ہمارے منتخب نمائندے کیا نمائندگی کرتے ہیں؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
آئین کی شق نمبر 123, 130, 141, 142, میں اراکین صوبائی اسمبلی کے رول اور ذمہ داریوں سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق ایک ایم پی اے کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ صوبائی محکموں کے بارے میں ہونے والی قانون سازی اور پالیسی سازی کے بحث میں سرگرمی سے حصہ لے۔ دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ صوبے کے مالی معاملات پر بھی نظر رکھے کہ وہ قوائد و ضوابط کے تحت خرچ ہو رہے ہیں۔ صوبائی اسمبلی مجموعی طور پر صوبائی حکومت کے مالی معاملات پر چیک رکھتی ہے۔ ہر رکن صوبائی اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبائی حکومت کے اخراجات، پالیسیوں، عمل اور کارکردگی پر اس طرح سے نظر رکھے کہ یہ سب کچھ آئین، قانون اور مقرر کردہ ضوابط کے مطابق ہو رہا ہے یا نہیں ۔آئین کے تحت صوبائی کابینہ مشترکہ طور پر صوبائی اسمبل کے سامنے جوابدہ ہے۔ صوبائی اسمبلی کے اراکین کی ذمہ داری ہے کہ وہ مفاد عامہ کے معاملات پر اسمبلی میں بحث کریں، بات کریں اور اٹھائیں۔ سوالات، تحریک التوا، توجہ دلاﺅ نوٹس، عام بحث، قراردادوں کے ذریعے اٹھائیں۔
منتخب نمائندے اس بات کے پابند ہیں کہ ہر معاملے میں عوام کی نمائندگی کریں اپنے حلقے کے لوگوں سے ملیں۔ مسلسل رابطے میں رہیں۔ عوامی شکایات ایوان میں پیش کریں ۔ خود کو سرکاری اجلاسوں میں شرکت، مختلف رپورٹس کے مطالعہ اور میڈیا کی مانیٹرنگ کے ذریعے حالات اور واقعات سے آگاہ رکھے۔
سنھد میں کیا ہو رہا ہے؟ سندھ کے منتخب نمائندے کیا کر رہے ہیں؟ اس کے بارے میں اس حقائق سامنے نہیں آئے ہیں تاہم جو سرکاری طور پر چیزیں آئی ہیں وہ آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ ایوان کے اندر کس رکن اسمبلی نے کس قدر نمائندگی کی؟ اپنا آئین اور قانونی فرض پورا کیا اس کا اندازہ اسمبلی سیکریٹریٹ کی تیار کی گئی رپورٹ سے ہو سکتا ہے اس رپورٹ کے بعض ھصوں تک میڈٰا کی رسائی ہو پائی ہے۔
کل راکین میں سے چھتیس سے زئاد اراکین ایسے رہے جنہوں نے تین سال کے اندر ایوان میں زبان نہیں کھولی سوائے سلام دعا، ہنسی مذاق اور شاید اپنے کسی ذاتی کام کے۔
اس طویل فہرست میں پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے نادر علی مگسی، فضل حسین شاہ، حسنین مرزا، علی نواز شاہ، عادل صدیقی، عبدالرﺅف کھوسو، سلیم جلبانی، غلام مجتبیٰ اسران، سردار خان چانڈیو، مخدوم جمیل الزماں، مخدوم رفیق الزماں، مخدوم نعمت اللہ، عبدالکریم سومرو، امداد پتافی، اعجاز شاہ بخاری، بشیر ہالیپوتہ، میر اللہ بخش تالپور، فیصل صدیق، حاجی خدابخش راجڑ کے نام قابل ذکر ہیں۔
اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارباب غلام رحیم، وریام فقیر، شاہ حسین شیرازی اور غلام رسول جتوئی،نے بھی نہ کسی بحث میں حصہ لیا، نہ سوالات پوچھے اور نہ توجہ دلاﺅ نوٹس، قرارداد، بل یا تحریک التوا کی شکل میں اپنے حلقے کا کوئی مسئلہ اٹھایا۔
شرجیل میمن، جام شورو اورسکندر مندرو چونکہ وزیر رہے ہیں لہٰذا نہوں نے سرکاری طور ایوان میں جو بات کی وہ الگ ہے لیکن اپنے حلقہ انتخاب کے بارے میں ایوان میں کوئی معاملہ نہیں اٹھایا۔
جن علاقوں سے یہ ممبران تعلق رکھتے ہیں وہ بہت ہی زیادہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ تھرپارکر جو مسلسل قحط سالی کا شکار ہے وہاں سے تعلق رکھنے والے مخدوم نعمت اللہ اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم شاید ہی کسی اجلاس میںشریک ہوئے ہوں۔ تھر کا قحط اور وہاں بچوں کی اموات کا معاملہ میڈیا، عدلیہ اور رائے عامہ کے دیگر اداروں کی توجہ کا مرکز رہا۔ حکومت کم از کم آٹھ کمیٹیاں اس مسئلہ پر قائم کر چکی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی بھی کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہیں کیا گیا۔
ٹھٹہ اور بدین کے ساحلی اضلاع جہاں بمع پینے کے پانی، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور یہاں کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایم پی ایز سکندر مندرو،حسنین مرزا اور اللہ بخش تالپور، بشیر پالیپوتہ شاہ حسین شیرازی، ملکانی نے مصیبت زدہ حلقوں کے ووٹرز کے لئے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔
حسنین مرزا پیپلز پارٹی کے باغی ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بیٹے ہیں۔ ڈاکٹر مرزا جو کہ ابھی رکن اسمبلی نہیں، وہ باہر رہ کر پیپلزپارٹی پر خوب گرجتے رہتے ہیں لیکن ایوان میں ان کے صاحبزادے خاموش رہے۔ ہالہ کا مخدوم خاندان بڑی سیاست کرنے میں لگا رہا اور انہیں اپنے حلقہ کے لوگ یاد نہیں آئے، جہاں آبپاشی پانی کی کمی اور دیگر مسائل سر اٹھائے ہوئے ہیں اور اس زرخیز خطے کی معیشت کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہی صورتحال دیگر چپ کا روزہ رکھنے والے دیگر اراکین اسمبلی کی ہے۔
اس سے پہلے یہ بھیانک انکشافات بھ سامنے آچکے ہیں کہ اپریل کے اختتام تک پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ میں رواں مالی سال کے دوران بمشکل تیس فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ کر سکی ہے۔ ابھی یہ خبر سندھ کے لوگ ہضم ہی نہیں کر پائے تھے کہ ان پر ایک اور انکشاف کا پہاڑ ٹوٹا۔ وہ یہ کہ حکومت سندھ نے 108 ایم پی ایز کو چار چار کروڑ روپے کے حساب سے تین ارب 87 کروڑ 75 لاکھ روپے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کرانے کے لئے جاری کئے۔ صرف چھ ایم پی ایز نے یہ فنڈ خرچ کئے جبکہ باقی 102 ایم پی ایز نے ایک ٹکہ بھی خرچ نہیں کیا۔
جن منتخب نمائندوں نے رقم خرچ نہیں کی اس میں خود وزیراعلیٰ سندھ، اسپیکر سندھ اسمبلی، بعض وزراء منظور وسان، جام شورو، دوست علی راہموں، علی نواز مہر، شر جیل میمن، صوبائی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین سلیم رضا جلبانی، طارق مسعود آرائیں، فصیح شاہ، غلام قادر چانڈیو، بہادر ڈاہری اور اعجاز شاہ شیرازی بھی شامل ہیں۔
ترقیاتی منصوبوں کا یہ عالم رہا، دوسری جانب میرٹ کو ٹھکرا نا۔ تقرر ہو یا تبادلہ، یا پھر کوئی ترقیاتی کام کا ٹھیکہ معمول بنا رہا۔پسندیدہ اور ناتجربیکار افراد کو نوازا گیا۔ کہیں بھی میرٹ نہیں نظر آئی۔ ان سب بے قاعدگیوں کو منتخب اراکین براہ راست یا بلواسطہ طور پر چیک کرنے میں ناکام رہے۔ خاص طور پر دیہی علاقو ں میں پولیس اور بااثر افراد کی عام لوگوں سے زیادتیاں معمول بنی رہی۔ نیب، ایف آئی اے، اور سندھ حکومت کے محکمہ انسداد رشوت ستانی کی سرگرمیوں کے باوجود ہر چھوٹے بڑت سرکاری دفتر میں کرپشن کا بازار گرم رہا۔ یہ گرمی آج کل سندھ میں پڑنے والی گرمی سے کہیں زیادہ ہے۔
ان میں اکثریت ان کی ہے جو بار بار منتخب ہو کر آتے ہیں۔ اور ہر بار ان کی کارکردگی یہی رہتی ہے۔ ان پر نہ سیاسی جماعتوں کا چیک اینڈ بیلنس ہے اور نہ ہی ووٹرز کا۔ سوال یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں ایسے افراد کو کیوں نامزد کرتی ہیں؟ نوے کے عشرے میں ”الیکٹ ایبل“ بہت ہی غیر سیاسی اور غیر جمہوری لفظ سیاست کی ڈکشنری میں آیا جو مسلسل پریکٹس میں بھی ہے۔ چند گنے چنے خاندان جن کا پس منظر زمیندار طبقے سے ہے یا اب اس نے خود کو بڑا زمنیدار بنا دیا ہے ،انتخابات ان خاندانوں کے ممبران کا دائرہ اختیار ہے۔ باقی کے لئے عملا شجر ممنوع ہے۔ دوسرے یہ کہ خود سیاسی جماعتیں بھی نہیں چاہتی کہ کہ کوئی ایسا بندہ ایوان میں آئے جو سوالات کرے یا حلقے اور اپنے ووٹروں کی بات کرے۔ اس لئے سیاسی جماعتوں کو بھی ایسے ” خاموش“ اور ”رخنہ نہ ڈالنے والے“ افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ سال 1997 سے سندھ اسمبلی میں اراکین اسمبلی کی مدد کے لئے ایک سیل موجود ہے جس میں عملے کی ایک کھیپ موجود ہے۔ اس سیل کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مختلف اراکین کی مدد کریں اور مطلوبہ حوالے یا اعداد و شمار بھی مہیا کریں۔ گزشتہ تین سال کے دوران اس سیل سے رابطہ کرنے والوں کی تعداد نصف درجن بھی نہیں۔
ہمارے منتخب نمائندوں کی کارکردگی ایک طرف ہے اور ان کو جو سرکاری طور پر تنخواہین، الوئنسز اور دیگر سہولیات ملتی ہیں اس کا حساب لگایا جائے توماہانہ خرچ کروڑوں روپے ہوتا ہے۔ ایک اسمبلی ممبر پر خواہ وہ سرکاری بنچ کا ہو یا اپوزیشن کا حکومت ماہانہ پانچ لاکھ روپے خرچ
کرتی ہے۔ کل اراکین کی تعداد 168 ہے۔ اس میں و فوائد اور مراعات شامل نہیں جو ان کو کسی خصوصی پیکیج، تقرر، تبادلوں، ملازمتوں میں کوٹے یا ترقیاتی کاموں کے نام پر دی جاتی ہیں۔
سندھ میں سہولیات کی کمی، غربت، پسماندگی اور دیگر ایسے درجنوں مسائل کی اصل جڑ ان نمائندوں کی عدم کارکردگی یا خاموشی ہے۔
اراکین اسمبلی کی اس کارکردگی کو دیکھ کر سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیا یہ اراکین اسمبلی آئین اور قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں؟ کم از کم جو اصول ، رول اور ذمہ داریاں آئین کی اور دی گئی شقوں میں بیان کی گئی ہیں ، ان کے تحت یہ لوگ ایک طرح سے آئین اور مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔
اسپیکر جو کہ منتخب ایوان کا کسٹوڈین ہوتا ہے انہوں نے بھی کبھی زحمت نہیں فرمائی کہ وہ اراکین اسمبلی سے پوچھے اور یاد الائے کہ ایسے اراکین اسمبلی کا عمل آئین اور قانون کے دائرے سے بالاتر ہے۔ اسپیکر کا کام صرف اتنا نہیں کہ ”آپ بات کرو“ ” آپ بیٹھ جاﺅ“ ۔
معاملہ صرف سندھ کا نہیں۔ چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی خواہ سنیٹ میں تھوڑے ہت فرق کے ساتھ صورتحال یہی ہے۔ عوام کو کس طرح سے یہ حق ملے کہ وہ اپنے منتخب نمائندے کی کارکردگی کو مسلسل مانیٹر کر سکے؟ ایسا کوئی قانون نہیں ہے، سوائے آئندہ انتخابات کے۔ انتخابات ایک مختلف کھیل اور مکینزم ہے۔
Nai Baat June 10, 2016
Sohail Sangi Column
http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/10-06-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg

No comments:
Post a Comment