میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
’’نہیں نہیں‘‘کرتے کرتے بالآخر پاکستان نے پھر آئی ایم ایف کا در کھٹکھٹا ہے۔ معیشت دان کچ زیادہ لیکن عام آمدی بھی سمجھ رہا ہے کہ اس قرضے کے کیا نتائج برآمد ہونگے۔ بعض نتائج معاشی افراتفری کی صورت میں نمودار ہوگئے ہیں جن کا سامنا ہر موڑ پر رومزمرہ کی زندگی میں لوگ کر رہے ہیں۔ لیکن وزیراعظم عمران خان نے قوم کو یقین دلارہے ہیں کہ’’ ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں‘قوم حوصلہ رکھے‘ ملک کوان مشکل حالات سے نکالوں گا‘موجودہ بحران سے نکلنے اور قرضے کی قسطیں ادا کرنے کیلئے ہمیں مزید قرضے چاہئیں۔آئی ایم ایف کے پاس جانے سے قیامت نہیں آگئی‘ اصلاحات کے اثرات 6ماہ بعد نظرآئیں گے۔‘‘ وہ سمجھتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کے بعد وہ اپنی آئینی مدت پوری کر لیں گے۔ اس لئے خود بھی خوش ہیں اور قوم کو بھی خوشخبری سنا رہے ہیں۔ پہلے 100 روز کی بات کی جارہی تھی، اب چھ ماہ کی مہلت مانگی جارہی ہے۔
حکومت ابھی بھی یہ خواب دکھا رہی ہے کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جارہی ہے۔ لوگوں کے تصرف کے لئے یہ خیال اچھا ہے۔ لیکن عملا حکومت بھی یہ جاتی ہے کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لانا اتنا آسان نہیں، اگر کبھی ایسا ہوا بھی تو اس میں بہت وقت درکار ہوگا۔ ملک چلانے کے لئے تو ابھی پیسوں کی ضرورت ہے۔ لہٰذا یہ ایک نعرہ یا مخالفین کو دبانے کے لئے ایک بہانہ تو ہو سکتا ہے لیکن اس میں عملیت کا پہلو کم ہی ہے۔
دنیا میں سرمایہ داری نے پورا نظام ایسا بنادیا ہے کہ چھوٹے خواہ بڑے ملک مالیاتی اداروں کی مرضی کے بغیر نہیں چل سکتے۔ آزادی۔حقیقی معنوں میں عالمی بینک، آئی ایم ایف اور مختلف ادارے یہ طے کرتے ہیں کہ آپ کو زندگی کیسے گزارنی ہے؟ آپ کا لائیف اسٹائل کیا ہو؟ ۔ جب یہ ادارے یہ معاملات طے کرتے ہیں تو وہ یہ بھی فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ کس طرح سے ہو؟ اور کس ملک میں کس طرح کی حکومتیں ہوں؟ آئی ایم ایف کی فرمائش یہ ہوگی کہ پانی ،بجلی ،گیس کے نرخوں میں اضافہ ہو۔
وزیراعظم خود مانتے ہیں کہ 8 ارب ڈالر کی درآمدات اور برآمدات کا عدم توازن ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس دو راستے ہیں، دوست ممالک کے پاس جا کر ان سے مشکل وقت میں ساتھ دینے کا کہیں یا پھر عالمی مالیاتی فنڈ سے رجوع کریں۔ دوست ممالک کے پاس بھی جا کر دیکھا لیکن کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔وزیراعظم کہتے ہیں کہ ترسیلات زر کی مد میں 20 ارب ڈالر پاکستان آتے ہیں، ہم نے اس کا مطالعہ کیا، جتنی مقدار میں ترسیلات زر بینکاری ذرائع سے آتی ہیں اتنے ہی بے قاعدہ عمل کے ذریعے آتے ہیں، بے قاعدہ طریقہ سے ترسیلات زر کو روک دیا جائے تو ہمیں قرضہ نہیں لینا پڑے گا۔تحریک انصاف کی حکومت کا خیال تھا کہ سمندر پار پاکستانی پیسے بھی بھیجیں گے۔ ملک میں سرمایہ کاری بھی کریں گے۔ ڈیم کے لئے بھی فنڈدیں گے۔ یہ خوش فہمی جب عمل کی کسوٹی سے ٹکرائی تو مثبت صورتحال نہیں تھی۔ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی بڑی تعداد مزدوروں یا بمشکل اپنا گزارا کرنے والوں کی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ڈالر کی اصل قدر 150روپے ہے۔ آسودہ حال لوگوں کو کوئی فکر ہیں۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ کے بعد مہنگائی کا جو طوفان اٹھے گا وہ غربت کی لکیر سے نیچے والوں کو مزید کنگال کر دے گا۔ بلکہ متوسط اور تنخواہ دار طبقہ بری طرح سے اس سونامی کی لپیٹ میں آجائیگا۔ لہذا نہ صرف غربت میں اضافہ ہوگا اور اس میں شدت آئے گی بلکہ غریبوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ تبدیلی کے نعرے سے متوسط طبقہ ہی زیادہ توقعات رکھے ہوئے تھا۔ اس طبقے کے نیچے دھکیلنے سے بڑی معاشی اور سماجی بحران پیدا پیدا ہوگا۔ سماجی بحران مختلف اقسام کی کرپشن کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اور معاشی بحران اس طرح سے کہ اس کی قوت خرید کم ہو جائے گی اور مختلف اشیاء اور مصنوعات کی مارکیٹ کم ہونے کی وجہ سے پیداوار بھی کم ہوگی۔
وزیراعظم کم آمدنی والے طبقہ اور غریب عوام کو 50 لاکھ گھروں کی فراہمی کیلئے نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ شروع کررہے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ اس اقدام سے غریبوں کو چھت میسر آنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور اقتصادی سرگرمی سے شرح نمو میں اضافہ ہو گا۔کم آمدنی والے وفاقی ملازمین کیلئے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز کیا جا رہا ہے، کچی آبادیوں کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیں گے، 60 روز میں نیشنل فنانشل ریگولیٹری ادارہ بھی قائم کیا جا رہا ہے، گھروں کیلئے اراضی حکومت فراہم کرے گی جبکہ باقی کام نجی شعبہ انجام دے گا۔ سوال یہ ہے کہ جب غریب لوگوں کے پاس روز مرہ کی زندگی گزارنے کے لئے بھی پیسے نہیں ہونگے تو وہ یہ مکانات کیسے خرید کر سکیں گے؟ یہ بھی سوال ہے کہ صرف اسلام آباد میں مقیم وفاقی ملازمین کے لئے ہی ہاؤسنگ اسکیم کیوں؟ باقی شہروں میں بھی وفاقی یا صوبائی حکومتوں کے ملازمین ہیں۔کیا یہ باقی شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوگا؟ایک زمانے میں نواز شریف نے بھی ییلو کیب ٹیکسی اسکیم شروع کی تھی۔ یہ اسکیم واقعتا کتنے لوگوں کو روزگار دے پائی؟ اس کے معاشی اور سماجی طور پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟
پیپلزپارٹی کی سنیئر لیڈر اور سنیٹر شیری رحمان کہتی ہیں کہ بحران صرف معاشی نہیں، بلکہ سیاسی بھی ہے۔ یہ درست ہے کہ قومی اسمبلی، اور سینیٹ کے باقاعدہ اجلاس ہو رہے ہیں۔ عدلیہ بھی سرگرم ہے۔ وزیراطلاعات فواد چوہدری اور نواز لیگ کے سینیٹر مشاہداللہ کے درمیاں تلخ الفاظ کے تبادلہ کے بعدسینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی کہتے ہیں کہ سینیٹ میں جس طرح کی صورتحال پیدا کی جارہی ہے اس کے پیچھے یہ عوامل کارفرما ہیں کہ ایوان بالا ملک کو درپیش حقیقی مسائل پر بحث نہ کرسکے۔ احتساب کے بارے میں روز نت نئی خبریں شایع ہو رہی ہیں۔ لیکن سب کچھ اچھا نہیں۔ حکمران جماعت کی اتحادی ایم کیو ایم کچھ فاصلہ کرنا شروع کیا ہے۔ عمران خان صرف 4 ووٹوں کی اکثریت سے یعنی 176 ووٹ لے کر وزیراعظم بنے تھے۔ وہ بی این پی مینگل اور ایم کیو ایم جیسے اتحادیوں کی بیساکھیوں کے سہارے حکومت کر رہے ہیں۔پیپلزپارٹی کے قومی اسمبلی میں رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ اگر ایم کیو ایم حکومت کی حمایت سے دستبردار ہو جائے تو پی ٹی آئی کی حکومت قومی اسمبلی میں اپنی عددی اکثریت کھو بیٹھے گی۔ بلوچستان سے سردار اختر مینگل نے بھی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ سی پیک کے حوالے جب حاصل بزنجو اور دیگر بلوچ رہنماؤں نے سخت موقف کا اظہار کیا ، جس کے بعد وزیراعظم کوئٹہ گئے اور بلوچستان کی صوبائی حکومت کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔ بعد میں ایک چینی وفد کی بلوچستان حکومت کے عہدیداران کے ساتھ اجلاس بھی کیا۔ڈیم اور غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ دینے کے معاملات پرسندھ میں تپش محسوس کی گئی۔ پی ٹی آئی کے گورنر سندھ نے حیدرآباد کی یونیورسٹیوں کا دورہ کیا۔
حکومت جس کو کوئی زیادہ عددی اکثریت حاصل نہیں، جس کا دعوا ہے کہ وہ بہت کچھ کرنا چاہتی ہے۔ لیکن وہ پارلیمنٹ کے اندر خواہ باہر سازگار ماحول قائم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اپوزیشن نیب کے سخت رویے کے خلاف متحد ہورہی ہے۔ یہ درست ہے کہ فی الحال قوم خواہ میڈیا بٹا ہوا ہے۔سرکاری اشتہارات کے بلوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے میڈیا میں بھی بے چینی ہے۔اظہار رائے کی آزادی کا معاملہ بھی شدت سے محسوس کیا جارہا ہے۔آنے والے دنوں میں ہر ایک درد کی شدت محسوس کرنے لگے گا۔ احتجاج کے لئے سازگار موسم آرہے ہیں۔ تیاریاں ہورہی ہیں۔
Nai Baat - Sohail Sangi Column October 12, 2018
https://www.naibaat.pk/11-Oct-2018/17705
No comments:
Post a Comment