میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
سندھ میں دوسرے مرحلے کے انتخابات اس طرح سے ہو رہے ہیں جن کی کوئی بھی ownership کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ نہ الیکشن کمیشن ، نہ حکومت یا اسکا کوئی ادارہ، اور نہ ہی عدلیہ۔ پہلے مرحلے کے انتخابات کے بعد اول شدید خوف کا عالم طاری تھا کہ دراز شریف کے واقعہ کی طرح کوئی تصادم یا خونریزی نہ ہو جائے۔ لیکن چند ہی روز بعد غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ماضی کی طرح یہ انتخابات ملتوی ہوتے ہوتے رہ گئے۔ اگرچہ سانگھڑ کے مکمل ضلع اور دیگرآٹھ اضلاع کی 81لوکل کونسلز میں انتخابات ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔پہلے روز سے ہی ان انتخابات پر جو غیر یقینی کے سیاہ بادل منڈلا رہے تھے وہ پولنگ والے روز تک بھی چھٹ نہیں سکے ہیں ۔
ان انتخابات نے صرف سیاسی جماعتوں کو ہی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو بھی ایکد وسرے کے آمنے سامنے کھڑا کردیا۔ 17 نومبر کو سندھ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ حلقہ بندیوں پر 24 گھنٹے میں نظر ثانی کر کے انتخابات کرالئے جائیں۔ الیکشن کمیشن نے سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلینج کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کا یہ موقف تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا اس کے بس میں نہیںکہ الیکشن کا شیڈیول متاثر کئے بغیر24 گھنٹے کے اندر حلقہ بندیوں پر نظر ثانی کیا جائے۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ آٹھ اضلاع میں حلقہ بندیاں تبدیل کی جائیں۔ اس پر میڈیا میں الیکشن کمیشن کا یہ موقف سامنے آیا کہ عدالت الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مداخلت کر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کا خیال تھا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل یا تبدیل ہو، تاکہ انتخابات پہلے سے مقرر کردہ حد بندیوں کے مطابق کرا لئے جائیں۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو یہ انتخابات ملتوی کردیئے جائیں ۔ انتخابات ملتوی رکانے کا الزام کوئی بھی اٹھانے کے لئے تیار نہ تھا۔
الیکشن کمیشن ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت عظمیٰ نے بتایا الیکشن کمیشن کی مرضی ہے کہ وہ انتخابات کرائے یا ملتوی کرے۔ سپریم کورٹ اس ضمن میں کوئی حکم جاری نہیں کرے گی۔تاہم عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا کہ بعض کونسلز کی متنازع حد بندیوں کو ٹھیک کئے بغیر وہاں انتخابات نہیں ہونے چاہئیں۔ ہائی کورٹ نے سندھ کے 9 اضلاع میں ازسرنو حلقہ بندی کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ الیکشن کمیشن سندھ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرکے کہتا ہے کہ جو کرنا ہے وہ کرلو۔
اب 81 لوکل کونسلز کے انتخابات پولنگ سے صرف 9 گھنٹے پہلے ملتوی کردیئے گئے۔ الیکشن کمیشن نے رات گئے ان لوکل کونسلز کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جہاں انتخابات ملتوہ کردیئے گئے ہیں ۔ پولنگ والے روز بھی کئی ووٹرز کو پتہ نہیں تھا کہ ان کے حلقے میں آج انتخابات ہو رہے ہیں یا ملتوی ہو چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور عدلاتی فیصلے سے صرف اتنی ہی پیچیدگیاں پیدا نہیں ہوئی ہیں کہ غیر یقینی صورتحال ہے۔ بلکہ یہ بھی کل کو اگر حد بندیوں کے حوالے یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ جہاں انتخابات ہو چکے ہیں اس علاقے کا کوئی حصہ نئی حد بندی میں ایسے حلقے میں چلا جاتا ہے تو کیا وہاں کے لوگ دوبارہ ووٹ کاسٹ کریں گے؟
یہ امر قابل غور ہے کہ سندھ میں ہی ہر بات متنازع کیوں بن جاتی ہے؟ گورننس اور مشاورت کا فقدان ہے؟ یا سیاسی طور پر اتنی بڑی تقسیم ہے؟ یا پھر فیصلہ سازی والے اداروں کی جانب سے بروقت فیصلہ سازی نہ کرنے یا کم توجہ دینے کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہو اجتی ہیں جن کو آخر وقت میں نہ عدلات سلجھا سکتی ہے اور نہ الیکشن کمیشن یا کوئی ادارہ۔ یہ صورتحال صرف انتخابات تک ہی محدود نہیں۔ سیاسی حوالے سے بھی اور حکومت سازی خواہ امن وامان کے حوالے سے بھی موجود ہے۔ اس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سندھ کوئی مکمل یونٹ نہیں۔ یہاں چھوٹے چھوٹے گروہی مفادات اتنے گہرے پیوست ہو چکے ہیں کہ ذرا بھی کسی پر آنچ آتی ہے تو بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے اور پھر کسی بڑے ادارے کو ہی مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ آخر سندھ خود کو کتنے حولاوں سے ٹکڑیوں اور گروہوں میں تقسیم کرے گا؟ یہ صورتحال میں لازمی طور پر کم ووٹ کاسٹ ہونگے۔ ووٹوں کا کم کاسٹ ہونا خود انتخابات کو مشکوک بنا دیاتا ہے
پیپلزپارٹی نے اس فیصلے کو متنازع قرار دیا ہے۔ وہ اس وجہ سے بھی کہ ان کی اسکیم کے مطابق یعنی ان کی بنائی ہوئی حد بندیوں کے مطابق انتخابات نہیں ہورہے ہیں ۔
اس مرحلے کی یہ بھی خصوصیت رہی کہ پولنگ عملے کو ملنے والے معاوضے میں غیر قانونی طور پر ختوتی کی گئی جس پر اس عملے نے کئی مقامات پر احتجاج بھی کیا۔
بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے خد وخال پر اگر ایک نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کیس بڑے بڑا اپ سیٹ امکان نہیں ۔ پیپلزپارٹی کا ہی پلڑا بھاری لگتا ہے۔ سانگھڑ کو چھوڑ کر جن علاقوں میں انتخابات ملتوی ہوئے ہیں، وہاں جب بھی انتخابات ہونگے تو پیپلزپارٹی کے حامیوں کی ہی جیت ہوگی۔ کیونکہ پیپلزپارٹی پہلے سے ہی اکثریت میں ہوگی، مزید یہ کہ صوبے میں تو اس کی حکومت ہے ہی۔ اور اس کو صوبائی سطح پر چیلینج کرنے والی کوئی پارٹی یا اتحاد سامنے نہیں آیا ہے۔
دوسرے مرحلے کی دوسری اہم بات بڑی پارٹیوں کی مرکزی قیادت کی انتخابی مہم میں شرکت ہے۔ میاں نواز شریف کی دیوالی کی تقریب میں شرکت محدود سہی لیکن بلدیاتی مہم کا حصہ تھی۔ اس کے بعد بلاول بھٹو زرداری اور عمران خان نے چارچار اضلاع کا دورہ کیا۔ ان دو رہنماﺅں کے دوروں نے انتخابی مہم میں جان ڈال دی۔ اور اس کی اہمیت میں بھی اضافہ کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان دونوں رہنماﺅں نے کوئی سیاسی پروگرام یا نعرہ دینے کے بجائے ایکد وسرے کو ذاتی طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
اس انتخابی مہم کی یہ بھی خامی رہی کہ مجموعی طور پر کوئی سیاسی نعرہ یا پروگرام بھی سامنے نہیں آیا۔ نہ کسی سیاسی جماعت کی جانب سے اور نہ کسی انتخابی اتحاد کی جانب سے پروگرام دیا گیا کہ وہ کس طرح سے لوگوں کو بنیادی شہری یا میونسپل سورسز پہنچائیں گے؟ ان کے پاس مخصوص علاقوں کی ترقی کے لئے کیا پروگرام ہے؟ ایسا پروگرام دینے یا وعدے کرنے میں سیاسی جماعتیں خواہ انتخابی اتحاد والے گروپ بھی دلچسپی نہیں تھی۔ لہٰذا خوف، غیر یقینی حالات میں بغیر پروگرام کے دوسرا مرحلہ بھی اختتام پذیر ہو رہا ہے۔
No comments:
Post a Comment