For Nai Baat June 13, 2016
سندھ بجٹ
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
پیپلزپارٹی یقیننا اس پر خوش ہورہی ہوگی کہ اس نے 869 ارب روپے کا سندھ کا نواں بجٹ پیش کیا ہے۔9 سال کا عرصہ بہت بڑا ہوتا ہے۔اگر صحیح منصوبہ بندی اور حکمت عملی ہوتی اور اس پر ایماندارانہ طور پر عمل درآمد کیا جاتا تو آج یہ صوبہ ترقی یافتہ نہ سہی، ترقی پذیر ضرور ہوتا۔زمینی حقائق دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ تینوں چیزیں غائب ہیں۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، چھوٹے خواہ بڑے شہروں میں بنیادی شہری سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ کوئی بڑا انفا اسٹرکچر نہیں بن سکا جو صوبے کی معیشت پر مثبت اور دور رس اثرات ڈالتا۔
کوئی بھی سیاسی جماعت جب انتخابات میں حصہ لیتی ہے اور اسے یقین ہوتا ہے وہ اقتدار میں آرہی ہے، اس کے پاس ایک ویزن ہوتا ہے۔ اور یہ ویزن اس کی معاشی اور مالی پالیسیوں میں منعکس ہوتا ہے۔ ان9 بجٹوں میں پارٹی کا کیا ویزن رہا ؟ تمام بجٹوں کے مطالعے سے کوئی ویزن سامنے نہیں آیا۔ اس کا اندازہ کرنے کے لئے صوبے کے کسی بھی شعبے کو کسوٹی بنایا جاسکتا ہے۔ جس کو دیکھ کر یہ کہا جا سکے کہ سندھ ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
بجٹ کی دنیا بھر میں مانی ہوئی تعریف یہ ہے کہ یہ اخراجات، آمدنی اور وسائل کا ایسا تخمینہ اور حساب کتاب ہے جو مستقبل کی مالی حالت اور مقاصد کو بیان کرتا ہے۔ یہ ایک آلہ ہے جس کے ذریعے مقررہ مقاصد ایکشن پلان کے ذریعے حاصل کئے جاتے ہیں۔اس حوالے سے بجٹ کارکردگی ناپنے کا معیار ہے۔ اور اس کے ذریعے مسقبل کے خراب صورتحال کا بھی اندازہ کیا جاتا ہے۔
سندھ کا بجٹ کسی بھی طور پر اس تعریف کے دائرے میں نہیں آتا۔ کچھ اندازہ نہیں کہ صوبہ معاشی طور پر کس رخ میں جارہا ہے؟ اور یہ بھی پتہ نہیں کہ تعلیم، صحت، زراعت، صنعت و تجارت، یا کسی بھی صوبے میں کہاں کھڑا ہے؟ کیونکہ گزشتہ برسوں کی طرح رواں سال بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ مختلف شعبوں میں کیا یا حاصلات ہوئیں؟ اور کیا ٹارگیٹ رہ گئے؟ یعنی حکومت عملی طور پر حساب کتاب دینے کے لئے تیار نہیں۔
دنیا بھر میں حاصلات اور مس ہونے والے ٹارگیٹ بجٹ کا حصہ ہوتے ہیں۔ سندھ کے لوگوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ صوبائی حکومت نے وفاق، عالمی اداروں یا بینکوں سے کتنا قرضہ ماضی میں یا رواں مالی سال میں لیا؟ اس مد میں کتنی ادئگی کی گئی۔ یہ سب کچھ کارکردگی اور احتساب دونوں کے دائرے میں آتا ہے۔ اگر کارکردگی ہوتی تو یقیننا وزیر خزانہ بھی سینہ ٹھونک کر بتاتے اور یہ بجٹ دستاویز میں بھی ظاہر ہوتا۔
اصل میں حکومت اپنی کارکردگی سے خود آنکھیں چرانا چاہ رہی ہے۔ یا اس کا اپنا مانیٹرنگ سسٹم اور نگرانی کرنے کا شعبہ اتنا کمزور ہے کہ خود حکومت کو بھی نہیں پتہ کہ گزشتہ 9 سال کے دوران جو منصوبے اور ترقیاتی پروگرام شروع کئے گئے وہ اب کس مرحلے میں ہیں؟ وہ مطلوبہ سہولیات اور کراکردگی دے رہے ہیں یا نہیں؟
ستر فیصد انتظامی اور جاری ااخراجات پر ہے اور بشمکل تیس فیصد ترقیاتی پروگرام پر ہے۔ گزشتہ سالہا سال کی تاریخ یہ بتاتی ہے ترقیاتی پروگرام کے لئے رکھے گئے رقومات میں سے چالیس فیصد خرچ ہی نہیں ہو پاتی ہیں۔ کیونکہ حکومت میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ یہ رقم خرچ کر سکے۔ جو ترقیاتی پروگرام پر بجٹ خرچ بھی ہوتی ہے اس کا ایک بہت بڑا حصہ کرپشن اور کمینشوں کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ لہٰذا دراصل جو رقم ترقیاتی پروگرام پر خرچ ہوتی ہے وہ بہت ہی معمولی ہوتی ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق 266 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے رکھے گئے ہیں۔ جبکہ انتظامی اور جاری اخراجات کے لئے 573 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ یعنی ستر فیصد انتظامی اور جاری ااخراجات پر ہیں اور بشمکل تیس فیصد ترقیاتی پروگرام کے لئے ہے۔
گزشتہ چندسال کیا تجربہ بتاتا ہے کہ ترقیاتی پروگرام کے لئے رکھے گئے رقومات میں سے چالیس فیصد خرچ ہی نہیں ہو پاتی ہیں۔ کیونکہ حکومت میں فیصلہ سازی کی اور من پسند بھرتیوں اور تقریوں کی وجہ سے بیوروکریسی میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ یہ رقم خرچ کر سکے۔یہ شکایات بھی عام ہیں کہ جو ترقیاتی پروگرام پر خرچ ہونے والے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ کرپشن اور کمیشنوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا دراصل جو رقم ترقیاتی پروگرام پر خرچ ہوتی ہے وہ بہت ہی معمولی ہوتی ہے۔ اور اگر اس رقم کو صوبے کے باشندوں میں تقسیم کیا جائے تو ہر شخص کے حصے میں چند روپے ہی آئیں گے۔
صوبے کی آمدنی کا بھی یہی حال ہے۔ آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ این ایف سی کے قابل تقسیم پول ہے جہاں سے سندھ کو 561 ارب روپے ملیں گے۔ لیکن سندھ حکومت دوسرے صوبوں کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت کو راضی نہ کر سکی کہ وہ رقم کی تقسیم کے لئے نیا مالیاتی ایوارڈ دے۔ اس میں جہاں وفاق کی گڑبڑ ہے وہاں صوبائی حکومت کو بھی بری الذمہ نہیں ٹہرایا جاسکتا۔ صوبے کے اپنے وسائل سے ہونے والی آمدن صوبائی ٹیکس سے 162 ارب روپے ہے۔ دیگر گرانٹس بشمول عالمی اداروں کی گرانٹس اور قرضوں کی مد میں 44 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت سے 12 ارب روپے اور مقامی بینکوں سے قرضے کی صورت میں 22 ارب روپے ملیں گے۔
مطلب سندھ کو نئے مالی سال کے دوران کل 34 ارب روپے قرجہ لینا پڑے گا۔ جبکہ14 فیصد بجٹ کا خسارہ اس کے علاوہ ہے۔ قرضے کو آمدن میں شمار کیا گیا ہے لیکن بنیادی طور پر یہ بھی خسارہ ہی ہے۔ لہٰذا کل خسارہ 48 ارب روپے ہے۔ اگر بیرونی گرانٹس کی رقم بھی اس میں شامل کی جائے تو پتہ چلے گا کہ تمام بجٹ ادھار کا ہے۔ سندھ اپنے وسائل سے زیادہ وصولی کر سکتی ہے۔ لیکن ایکسائیز، روینیو اور محکمہ آبپاشی میں وصولی کاکا نظام تباہ ہے ۔ ان محکموں میں اقربا پروری، پسند ناپسند پر تقرریاں اور تبادلے اور پھر ایسی تقرریوں کی وجہ سے کرپشن نے مزید وسائل کم کر دیئے ہیں۔
بجٹ میں پچاس ہزار نئی ملازمتیں دینے کا اعلان کیا گیا ہے جس میں سے پچیس ہزار ملازمتیں محکمہ پولیس میں دس ہزار تعلیم میں ساڑھے تین ہزار محکمہ صحت میں دی جائیں گی ۔ سب سے زیادہ ملازمتیں پولیس میں دی جائیں گی۔ یعنی صوبہ امن و امان کے گھن چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ حکومت کوئی بھی معاشی، سماجی اور سیاسی حکمت عملی نہیں بنا پائی ہے کہ لوگوں میں عدم تحفظ ختم ہو، اور زیادہ بھرتیاں شہریوں کو بنایدی سہولیات پہنچانے کے شعبوں میں کی جاسکیں۔ یہ ملازمتیں کس حد تک میرٹ پر دی جائیں گی؟
آج بھی سندھ بھر میں تیس ہزار کے لگ بھگ متنازع بھرتیان موجود ہیں جن میں سے اکثر معاملات عدلیہ کے زیر سماعت ہیں۔ ان بھرتیوں کو کس طرح سے شفاف بنایا جائے گا؟ میرٹ کو کس طرح سے عزت دی جائے گی؟ واقعی اہل اور مستحق لوگوں کو ہی ملازمتیں ملیں گی یا وزراءاور اسمبلی ممبران کے عزیز رشتہ داروں کو یا پھر سفارش اور پیسوں پر دی جائیں گی؟ یہ سوال اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ ماضی میں یہ سب کچھ ہوتا رہا جس کو سندھ حکومت خواہ حکمران جماعت روکنے میں ناکام رہی۔ بلکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس نے روکنا ہی نہیں چاہا تھا۔
ملازمتیں دینے والی حکومت مقبول حکومت مانی جاتی ہے لیکن اس کی وجہ سے انتظامی اخراجات اتنے بڑھ جاتے ہین اور خود انتظام چلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ دراصل حکومت کا کام ایسا ماحول پیدا کرنا ہے کہ صنعتکاری، سرمایہ کاری تجارت اور چھوٹی صنعتوں کے مواقع بڑھیں۔ نوجوان جدید علوم اور ٹیکنالاجی سے بہرہ ور ہو کر روزگار کے نئے مواقع تلاش کریں۔
اس کام کے لئے ویزن چاہئے، منصوبہ بندی چاہئے اور نیک نیتی چاہئے۔ ان تینوں چیزوں کا شدید فقدان ہے ۔ اپنی اس ناکامی کو چھپانے کے لئے سرکاری ملازمتیں دی جاتی ہیں۔ گزشتہ سال حکومت سندھ نے سالانہ ہ ترقیاتی پروگرام 162 ارب روپے کا رکھا گیا تو جو بعد میں کم کر کے 142 ارب روپے کیا گیا۔ جس کا بشمکل 51 فیصد خرچ ہو سکا ہے۔ جس طرح سے میزانیہ میں دکھایا گیا ہے اس حساب سے باقی انیس روز میں 70 ارب روپے کیسے خرچ کئے جائیں گے؟
ایک مرتبہ پھر ان شکوک کو مدد لتی ہے کہ سال بھر تک ترقیاتی اخراجات روکے جاتے ہیں۔ اور آخری ماہ میں جلدی جلدی میں رقومات جاری کردی جاتی ہیں ۔ ایسی صورت میں نہ قانونی ضابطے پورے ہو پاتے ہیں اور نہ صحیح طریقے سے کام ہو پاتا ہے۔ حکومت ان کاموں کی مانیٹرنگ بھی نہیں کر پاتی۔
نئے بجٹ میں 996 اسکیمیں شامل کی گئی ہیں۔ گزشتہ سال 553 نئی اسکیموں کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ نہیں معلوم کہ ان اسکیموں کا کیا ہوا؟ ڈویزنل پیکیجز کے نام سے مختلف اسکیمیں ملا کر سیاسی پاوئنٹ اسکور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بڑی رقومات رکھی گئی ہیں۔
بلاول بھٹو نے وفاقی بجٹ کو ایک مخصوص صوبے کا بجٹ قرار دیا ہے۔ کیا انہوں نے غور فرمایا ہے کہ خود سندھ بجٹ بھی صوبے کے چند اضلاع لاڑکانہ، سکھر، خیرپور اور نوابشاہ تک ہی محدود ہے؟ اس میں تھر کے قحط زدہ علاقے اور اس کی ترقی کے لئے کوئی رقم موجود نہیں اور نہ ہی کوئی خصوصی پیکیج دیا گیا جہاں سے روز معصوم بچوں کی اموات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ کیا انہوں نے اس بات پر غور کیا کہ سندھ کو جو وسائل دستیاب تھے ان کا کتنا ایماندارانہ اور موثر استعمال ہوا ہے؟ آخر یہ بھی تو ان کی ذمہ داری میں شامل ہے۔
سندھ حکومت یہ عذر لنگ پیش کر رہی ہے کہ نیب کی کارروایوں کی وجہ سے افسران کام کرنے کے لئے تیار نہیں اس لئے بھی کام کم ہوئے ہیں۔ دو منٹ کے لئے اس بات کو مان بھی لیا جائے، لیکن یہ تو سب رواں مالی سال کے دوران ہوا تھا۔ باقی آٹھ بجٹوں کاتو حساب دیں۔
No comments:
Post a Comment