Nai Baat May 3, 2016
http://www.naibaat.com.pk/ePaper/lahore/03-05-2016/details.aspx?id=p12_04.jpg
اقتصادی راہداری اور چینی حکمت عملی
میرے د ل میرے مسافر سہیل سانگی
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز گوادر میں بات چیت کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ چینی اقتصادی رہداری کے تحت چین سے پہلی کارگو شپمینٹ رواں سال ہی گوادر کے ڈیپ سمندری بندرگاہ پر پہنچ جائے گی۔شاید جنرل راحیل شریف اپنی ملازمت کی مدت میں ہی یہ منصوبہ شروع ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔اگرچہ شروع میں سیاسی رہنماﺅں کے درمیان اس منصوبے کے بارے میں تحفظات تھے لیکن بعد میں اتفا ق رائے پیدا گیا۔
یہ راہداری چین کی بڑی پہچان ہے جو دنیا کے سامنے یہ اعلان بھی ہے کہ وہ معاشی طور پر بالادست ہو رہا ہے جوخطے کے دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ لیکن اس کو ایک آزمائش سے بھی گزرنا پڑے گا کہ وہ شراکت دار ممالک کے معاشی، سیاسی اور انتظامی ڈھانچے ، کلچرمیں ”مداخلت“ کرے اور اس کا خود کو عادی بنائے۔ یہ مداخلت خواہ براہ راست نہ ہو لیکن معاشی تبدیلیاں یقینی طور پر سیاسی، سماجی اور ثقافتی حوالے سے اثر انداز ہونگی۔
جنوبی ایشیا مشکل ترین خطہ ہے۔یہ تیل اور عالمی تجارت کی بڑی گزرگاہ ہے۔ اس کے علاوہ یہاں جمہوریت اور معاشی ماحول اور حالات بظاہر بھلے ایک جیسی لگتے ہوں لیکن اندر اور اپنے جوہر میں مختلف ہیں۔ بلکہ بعض اوقات متضاد بھی۔ ان ممالک کے اندرونی تضاد ات اور ایک دوسرے سے تنازعات اور کشیدگی ایک اور چیلینج ہے جسے چین کو سامنا کرنا پڑے گا۔ چین اپنی ڈپلومیسی میں جارحانہ نہیں رہتا۔ یہاں تو معاملہ معیشت اور سرمایہ کاری کا ہے لہٰذا اس کو مزید نرم ہونا پڑے گا۔ یعنی یہ سب کچھ کسی محاذ آرائی یا تضاد میں آئے بغیر حاصل کرلے ۔ یہی چین کی پالیسی لگتی ہے۔چین جانتا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کے بغیر یہ منصوبہ نہ کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ ہی نتائج دے سکتا ہے۔
چین کا خیال ہے کہ برسہا برس کے جھگڑوں ، محاذ آرائی اور کشیدگی کے تلخ تجربوں کے بعد خطے کی اقوام کو اب یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ معیشت اور کاروبار ہی ترقی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ لہٰذا چین حالات کو معمول پر رکھنے کے اپروچ کے ذریعے تمام فریق ممالک کو خوش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس اپروچ کے عوض اسے کوئی معاشی، سمجھوتہ بازی یا سودے بازی یا پھر جنگی حکمت عمل کے حوالے سے کوئی قیمت نہیں دینی پڑ رہی۔ چین اور انڈیا کے درمیان گرمجوشی کے تبادلے اس کی ایک مثال ہیں۔
چین ڈپلومیسی بہت ہی دانشمندی سے چلا رہا ہے کہ جس ملک کا جتنا اسٹیک ہے اتنی ہی اس کو اہمیت دی جائے۔ اس راہداری کی جغرافیائی حکمت عملی کے حوالے سے اہمیت اپنی جگہ پر ہے۔ لیکن چین کے لئے حقیقی چیلینج تب ہو گا جب اس کا یہ پروجیکٹ مختلف ممالک کے باہمی کشیدگی میں مکمل ہو جائے گا اور کام شروع کر دے گا۔ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ راہداری بننے کے بعد چین کس طرح سے جنوبی ایشیا کے خطے میں کشیدگی کی صورتحال کا کس طرح سے سامنا کرتا ہے؟ معاملہ صرف پاکستان اور انڈیا کی کشیدگی کا نہیں ہے بلکہ خطے کے دوسرے چھوٹے ممالک بھی خاص طور پر سری لنکا اور نیپال انڈیا کی بالادستی پر خوش نہیں سمجھتے۔
جنوبی ایشیا میں استحکام اور سیکیورٹی چین کی یقیننا ترجیح ہے۔ لیکن یہ سب خطے کی معاشی مفادات کی قیمت پر نہیں۔ ” ایک بیلٹ ایک روڈ “ کوئی بندھا ٹکا فارمولا نہیں بلکہ ، یہ ایک ابھرتا ہوا تصور ہے جس میں چین بوقت ضرورت ترامیم کرتا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ چینی پالیسی ساز اس کو تصور کو سائنسی اپروچ کا نام دیتا ہے۔ چین کے لئے ٹائیم لائین اہم ہے۔ اس کے پاس اضافی صلاحیتیں موجودہے۔ جو بغیر استعمال کئے پڑی ہوئی ہے۔ اس کے سرمایہ کار پیسہ لگانے کے لئے جلدی کوئی مقام ڈھونڈ رہے ہیں ۔ جہاں وہ اپنی افرادی قوت، ہنر، اور دیگر صلاحیتین استعمال کر سکیں۔ ماہرین کا خیلا ہے کہ چین کو اگر یہ نظر آیا کہ یہ منصوبہ ٹائیم فریم میں قابل عمل نہیں ہے تو وہ اس میں ردوبدل کر دے گا یا مکمل طور رپر تبدیل بھی کر سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ چین کسی بھی اسٹیک ہولڈر ملک سے باضابطہ معاہدہ کرنے سے گریز کر رہا ہے تاکہ آنے والے وقت میں کسی ذمہ داری سے بچا جا سکے۔
رواں سال ستمبر میں ہونے والی جی۔ 20 کانفرنس جس کی میزبانی چین کر رہا ہے اس کے ابرے میں چین کا یہ موقف ہے کہ یہ کانفرنس معاشی معاملات کے لئے ہونی چاہئے نہ کہ سیاسی معاملات کو زیر بحث لانے کے لئے۔
چین چاروں طرف سے خود کو مختلف راہداریوں کے ذریعے ملا رہا ہے۔ جب چین خطے کے تمام ممالک سے جڑا ہوا ہوگا تو خطے کی تجارتی اور معاشی صورتحال کیا ہوگی؟ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان اور افغانستان میں جاری دہشتگردی ہے۔
جنوی ایشیا کے اندرونی کشیدگی اور تضادات سے متعلق چین سمجھتا ہے کہ سیکیورٹی بنیادی طور پر جنوبی ایشیا کے ممالک کی اپنی ذمہ داری ہے۔ وہ صرف راہداریوں یا اس سے منسلک معاشی زون کے تحفظ کو اپنی فکر سمجھتا ہے۔
چین کا قطعی طور پر ارادہ نہیں کہ وہ جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان مداخلت یا ثالثٰی کرے۔ وہ ان راہداریوں کے تحفظ میں براہ راست بھی ملوث ہونا پسند نہیں کرے گا۔ چین کے ماہرین کا خیال ہے کہ ”ایک بیلٹ ایک راستہ “منصوبے نے چین پر بہت بڑی ذمہ داری ڈال دی ہے۔ منصوبے کے فریقین کے درمیان کسی کشیدگی کی صورت میں وہ صرف اخلاقی دباﺅ ڈال سکتا ہے۔ حکمت عملی یہ ہوگی کہ خطے میں استحکام پر کم از کم اپنی توانائی استعمال کرے۔ یعنی محدود رول جس طرح افغانستان کے امن کے عمل میں کر رہا ہے۔لیکن وہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ کشیدگی اس حد تک نہ جا پہنچے جہاں چینی مفادت خطرے میں پڑ جائیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ چین کی افغانستان میں امن کوششوں میں شرکت اس کے اندرونی تحفظ کا بھی معاملہ تھا ۔ سنکیانگ کی صورتحال کی وجہ سے اس افغانستان سے تعاون کی ضروت تھی جہاں ترکستان اسلامک موومنٹ کے شدت پسند ( جن کا ہیڈکوارٹر افغانستان میں تھا) گڑبڑ کر رہے تھے۔
چینی اقتصادی راہداری کو بلاشبہ ایک مستحکم افغانستان کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر افغانستان کے شمالی علاقوں میں جہاں بغاوت گزشتہ کچھ عرصے سے بڑھ گئی ہے۔
بہرحال یہ ایک چیلینج ہے۔ لیکن چین کوئی حرفت کر سکتا ہے۔ اب چین چاہتا ہے کہ سارک ایک علاقائی تعاون کا فورم بنے۔ اور وہ آسیان کی طرح موثر تجارتی و کاروباری تتنظیم کے طور رپ ابھرے۔ تاکہ وہ ایک بیلٹ ایک راستہ منصوبوں کے فوائد حاصؒ کر سکے۔ چین جنوبی ایشیا کے ممالک کو زبردستی ایک دوسرے کے قریب لانے سے گریز کرے گا۔
پاکستان کی جغرافیائی حکمت عملی کی پوزیشن مسلمہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کی معیشت ان چیلینجوں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے؟ اس صورت میں تمام تر ذمہ داری سیاسی حکومتوں پر آتی ہے۔ خراب حکمرانی اورملک کی غریب معیشت کرپشن کا شکارہے۔ عام آدمی کو کوئی رلیف نہیں مل رہا۔
چین کا پاکستان کے سیا سی، معاشی نظام کے معاملات سے کوئی واسطہ نہیں اس کی دلچسپی صرف اس میں ہے کہ اس کا راہداری منصوبہ مقررہ مدت میں کسی طور پر کامیاب ہو۔ ایک حد اس کو پاکستان کی اندرونی سیکیورٹی اور سیاسی استحکام کے بارے میں بھی تشویش ہو سکتی ہے۔ کیونکہ یہ دونوں عناصر وقت پر منصوبے کے مکمل ہونے کے لئے ضروری ہیں ۔
سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ کنٹرول کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہے۔ جبکہ سویلین سائیڈ اپنے کمزور کردار اور رویوں کی وجہ سے عوام میں مقبولیت کھو رہی ہے۔ بہرحال اگر معاملات خراب ہونے لگتے ہیں چین پاکستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنے کو ترجیح دے گا۔
روزنامہ نئی بات


No comments:
Post a Comment