اپوزیشن کہاں ہے؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
ایک بار پھر حکومت کی کارکردگی، کرپشن اور اداروں کے اختیارات اور حدود کے تعین کی بحث زوروں پر ہے۔ ماضی قریب میں بھی یہ بحث چلتی رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کو گزشتہ دور حکومت میں بھی اس قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پیپلزپارٹی یہ کہتی رہی کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔ اب نواز لیگ حکومت بھی یہی بات کہہ رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں گزشتہ دنوں اس موضوع پر اراکین پارلیمنٹ کی تقاریر کا بھی لب و لباب یہی تھی۔
بڑی حیران کن بات ہے کہ ہم ملک میں باقاعدہ کوئی نظام حکومت نہیں بنا پائے ہیں کہ آئے دن کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔کسی بھی جمہوری ریاست کے ارکان ہوتے ہیں مقننہ ( پارلمینٹ)، حکومت (انتظامیہ) اور عدلیہ۔ ان تینوں ارکان کو ا اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہے۔
پچاس کے عشرے سے ہوتا یہ رہا ہے کہ کسی ایک رکن نے اپنی کمزوری یا کسی اور وجہ سے ٹھیک سے کام نہیں کرپایا یا اسے ٹھیک سے کام کرنے نہیں دیا گیا۔ نتیجے میںپوار ریاستی ڈھانچہ ہلنے لگا۔ یہ بھی ہوتا رہا کہ کبھی کوئی دو ارکان کسی دوسرے ریاستی ادارے کی مدد سے آپس میں مل کر تیسرے کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہے۔ یاا س کے خلاف کھڑے ہوگئے۔یعنی تین پاﺅں پہ کھڑی ہوئی ریاست کا ایک پاﺅں اپنی جگہ سے ہل گیا۔نیتجے میں جدید ریاست کا قیام خواب ہی رہا۔اس میں سب سے بڑا نقصان ریاست کے پہلے رکن یعنی پارلیمنٹ کا ہوا۔ جب ہم پارلیمنٹ کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب سیاسی نظام اور سیاسی جماعتیں ہیں۔کیونکہ پارلیمنٹ کا وجود سیاست اور سیاستدانوں سے ہی ہوتا ہے۔دنیا بھر میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ ریاست چلانا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ جو کہ باقی دو اراکن اور ریاست کے دیگر ماتحت اداروں کے ذریعے معاملات چلاتی ہے۔ ملک میں لاگو ہونے واے پہلے مارشل لا سے لیکر آج تک ہم مختلف تجربے کرتے آئے ہیں۔ ایوب خان نے مارشل لا نافذ کر کے ریاست کے تینوں ارکان کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ویسے یہ معاملہ صرف ایوب خان تک محدود نہیں، جب بھی ملک میں مارشل لاءنافذ ہوتا ہے تو ایسا ہوتا ہے۔ پھر یہ یحیٰ خان کا مارشل ہو ، ضیاءا لحق کا ہو یا مشرف کا۔مقننہ اور انتظامیہ ایک ہی ادارے یا شخص میں سما جاتے ہیںعدلیہ اس کا ساتھ دیتی رہی ۔ جسٹس منیر کے فیصلے سے لیکر نئی صدی کے ابتدائی برسوں تک ہم اس کے مظاہر دیکھتے رہے ہیں۔
نظام میں خرابی اس وقت آتی ہے جب جب کسی بھی وجہ سے ایک ادارہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے یا اس کی حدود کم کردی جاتی ہیں یا پھر دوسرا ادارہ اپنی حدود سے آگے بڑھ کر کام کرنا شروع کرتا ہے۔ یعنی وہ دوسرے ادارے کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ صحیح ہے کہ پاکستان میں سیاسی دور ہی ہی بڑا مختصر اور چند برسوں پر محیط ہے۔ بغور مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں کبھی بھی اپوزیشن اپنا رول صحیح طور پر ادا نہ کر پائی ہے۔ یہ بات پچاس کے عشرے سے لیکر آج تک کی صورتحال پر لاگو کر کے دیکھی جاسکتی ہے۔
بھٹو دور کی اپوزیشن ہو یا بینظیر اور نواز شریف کے نوے کے عشرے کے دور حکمرانی ہوں، اپوزیشن جس کو اصولی طور پر پارلیمنٹ کا حصہ ہونا چاہئے، اور اسی کے ذریعے حکومت کی کارکردگی اور پالیسیوں پر چیک اینڈ بلینس رکھنا ہے۔ لیکن ہماری اپوزیشن کچھ اور کرتی رہی اور ملک یا قوم کی بہتری اور ترقی کی راہیں اختیار کرنے یا ڈھونڈنے کے بجائے اقتدار میں آنے کے شارٹ کٹ ڈھونڈتی رہی۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ہم جمہوریت کو ہی نقصان پہنچاتے رہے۔
چوہدری افتخار محمد کا بطورچیف جسٹس کا دور جڈیشل ایکٹو ازم کا مانا جاتا ہے۔ انہوں نے کمانڈ اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔ میمو گیٹ، ایبٹ آباد کمیشن، کراچی بدامنی کیس اور کئی دوسرے معاملات تھے جس پر صرف عدلیہ کی جانب سے ہی حکومت پر چیک اینڈ بیلنس رکھا جارہا تھا۔ یہاں تک کہ کئی سیاسی معاملات میں بھی عدلیہ کو مداخلت کرنی پڑی۔ عدلیہ نے خراب حکمرانی کو ایکسپوز کیا۔ حالانکہ یہ سب کام اپوزیشن کو ہی کرنا تھا۔ لیکن اپوزیشن کے رول کی عدم موجودگی میں عدلیہ کو آگے آنا پڑا۔ ممکن ہے کہ آنے والا تاریخدان اس کو عدلیہ کی جانب سے سیاست اور حکومتی معاملات میں مداخلت قرار دے۔
ملک میں قانون کی حکمرانی، خود احتسابی نظام اور جمہوری روایات کی عدم موجودگی میں خراب حکومتی کارکردگی، کرپشن وغیرہ لازمی حصہ ہوتی ہیں۔ اس کا حل مجموعی طور پر سیاسی ہی ہوتا ہے۔ عجیب سا لگتا ہے کہ کل جو بات عدلیہ کہہ رہی تھی یہ بات اب فوج کر رہی ہے کہہ رہی ہے۔
2011 کا ایک واقعہ مجھے یاد آرہا ہے ۔ جب سیاسی قوتیں کراچی میں بدامنی روکنے میں ناکام ہوئیں تو سپریم کورٹ آگے آئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے یہ از خود نوٹس علامہ طاہرالقادری کے ایک اخبار میں لکھے گئے خط پر لیا تھا جس میں انہوں نے سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔ آگے چل کر علامہ قادری نے دھرنا سیاست شروع کی۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں صورتحال کو قابو میں رکھنے میں ناکام ہو گئی ہیں۔لہٰذا سپریم کورٹ اس کا نوٹس لے۔ اس دوران اور بھی دخواستیں عدالت میں پیش ہوئیں۔ ایک وکیل نے عدلات سے استدعاکی کہ وہ وفاقی حکومت کو ہدایت کرے کہ ہنگامی صورتحال کا علان کرے اور فوج کو سویلیں حکومت کی مدد کے لئے بلایا جائے۔ تاکہ شہریوں کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ہو سکے۔ ان صاحب عدالت سے کہا کہ تمام سیاسی جماعتین یہ مطالبہ کر چکی ہیں کہ کراچی میں امن و امان کی بحالی کے لئے فوج سے مدد لی جائے۔ اور آرمی چیف بھی یہ پیشکش کر چکے ہیں کہ وہ طلب کرنے پر مدد دینے کو تیار ہیں۔دو ہزار گیارہ میں مختتف واقعات رنما ہوئے۔ اور یہ خیال پختہ ہو گیا کہ صوبے کی حکمران جماعتیں پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم اور عوامی نیشل پارٹی نے خود سیاسی جماعتوں کے بجائے لسانی گروہوں میں تبدیل کردیا ہے۔ اس بے بسی کے عالم میں فوج طلب کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
صنعتکار بھی اس صف میں شامل ہوکر یہی مطالبہ کر رہے ہیں۔ آرمی کو طلب کرنا اس صورتحال میں ہر ایک کو اچھا لگتا ہے۔ اس سے پہلے جب فوج سے کہا گیا تھا تو آرمی چیف نے یہ شرائط رکھی تھی کہ فوج اپنی عدالتیں بھی اپنی بنائے گی۔ اس کے بعد 2013 کے انتخابات ہوئے۔ مرکزی سطح پر چینج آف گارڈ ہوا۔ جنرل کیانی کی جگہ پر جنرل راحیل شریف آگئے۔ وزیرستان آپریشن اور پھر کراچی آپریشن ہوئے۔ نیشنل ایکشن پلان آیا۔ اور فوجی عدالتیں بھی بن گئیں ۔
آج رینجرز کا دعوا ہے کہ کراچی میں کرپشن ہوئی ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے سنیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے سندھ میں کرپشن کی نشاندہی کی۔ جنرل عبدالقادر بلوچ نے بھی اپنے حالیہ بیان میںسندھ میں کرپشن کی طرف اشارہ کیا کیا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ مشرف کی حکمرانی کے بعد بھی جو دور شروع ہوا اس میں بھی ہر سطح پر اپوزیشن عملی طور پر غائب تھی۔ جس کو دوستانہ اپوزیشن کا نام دیا جاتا رہا۔ آج بھی یہی صورتحال موجود ہے۔ نہ مرکز میں اپوزیشن ہے نہ صوبوں میں۔ مطلب پارلیمنٹ میں حقیقی اپوزیشن نہیں۔ جو گورننس سے متعلق سوالات اٹھائے، حکومت پر چیک اینڈ بیلنس رکھے۔ اگر پارلیمانی اور سیاسی قوتیں خواہ اسمبلی کے اندر ہوں یا باہر اپنا رول ادا نہیں کریں گی۔تو ظاہر ہے کہ ایک خلاءپیدا ہوگا۔اس خلاءکو صرف ادارے ہی نہیں عام آدمی بھی محسوس کرنے لگتا ہے۔
پیپلزپارٹی وفاق میں اپوزیشن کے طور پر ہو یا سندھ میں حکومتی سطح پر وہ اپنا تاریخی کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایسے میں فائدہ صرف اور صرف تحریک انصاف کو ہی ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ”انکل عمران خان“ پر اتنے برہم ہورہے ہیں۔
Nai Baat
Nov 17 2015
Nov 17 2015
No comments:
Post a Comment