Saturday, February 16, 2019

سندھ میں نئی سیاسی بیداری کا اظہار

سندھ میں نئی سیاسی بیداری کا اظہار

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی

سندھ کے عوام نے ایک مرتبہ پھر حقوق کے لئے بھرپور اجتماعی شعور کا سنجیدگی سے اظہار کیا ہے۔ یہ اظہار لسانیت سے پاک اور پرامن تھا۔ ایسا اظہار جس کے پیچھے کوئی سیاسی پارٹی یا سیاسی قیادت نہیں تھی۔ ارشاد رانجھانی کو 6 فروری بروز بدھ کو بھینس کانونی کے یونین کاؤنسل چیئرمین رحیم شاہ نے سرعام نصف درج کے قریب گولیاں مار کر قتل کر دیا اور پولیس کو یہ کہانی بتائی کہ وہ ڈاکو تھا اس لئے قتل کردیا گیا۔ پولیس نے بھی آسانی سے اس من گھڑت کہانی کو قبول کرلیا۔ اصل حقیقت کچھ اور تھی۔ کیونکہ اس پورے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ارشاد رانجھانی ویسے کوئی جانا پہچانا سیاسی کارکن نہیں تھا۔ سندھ اہل فکر و نظر یا سیاسی کارکنان اس واقعہ سے قبل شاید رانجھانی کے نام سے ہی واقف نہ تھے۔ وہ ایک عام سا سیاسی کارکن تھا۔ رحیم شاہ نے جس بیدردی سے سرعام ان کو قتل کیا، اور پھر پولیس نے جس طرح کے رویہ کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا نے اس کو وائرل کیا۔ زخمی کو ہسپتال لے جانے کے لئے کوئی آگے بڑھ رہا تھاتو اس کو روکا جارہا تھا۔ آخری گولی ارشاد کے منہ میں ماری جاتی ہے۔ پولیس اس کو لوٹ مار کی واردات قرار دیتی ہے۔ اس امر نے پوری سندھ کی سوسائٹی کو ہلا کر رکھ دیا۔ آئندہ چند گھنٹوں میں یہ درد سندھ بھر میں محسوس کیا جانے لگا۔ اور لوگ احتجاج کے موڈ میں آگئے۔
1948 میں سندھ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے آٹھ سو اراکین کے وفد نے قائد اعظم سے ملاقات کی اور انہیں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے نقصانات سے آگاہ کیا۔
اس بیدرد واقعہ کے باوجود احتجاج اتنا پرامن تھا۔
آج سے ستر سال پہلے یعنی 1948 میں سندھ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے آٹھ سو اراکین کے وفد نے قائد اعظم سے ملاقات کی اور انہیں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے نقصانات سے آگاہ کیا۔ یہ سندھ کا پہلا پرامن اور شعور کا احتجاج تھا۔
ساٹھ کے عشرے میں چار مارچ کا واقعہ سندھ یونیورسٹی کے وائیس چانسلر حسن علی عبدالرحمان کی کمشنر مسروراحسن کے ہاتھوں تذلیل کی وجہ سے ہوا۔ لیکن یہ احتجاج صرف وہیں تک محدود نہیں رہا۔سے شروع ہوا۔ کمشنر کے خلاف اس واقعہ نے تحریک کو جنم دیا۔ وجہ برسوں کی محرومی تھی جو ون یونٹ کے طوق کی شکل میں لوگوں کو جکڑے ہوئے تھی۔ تب طلباء ہر اول دستہ بن گئے۔ اگرچہ ون یونٹ کے خلاف تحریک پہلے بھی چل رہی تھی لیکن اس واقعہ نے ایک ابھار پید اکیا۔ ابتدائی طور پراس تحریک کے پیچھے بھی کوئی روایتی سیاسی قیادت نہیں تھی۔یہ تحریک سندھ کے گاؤں گاؤں تک پھیل گئی۔نئی قیادت ابھری۔ اور بعد میں ایوب خان اور ون یونٹ کے خلاف ملک گیر تحریک کا حصہ بن گئی۔ ون یونٹ کے خلاف تحریک بھی مجموعی طور پر پرامن تھی۔ اس میں سڑکوں کا احتجاج، جلسے جلوس تھے۔ ماس موبلائیزیشن تھی۔ کمشنر کے خلاف اٹھنے والی تحریک سے لیکر ون یونٹ کے خلاف صوبے بھر میں تحرک نے سندھ کی سیاسی حیثیت کو
منوایا۔
ماضی قریب میں دوسری تحریک ایم آرڈی کی تھی۔ اگرچہ ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف یہ ملک گیر تحریک تھی لیکن سندھ کی محرومیاں کچھ زیادہ ہی تھی۔ سندھی عوام نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس طرح سے چلایا کہ اسٹبلشمنٹ بھی پریشان ہو گئی اور خود وڈیرے تحریک کو ٹھنڈا کرنے کے چکر میں تھے لیکن یہ تحریک کارکنان چلا رہے تھے۔ وڈیروں کی سمجھوتہ بازی کے باوجود سندھ نے اپنی سیاسی حیثیت تسلیم کرائی۔
ارشاد رانجھانی سندھ کا پہلا سیاسی کارکن نہیں تھا جس کو قتل کیا گیا ہو۔ اس سے پہلے سندھ متعدد جانے پہچانے سیاسی رہنماؤں اورکارکنوں کے قتل برداشت کرچکا ہے۔حسن ناصر اور ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر بینظیر بھٹو تک، نظیر عباسی سے لیکر فاضل راہو تک۔ ان شہادتوں پر سندھ کے عوام نے احتجاج بھی کئے۔ یہ شہادتیں سندھ کو ابھی بھی یاد ہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ ارشاد رانجھانی کا قتل کراچی میں کسی سندھی کارکن کا پہلا قتل نہیں تھا۔ لیکن جس بیدردی سے اور سرعام قتل کیا گیا اس نے لوگوں کو جھنجھوڑ دیا۔ سوشل میڈیا پر سول سوسائٹی اور عام آدمی نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس کے وارث بن کر سامنے آئے۔کارساز کراچی پر احتجاج کی اس ا پیل پر مین اسٹریم میڈیا اور اداروں کی آنکھ کھلی۔
ماضی میں شورش زدہ اور لسانی جھگڑوں کی وجہ سے ہزارہا سندھیوں کے جمع ہونے پر بعض اداروں اور حلقوں نے خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا۔ یہ بھی کہ پختون کمیونٹی اس پر ردعمل دکھا سکتی ہے۔ واقعہ کی نوعیت ایسی تھی اور اس کے پیچھے کوئی فوری سیاسی مقاصد نہیں تھے، نہ ہی سیاسی قیادت اس کے پیچھے تھی۔ لہٰذا یہ احتجاج بھرپور ہوا۔پرامن رہا۔ اور بغیر کسی جانی یا مالی نقصان کے ہوا۔ پورا بیانہ ایسا بنا کہ شہر میں موجود پختون برادری بھی مشتعل نہیں ہوئی۔
گیارہ فروری کو ہزارہا سندھی عوام کاساز پر جمع ہوئے۔ کارساز پر احتجاج کرنے والوں کو احساس تھا کہ 8 اکتوبر 2007 کو اسی جگہ پر ایک واقعہ ہوا تھا جہاں پر 140 افراد کی لاشیں اٹھی تھی۔ تب جلوس کی قیادت محترمہ بینظیر بھٹو کر رہی تھی۔ لیکن آج اس احتجاج کی قیادت لوگ خود کر رہے تھے۔ اس میں سول سوسائٹی، سیاسی رہنما، کارکن، ادیب دانشور ،فنکار، مزدور، نوجوان خواتین اور عام لوگ بھی شامل تھے۔ کئی گھنٹے تک یہ پرامن احتجاج جاری رہا۔ نہ کوئی ٹائر جلا نہ کسی گاڑی پر پتھر مارا گیا، نہ کوئی شیشہ ٹوٹا، اور نہ ہی شاہراہ فیصل جیسے مصروف سڑک پر ٹریفک میں رخنہ پڑا۔ یہ ہجوم کسی لسانیت کا شکار نہیں ہوا۔نہ تشدد میں تبدیل ہوا۔ایک تاریخی احتجاج تھا۔ ان ہزارہا افراد کو سندھ حکومت پر غصہ تھا۔ یہی دباؤ تھا جس نے وزیراعلیٰ سندھ کو سندھ اسمبلی کے فلور پر بولنے پر مجبور کردیا۔ اور سندھ حکومت نے غفلت کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ارشاد رانجھانی کے قتل نے اُنہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ضرورت پڑی تو پولیس افسران کے خلاف خود ایف آئی آر درج کرواؤں گا۔سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ پولیس کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا پڑے گا، پولیس زخمیوں کو اسپتال لانے کے بجائے تھانے لے جارہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں عوام کی حکمرانی ہے اسے پولیس اسٹیٹ نہیں بننے دیں گے۔
تحقیقاتی ٹیم کی سفارش پر یوسی چیئرمین رحیم شاہ کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ عوام کے احتجاج اور واقعہ پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا براہ راست اظہار کے بعد چھ روز بعد قتل کا مقدمہ درج کیا گیاا رشاد رانجھانی کے قتل کے ملزم رحیم شاہ کو گرفتار کر کے انسداد دہشتگردی کے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔ملزم رحیم شاہ کا ماضی کا ریکارڈ قبضہ مافیا کا رہا ہے۔ ان پرفائرنگ سے زخمی ارشاد رانجھانی کو اسپتال نہ پہنچانے کا بھی الزام ہے۔
پرامن اور کامیاب احتجاج جس نے سیاسی اور عوامی تحریکوں کے لئے کئی اسباق چھاڑے ہیں، اس میں بگاڑ پیدا کرنے کا پہلے روز سے ڈر تھا۔ اس احتجاج کے تین روز بعد لاڑکانہ کے پاس نودیرو شگر مل کے قریب تین پختون تاجروں کو نامعلوم موٹر سائکل سوار افراد نے گولیاں مار کر قتل کردیا۔ ان کا تعلق ضلع باجوڑ سے تھا اور وہ گھریلو برتنوں کا کاروبار کرتے تھے۔ یہ لوگ کئی برسوں سے سندھ میں رہائش پذیر تھے۔ قتل کا مقدمہ درج کرلایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ پولیس کے سربراہ کو واقعہ کی پیشہ ورانہ انداز میں تحقیقات کی ہدایت کردی ہے۔ واقعہ میں بارہ بور کا پسٹل استعمال کیا گیا ہے۔ واقعہ کو سازش قرر دیا جارہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرادری نے واقعہ کی مذمت کی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لئے مناسب اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ نو دیرو کے قریب رونما ہونے والا واقعہ اگر لسانی ردعمل میں ہے تو یہ ایک بڑی سازش ہے۔ اس کے محرک سندھ میں امن کے دشمن ہیں۔واقعہ کی سندھ کے سیاسی فکر اور دانش حلقوں سے بھرپور مذمت کی جارہی ہے۔ہاں یہ درست ہے کہ اس واقعہ نے سندھی اور پختون اہل فکر و نظر کا کام تھوڑا بڑھا دیا ہے۔ انہیں اس مقصد کے لئے مربوط اور بھرپور کوششیں کرنی پڑیں گی۔
سندھ کے باشعور افراد کو جمع کیا ہے جو کسی سیاسی قیادت کے بغیر بھی جمع وہ سکتے ہیں۔ اب سندھ کے لوگ کسی سیاستدان کی منت سماجت کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ایک عام فرد یا سول سوسائٹی اگر سچائی کے ساتھ کھڑی ہوگی تو لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے۔ سندھ کا پرامن احتجاج ایک بڑی سچائی ہے جس کو کسی اس طرح کے واقعہ کے ذریعے مٹایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی مدھم کیا جاسکتا ہے۔ بڑی حقیقت تو یہ ہے کہ اس احتجاج نے یہ راہیں بھی کھول دی ہیں کہ پرامن طریقے سے احتجاج بھی رنگ لاتا ہے۔ لوگ اپنی قیادت خود بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ س

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/67422/Sohail-Sangi/Sindh-Mein-Nai-Siyasi-Bedari-Ka-Izhar.aspx

http://bathak.com/daily-nai-baat-newspapers/column-sohail-saangi-feb-15-2019-194587

No comments:

Post a Comment