Monday, June 6, 2016

پاک امریکی تعلقات :نئے زاویے

For Nai Baat June 3, 2016

 پاک امریکی تعلقات: نئے زاویے 
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
صدر ممنون حسین نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ملک کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بعض اہم نکات کی طرف نشاندہی کی ہے۔ ان نکات کی خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال اور مختلف کرداروں کے بدلتے رول ، اتحادیوں کی ایک دوسرے سے توقعات اور شکوے شکایات کی وجہ سے بھی بڑی اہمیت ہے۔ اس ضمن میں پاک امریکی تعلقات کی نوعیت اور اس کا ذکر سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاک امریکی تعلقات میں بعض غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں جن کو دور رکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اور نقصان کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ صدر کی تقریر میں بعض امید افزا باتیں بھی تھیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ بہتر اقدامات کے ذریعے معاملات کو درست کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کی تقریر سے لگ رہا تھا کہ پاکستان کے خارجہ تعلقات ایک بحران سے گزر رہے ہیں۔

 پچاس کے عشرے سے لیکر حکمت عملی کے حوالے سے امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا اتحادی رہاہے۔ اب اسکے ساتھ تعلقات نیچے کی طرف گئے ہیں ۔ پاک امریکی تعلقات میں اتار چڑھاﺅ آتا رہا ہے۔ اس مرتبہ کا اتار کی دو وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ اول یہ کہ امریکہ کو پاکستان کے جوہری میزائیلوں (چھوٹی رینج اور درمیانی رینج کے بلاسٹک میزائیل بنانا )کے پروگرام پر تشویش ہے۔ دوسرے یہ ک الزام کہ پاکستان اپنی سرزمین سے حقانی نیٹ ورک کی نرسریاں ختم کرنے کے لئے مطلوبہ کوششیں نہیں کر رہا۔ چند ماہ قبل یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ چار ممالک پاکستان، افغانستان، امریکہ اور چین مل کر افغان طالبان کو ایک میز پر لانے کی کوشش کریں گے۔ اس ضمن میں کچھ پیش رفت بھی ہوئی۔ 

 لیکن پاکستان کے بارے میں امریکی خدشات دور نہیں ہو سکے۔ ن خدشات کے بعد امریکی کانگریس نے پاکستان کو آٹھ ایف 16 جہاز کی فنڈنگ کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اتحادی سپورٹ فنڈ کی رقم میں بھی کٹوتی کردی گئی۔دریں اثناء پاکستان کو اندیشہ ہے کہ اس کا ایک طویل مدت تک اتحادی ملک امریکہ کا جھکاﺅ اب بھارت کی طرف ہو رہا ہے ۔ اور وہ اس کی روایتی اور جوہری صالحیت کو بڑھانے میں مدد کر رہا ہے۔ 

ان تعلقات میں اس وقت مزید دباﺅ پڑا جب افغان طالبان چیف ملا اختر منصور کو بلوچستان کے علاقے میںامریکہ نے ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ پاکستان نے ملا منصور کو راضی کر رہا تھا کہ وہ خود اور دیگر افغان گروپ امن مذاکرات میں شریک ہوں۔ صدر نے اگرچہ اپنی تقریر میں اس ڈرون حملے کا براہ راست ذکر نہیں کیا لیکن کہا کہ حالیہ واقعات کی وجہ افغانستان میں امن کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ 

اس سے قبل آرمی چیف بھی اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہامریکی ڈرون حملہ میں افغان طالبان لیڈر ملا منصور کو مارنا امن کوششوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ بہرحال آرمی چیف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان دونوں کے اظہار سے نہیں لگتا کہ مذاکرات کا عمل ختم یا بند ہو چکا ہے۔ 

پاک امریکہ تعلقات میں مختلف موڑ آتے رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے اسٹریٹجک مفادات یکجا تھے تب ان تعلقات میں عروج رہا۔ خاص طور پر سوویت یونین کے خلاف ”افغان جہاد“ کے موقع پر یہ اظہار دیکھا گیا۔ 

بعد میں جب پاکستان نے اپنے جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے سے انکار کیا تو اسے سخت امریکی معاشی اور فوجی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران سخت عدم اعتمادی اور اس الزام کا سامنا کرنا پڑا کہ پاکستان اس جنگ میں ڈبل گیم کر رہا ہے۔ جب مشرف دور میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو پارٹنر بنایا گیا تو اس کے بہت سارے قصانات بھی ملک کے حصے میں آئے۔ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں پانچ ہزار سے زائد پاکستانی سویلین اور فوجی مارے گئے۔ پاکستان کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ 

2011 میں رائمنڈ ڈیوس کے واقعہ اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں کی گئی کارروائی، اور ایک ڈرون حملے میں 26 پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد پاسکتان سے ناٹو کی سپلائیز معطل کردی گئیں۔ 

 رواں سال آرمی چیف نے امریکہ پندرہ روزہ دورہ کیا۔ اور انکی امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری سے ملاقات ہوئی۔ جس سے سلام آباد اور پینٹاگون کے درمیان روایتی تعلقات کو بحال کرنے یا بہتر بنانے میں مدد ملی۔ 

ملا منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد افغان ریجن میں سکییورٹی کی مساوات میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ پاکستان پر یہ الزام آرہا ہے کہ ملا منصور پاکستان میں موجود تھا جس سے پاکستان کے ادارے آگاہ تھے۔ اور ملا منصور کی کوششوں کو پاکستان کی حمایت حاصل تھی کہ وہ دوسرے افغان شدت پسند گروپوں سے رابطے کرے اور انہیں افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے ایک میز پر لے آئے۔ لیکن امریکہ اس معاملے کو برعکس سمجھتا رہا۔ 

 اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں موجود تھے اور انہیں امریکی اپیشک ٹاسک فور نے کارروای کر کے قتل کیا۔ ملا عمر کا انتقال بھی پاکستان میں ہوا۔ اور اب ملا منصور کی موت بھی ڈرون حملے میں پاکستان میں ہوئی۔ یہ سب تعجب خیز لگتا ہے۔ 

پاکستان یہ تاثر دیتا رہا کہ انہیں طالبان پر خواہ کنٹرول نہ ہو تاہم ایک اثر ضرور رکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے افغان لیڈر کو یہاں پناہ ملتی رہی۔ ملا منصور پاکستان میں آزادی سے گھوم پھر رہے تھے۔اگر یہ پناہ نہیں ملتی تو پاکستان کا اثر بھی نہیں ہوتا۔ جب کہ بیرونی دنیا پاکستان پر طالبان کی حمایت کے الزامات بھی نہیں لگاتی۔ 

 پاکستان کو توقع نہیں تھی کہ اس کی سرزمین پر فوجی کارروائی ہوگی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس وہ اس بات کا بھی احساس ہونا چاہئے تھا کہ افغان طالبان کی ان کی سرزمین پر موجودگی اور سرگرمی اس کے مفادات میں نہیں۔ یہ بات افغانستان، پاکستان، اور خطے خواہ عالمی طاقتوں کے بھی مفاد مین ہے کہ افغان معاملہ بات چیت کے ذریعے حل ہو۔ لیکن امریکی کھلم کھلا کہتے ہیں کہ طالبان لیڈر مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ تھے۔ اس لئے انہیں ختم کردیا گیا۔ یہ پتہ لگانا اور اس پر یقین کرنا مشکل معاملہ تھا اگر طالبان متحددبھی ہوں کس گروپ کے ساتھ بات چیت کرنا زیادہ مفید اور دیرپا ہوگا۔ 

 ان تمام واقعات اور تجربات کے بعد پاکستان کوامریکی پالیسیوں کو نئے سرے سے سجھنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں نئے رکاوٹوں کے بعد پاکستان کو طے کرنا ہوگا کہ وہ کیا کر سکتا ہے، کیادے سکتا ہے اور اس کے لئے حقیقی معنوں میں توقعات وابستہ کی جائیں ۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا توخطے کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ 


http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/03-06-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg

No comments:

Post a Comment