طاقت اور جمہوریت کے سرچشمے میں تبدیلی
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
پریڈ گراؤنڈ اسلام آبادمیں سابق صدر آصف علی زرداری عالم لوہار کے گائے ہوئے
گیت پر اگر بھنگڑہ نہ بھی ڈالاتے تو بھی اس ریلی کے وہی سیاسی اثرات ہوتے تھے۔ لیکن سابق صدر کا یہ ڈانس ریلی کو عوامی سطح پر آیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ وہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں اس کو عوامی سطح پر لایا گیا۔ پنجاب کے کسی شہر میں یا سندھ کے کسی دیہات میں ’’ہو جمالو‘‘ پر ڈانس نہیں کیا۔ سندھ کے لوگ جو گزشتہ برسہا برس سے پیپلزپارٹی کو ووٹ دیتے رہے ہیں۔ وہ پارٹی کے شریک چیئرمین کا یہ رقص دیکھنے کے منتظر رہیں گے۔
گیت پر اگر بھنگڑہ نہ بھی ڈالاتے تو بھی اس ریلی کے وہی سیاسی اثرات ہوتے تھے۔ لیکن سابق صدر کا یہ ڈانس ریلی کو عوامی سطح پر آیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ وہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں اس کو عوامی سطح پر لایا گیا۔ پنجاب کے کسی شہر میں یا سندھ کے کسی دیہات میں ’’ہو جمالو‘‘ پر ڈانس نہیں کیا۔ سندھ کے لوگ جو گزشتہ برسہا برس سے پیپلزپارٹی کو ووٹ دیتے رہے ہیں۔ وہ پارٹی کے شریک چیئرمین کا یہ رقص دیکھنے کے منتظر رہیں گے۔
پیپلزپارٹی کی یوم تاسیس پر اسلام آباد میں منعقدہ یہ ریلی کئی حوالوں سے اہمیت کی حامل ہے۔ 2013 کے عام انتخابات کے بعد سابق حکمران پارٹی وفاقی د ارلحکومت میں کوئی بڑا سیاسی شو نہیں کر پائی تھی۔ ملک کے اندر سیاست اس طرح کی ہو رہی تھی جس میں نواز لیگ یا پھر تحریک انصاف ہی میدان میں نظر آرہی تھیں۔ مختلف مواقع پر پیپلزپارٹی نے آگے آنے کی کوشش کی لیکن سیاست کے بڑے بحث میں اس کو جگہ نہیں مل رہی تھی۔ اور جب کبھی کوئی جگہ بنتی بھی تھی تو سندھ حکومت کی کارکردگی اور سندھ میں مختلف شعبوں میں کرپشن کے الزامات کے تحت اداروں کی کارروائی کے ہاتھوں اس کو پیچھے ہٹنا پڑتا تھا۔
2013 کے عام انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی نے صرف سندھ تک محدود ہو گئی لیکن اس نے نواز لیگ کی مخالفت میں جارحانہ رویہ رکھنے کے بجائے دوستانہ پالیسی رکھی۔ پیپلز پارٹی سمجھتی تھی کہ پنجاب میں بنیاد رکھنے والی نواز لیگ کو کمزور کرنا مشکل ہے۔ لہٰذا وہ اس بات کا انتظار کرتی رہی کہ نواز لیگ خود اپنی غلطیوں یا اپنے ہی وزن تلے جھک جائے۔ اسٹبلشمنٹ سے محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے دھنروں کے ذریعے مسلسل حملوں اور پاناما کیس ن میں میاں نواز شریف کی بطور وزیراعظم برطرفی نے وقت سے پہلے ایسی صورتحال پیدا کردی۔
نواز شریف کے ساتھ اسٹبلشمنٹ کی محاذ آرائی کے دوران جمہوریت کے تسلسل اور سویلین بلادستی کے نعرے پر کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہورہی تھی۔ نواز شریف اسلام آباد میں کمزور ہورہے تھے لیکن پنجاب میں مضبوط ہورہے تھے۔ پنجاب پر جمہوری اور لبرل سوچ حاوی ہونے جارہی تھی۔ ساٹھ کے عشرے اور ذوالفقار علی بھٹو کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ پنجاب میں یہ فکر دوبارہ پروان چڑھ نے لگا تھا۔اس سوچ کو ووٹ میں تبدیل ہونا ذرا مشکل اور طویل عمل تھا۔ اسٹبلشمنٹ کو یہ ضرورت پیش آئی کہ وہ عوام اور ووٹر کی سطح پر نواز لیگ سے نمٹے۔ فیض آباد دھرنے کو اس پس منظر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ جس کے فورا بعد لاہور میں بھی اسی بیانیہ پر دھرنا لگایا گیا۔ یہ نواز لیگ کے ووٹ بینک پر وار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دھرنے نمٹنے کے لئے نواز لیگ گومگو کا شکار رہی۔
فیض آباد دھرنے کے بعد یہ تاثر پختہ ہورہا تھا کہ اب مذہبی جماعتیں اور مذہبی بیانیہ ملک کی سیاست پر خاص طور پر اسلام آباد پر حاوی رہے گا۔ حکمران جماعت اس معاملے میں صحیح طور پر کردار ادا نہ کرسکی۔ جس کی وجہ سے ایک خلاء پیدا ہوا۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کو موقعہ ملا کہ وہ اس خلاء کو پر کرے جو نواز لیگ نے فیض آباد اور لاہور کے دھرنوں کے بعد اپنی پالیسی اور حکمت عملی دائیں بازو کی طرف رکھنے کی وجہ سے پیدا کیا تھا۔ پیپلز پارٹی نے اپنی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں ریلی منعقد کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ ملک میں لبرل ازم کی بھی بات کی جاسکتی ہے۔ اس کا اظہار اور بیانہ ملک میں اتنا ہی مضبوط ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اسلام آباد میں کسی سرگرمی کو تیار نہیں تھی۔ خود نواز لیگ بھی۔ پیپلزپارٹی نے پیش رفت کی۔
ایک زمانہ تھا جب لوگ سیاسی دباؤ ڈالنے کے لئے عوام سے رجوع کرتے تھے۔ عوام کے پاس جاتے تھے۔ شہر شہر جلسہ کرتے تھے۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے ایوب خان کے خلاف بھی بڑے بڑے جلسے کئے۔ مشرقی پاکستان جب تک بنگلادیش نہیں بنا تھا شیخ مجیب نے بھی عوام کی حمایت اور اس حمایت کے اظہار کے لئے بنگال میں جگہ جگہ جلسے کئے تھے۔ بھٹو نے اقتدار میں رہتے ہوئے بھی عوام سے رجوع کرنے کے لئے جلسے کئے۔ یہاں تک کہ بنگلادیش کو تسلیم کرنے اور بھارت سے شملہ معاہدہ کرنے کے لئے بھی جلسوں کے ذریعے عوام سے رجوع کیا تھا۔ لیکن اب عوام کو موبلائیز کرنے کے بجائے اپنے حامیوں کو مختلف رہنما انہیں وفاقی دارالحکومت بلاتے ہیں۔
ججز کی بحالی کے لئے نواز شریف نے بھی لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کیا۔ لیکن آدھے راستے میں بات مک گئی۔ عمران خان نے دو مرتبہ اسلام آباد کا رخ یا، اور سیای طاقت کا مظاہرہ دارلحکومت میں کیا۔
برطرفی کے بعد نواز شریف کا جی ٹی روڈ بھی اسی ضمن میں شمار ہوتا ہے۔
کہتے ہیں کہ کراچی سے وفاقی دارلحکومت تبدیل کر کے اسلام آباد کا نیا شہر بسا کے دارلحکومت قائم کرنے کے پیچھے سیاسی مقصد یہ تھا کہ کراچی صنعتی شہر ہے۔ یہاں مزدور اور شہری زیادہ سرگرم ہیں۔ حکومت ان کے دباؤ میں جلدی آجاتی ہے، لہٰذا دارلحکومت ایسی جگہ پر ہو جہاں اس طرح کا حتجاج اور دباؤ نہ ہو۔ اب تو بڑی بڑی سیاسی جماعتیں اسلام آباد میں ہی اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ یعنی سیاستداں عوام سے رجوع کرنے کے بجائے اسٹبلشمنٹ سے یا حکمرانوں سے رجوع کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہیکہ اب جمہوریت اور طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ ہے۔
آصف زرادری کا ڈانس جہاں لوک ترنگ کا اظہار کرتا ہے وہاں اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اب صورتحال اس کی حق میں تبدیل ہورہی ہے۔ اس جلسے سے آصف زرادری کا اچانک خطاب بھی اس دلیل کی تائید کرتا ہے کیونکہ پروگرام کے مطابق جلسے سے بلاول بھٹو زرادری کو ہی خطاب کرنا تھا۔
سابق صدر زرداری کا وقت سے پہلے انتخابات کا مشورہ، نواز لیگ حکومت پہلے ہی ہار مان لے، کیا پتہ عبوری حکومت تک نہ رہے۔نواز شریف کو بچانے کے بجائے اب خود آگے آنے کا اعلان جیسے کلمات کو تجزیہ نگار اہمیت دے رہے ہیں۔ گزشتہ دس روز سے نگراں حکومت کے قیام کی باتیں ہورہی تھی، جس کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ آئین سے بالاتر اقدام نہیں
ہونا چاہئے۔ یعنی نگراں حکومت وزیراعظم اور اپوزیشن ( نواز لیگ اور پیپلزپارٹی ) کی باہمی مشاورت سے بنے۔ حالیہ موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی اپنے اس موقف سے پیچھے ہٹی ہے اور نگراں حکومت کسی اور طرح سے بھی قائم کرنے کے لئے تیار ہوگئی ہے۔
لہٰذا گزشتہ ہفتے تک پیپلزپارٹی جمہوری تسلسل کے لئے نواز لیگ کے ساتھ کھڑی تھی، اب وہ اس کی مخالفت میں کھڑی ہو گئی ہے۔ پاکستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ ملکی سیاست میں حالیہ تبدیلی دراصل اسٹبلشمنٹ کی کمزوری کو طاہر کرتی ہے۔ کیونکہ ماضی میں اسٹبلشمنٹ سیاسی جماعتوں سے جوڑ توڑ کر کے انہیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کردیتی تھی۔ لیکن اس مرتبہ کوئی بھی مین اسٹریم کی سیاسی جماعت اسٹبلشمنٹ کے ساتھ نہیں کھڑی ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ جذباتی اور مذہبی بیانیہ کا سہارا لیا گیا۔ہ پیپلزپارٹی کی حالیہ پالیسی اسٹبلشمنٹ کے لئے معاون بنے گی۔ پیپلزپارٹی کے لئے ایک پنتھ دو کاج کی صورتحال بن گئی۔ وہ اس کا اظہار اسلام آباد میں ہی کرنا چاہتی تھی۔
نئی بات آٹھ دسمبر دوہزار سترہ
Nai Baat
Sohail Sangi Column
http://politics92.com/singlecolumn/53054/Sohail-Sangi/Taqat-Aur-Jamhoriyat-Ka-Sar-Chashma-Tabeel.aspx
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/53054/Sohail-Sangi/Taqat-Aur-Jamhoriyat-Ka-Sar-Chashma-Tabeel.aspx
No comments:
Post a Comment