توپوں کا رخ پیپلزپارٹی کی طرف کیوں؟
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
وانا میں جلسے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو ”صاحبہ“ کہنے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہیاس سے قبل بلاول نے وزیراعظم اور دیگر لوگوں کو جاہل، گھوسٹ ملازم اور بھگوڑا کہا تھا۔ سعید غنی کا تازہ بیان یہ ہے کہ فردوس عاشق اعوان ہڑپہ سے ملنے والی ممی ہیں۔ وزیراعظم کے بیان کے جواب میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پرائم منسٹر سلیکٹ بڑے عہدے پر چھوٹا آدمی ہے جبکہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے عمران کے الفاظ کوشرمناک اور قابل مذمت قرار دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی ترجمان سمریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعظم عمران جیسا چھوٹے ذہن کا
سیاسی مخالف نہیں دیکھا جبکہ مریم نواز نے بھی اظہار ناپسندیدگی کیا ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ کوئی ناشائستہ لفظ بولا جاتا تھا تو اسے غیر پارلیمانی اورغیر سیاسی قرار دیا جاتا تھا۔ کیونکہ سیاست سچ کہنے کا فن ہے۔ اس میں آپ کے الفاظ تخاطب اور انداز بیان ایسا ہوتا ہے کہ بات کہہ دی جائے لیکن وہ سب اخلاق کے دائرے میں ہو۔ اب سیاستدان ایک دوسرے کی تذلیل کریں۔ایک ایسا وقت جب کسی سنجیدہ گفتگو یا تعمیری بحث کے بجائے پارلیمنٹ ویسے ہی الزام تراشی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ملک کے اہم سیاستدانوں کے لئے کرپٹ ہونے کا بیانیہ پختہ ہوچکا ہے۔ ایسے میں یہ لب و لہجہ کیا معنی رکھتاہے؟ ہم کس کلچر کو فروغ دے رہے ہیں؟ وزیراعظم بڑا عہدہ ہوتا ہے، اگر کوئی ان پر ذاتی حملے کرتا ہے تو انہیں
نظرانداز کردینا چاہئے۔
نظرانداز کردینا چاہئے۔
جب سے پیپلزپارٹی کی قیادت نے موجودہ حکومت کے خلاف سیاسی جنگ کا
اعلان کیا ہے حکومتی توپوں کا رخ پیپلزپارٹی اور خاص طور پر بلاول بھٹو کی طرف ہے۔ پی ٹی آئی اور پی پی پی کے درمیان سیاسی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔قومی اسمبلی میں روز ہنگامہ رہتا ہے، اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی کو قومی اسمبلی میں تقریر نہ کرنے دی۔پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں لفظی جنگ جاری ہے۔ اگرچہ اسمبلی کے اندر نواز لیگ براہ رست اس جنگ کا حصہ نہیں لیکن اسمبلی سے باہر بیان بازی میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دے رہی ہے۔
اعلان کیا ہے حکومتی توپوں کا رخ پیپلزپارٹی اور خاص طور پر بلاول بھٹو کی طرف ہے۔ پی ٹی آئی اور پی پی پی کے درمیان سیاسی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔قومی اسمبلی میں روز ہنگامہ رہتا ہے، اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی کو قومی اسمبلی میں تقریر نہ کرنے دی۔پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں لفظی جنگ جاری ہے۔ اگرچہ اسمبلی کے اندر نواز لیگ براہ رست اس جنگ کا حصہ نہیں لیکن اسمبلی سے باہر بیان بازی میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دے رہی ہے۔
صرف بیان بازی ہی نہیں، اگر پیپلزپارٹی وفاقی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرہی ہے تو تحریک انصاف اس کا حساب سندھ اسمبلی میں چکانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ تحریک انصاف اس مقصد کے لئے سندھ کے دیہی علاقوں میں اپنی پارٹی یا اتحادیوں سے مدد لینے کے بجائے یہاں پیپلزپارٹی کے خلاف ایم کیو ایم کو کھڑا کیا گیا ہے۔لہٰذا زراعت، آبپاشی، وغیرہ جیسے دیہی علاقوں کے مسائل کے بجائے شہری علاقوں کے مسائل ترجیح بنتے جارہے ہیں۔ اس غبارے میں دوبارہ ہوا بھرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔تاکہ ایوان سے باہرکی سیاست میں پیپلزپارٹی پر دباؤ ڈالا جاسکے۔
پی پی پی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان بھی لفظوں کی گولہ باری شروع ہوچکی ہے۔ ایم کیو ایم دو طرح سے دباؤ ڈال رہی ہے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں نے ایک بارپھر وفاق کو سندھ میں مداخلت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ بھی شکوہ ہے کہ میئر کراچی کو اختیارات نہیں دیئے گئے اور نہ ہی فنڈز جاری کئے جارہے ہیں۔ایم کیو ایم نے ایک بار پھر نوکریوں کا معاملہ اٹھایا ہے۔ایم کیو ایم وزیراعظم عمران خان سے آرٹیکل 149 کے تحت صوبوں میں ہونے والی ناانصافی پر مداخلت اور نیب سے سندھ میں گزشتہ برسوں کے دوران سرکاری نوکریوں کے حوالے سے ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کا مطالبہ کررہی ہے۔جس پر پی پی پی کی طرف سے اسمبلی کے اندر خواہ باہرشدید ردعمل آیا۔
صوبائی اسمبلی کے اندر پی ٹی آئی موجود ہے۔ ہنگامہ آرائی صرف قومی اسمبلی تک ہی محدود نہیں۔پی ٹی آئی اور پی پی پی کے درمیان سیاسی کشیدگی سندھ اسمبلی کے رواں اجلاس میں بھی نظرآئی۔ایوان میں اربوں روپے کی رشوت اور چوبیس گھنٹے شراب نوشی کا بھی تذکرہ بھی نکلا۔ اپوزیشن اور حکومت میں جھڑپ بھی ہوئی اسپیکر کی جانب سے اپوزیشن کو غیرملکی شہدپلانے کی دعوت بھی دی گئی۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نعرے بازی ہوئی، واک آؤٹ کی نوبت آتی رہی۔ بات تقریبا ہاتھاپائی تک پہنچ گئی۔ پیپلزپارٹی کی خاتون رکن کلثوم چانڈیو نے مائیک اٹھا کر اپوزیشن رکن پر مارا۔ سرکاری بینچز اب بات کو مزید بڑھانا نہیں چاہا، وہ اپوزیشن سے قائمہ کمیٹیوں کے حوالے سے بات چیت پر راضی ہوگئی۔اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ کمیٹیوں میں مساوی نمائندگی دی جائے۔ ظاہر ہے کہ پیپلزپارٹی اپوزیشن اتنے بڑے مطالبے نہیں مانے گی۔
اپوزیشن اور سندھ حکومت ایک دوسرے سے مثالی تعلقات رکھنا نہیں چاہتی۔ دونوں ایک بات پر متفق ہیں کہ عوامی مسائل ایوان میں نہ آئیں۔ گورنرسندھ عمران اسماعیل نے ایک اور اہم معاملے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان کوئی ورکنگ ریلیشن شپ نہیں پی پی پی حکومت کے ساتھ نہیں چلناچاہتی۔ گورنر کے اس بیان نے وزیراعلیٰ اور سندھ حکومت کے اس دعوے کی تائید کردی ہے کہ وفاق سندھ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہا۔
قومی اسمبلی ہو یا صوبائی اسمبلی، اپوزیشن بجلی اور گیس کے ٹیرف میں اضافہ، امختلف مصنوعات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ، اشیائے خوردنی اور عام استعمال کی قیمتوں میں اضافے،بے روزگاری، صوبے کے مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت، تعلیم اور صحت کے نظام کی بہتری کے معاملات پو کوئی ٹھوس بات نہیں کر رہی۔ اس کے بجائے منتخب ایوانوں میں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پرمحض الزامات درالزامات لگائے جارہے ہیں۔ مطلب منتخب ایوان آج کی صورتحال سے غیر متعلق ہو کر کھڑے ہیں۔ کے تحت حکومت پر تنقید کررہے ہیں۔سیاسی جماعتوں کی جانب سے عوامی ایشوز نہ اٹھانے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ اگر عوامی ایشوز اٹھائے گئے اور لوگ سڑکوں پر آگئے تو انہیں واپس کون بھیجے گا؟ مہنگائی اور معاشی نظام کی خرابی کے معاملات مقبول بیانیہ بن گئے تو معاشی اصلاحات ناگزیر ہو جائیں گے۔ لہٰذا پورے کا پورا ایجنڈا ہی تبدیل ہو جائے گا۔
سندھ میں پیپلزپارٹی حکومت میں ہے۔ وہ وفاق کے ساتھ تنازع میں تو جاسکتی ہے لیکن عوامی مسائل پر سڑکوں کی طرف نہیں جائے گی، کیونکہ وہ بھی اس معاملے میں فریق ہے۔ عوامی ایشوز پر احتجاج شہروں میں ہی ہونا ہے۔ ایم کیوایم وفاق میں مخلوط حکومت کا حصہ ہے۔ اور بڑی مشکل سے اس نے وفاقی حکومت سے تعلقات استوار کئے ہیں، ان تعلقات کو کسی طور رپر بھی بگاڑنا نہیں چاہے گی۔
سیاسی جماعتوں کی تمام ترتوجہ مسائل کے حل کے بجائے حکومت گرانے اور ذاتی قسم کے الزام لگا کر اخباری سرخیوں میں آنا یا ٹاک شو کا موضوع بننے پر ہے اس سے عوام کو کتنے رکعت کا ثواب ہوگا؟۔


No comments:
Post a Comment