Saturday, May 14, 2016

سیاسی منظر نامے پر شدید دھند



  ملکی سیاست کے بدلتے منظرشدید دھند

میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

 پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں اتنی جلدی منظر اور کادار تبدیل ہوتے ہیں جتنے تیزی سے کسی پاپ یا جدید موسیقی کے ویڈیو میں بھی شاید تبدیل نہ ہوتے ہوں۔ جدید گانے میں بدلتے سین کسی حد تک سمجھ میں آ جاتے ہیں لیکن پاکستان میں ہر لمحے ایک نئی فلم ہے۔ ابھی بمشکل لوگ ایک فلم کو سمجھنے میں لگے رہتے ہیں کہ دوسری فلم دوسرا واقعہ سامنے آ جاتا ہے۔ قرضے میں دبی ہوئی معیشت، خراب حکمرانی کا شکار اس ملک کے عوام سمجھ ہی نہیں پارہے ہیں کہ ملک کس طرف جا رہا ہے؟ کیا ہونے والا ہے؟ کس واقعہ کا دوسرے کسی واقعے سے کیا تعلق ہے؟ 

میڈیا جس کا کردار واقعات اور حالات کی تحقیق اور تشریح کرکے صحیح سیاق و سباق میں پیش کرنا ہے وہ اس کام سے بری ہو کر واقعات کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ 
نتیجے میں جتنی پیچیدگی ملکی حالات میں ہے اس سے بڑھ کر پیچیدگی لوگوں کے ذہنوں میں ہے۔ وہ روز بروز سیاسی اور حکومتی معاملات سے بیگانہ ہوتے جا رہے ہیں یا پھر یہ کہ ان کو صرف تماش بین کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ لوگوں کی ملکی سیاست، معیشت اور حالات سے لاتعلقی بڑھ رہی ہے۔ غیر یقینی صورتحال کی وجہ ہے جو ذہنی اور نفسیاتی دباﺅ بڑھ رہا ہے وہ اپنی جگہ پر لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک خاص قسم کی ذہنیت بن رہی ہے جس کے اثرات سماجی رویوں، اور جلدی شاہوکارہونے کی طرف جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے خلاف اتنی ساری چیخ و پکار کے باوجود سرکاری محکموں میں کہیں کرپشن کم نہیں ہوئی۔ 

وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں کوئی نظام، قاعدہ، قانون کام ہی نہیں کرتا۔ سب کچھ کتابوں میں لکھا ہوا ہے لیکن عملا جو ہو رہا ہے دراصل وہی حقیقت ہے اور اسی پر چلنا ہے جو اس پر نہیں چلتا وہ سمجھیں آج کے دور میں نہیں رہ رہا۔ لوگ بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر جیسے ہی موقعہ لگے سب کچھ اور جلدی میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ کی کیا پتہ دوبارہ موقعہ ملے یا نہ ملے۔ 

گزشتہ ماہ ابھی پاناما پیپز ظاہر ہوئے تھے کہ پنجاب کے بدنام زمانہ ڈاکو غلام رسول عرف چھوٹو کی فلم تین ہفتے تک چلتی رہی۔ یہ فلم میڈیا کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں پر چھائی رہی۔ اس میں کئی ڈرامائی موڑ بھی آئے۔ پنجاب پولیس آئی، رینجرز آئی، فوج بھی پہنچی اور بعد میں مذاکرات بھی ہوئے اورچھوٹو کو فوج نے اپنی تحویل میں لے لیا ۔ اس کے بعد یہ فلم ڈبے میں بند کر کے رکھ دی گئی۔ اب اس کا کوئی ذکر فکر ہی نہیں ہوتا کہ چھوٹو کہاں ہے؟ اس سے تفتیش کے دوران کیا کیا انکشافات ہوئے؟ 

 پاناما لیکس نے ویزراعظم نواز شریف پر دباﺅ واقعی بڑھا دیا تھا کہ ان کی ناسازی طبع کی وجہ سے انہیں لندن جانا پڑا۔ اس دوران مختلف افواہین گردش کرتی رہیں۔ بعض افواہوں میں وزن بھی محسوس ہوتا تھا۔ اس کے ایک دو روز بعد آرمی چیف کا بیان آیا کہ کرپشن کے خاتمے کے خلاف ہر کوشش کی حمایت کریںگے سب کا بلا تفریق احتساب ہونا چاہئے۔ اور اس کا اظہار کچھ اس طرح بھی ہوا کہ پاک فوج کے بارہ افسران کے خلاف کارروائی کی خبر آئی۔ وزیراعظم نے پاناما لیکس کو منہ دینے کے لئے عوامی رابطے کی مہم شروع کی۔ انہوں سکھر ملتان موٹر وے کا افتتاح کیا۔ لیکن تھر کول کے ایک پروجیکٹ کا اففتاح ان کی لندن روانگی کیو جہ سے عین وقت پر ملتوی کردیا گیا تھا۔ اس طرف ویراعظم نہیں آئے۔

پاناما لیکس کے بعد کراچی کے معاملات پس منظر میں چلے گئے تھے ۔ لیکن اپریل کے آخر میں یہ خبر آئی کہ ایم کیو ایم کے رہنما عمران فاروق جنہیں چند سال پہلے لندن میں پر اسرار طریقے سے قتل کیا گیا تھا اس کیس میں گرفتار ایک ملزم خالد شمیم جو پاکستان کی تحویل میں ہے اس کی ایڈیالہ جیل میں ویڈیو ریکارڈ کی گئی۔ اس ویڈیو کے کچھ کلپس منظر عام پر آئے۔ 

اس سے پہلے پھانسی کے منتظر ایم کیو ایم کے ایک کارکن صولت مرزا کی بھی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔ پیپلزپارٹی سے قربت رکھنے والے عذیر بلوچ کی بھی ویڈیو ریکارڈنگ کی باز گشت سنائی دیتی رہی۔ لیکن ان تمام ویڈیو ریکارڈنگ کے بعد اس ضمن میں کسی کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی ہو، کم از کم میڈیا میں کوئی خبر نہیں آئی۔ یہ سب ریکارڈنگ کیا صرف تاریخ کو ریکارڈ کرنے کے لئے کی گئی تھیں یا ان کا کوئی اور بھی مقصد یا استعمال تھا؟ 

رینجرز کی تحویل میں ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کے کوآرڈینیٹر کی ہلاکت اور اس کا آرمی چیف اور ڈی جی رینجنرز کی جانب سے نوٹس لینا پوسٹ مارٹم رپورٹ میںمتوفی کے جسم پر تشدد کے نشانات اور عسکری ادارے کے تحقیقات کے عمل پر ایم کیو ایم کی جانب سے اطمینان کا اظہار بھی گزشتہ دس روز کے واقعات میں شامل ہے۔

 سندھ میں جعلی بھرتیاں کے قصے بھی دھیرے دھیرے کھل رہے ہیں وہ بھی اس خوبصورتی کے ساتھ کہ ہر ہفتے ایک خبر آی ہے کہ محکمہ بلدیات ، پولیس وغیرہ میں اتنے ہزار لوگوں کی جعلی بھرتی ہوئی۔ تحقیقات کے لئے کمیٹیاں بنائی جارہی ہیں۔ ان بھرتیوں کے حوالے سے پہلے بھی کمیٹیاں بنائی گئی تھیں ان رپورٹس ابھی تک بغیر عمل درآمد کے پڑی ہوئی ہیں۔

نیب نے سندھ کی88 ترقیاتی اسکیموں کو غیر شفاف قرار د ے کر اپنا اعتراضی خط لکھ چکا ہے۔ لیکن سندھ حکومت ساٹھ فیصد سے زائد تریقاتی رقم خرچ نہ کر سکی اس کا کوئی نوٹس لینے کے لئے تیار نہیں۔ نہ نیب اور نہ ہی عدالتیں۔ کیا اتنی بڑی رقم نااہلی، کوتاہی، لاپروائی کے زمرے میں نہیں آتی جس کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کو مختلف تکالیف بھگتنا پڑ رہی ہیں؟

گزشتہ ہفتے سندھ کے ہسپتالوں میں اربوں روپے کی بے قاعدگی کا نکشاف ہوا نیب نے ریکارڈ طلب کر لیا۔ 

 اسی دس روز کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے اہم تعلیمی اداروں میں دہشتگردی کا خطرہ، تعلیمی ادارے بند رہے۔ کراچی میں بڑے تعلیمی اداروں کی حفاطت کی ذمہ داری رینجرز نے لے لی۔ 

 تھر میں گزشتہ تین سال سے قحط ہے۔ غذائی قلت کی وجہ سے بچوں کی اموات ہو رہی ہیں ۔ سنیٹ کمیٹی نے حکومت سندھ کی تھر سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ مسترد کر چکی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ منتخب نمائندے بجائے لوگوں کی مدد کرتے انہیں دلاسہ دیتے دو ایم این ایز اور ایک ایم پی اے کے خلاف غیر قانونی طور پر ہرن کا شکار کر رہے تھے۔ یہ رویہ منتخب نمائندوں اور حکموت کی اس انسانی المیے کی طرف سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ 

 کرپشن کے معاملات کے حوالے سے پہلے صرف سندھ سے خبریں آرہی تھیں اب اچانک بلوچستان میں بھی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ 
 بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی گرفتار ان کے گھر سے نوٹون سے بھرے بارہ تھیلے برآمدہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان کی پبلک سروس کمیشن کے دو ڈپٹی ڈائریکٹر گرفتار بھی کرپشن کے الزام میں گرفتار ہوئے ہیں۔
 آٹھ مئی کو یہ خبر آئی کہ حکومت سندھ نے بغیر کسی حیل و حجت کے رینجرز کے اختیارات میں تین ماہ کی توسیع کردی۔ ورنہ اس سے پہلے صوبائی حکومت، رینجرز اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلافات سمانے آتے رہے ہیں اور سخت بیان بازی میڈیا میں پڑھنے کو ملتی رہی ہے۔ اس اچانک تبدیلی کے یقیننا کچھ محرکات ہونگے ۔

 ڈاکٹر عاصم سمیت چھ افراد پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے لیکن اس فرد جرم میں الزامات اس سے مختلف ہیں جو ان کی گرفتاری کے وقت بتائے گئے تھے۔ تب یہ کہا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے ہسپتال میں دہشتگردوں کا علاج کیا ہے۔ اس سے قبل یہ بھی باتیں ہو رہی تھیں کہ ڈاکٹر عاصم کے کیس میں کسی اور بڑی مچھلی کو بھی ملوث کیا جارہا ہے۔ 

 پاناما لیکس ک اایک اور دھماکہ پچاس کھرب روپے کی آف شور کمپنیاں رکھنے والے چار سو پاکستانیوں کے نام ظاہر ہوئے ہیں ۔ اس کے بعد تحقیقات کا دائرہ بڑھ جائے گا۔ لیکن شاید تحقیقات نہیں ہو پائے گی۔ 

 جنرل پرویز مشرف پر غداری کے سنگین الزامات کے کیس میں مفرور ملزم قرار دے دیا۔ جنرل مشرف چند ہفتے قبل بیماری کی وجہ سے بیرون ملک چلے گئے تھے۔ اب اس معاملے نے از سرنو سر اٹھایا ہے۔ 

 سیاسی منظر نامے پر شدید دھند چھائی ہوئی ہے۔ اس دھند میں ابھرنے والے خاکوں کی تشریح و توضیح ہر ایک کے اپنے طور پر کر رہا ہے۔ حکومتی اور ریاستی ادارے لوگوں کی رہنمائی کرنے کے بجائے آپس میں ہی الجھے ہوئے ہیں۔ پاناما پیپرز کے زلزلے کے جھٹکے ابھی تک جا ری ہیں ۔ در حقیقت سیاسی بحران شدید تر ہو رہا ہے۔ 
 روزنامہ نئی بات 
http://www.naibaat.com.pk/pre/islamabad/Page12.aspx



No comments:

Post a Comment