Tuesday, November 7, 2017

نئی صف بندی کی سیاست

نئی صف بندی کی سیاست
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

لندن میٹنگ کی حکمت عملی کے ملکی صورتحال کو نیا رخ اختیار کیا ہے۔ چند ہفتے قبل مارکیٹ میں آئین سے بالاتر فارمولے لائے جارہے تھے۔ کبھی مارشل لاء کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ تو کبھی مالی خسارے کے نام پر ملک میں معاشی ایمرجنسی کی باتیں ہو رہی تھی۔چند روز بعد ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کرنے کی قیاس آرائیاں ہونے گئی۔ 
ابھی ان فارمولوں کی سموگ ختم ہی نہیں ہوئی تھی کہ انتخابات اپریل میں منعقد کرانے کا مطالبہ سامنے آگیا ہے۔ سیاسی جماعتیں کبھی ایک نقط پر متفق ہوتی ہیں دو روز بعد اس موقف سے دستبردار ہو جاتی ہیں۔ اس طرح کے فیصلوں سے سیاسی جماعتوں کی توقیر میں کمی ہی آرہی ہے۔

ملکی صورتحال میں بڑی تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، یکم نومبر کو
 قومی اسمبلی میں موجود تمام پارٹیوں کا نمائندہ اجلاس قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں ہوا جس میں نئی مردم شماری کے عبوری نتائج کی روشنی میں حلقہ بندیوں اور نشستوں کی تقسیم کے بارے میں ” معاہدہ“ ہو اور طے پایا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ تاہم حلقہ بندی نئی مردم شماری کے عبوری نتائج کی روشنی میں کی جائے گی۔ 

 جب قومی اسمبلی میں بل پیش کیا گیا تو پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے یہ کہہ کر اس بل کی مخالفت کردی کہ یہ نئی مردم شماری کو حساب میں میں نہیں لے آتا۔ اور سندھ سے تعلق رکھنے والی ان دونوں جماعتوں نے مردم شماری کے نتائج کو ہی متنازع بنایا۔ 
اب مردم شماری کے معاملے پر ایم کیو ایم باقاعدہ تحریک شروع کر رہی ہے۔ تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کے موقف کی حمایت کردی ہے کہ انتخابات پرانی مردم شماری اور پرانی حلقہ بندی کی بنیاد پر اکرئے جائیں۔

 چند ہفتے قبل تک ملک میں یہ ماحول تھا کہ سویلین بالادستی کا نعرہ اور مطالبہ مقبول تھا۔ تمام سیاسی جماعتیں اگرچہ نواز لیگ کے ساتھ نہیں تھی، لیکن ماسوائے تحریک انصاف کے اس نقطے پر متفق تھیں۔ جس سے نواز شریف کی سیاسی طاقت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ سیاسی قوتوں کے اس اتحاد کا اظہار قانون سازی کے لئے دو اہم بلوں پر اتفاق رائے پیدا کرنے صورت میں کیا۔ ایک بل تھا ججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب سے کیا جائے۔ دوسرا حلقہ بندی کے لئے آئینی ترمیم ۔

 لیکن دو روز کے اندر حکومت سے باہر سیاسی جماعتیںججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب کرنے اور حلقہ بندیوں سے متعلق اپنے موقف سے ہٹ گئی۔ اور اس کی مخالفت کرنے لگیں۔ یہ ایک بڑی تبدیلی تھی، جس نے نواز لیگ کو سیاسی طور پر اکیلا کر دیا۔ َ
 الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندی لازمی ہو جاتی ہے۔ لہٰذا حلقہ بندی اور نشستوں سے متعلق قانون سازی کی جائے تاکہ ازسرنو حلقہ بندی اور انتخابی فہرستوں کا کام شروع کیا جائے۔ اگر نشستوں کی تعداد 272 ہی رکھی جاتی ہے تو مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر حلقہ بندی کی صورت میں پنجاب کی 9 نشستیں کم ہونگی۔ 

خیبر پختونخوا میں پانچ، بلوچستان میں تین، اور وفاقی دارالحکومت کی ایک نشست کا اضافہ ہوگا۔ جبکہ سندھ اور فاٹا کی نشستیں میں نہ کمی ہوگی اور نہ ہی اضافہ ہوگا۔الیکشن کمیشن کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر نئی مردم شماری کی روشنی میں حلقہ بندی نہیں ہوتی، پنجاب کی نمائندگی زمینی حقائق سے زیادہ ہوگی۔ اور اس صورتحال میں کوئی بھی ان حلقہ بندیوں کو عدالت میں چیلینج کر سکتا ہے۔ 

 ایوان بالا سینیٹ نے 2015میں ججوں اور جرنیلوں سمیت سب کا بلاامتیاز احتساب کرنے کے لئے ایک اجمع رپورٹ کی منظوری دی تھی۔ جس میں نئے احتسابی نظام کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ نیا احتسابی نظام تجویز کرنے کے لئے دونوں ایوانوں میں موجود سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی۔ آخر کار اس کمیٹی نے ججوں اور جرنیلوں کو نئے احتسابی نظام کے دائرہ کار میں لانے کے خیال کو ترک کردیا۔

تقریباً تمام سیاسی جماعتیں، جنہوں نے پہلے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا، وہ پیچھے ہٹ گئیں۔ لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں دو اہم اداروں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کرنا نہیں چاہتی۔ کیونکہ اب یہ دو ہی ادارے ہیں جو ہر معاملے پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔لہٰذاکسی امکانی ردعمل سے بچنے کے لئے اپنے مطالبے سے دستبردار ہوگئیں ہیں۔

 سینیٹ کمیٹی نے موجودہ احتسابی نظام پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور نیب کی کارکردگی، تحقیقات اورپراسیکیوشن کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اس رپورٹ میں وفاقی سطح پر ایک انٹی کرپشن ادارہ کے قیام اور ایسے احتسابی نظام کی تشکیل پر زور دیا گیا تھا جس کو اعلیٰ سطح کے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے خلاف تحقیقات کا آزادانہ اختیار ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق اور بین الاقوامی اقدار، طرز حکمرانی میں شفافیت اور سرکاری ریکارڈ تک عام آدمی کی رسائی کے معاملات کو بھی اہم گردانا گیا تھا۔ 

یہ ایک ایسی رپورٹ تھی جس پر قانون سازی ملک کے مقتدرہ حلقوں اور ادروں
 کے اختیارات اور عمل کے طریقے پر ایک چیک اینڈ بلینس آرہا تھا۔ رپورٹ اور قرارداد موقف یا اصولی امر کو ظاہر کرتے ہیں لیکن قانون سازی سے سبھی کتراتے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق رپورٹ کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے سے سیاسی نظام میں ایک غیر محسوس تبدیلی پنہاں تھی۔

نئی صف بندی میں ایک بار پھر سیاستدانوں اور سیاست کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ مشرف دور کے بعد جو سیاسی عمل شروع ہوا تھا کہیں وہ اختتام پذیر تو نہیں ہو رہا؟ اس نظام میں دو بڑی جماعتوں کی حیثیت اور اہمیت ہے۔ اگر ان جماعتوں کی اہمیت ختم یا کم نہیں ہوتی تو گزشتہ چار سال کی کوششیں نتیجہ خیز نہیں مانی جائیں گی۔

ایک طریقہ ٹیکنوکریٹ حکومت کا ہے۔ لیکن یہ نسخہ فوج اور عدلیہ کی حمایت کے بغیر قابل عمل یا قابل استعمال نہیں۔ طویل مدتی ٹیکنو کریٹ حکومت کے قیام کا مقصد سیاست کا نیا رخ متعین کرنے اور نئی سیاسی قیادت پیدا کرنا ہوتا ہے۔ 

ایوب خان ن، جنرل ضیا اور مشرف تینوں نے یہی کیا ۔پاک فوج کے ترجمان نے کسی ٹیکنوکریٹ یا قومی حکومت کے قیام کے امکان کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے ۔ اگرچہ اس کی آٓئین میں گنجائش نہیں لیکن اس کا توڑ ممکن ہے کہ عدلیہ کے ذریعے نکالا جائے۔ ٹیکنوکریٹ حکومت کا توڑ حکومت اس طرح بھی نکال سکتی ہے کہ اپنے ساتھ کچھ ٹیکنوکریٹ شامل کرلے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ دراصل ٹیکنوکریٹ حکومت نہیں ٹیکنوکریٹس چاہئیں۔

عمران خان کے اپریل میں انتخابات کرانے کے مطالبے کی وجہ سے حکمران جماعت نواز لیگ کا بتدیل شدہ صورتحال میں یہ کہنا ہے کہ ماضی میں دھرنوں کے ذریعے حکومت گرانے کی کئی ناکام کوششوں کے بعد اب سینیٹ کے آئندہ انتخابات کو سبوتاڑ کرناچاہتی ہے۔ لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں۔

 عوام میں اس تاثر کو مضبوط کیا گیا ہے کہ ملک کو اس ڈگر پر ڈالا جا ئے کہ کڑا احتساب ہو اور اس کی مدت بھلے طویل ہو جائے۔ آج کی صورتحال میں ماسوائے تحریک انصاف کے کوئی بھی سیاسی جماعت خوش نہیں۔

نواز لیگ کے صدر اور سابق وزیراعظم کو احتساب عدالت میں کرپشن کے الزامات
 کا سامنا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے بعض رہنماﺅں کے احتساب کرنے کے پکے انتظامات ہو رہے ہیں۔ جس میں سابق وزیر اطلاعات شرجیل میمن کی گرفتاری پہلی کڑی ہے۔

 پیپلزپارٹی کے لئے نواز شریف کی حمایت کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے اور اس سیاسی عمل کو لپیٹنا بھی مشکل، جس میں نواز لیگ اور خود پیپلزپارٹی اہم ستون ہیں۔ قاف لیگ کے چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الاہی کے خلاف بھی ریفرنسز کھل گئے ہیں۔ 

عوامی نیشنل پارٹی پہلے ہی غیر اہم قرار دی جاچکی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ( ف) نواز لیگ کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ سب مشرف دور کے بعد جو سیاسی نظام بنا اس کے چھوٹے یا بڑے ستون ہیں۔ ایم کیو ایم بھی پرانے لاٹ کی سیاسی پارٹیوں کی فہرست میں ہے اورپہلے ہی خود کو زیرعتاب سمجھتی ہے۔

 جماعت اسلامی پارلیمانی سیاست میں موجود دوسری بڑی مذہبی جماعت ہے جس کا مشرف دور میں متحدہ مجلس عمل کی معرفت اور بعد میں خیبرپختونخوا میں مخلوط حکومت میں شامل رہی۔اس نے خود کو مشرف دور اور بعد از مشرف دور دونوں میں شامل رکھا۔ یہ جماعت احتساب کے موجودہ عمل پر خوش ہے لیکن علاقائی اور عالمی حالات ایسے نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اسکو کوئی بڑا سیاسی کردار سونپ سکے۔ لیکن اس کی بھرپور کوشش ہے کہ سیاست میں مذہبی بیانیہ حاوی رہے۔ جس کا اس کو دیر سویر فائدہ ہوگا۔

اس  کو بھی خارج از امکان نہیں قرار دیا جاسکتا کہ ہ موجودہ سیاسی عمل جاری رہے ۔ آئندہ عام انتخابات کا انعقاد بھی ہو گا اور پاکستان تحریک انصاف کو اس صورت حال سے فائدہ ہو گا۔ 

یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو غیر
 موثر کرنے اور پاکستان تحریک انصاف کو آگے لانے کی مبینہ طور پر جو منصوبہ بندی کر رہی تھی اسکو نتیجہ خیز بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسدانوں کی پرانی لاٹ کو میدان سے آﺅٹ کر رہی ہے تاکہ نئے کھلاڑی اور پاور بروکرز میدان میں آسکیں۔کل کیا ہوگا؟ یہ کہنا قبل از وقت ہوسکتا ہے۔
 لیکن آج بھی گیم پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے ہاتھ میں ہے۔وہ دیکھیں وہ اپنے اپنے کارڈ کس طرح کھیلتی ہیں؟

روزنامہ نئی بات ۔۔۔ میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ کالم ۔۔ سہیل سانگی
Nai Baat Nov 7, 2017
http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-nov-7-2017-143571

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/51770/Sohail-Sangi/Nai-Siyasat-Ki-Saf-Bandi.aspx

No comments:

Post a Comment