Saturday, April 20, 2019

سندھ میں اپوزیشن: نہ حکمت عملی نہ منصوبہ بندی

سندھ نامہ سہیل سانگی 
سندھ اسمبلی میں حکومت اوراپوزیشن سیاسی بحث مباحثوں کے ذریعے ایک دوسرے سے اسکور سیٹل کرنے میں مصروف ہیں۔ اپوزیشن پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے پر مشتمل ہے۔ صوبے کے لوگوں کو جو حقیقی مسائل درپیش ہیں ان پر اپوزیشن نہ مضبوط موقف لے رہی اور نہ کوئی حکمت عملی بنائے ہوئے۔ دونوں فریقین سیاسی مباحثے میں مصرور رہ کر وقت پورا کر رہے ہیں۔ لاڑ کے علاقے میں پانی کی شدید قلت کا معاملہ ہو ، یا گنے کی قیمتوں اور گندم کی خریداری ، ان میں سے کسی ایک پر بھی اپوزیشن کے پاس نہ جامع حکمت عملی ہے اور نہ منصوبہ بندی۔ یہ صورتحال پیپلزپارٹی کے فائدے میں ہے۔ 
سندھ حکومت اس دوران بعض منصوبوں کا افتتاح کر کے اپنا مثبت امیج بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ یہ وہ میدان ہے جہاں اپوزیشن کے پاس کچھ بھی نہیں۔لوگ مسائل کا شکار ضرور ہیں، لیکن وہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ جو کچھ کرنا ہے وہ پیپلزپارٹی کو ہی کرنا ہے۔ اپوزیشن کے پاس نہ ویزن ہے اور نہ ہی انہیں عام مسائل پر توجہ دینے کے لئے فرصت ہے۔



کراچی میں پولیس کیہ فائرنگ کے نیتجے میں ایک بچے کی ہلاکت کو تقریبا تمام اخبارات نے اپنے دادریوں میں موضوع بحث بنایا ہے۔ روزنامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ پولیس کا کام لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہے۔ اور انہیں احصاس دلانا ہے کہ وہ بغیر کسی خوف و خطر اپنی زندگی گزار یں۔ لیکن ہمارے ہاں محکم،ہ پولیس لوگوں کے ساتھ وہ زیادتیاں کرتا ہے کہ جس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ محمہ بنایا ہی عوام کوپریشان کرنے کے لئے ہی بنایا گیا ہے۔کبھی کوئی ہاف فرائی کبھی فل فرائی ہو جاتا ہے۔کوئی شہری کسی واردات کی شکایت لے کر پو لیس کے پاس پہنچتا ہے تو اس کے ساتھ بدترین سلوک کیا جاتا ہے لہٰذا لوگ خود کو پولیس سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں لوگوں کا پولیس پر اعتماد اٹھ گیا ہے۔ 
کچھ عرصے سے پولیس مقابلوں میں معصوم بچوں کی ہلاکت کے واقعات پیش ؤرہے ہیں۔گزشتہ روز کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقیصفوراں چورنگی کے پاس پولیس اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ڈٰڑھ سالہ بچہ ہلاک ہو گیا۔ بچہ اپنے الدین کے ساتھ رکشا میں بیٹھا ہوا تھا۔ موٹر سائیکل پر سوار پولیس اہلکاروں نے فائنگ کی جس میں بچہ ہلاک ہوگیا۔ والدین معجزانہ طور پر چب گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ پولیس نے معاملہ کا نوٹس لیا ہے۔ّ ئی نے معاملے کا نوٹس لیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ پولسی کا کہنا ہے کہ اہلکار ڈاکوٗو پر فائرنگ کر رہے تھے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔ اس سے قبل بھی دو واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ایک واقعہ میں دو سالہ بچی ہلاک ہو گئی۔ دوسرے واقعہ میں دس سالہ بچہ۔ پولیس اہلکاروں کو کسی بھی طور پر عوام اجتماعات کے مقام پر فائنرگ کرنے کا اختیار نہیں۔ جب تک گولی چلانا آخری
آپشن ہے۔  یہ پولیس اہلکاروں کی نااہلی اور اختیارات سے تجاوز کرنا ہے۔ واقعہ کے بعد چار پولیس اہلکاروں زیر حراست ہیں۔ اور مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پہلے بھی اس طرح کی کارروائی ہوتی رہی ہے۔ جس کے بعد معافی تلافی ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بار بار اس طرح کے واقعات کیوں ہوتے ہیں۔ اس پر تحقیق ہونی چاہئے۔ پولیس کو کسی طور پر بھی یہ اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ بازاروں اور گلیوں میں گولیاں برساتی پھرے۔ ان اہلکاروں کی جو غلطی ہو، انہیں جو سزا ملے وہ اپنی جگہ پر ، پالیسی اور ہدایات میں ک چکھ گرؓر ہے جس کی وجہ سے اس طرح کیواقعات رونما ہوتے ہیں۔ 

رونامہ ’ پنہنجی اخبار‘‘ اپنے ادایے میں لکھتا ہے کہ آئی جی صاحب معافی کوئی تلافی نہیں۔ اختیارات کو تجاوز کرنے اور پالیسی کے ساتھ ساتھ تربیت میں بھی بعض تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ 
روز نامہ کاوش لکھتا ہے زیرین سندھ کے ٹھٹہ بدین اور سجاول اضلاع کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں پر کثیر رخوں میں تباہی کا اہتمام کیا ہوا ہے۔ ضلع بدین گزشتہ دو سال سے زرعی پانی کی قلت کا شکار ہے۔ علی بندر کے مقام پر غیر قانونی بدن باندھ کر پانی روک دیا گیا ہے۔ دو سال سے مسلسل اس صورتحال کی وجہ سے ضلع کی معیشت تباہ ہے۔ ساحلی پٹی اور ڈیلٹا مکمل طور پ تباہ ہونے کے بعد لوگوں نے وہاں سے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ کیونکہ کہ ان علاقوں میں زراعت کے لئے ہی نہیں بلکہ پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں۔ دو سال سے بدین کے رہائشیوں اور کاشتکاروں کا احتجاج بھی جاری ہے۔دو روز قبل شادی لارج سے 18 کلو میٹر پیدل لانگ مارچ بھی احتجاج پروف حکمرانوں کی توجہ کاسبب نہیں بن سکا۔ دو لاکھ آبادی پینے کے پانی سے بھی محروم ہے۔ نہیں معلوم کہ حکومت کی اور کیا ترجیح ہے؟ 
 کا مختلف معاملات پر وفاق ے تنازع اپنی جگہ پر لیکن خود صوبے کے منتظمین کی عدم توجہگی اور عوامی مسائل سے لا تعلقی کی وجہ سے سندھ کے جسم میں صحرا سرایت کر رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ سندھ کو اپنے حصہ کا پانی نہیں ملتا، لیکن جو پانی ملتا ہے اس کی بہتر ریگیولیشن نہ ہونے کی وجہ سے ، اور پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے بعد صوبے کا زرین علاقہ جو لاڑ کہلاتا ہے مکمل تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ خوشی اور خوژھالی خواب سی بن گی ہے۔ دیہی علاقوں میں، خوشحالی اور خوشیوں کا کلچر پانی پر ہی منحصر ہے۔ تسلیم کہ تھر میں حالات خراب ہیں کہ بارشیں نہیں ہوئیں۔ لاڑ کے حصے کا پانی تو تسلیم شدہ ور منظور شدہ ہے وہ کہاں گیا؟ یہ وہ علاقے ہیں جہاں کبھی دریائے سندھ کی وجہ سے بندرگاہیں ہوتی تھی۔ اب تو یہاں پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں۔ ایل بی اور ڈی غلط ڈیزائین کا نزلہ بھی اسی علاقے پر گرتا ہے۔

Sindh Govt V/s IG Police 


No comments:

Post a Comment