Saturday, June 18, 2016

سندھ میں بلدیاتی اداروں کے نئے حاکمین

 سندھ میں بلدیاتی اداروں کے نئے حاکمین 

میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی

 چند ماہ قبل پیپلزپارٹی کی قیادت نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو” بااختیار“ بنانے کا فیصلہ کیا، تو انہوں نے سندھ کے اضلاع اور دیگر نچلی سطح کی پارٹی تظیمیں توڑنے اور پارٹی کو از سرنو منظم کرنے کا اعلان کیا۔ پارٹی کے پرانے جیالے خوش ہوئے کہ اب پارٹی مختلف ڈگر پر چلے گی۔ لیکن یہ راز تب افشا ہوا جب ضلع اور بڑے شہروں کے بلدیاتی اداروں کے چیئرمنوں کی نامزدگی کا معاملہ سامنے آیا۔ 

یہ بلدیاتی عہدے حاصل کرنے کے لئے پارٹی کے بااثر افراد کے درمیان سکٹ تگ ودو ہوری تھی ۔ جو کہ اختلافات کی شکل میں سامنے آرہی تھی۔ 

اب پارٹی رہنماﺅں بلدیاتی عہدے کے ساتھ پارٹی عہدہ کا بھی آپشن رکھا گیا۔ پارٹی کی از سرنو تنظیم سازی کے حوالے سے نہ نئی میمبرسازی کی مہم چلائی گئی اور نہ بڑے پیمانے پر کوئی سرگرمی دکھائی دی۔ نہ شہر، ضلع یا ڈویزنل سطح پر کنوینشن منعقد ہوئے مطلب پارٹی کارکنوں کو نچلے سطح پر سنا ہی نہیں گیا۔ پارٹی میں موجود مخلتف گورپوں اور لابیوں کے افراد کے ساتھ مشاورت کی گئی۔ مشاورت وہی چار پانچ لوگ جو کہ پارٹی کی صوبائی قیادت میں شامل ہیں۔ مختلف اضلاع کا دورہ کر کے آئے۔

 پارٹی نے صوبے کے 19 اضلاع کے منتخب سربراہان کے نام فائنل کر دیئے ہیں جبکہ پانچ اضلاع ابھی بھی باقی ہے جن پر فیصلہ نہیں کیا جاسکا ہے۔ اس طرح سے کسی حد تک مختلف لابیوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی۔ پتہ چلا ہے کہ منگل کے روز آصف علی زرداری کی ہمشیرہ بیگم فریال تالپور کو ایک پریس کانفرنس میں ان ناموں کا باقاعدہ اعلان کرنا تھا لیکن بعض اضلاع میں پارٹی کے اندر موجود گروپوں کو قیادت مطمئن نہیں کر سکی۔ لہٰذا یہ پریس کانفرنس ملتوی ہو گئی۔ 

یہ دلچسپ امر ہے کہ پارٹی میں خواہ میڈیا میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پارٹی امور سے متعلق فیصلے ا بلاول بھٹو خود کریں گے اور وہ ایسا کرنے میں خود مختار ہونگے۔ اور یہ بھی کہا جاتا رہا کہ بلاول بھٹو اپنی پھوپھی کی حکمت علی، فیصلوں اور پارٹی معاملات میں مداخلت سے ناخوش ہیں۔ ناخوش ہونے کی لیول یہ باتی جاتی رہی کہ وہ ان کو ان معاملات سے دور رکھنا چاہتے تھے۔ لیکن بلدیاتی سربراہان کی نامزدگی کے لئے جو لابنگ اور سرگرمی ہوتی رہی اس کا تمام تر مرکز میڈم فریال تالپور ہی رہیں۔ یہاں تک کہ آخر میں ناموں کا حتمی اعلان بھی انہیں ہی کرنا تھا۔ 

فریال تالپور پارٹی کا کوئی عہدہ نہ رکھنے کے باوجودگزشتہ آٹھ سال سے سندھ میں عملی طور پر فیصلہ سازی کرتی رہی ہیں جس کی آصف علی زرداری کی جانب سے بھرپور آشیرواد حاصل رہی۔ اس مرتبہ بلدیاتی سربراہان کی نامزدگی کے معاملے پر یہ بات سامنے آئی کہ بیگم فریال تالپور ابھی بھی سندھ میں اتنی بااختیار ہیں جتنی پہلے تھے۔ 

 الیکشن کمیشن کے چار اراکین کی ریٹائرمنٹ کے بعد کمیشن غیر فعال قرار د ی گئی ہے لہٰذا مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے نمائندگان کی حلف برداری کو الیکشن کمیشن نے کالعدم قرار دے دیاہے۔ اب یہ عمل تب شروع ہوگا جب الیکشن کمیشن کے نئے اراکین کا تتقرر ہوگا اس تقرر کے لئے ڈیڑھ سے دو ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔ کیونکہ یہ تقرری حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ہوگا۔ الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے نے پیپلزپارٹی کی” ضمانت“ کرادی ۔ اور بدلاتی انتخابات کا عمل جو مکمل یوں جن اضلاع میں فیصلہ نہیں ہو سکا ہے اس کے لئے پارٹی قیادت کو وقت مل گیا۔ 

پیپلزپارٹی کے نامزد کردہ بلدیاتی سربراہان کی فہرست پر نظر ڈالنے سے پتہ پتہ چلتا ہے کہ اقتدار پر وہی خاندان اپنی گرفت برقرار رکھے ہوئے ہیں جو سالہا سال سے پیپلزپارٹی یا کسی دوسری حکمران جماعت کے ساتھ رہ کر اقتدار کے مزے لیتے رہے ہیں۔ گھوٹکی میں سابق وزیراعلیٰ سندھ علی محمد مہر کے بیٹے کو ضلع کونسل کا چیئرمین بنایا جارہا ہے۔ علی محمد مہر خود سردار بھی ہیں اور ان کے بھائی صوبائی ویزر ہیں جبکہ ان کے والد سردار غلام محمد مہر ایم این اے اور ایم پی اے رہ چکے ہیں۔ 

شکارپور میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانے کے بھائی مسیح الدین آغا کو ضلع کونسل کا چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔ضلع کونسل کشمور کے میرہزار خان بجارانی کے بیٹے محبوب بجارانی کا نام فائنل کیا گیا ہے۔ بجارانی بھٹو دور سے ایم پی اے، وزیر اور سنیٹر رہتے آئے ہیں۔ 

خیرپور میں صوبائی وزیر منظور وسان کے بھتیجے شہریار وسان جو کہ ان کے داماد بھی ہیں کو ضلع کونسل کی سربراہی دی جارہی ہے۔ 

میر پورخاص میں میر انور تالپور اور شجاع احمد شاہ میں سے کسی ایک کو نامزد کیا جارہا ہے۔ میر انور تالپورآصف علی زرداری کے بہنوئی میر منور تالپور کے بھائی ہیں۔ جبکہ شجاع شاہ پیپلزپارٹی کے سابق وزیر علی نواز شہ کے بیٹے ہیں۔ سکھر کی ضلع وائیس چیئرمین کے لئے پارٹی کے سابق ایم پی اے انور مہر کے بیٹے اختر مہر اور سکھر کی میئر شپ کے لئے سابق سنیٹر اسلام الدین شیخ کے بیٹے ارسلان شیخ کو نامزد کیا گیا ہے۔ ارسلام شیخ یم این اے نعمان شیخ کے بھائی ہیں۔

 جامشورو کو ایک بار پھر ملک خاندان کے حوالے کیا گیا ہے جہاں ملک اسد سکندر کے بھائی ملک شاہنواز کو نامزد کیا گیا ہے۔ 

صرف چند ایک اضلاع میں معمولی تبدیلی نظر آئی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ وہ لوگ بھی مختلف ادوار میں حکمران جماعتوں سے وابستہ رہے ہیں لیکن اب پیپلزپارٹی میں سائیڈ لائین لگائے ہوئے تھے۔ یہاں پر بھی دو حریف گروپوں کی آپس میں نہ بننے کے بعد تیسے آپشن کے طور پر بعض افراد کو لیا گیا ہے۔ جس کا مقصد ان روایتی گروپوں کو پیغام ہے کہ آپس میں نہیں بنیں گے تو پارٹی تیسرے آپشن پر چلی جائے گی۔

 تیسرے آپشن میں ایسے لوگ لائے جارہے ہیں جن کی وفاداری یا قربت پارٹی کی اعلای قیادت کے ساتھ ہے۔

 دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ اکثر اراکین اسمبلی کی ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ داریاں بھی ہیں۔ لہٰذا اقتدار واقعة چند خاندانوں کی جاگیر بنا ہوا ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ جو بھی ضلع کونسل یا میونسپلٹی کے سربراہ منتخب ہو کر آئیں گے وہ پیپلزپارٹی کے کسی ایم این اے، ایم پی اے، وزیر یا سابق وزیر کے بیٹے ہونگے۔ بلدیاتی اداروں اور ان کے انتخابات کا مقصد اقتدار و اختیار کو نچلی سطح پر لانا ہے۔ لیکن سندھ میں ایسی کوئی صورت بنتی نظر نہیں آرہی۔ اقتدار و اختیار ان بلدایتی انتخابات کے بعد بھی اوپر کے طبقات کے پاس پھنسا ہوا ہے۔ اور اختیار و اقتدار، خواہ وسائل بھی انہی خاندانوں کے پاس ہی رہیں گے۔ 

 ان لوگوں کے آنے سے بلدیاتی اداروں میں کوئی فرق آئے گا؟ یہ سب سے بڑا سوال ہے۔ بلدیاتی اداروں کا کام یہ ہے کہ 
بلدیاتی ادارے کسی ضلع یا شہر کی سیلف گورنمنٹ کا دارہ ہوتے ہیں۔ ان کا کام لوگوں کو شہری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ جوخاندان سالہا سال تک اقتدار پر حاوی رہے ہیں اور عوام کو کچھ نہیں دے سکے ہیں کیا ان سے امید کی جاسکتی ہے کہ اس مرتبہ لوگوں کو وہ سلہولیات دے پائیں گے جو بلدیاتی اداروں کا مینڈیٹ ہے۔


http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/17-06-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg 

http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page12.aspx 

No comments:

Post a Comment