Saturday, November 14, 2015

سیاسی رہنماﺅں میں دیوالی تہوار کا مقابلہ

Nov 14

 سیاسی رہنماﺅں میں دیوالی تہوار کا مقابلہ 
 میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
 ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو اچانک ہندو برادری سے یکجہتی کا اظہار کرنے کی سوجھی۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرادری تھر کے دوردراز علاقہ مٹھی پہنچ گئے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے عمرکوٹ میں دیوالی کا تہوار منایا۔ اس سے ایک روز قبل وزیراعظم نواز شریف نے کراچی میں دیولای کی ایک تقریب میں شرکت کی۔ اور اس موقعہ پر انہوں نے اپنی تقریر میں تاریخی جملے کہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ظالم مسلمان ہوگا تو وہ مظلوم ہندو کا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندو، سکھ، پارسی اور عیسائی بھی اس ملک کا حصہ ہے۔ وزیراعظم نے حیدرآباد میں صوفی سنت بھگت کنورام کے نام سے منسوب میڈیکل کمپلیکس تعمیر کرنے کا اعلان کیا۔ بھگت کنورام صوفی تھے جو سندھ کے ہندو اور مسلم دونوں میں یکسان مقبولیت رکھتے تھے۔ اور راگ کے ذریعے صوفی ازم کا پیغام پھیلاتے تھے۔ جنہیں قتل کردیا گیاتھا۔ ان کے نام سے منسوب مییڈیکل کمپلیکس کی تعمیر کا اعلان یقننا اہمیت کا حامل ہے لیکن تجزیہ نگار ان کی تقریر کو بھی اتنی ہی اہمیت دے رہے ہیں۔ جو بظاہر بانی پاکستان قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر کا ترجمہ لگتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نیا ملک بلا کسی امتیاز کے یہاں پر آباد تمام لوگوں وک ہوگا۔ اور مذہبی بنیاد پر کسی سے کوئی امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ اور پاکستان کے سب شہری برابر کے شہری ہونگے۔ قائد اعظم کی یہ تقریر نہ صرف ملک کی عملی سیاست اور حکمت عملی سے ھم ہو گئی بلکہ تاریخ کے صفحات سے بھی گم ہے۔ نواز شریف کا یہ اظہار ملک میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی جو ملک میں رواداری، مذہب، نسل زبان کے حوالے سے کثیر رنگوں کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں اور ملک کے تمام شہریوں کو برابری کا درجہ دینے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ میاں نواز شریف کا یہ اعلان اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے ۔ جب ملک گزشتہ چند دہائیوں سے مذہبی انتہا پسندی، فکری تنگ نظری اورعدم برداشت کی لپیٹ میں ہے۔ 
یہ تینوں اظاہر الگ الگ سہی، ملک کی تین بڑی پارٹیوں نے کئے ہیں۔ جو وفاق یا پھر صوبوں میں حکمران جماعتیں ہیں۔ ملک کے عوام کئی برسوں سے اپنے رہنماﺅں سے یہ الفاظ سننے کا انتظار کرتے رہے۔یہ اس لئے بھی کہ پچاس کے عشرے بعد صرف ایک مذہب ہی نہیں بلکہ اس میں بھی ایک مخصوص مکتب فکر کی ریاستی سطح پر حمایت حاصل رہی۔ دیگر مکاتب فکر کی حوصلہ شکنی کی گئی۔نتیجے میں دوسرے تمام مکاتب فکر نے خود کو خطرہ سمجھا۔ یوں عوام کو مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا، ایک دوسرے سے دور کیا گیا۔ صورتحال یہاں تک بھی گئی کہ مخلتف عقائد اور مکاتب فکر کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو گئی بعض صورتوں میں ہتھیار بھی استعمال کئے گئے ۔عدم برداشت اور گھٹن کا ماحول جس میں آزادی سے سوچنے اور سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ 
اس پر بھی سوال کیا جا سکتا ہے کہ ہماری حکمران سیاسی جماعتوں نے یہ موقف اور یہ اظہار پہلے کیوں نہیں کیا؟ اور اب جب یہ اظہار کیا ہے تو اس کی عملی شکلیں کیا ہونگی؟ 
نواز شریف، عمران خان اور بلاول بھٹو زرادری کی جانب سے دیوالی کا تہوار منانا سیاسی مقابلہ ہے۔ جس کا تعلق بلدیاتی انتخابات سے بھی ہے۔ لیکن یہ طے ہے کہ اس کو اسٹبلشمنٹ کی بھی حمایت حاصل ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر حکومت میں موجود سیاسی جماعتیں بھارت سے متعلق اپنا الگ سے موقف کھلے عام نہیں رکھ سکتیں ۔ 
 عمرکوٹ اور تھر دونوں بھارتی سرحد سے لگتے ہیں۔ اس سے پہلے سندھ خواہ پنجاب میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف پرتشدد واقعات ہوتے رہے ہیں۔ جس میں ہندو لڑخیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے اور عسائیوں کے خلاف تشدد ، ہندوﺅں کی بھارت نقل مکانی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان واقعات پر ان سیاستدانوں نے کبھی بھی واضھ اور ٹھوس موقف اختیار نہیں کیا۔ بلکہ بعض معاملات پر یا تو خود اس کا حصہ بنے یا پھر خاموش تماشائی بنے رہے۔ رینکل کماری اور کچھ ہندو لڑکیوں کے کیس میں پیپلزپارٹی اپنے ایم این اے میاں مٹھو کے خلاف کارروائی نہ کر سکی۔ ڈیڑھ ماہ قبل عمران خان نے شمالی سندھ کے دورہ جکے دوران میاں مٹھو سے ملاقات کی اور انہیں پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی۔ لہٰذا ان سیاستدانوں کو آئنہد وقت میں اپنے عمل اور پالیسی کا جائزہ لینا پڑے گا کہ وہ نیا موقف کتنا حقیقی ہے اور پرانا موقف کس قدر نقصاندہ ہے۔ جس سے بچنے کے لئے بعض عملی اقدامات کی بھی ضرورت پڑے گی۔ 
 پاکستان کے تین سیاسی رہنماﺅں کی جانب سے ایک ایسے موقع پر بھائچارے اور یکجہتی کا اظہار کیاگیا ہے جب بھارت میں مذہبی جنونیت بڑھی ہوئی ہے۔ خاص طور پر بھارتی وزیراعظم مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے لئے مشکل صورتحال بنی ہوئی ہے۔ یہ انتہا پسندی اس حد تک بڑھی وہئی ہے کہ بھاتی دانشوروں کو تشویش لاحق ہو رہی ہے کہ بھارت اپنا سیکیولر، رواداری، برداشت اور مذاہب، عقائد، نسل اور زبان کے حوالے سے کثیر رنگی کا امیج کھو رہا ہے۔ انہوں نے باقاعدہ مودی حکومت کے خلاف مہم شروع کی ہوئی ہے۔ سرکاری ایوارڈ لوٹانے، دستخطی مہم، مشترکہ اعلامیئے، احتجاج کی شکل میں اس کا اظہار سامنے آچکا ہے۔ مودی کی ہندو انتہا پسندی کو بہار صوبے میں منہ کی کھانی پڑی جہاں انتخابات میں ان کی پارٹی کو سکشت ہوئی۔ 
ایک طرف مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسی اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والا عدم برداشت کا ماحول ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی بڑی پارٹیوں کی جانب سے اپنے ہم وطن ہندﺅں سے دیوالی پر یکجہتی کا اظہار ہے۔ یہ دونوں اظہار ایک دوسے کے الٹ ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سیاستدانوں نے اس دانشمندی کا اظہار کیا ہے۔ ورنہ بابری مسجد کے موقعہ پر سرکاری طور پر نواز حکومت نے احتجاج کی اپیل کی تھی۔ پہلے یہ ہوتا رہا ہے کہ بھارت میں کسی انتہا پندانہ یا پرتشدد اقدام کے جواب میں پاکستان میں بھی اسی انداز میں اظہار کای جاتا تھا، نتیجے میں بھارت میں مسلمانوں اور پاکستان میں ہندوﺅں کے لئے مشکلات پیدا ہوتی رہی ہیں ۔ ہمارے رہنماﺅں کے اس موقف سے یقننا عالمی طور پر پاکستان کا امیج بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔ ورنہ دنیا بھر میں پاکستان کا امیج انتہا پسند کے طور پر مانا جاتا ہے۔ بعض محققین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ریاستی سطح پر موہن جو دڑو کی وارثی اس وجہ سے کی تاکہ بھارت کو نیچا دکھا سکے کہ دنیا کی سب سے بڑی تہذیب بھارت نہیں ہم ہیں۔ اسباب خواہ کچھ بھی ہوں، موہن جو دڑو کے بارے میں جو موقف اختیار کای گیا وہ بھی تاریخ نے درست ثابت کیا۔ طویل مدت میں سیاسی رہنماﺅں کاموجود موقف بھی صحٰح ثابت ہوگا۔ 
 یہ امر اہمیت کا حامل ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ انتہا پسندی کا جواب انتہا پسندی نہیں بلکہ برداشت، رواداری اوع یکجتی کے ساتھ بھی دیا جاسکتا ہے۔ اور مخالف جو انتہا پسندی کا کھیل کھیلنا چاہ رہا ہے اس کو اس ہتھیار کے ذریعے ہی ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے اس موقف سے یقیننا بھارت میں انتہا پسندی کے خلاف جاری مہم کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔ یوں مجموعی طور پر برصغیر میں برداشت، رواداری اور امن کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ 

No comments:

Post a Comment