Friday, April 19, 2019

سندھ میں امن و امان کے لئے ذمہ دار کون؟

سندھ میں امن و امان کے لئے ذمہ دار کون؟

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی

سندھ میں جو تنازع آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے دنوں میں شروع ہوا تھا، وہ نئے آئی جی پی کلیم امام کے ساتھ بھی جاری ہے۔کوئی نہیں سمجھ پاتا کہ سندھ میں خصوصا صوبائی دارلحکومت کراچی میں امن و امان کے لئے کون ذمہ دار ہے؟ امن و امان کون سنبھالتا ہے؟ سندھ حکومت، پولیس یا رینجرز؟ گزشتہ روز کراچی میں صفوراں چورنگی پر پولیس فائرنگ میں ایک معصوم بچی کی ہلاکت پر حکومت سندھ اور پولیس کے درمیان ایک دوسرے پرا لزام تراشی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

حکومت کے ساتھ رینجرز کا معاملہ رہا ہے، اب پولیس کے ساتھ بھی نہیں بن رہی۔
سندھ حکومت کہتی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بشمول پولیس اس کے اختیار میں نہیں۔ ایک طرف امن و امان صوبائی معاملہ قرار دیا جاتا ہے تو دوسری طرف صوبے کے اختیار میں ہی نہیں تو وہ کس طرح سے امن و امان قائم کریگی؟ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی مضمون ہے۔ کسی حد تک دونوں کے پاس یہی نکتہ ہے کہ پولیس میں سیاست مداخلت کے نام پر چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کم کردئیے گئے ہیں۔ لیکن یہ بھی شکایات ہیں کہ صوبائی چیف اگزیکیوٹو نے پولیس کو بھی خصوصاً تبادلے کے معاملات پر سیاست میں ملوث کردیا ہے۔ سابق آئی جی پی اے ڈی خواجہ کے بعد موجودہ کلیم امام بھی انہیں ناقابل قبول ہیں۔ جس طرح سے سید مراد علی شاہ نے پولیس پر تنقید کی ہے
رواں سال فروری قانون کا مسودہ تیار کیا، جس میں ڈی آئی جیز اور ایڈیشنل آئی جی کو چیف سیکریٹری اور وزیراعلیٰ سندھ کے ماتحت رکھنے کی تجویز دی گئی۔ مسودہ تیار کرتے وقت آئی جی سندھ پولیس کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔جوابا آئی جی پولیس نے اپنی طرف سے قانونی مسودہ تجویز کیا ہے۔گزشتہ دنوں صوبائی وزیر امتیاز شیخ کی سربراہی میں قائم کردہ کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں پولیس قانون کا حکومت کا تجویز کردہ مسودہ غور کے لئے پیش ہوا تو آئی جی سندھ پولیس نے بھی کمیٹی کے سامنے اپنامسودہ پیش کیا ۔ آئی جی سندھ کے مسودے میں حیدرآباد اور سکھر کی ریجنل پولیس افسر کی اسامیاں دوبارہ بحال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مسودے میں تجویز کیا گیا ہے کہ ڈی آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی کی سطح کے افسران سے متعلق اختیارات آئی جی کو دیئے جائیں۔ جبکہ حکومتی مسودے میں یہ اختیارات وزیراعلیٰ اور چیف سیکریٹری کو دیئے گئے ہیں۔پولیس نے حکومت سندھ کے اس موقف کی مخالفت کی گئی ہے کہ آئی جی اختیارات صرف ایس پی سطح کے افسران تک ہوں اور ڈی آئی جی اور یڈیشنلّ ئی کے سطح کے اختیارات چیف سیکریٹری یا وزیراعلیٰ کے پا س ہوں۔ حکومت کا یہ موقف ہے کہ پولیس صوبائی اختیار ہے لہٰذا پولیس قانون میں تبدیلی سندھ اسمبلی کے ذریعے ہی کی جائے گی اور حکومت کو اختیار ہے کہ وہ قانون کا مسودہ تیار کرے۔پولیس پر حکومت سندھ کی مکمل نگرانی ہو۔
1989 سے کراچی میں امن و امان کے لئے رینجرز موجود ہے۔ لیکن سندھ حکومت نے 2013 کے کراچی آپریشن کے بعد اس کے اختیارات میں کمی کی دو مرتبہ کوشش کی جب اس نے چند سرکاری دفاتر پر چھاپے مارے ۔ یہا لگ بات ہے کہ اس کے پیچھے ایف آئی اے اور نیب تھے۔ تب حکومت سندھ نے تین مرتبہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع پر جھگڑا بھی کیا۔ لیکن بعد میں معاملہ ٹھنڈا پڑگیا۔ اس اثناء میں اے ڈی خواجہ کاتبادلہ کیا، لیکن اے ڈی خواجہ سول سوسائٹی کی مدد سے عدالت پہنچ گئے۔ یوں حکومت اے ڈی خواجہ کو بطور آئی جی نہ ہٹا سکی اور سندھ ہائی کورٹ میں کیس بھی ہار گئی ، صرف اتنا ہی نہیں عدالت نے رہنما اصول بھی دیئے اور پولیس افسران کے تبادلوں اور تعینات میں حکومت کو مداخلت سے روک دیا۔ جو تنازع اے ڈی خواجہ کے دنوں سے شروع ہوا تھا نئے آئی جی پی کلیم امام کے ساتھ بھی جاری ہے آج کے آئی جی کو بھی حکومت کی جانب سے سخت سوالات اور تنقید کا سامنا ہے۔ پولیس کی جانب سے منعقدہ کانفرنس میں وزیر اعلیٰ کے تنقیدی ریمارکس نے پولیس کے سینئر افسران کو بھی مایوس کیا۔اتنا ہی نہیں سندھ کے وزیر مرتضیٰ وہاب نے وزیراعلیٰ کے ریمارکس کا دفاع کیا اور کہا کہ کانفرنسیں بلانا پولیس کا کام نہیں۔ اور کہا کہ حکومت کے پاس پولیس کے احتساب اور سوالات پوچھنے کا ہر حق حاصل ہے۔ آئی جی پی سندھ کا کہنا تھا کہ چیف ایگزیکٹو کے پاس پولیس کے احتساب کا ہر حق حاصل ہے، کسی بھی کرپشن کی صورت میں آڈٹ کا حکم دیں یا وضاحت مانگ سکتے ہیں۔
عدالتی حکم کے تحت تبادلے اور تعیناتی کے اختیارات آئی جی پی کے پاس ہیں۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تنازع 2009۔10 کے بعد شروع ہوا جب سندھ کے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا تھے۔ سابق چیف جسٹس ریٹائرڈ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایک کیس میں سو موٹو لیا بعد میں 2011 میں کراچی بدامنی کیس پڑگیا۔ انتخابات 2013 کے فوری بعد سندھ حکومت نے فوری طور پر مشرف دور کے نافذ کردہ پولیس آرڈر 2002 کی جگہ پر پولیس ایکٹ 1861 بحال کردیا۔ 2013 میں کراچی آپریشن کے آغاز کی اصل اور بڑی وجہ کالعدم گروہوں کے جنگجوؤں اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگزکا خاتمہ کرنا تھا۔ بعد میں یہ آپریشن پھیلا دیا گیا۔ آرمی کی درخواست پر رینجرز کے اختیارات میں توسیع دے دی گئی۔ دیہی سندھ میں پولیس نے ڈکیتوں اور اغوا کرنے والوں کے خلاف بڑا آپریشن کیا، جس کے بعد صوبے کی شاہراہیں محفوظ ہو سکیں۔
جھگڑے کی بنیاد تقرر اور تبادلے ہیں۔ اب پولیس اور سندھ حکومت کے درمیان الزام بازی کا کھیل شروع ہو گیا ہے۔ ڈی آئی جی پولیس امیر شیخ بھی کہتے ہیں کہ بھرتیوں کا وہ معیار نہیں۔ سپریم کورٹ میں اے ڈی خواجہ نے بھی یہی بات کی تھی۔ قائم علی شاہ کی وزارت اعلیٰ کے دور میں سابق فوجیوں کی پولیس میں بھرتی اور نئے پولیس اہلکاروں کی فوج کے ہاتھوں ٹریننگ کے معاملات بھی سامنے آتے رہے۔ جب پولیس کو حکومت ہی اون نہیں کرتی تو پھر عوام کیسے اون own کریں گے؟
صوبائی حکومت کا یہ موقف صحیح بھی ہو لیکن معاملہ نیتوں کا ہے۔ تقرر سیاسی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ بلاشبہ پولیس میں اصلاحات کی ضرورت ہے، اس کی تربیت اور نئے خطوط پر استوا ر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کو جدید اسلح اور تیناکنالاجی سے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔
جب جنگ سیاسی بن جائے تو بحران پیدا ہوتا ہے۔ ایک ادارہ دوسرے کے کندھے پر ذمہ داری ڈال دیتا ہے۔ بحران کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کو حل کون کرے گا؟ جھگڑا سیاسی اور اختیارات کا ہے عوام بیچ میں پستا رہا ہے۔ آخر امن و امان کسی کی ذمہ داری ہے؟


Sindh Police and govt controversy

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/sindh-mein-aman-o-aman-ke-liye-zimadar-kaun-12314.html

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/69209/Sohail-Sangi/Sindh-Mein-Aman-o-Aman-Ke-Liye-Zimadar-Kaun.aspx

No comments:

Post a Comment