٰ کو پیش کی گئی رپورٹ میں سیاسی سفارش پر گھر تعمیر کے دینے کی تصدیق ہوئی۔

 رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس اسکیم میں بہت بڑی کرپشن ہوئی ہے اور پیسے بٹورے گئے ہیں۔ ٹھٹہ، سجاول، بدین اور دادو میں غیر معیاری گھر تعمیر کئے گئے ہیں۔ مختلف اضلاع میں وڈیروں نے اپنے کارندوں اور منظور نظر لوگوں کو گھر دیئے ہیں۔ جو اب بطور اوطاق کے استعمال ہو رہے ہیں۔ افسران اور سیاسی شخصیتوں نے گھروں کی تعمیر کے میں مبینہ طور کرپشن کی ہے۔
یہ معاملہ رواں سال جولائی میں سامنے آیا تھا۔ نیب اس معاملے میں ہاتھ نہیں ڈال سکی کیونکہ سندھ حکومت نے صوبائی نیب کا قانون پاس کرلیا تھا۔ بہرحال سندھ کے لوگ انتظار میں ہیں کہ بینظیر بھٹو کے نام پر قائم کی گئی غریب لوگوں کو گھر تعمیر کر کے دینے کی اس اسکیم کرپشن کے بارے میں مزید کیا اقدامات اٹھائے گئے؟
 سندھ حکومت عمومی طور پرکرپشن کی کہانیوں کو مخالفین کی پروپیگنڈہ قرار دے کرمسترد کرتی رہی ہے۔ سینکڑوں ایسے افسران اور اہلکار ہیں جنہوں نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کیا۔ لہٰذاکرپشن کے ذریعے کمائی کے کچھ حصے کی نیب کو ”رضاکارانہ“ ادا کرنے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔عدالت نے کرپشن کرکے ” یوں رضاکارانہ ادائگی“ کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر برہمی کا بھی اظہار کیا تھا۔ نیب کو کرپشن کے ذریعے ہڑپ کی گئی رقم کی”رضاکارانہ طور“ پرواپسی اور عدلیہ کے نوٹس لینے نے پریشانی پیدا کردی۔

 صوبائی حکومت نے ان افسران کو ملازمین ملازمت سے فارغ کرنے یا ”ہلکا ہاتھ رکھنے “اور کارروائی نہ کرنے کے حوالے سے صوبائی محکمہ قانون اور سرکاری ماہرین قانون سے رائے طلب کی ۔ مقصد ان افسران کے خلاف کارروائی نہ کرنا تھا۔ حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ سندھ نیب کا قانون آنے کے بعد وفاقی ادارہ صوبائی افسران کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے خط لکھ کر صوبائی محکمہ قانون کو آگاہ کیا کہ نیب آرڈیننس مجریہ 1999 اٹھارویں ترمیم کے بعد ختم ہو چکا ہے۔ لہٰذا نیب کی 2010 کے بعد کی تمام کارروایاں غیر قانونی ہیں۔ 

ایڈووکیٹ جنرل نے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ایمرجنسی کو غیر قانونی قرار دے چکی ہیں۔ نیب قانون بھی ایمرجنسی کے دور میں نافذ کیا گیا تھا، لہٰذا یہ بھی غیر قانونی ہے۔ لیکن صوبائی نیب قانون کوعدالت میں چیلینج کیا جا چکا ہے اور اس قانون پر عمل
 درآمد معطل ہے۔ 
ایسے میں سندھ حکومت ان افسران کے خلاف عدالتی ہدایات کے مطابق تاحال کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ 462 بدستور اپنے عہدوں پر فائز ہیں۔ جس میں سیکریٹری سطح سے لے کر گریڈ 11تک کے افسران و اہلکار شامل ہیں۔ 
 وفاقی نیب کے دوبارہ سرگرم ہونے کے بعد محکمہ انسداد رشوت ستانی سندھ سرگرم ہو گیا ہے۔ شاید اس لئے کہ وفاقی ادارے کو بتا یا جاسکے کہ صوبائی حکومت اور یہ محکمہ اس طرح کی شکایات کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔ 

گزشتہ روز محکمہ کے ایک اجلاس میں بعض بڑے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ محکمہ انسداد رشوت ستانی سندھ کے مطابق ہیپٹائٹس پروگرام، خیرپور سرکٹ ہاﺅس اور اسلام کوٹ ایئر پورٹ کی تعمیر سمیت 240 انکوائریز محکمہ انسداد رشوت ستانی کے پاس جاری ہیں۔ ان الزامات میں 904 افسران ملوث ہیں۔ محکمہ تعلیم اور محکمہ بلدیات میں 2012 اور 2013 میں کی گئی میں غیر قانونی بھرتیوں کے معاملات بھی تاحال زیر تفتیش ہی ہیں۔ 

 تھر میں پینے کے پانی سے متعلق آر او پلانٹس میں بھی مبینہ کرپشن کی شکایات کی محکمہ جاتی تحقیقات میں بعض سقم سامنے آئے ہیں۔ اس سطح کی بڑی کرپشن مختلف محکموں کے افسران اپنے طور پر نہیں کر سکتی۔ ان کے پیچھے حکمران جماعت کے بعض بااثر افراد کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔
شرجیل میمن اور محکمہ روینیوسات افسران کی گرفتاری سندھ میں مبینہ کرپشن کے خلاف سنجیدہ کارروائی ہے تو اس ضمن میں مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ ان واقعات کو عزیر بلوچ کے حالیہ اعترافات اوردورہ سندھ کے موقع پر عمران خان کے بیانات سے بھی جوڑ رہے ہیں۔ جس میں انہوں نے عزیر بلوچ کے اعترافات کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کی قیادت کو لپیٹنے کی کوشش کی تھی۔ اور کہا تھا کہ اب پیپلزپارٹی اور سندھ کی باری ہے۔ جب نواز لیگ کے خلاف اقدامات کئے جا رہے تھے تو پیپلزپارٹی اسٹبلشمنٹ کی حمایت کر رہی تھی۔

 تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسٹبلشمنٹ صرف اس وقت پیپلزپارٹی میں ہاتھ ڈال سکتی ہے جب نواز لیگ سے وہ کوئی ڈیل کر تی ہے۔ کیونکہ ایک ہی وقت سب کے خلاف کارروائی کی حکمت عملی اچھے نتائج نہیں دیتی۔ 


 URDU COLUMNS of Sohail Sangi 
Published in Nayi Baat, 31 October 2017
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/51484/Sohail-Sangi/Sindh-Corruption-Ke-Ilzaam-Mein-NAB-Ki-Karwai.aspx




No comments:

Post a Comment