بلدیاتی انتخابات کے بعض اہم نئے رجحانات
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج کم و بیش یہی متوقع تھے۔ پیپلزپارٹی کا پلڑا بھاری رہا۔ ان ا تخابات کو اگر تبدیلی کی کسوٹی مانا جائے تو یہی کہا جا سکے گا کہ سوائے سکھر کے کوئی تبدیلی نہیں واقع نہیں ہوئی۔ سکھر شہر کی بلدیہ کے سربراہ کے لئے ایم کیو ایم کا امیدوار کی جیت ہوتی تھی۔ لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا۔
سندھ میں بلدیاتی انتخابات اور بلدیاتی نظام کا معاملہ متنازع رہا ہے۔ کیونکہ صوبے کی دو بڑی پارٹیاں کو کبھی ایک دوسری کی اتحادی تو کبھی ایک دوسرے کی مخالف رہی ہیں اس نطام پر متفق نہیں ہو سکی تھی۔ اس نظام کے تکراری بن جانے کی وجہ سے چند سال قبل سندھ میں قوم پرستوں کے لئے بھی جگہ بن گئی تھی۔ یہ الگ قصہ ہے کہ وہ اس خلاءکو پر نہ کر سکے۔ پیپلزپارٹی حکومت دراصل بلدیاتی نظام کے گورکھ دھندے میں پڑنا نہیں چاہ رہی تھی۔ انتخابی فہرستوں اور حلقہ بندیوں کے معاملات بھی اٹھائے جاتے رہے۔سپریم کورٹ کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں حد بندیوں سے متعلق درخواستوں کی وجہ سے مسلسل غیر یقینی کی صورتحال رہی ۔بالآخرعدالتی فیصلے نے مجبور کردیا کہ وہ انتخابات کرائے۔
پیپلز پارٹی کے اصل کھلاڑی آصف علی زرداری ملک میں موجود نہیں تھے ۔ ایسے میں بظاہر نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو کی زیر قیادت یہ پہلے انتخابات تھے۔ عملا ایسا نہیں تھا۔ پارٹی کے رہنماو ¿ں سے بات چیت اور بیانات سے ظاہر ہوتا تھا کہ ٹکٹوں کی تقسیم فریال تالپور کی زیر نگرانی ہوئی تھی ۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ محلے اور بستی بستی سے امیدوار ہونے کی وجہ سے ان انتخابات میں عام انتخابات سے بھی زیادہ گہماگہمی ہوتی۔ لیکن انتخابی مہم گلیوں اور سڑکوں پر آنے کے بجائے وڈیروں کی اوطاقوں تک محدود رہی۔ ملک گیر دو بڑی پارٹیاں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف پنجاب میں ہی پنجہ آزمائی کر رہی تھی۔ سندھ شاید ان کا ایجنڈا نہیں تھا۔ قوم پرست بھی کوئی اتحاد نہین بنا سکے۔لہٰذا پیپلزپارٹی کے مقابلے میں کوئی بڑا سیاسی اتحاد سامنے نہیں آسکا۔ یوں یہ پارٹی پہلے مرحلے میں ایک بڑی آزمائش سے بچ گئی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اور اس کے دوستوں کو کرپشن کے الزامات کے تحت وفاق کے تین اداروں احتساب بیورو، ایف آئی اے اور رینجرز کی کارروائی کا سامنا ہے۔ لیکن تحریک انصاف ،مسلم لیگ ن، مسلم لیگ فنکشنل اور قومپرست اس کا سیاسی فائدہ نہیں اٹھاسکے۔ اور کوئی سیاسی مہم چلانے میں ناکام رہے۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ انتخابات غیر سیاسی رہے۔
سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 707 امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوئے۔ جبکہ دو مرحلے باقی ہیں۔ دوسرے اور تیسرے مرحلے میں سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کو مقابلے کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دادو میں سابق وفاقی وزیر لیاقت جتوئی تو دریائے کی دوسری طرف سابق وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کا خاندان میدان میں ہے۔سانگھڑ اور عمر کوٹ میں فنکشنل لیگ اور تحریک انصاف، تھرپارکر میں ارباب غلام رحیم اور بدین میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا پیپلز پارٹی کے لیے چئلینج بنے ہوئے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال کا سامنا پیپلزپارٹی کو پہلے مرحلے میں نہیں تھا۔
حالیہ انتخابات میںخیرپور میں کل 795 پولنگ اسٹیشن میں سے اسی فیصد کو الیکشن کمیشن نے حساس قرار دیا تھا۔ لہٰذا یہاں سیکیورٹی کس قدر سخت انتظامات ہونا ضروری تھی۔ دونوں فریقین کے پاس اسلحہ موجود تھا جس کا بیدریغ استعمال بھی کیا گیا۔نتیجے میں گیارہ افراد مارے گئے۔یہاں پولیس کی کارکردگی کا سوال اٹھتا ہے۔خیرپور میں گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں یونین کونسل سگیوں میں پولنگ کے روز تصام میں دو افراد ہلاک ہوئے دونوں کا ہی تعلق پیپلزپارٹی سے تھا۔ 2001 کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی اکثریت سے جیتی تھی ۔موجودہ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی صاحبزداری نفیسہ شاہ ضلعی ناظمہ بنیں ۔بعد میں جب وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے دور حکومت میں انتخابات ہوئے تو یہاں مسلم لیگ فنکشنل نے اکثریت حاصل کی۔
سندھ کو ان انتخابات میں بہت بڑا نقصان ہوا۔ اب سندھ میں میں اسلح کی سیاست کا راستہ کھل گیا ہے۔ جب نظریاتی سیاست ختم ہو، تربیت نہ ہو، معاملات سیاسی کارکنوں کے بجائے الیکشن باز افراد کے ہاتھ میں آجائیں تو مفاہمت ختم ہو جاتی ہے۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ سیاست بغیر خونریزی کے جنگ ہے اور خونریزی کے ساتھ سیاست ہے۔ جب سیاسی مخالفت ذاتی رجنش اور انا کا مسئلہ بن چکجائے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے۔1970 کی انتخابی مہم کے دوران سانگھڑ میں ذوالفقار علی بھٹو پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ جس کے بعد چھ حروں کا قتل ہوا۔ اس کیس کے ایک ملزم جام صادق علی بھی تھی۔ اب خیرپور میں پیپلزپارٹی اور فنکشنل لیگ کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں فنکشنل لیگ کے گیارہ افراد جان بحق ہوئے ہیں۔ ان انتخابات کے دوسرے مرحلے میں سانگھڑ اور عمرکوٹ میں پیپلزپارٹی اور فنکشنل لیگ کو ایک دوسرے کا سامنا کرنا ہے۔ اس حوالے شدید خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔
ایس ایس پی عمرکوٹ قیوم پتافی گھوٹکی میں اپنے بھائی کے مددگار بنے ہوئے تھے۔ جنہیں اب معطل کردیا گیاہے۔ لاڑکانہ میں ایک امیدوار نقد ادائیگی میں مصروف تھا۔اس سے ان شکوک کو مدد ملتی ہے کہ انتظامیہ نے کس طرح سے اپنے پسندیدہ امیدواروں کی مدد کی ہوگی۔
ان انتخابات میں الیکشن کمیشن کی capacity کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ کیونکہ اساتذہ جو روایتی طور پر الیکشن ڈیوٹی کرتے تھے اور انہیں اس کام کا تجربہ بھی تھا۔ انہوں نے صوبائی محکمہ تعلیم کے ساتھ مطالبات کی وجہ سے الیکشن ڈیوٹی کا بائکاٹ کیا تھا۔ پولنگ کے عمل میں ان کی عدم موجودگی میں یہ کام غیر متعلقہ اور غیر تربیت یافتہ عملے سے لیا گیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی عدالت میں ڈبے کھلے تو یہی پتہ چلے گا کہ کئی قانونی جھول نکل آئیں گے۔
بلدیاتی انتخابات کے نتائج متحدہ قومی موومنٹ کے لیے یقننا باعث پریشانی ہوسکتے ہیں کیونکہ سکھر میں میونسپل کا چیئرمین اس بار ان کا نہیں ہوگا۔بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں نوابشاہ شہر ، ٹنڈو آدم، ٹنڈو الہیار، میرپورخاص اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم کا سالڈ ووٹ بینک موجود ہے۔ حیدرآباد میں تو وہ اس ووٹ بینک کو بچا سکے گی۔ لیکن باقی شہروں میں اپنی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔
مجموعی طور پر پہلے مرحلے میں قوم پرست جماعتیں انفرادی طور پر بھی اپنی کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکیں۔ یہ رجحانات بھی غور طلب ہیں کہ بعض مقامات پر پیپلزپارٹی کے باغی کارکنوں نے پارٹی کے سرکاری امیدواروں کو ہرا دہا۔ چند مثالیں ایسی بھی ملتی ہیں کہ تبدیلی کے خواہان بعض گروپوں نے بھپور کوشش کی اور عوام نے انہیں ووٹ دے کر ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ جس سے یہ امید بندھی ہے کہ اگر موثر و منظم طریقے اور سچائی کے ساتھ کی گئی کوشش صورتحال پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
پہلے مرحلے کے آٹھ اضلاع میں یونین کونسل یا یونین کمیٹی کے، چییرمین یا وائس چیئرمین کے عہدے کے لئے خواتین امیدواروں کی تعدا د دو سے زیادہ نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ جمہوریت اور ترقی پسند ہونے کی دعویدار پیپلز پارٹی بھی اس ضمن آگے نہیں آئی۔ جبکہ 2001 اور 2005 کے انتخابات میں نفیسہ شاہ، فریال تالپور، راحیلہ مگسی، صغرا جونیجو ضلع ناظم رہیں ۔ نمائندگی کے حوالے سے جو سلوک خواتین کے ساتھ کیا گیا وہی سلوک عام کارکنوں کے ساتھ بھی۔آبادی کے یہ دونوں حصے معاشرے میں نظر اندازرہے۔ چلو، کارکن اسمبلی کے رکن نہیں بن سکتے وہ یونین یا ٹاﺅن کمیٹی کے چیئرمین تو ہوسکتے تھے۔ مگر حکمران جماعت خواہ دیگر پارٹیوں نے کارکنوں کو اس منصب بھ کے قابل بھی نہیں سمجھا۔ سوال یہ ہے کہ جمہوریت کا فروغ بڑے سیاسی خاندانوں کی دوسری اورتیسری نسل کو آگے لانے سے کیسے ممکن ہوگا؟ ۔ان انتخابات سے بنیادی شہری سہولیات عام لوگوں تک کیسے پہنچے گی؟
No comments:
Post a Comment