Monday, December 25, 2017

جنرل صاحب ان سینیٹ

Dec 22, 2017
Sohail Sangi
Nai Bat Column

جنرل صاحب ان سینیٹ 
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

ملک اندرونی خواہ بیرونی خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ دہشگردی کی آگ تمام تر کوششوں کے باوجود بجھائی نہیں جاسکی ہے۔ جنگ عوام کی حمایت کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی۔ اور جو ادارہ عوام کی نمائندگی کرتا ہے وہ پارلیمنٹ ہے۔ عوام کے نمائندہ اس ادرے کی حالت یہ ہے کہ کسی بھی ملکی اور ریاستی ادارے نے اس کو اہمیت نہیں دی۔کہ یہ ادارہ اپنی بالادستی گنوا سکے۔ حد یہ ہے کہ حکومت بھی متعدد فیصلے اس ادارے سے باہر کرتی رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں جو فیصؒ ے لانے چاہئے تھے وہ کابینہ میں ہوتے رہے اور کابینہ میں جو فیصلے ہونے تھے وہ فرد اوحد یعنی وزیراعظم کرتے رہے۔ 
سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی صاحب آرمی چیف کو منتخب ایوان کی گلی میں لے آئے۔ یہ ایک خوش آئند بات لگتی ہے کہ آرمی چیف نے ملک کے منتخب ایوان بالا میں آکر بریفنگ دی۔ افواہوں کا ایک طوفان تھا، بلکہ سونامی تھی جو سب کچھ بہا کر لے جارہی تھی۔ موجودہ صورتحال میں جب ملک میں افواہ سازی کی انڈسٹری اوور ٹائیم پر کام کر رہی تھی۔ بریفنگ خوش آئنداور اہم ہے۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے ملک کے سیاسی بحران کی شدت میں اضافہ کے پیش نظر ماہ اگست میں ہی تجویز پیش کی تھی کہ ملک کے تین اہم ادارے پارلیمنٹ، فوج اور عدلیہ مل بیٹھیں، اور بحران کا حل تلاش کریں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے سینیٹ چیئرمیں کی اس تجویز کی حمایت کی تھی۔ لیکن پھر اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ 18 ستمبر کو سینیٹ کی دفاعی کمیٹی نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اورمیں آرمی چیف سے ملاقات کی تھی۔تجزیہ نگار دفاعی کمیٹی کے دورے کو آرمی چیف کے پارلیمنٹ میں آنے سے انکارسمجھ رہے تھے۔

اس موقع پر پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا یہ بنیادی اعتراض تھا کہ جی
 ایچ کیو کو پارلیمنٹ میں آکربریفنگ دینی چاہئے۔ نہ کہ پارلیمانی کمیٹی کو جی ایچ کیو جانا چاہئے۔ بعد میں فرحت اللہ بابر نے ایک کمیٹی سے استعیفا دے دیا۔ اس دوران جنرلوں اور ججز کے احتساب کے بھی آوازیں سیاسی فضا میں یہ بھی اٹھنے لگیں۔ نئے مردم شماری کے عبوری نتائج کے بعد نئی حلقہ بندی آئینی طور پرلازم ہو گئی۔ جس کے بغیر 2018 کے انتخابات کا ہونا ناممکن لگ رہا تھا۔ 
نئی حلقہ بندی کے لئے آئینی ترمیم قومی اسمبلی نے تو منظور کر لی لیکن سینیٹ میں ترمیم کے لئے مطلوبہ کورم ہی پورا نہیں ہو رہا تھا۔یوں ایک ماہ تک حلقہ بندی سے متعلق آئینی ترمیم سینیٹ میں لٹکی رہی۔ سب سے برا اعتراض پیپلزپارٹی کو تھا، جو سندھ میں مردم شماری کے نتائج کو چیلینج کر رہی تھی۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ پیپلزپارٹی کی سینیٹ میں اکثریت ہے لیکن اگر باقی تمام جماعتیں مل جائیں تو عددی اعتبار سے یہ ترمیم منظور ہو سکتی تھی۔
ایسے میں اسپیکر قومی اسمبلی ایازصادق کا’’ مایوس کن‘‘ بیان سامنے آیا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر سکے گی۔ یہ بیان بظاہر مایوس کن سمجھا جارہا ہے لیکن اس بیان کی یہ بھ تعبیر تھی کہ نواز لیگ حکومت کے خالف ایک ’’ بڑی سازش‘‘ ہو رہی ہے۔ اس سازش کے تانے بانے پنجاب میں مذہبی نعرے پرنواز لیگ کو دھرنوں کے ذریعے دائیں بازو کی حمایت سے محروم کرنے اور بعض اراکین اسمبلی کے استعیفا کے اعلانوں سے بھی ملتے ہیں۔ 

اس سیاسی حملے کے دو مقاصد تھے۔ ایک یہ کہ حکمران جماعت نواز لیگ اپنی قیادت تبدیل کرے۔ دوئم یہ کہ وہ اپنی پالیسی محاذ آرائی کے بجائے، افہام و تفہیم کی طرف لے آئے۔ اگر یہ دونوں اقدامات نہیں ہوتے، تو پھر بحران اپنی انتہا کی طرف جاتا نظر آرہا تھا۔
سینیٹ میں اس بریفنگ کے فورا بعد دو نکات پر پیش رفت نظر آئی۔ پہلی یہ کہ سینٹ نے اسی روز آئینی ترمیم منظور کر لی۔ دوئم یہ کہ دوسرے روز نوز لیگ کے صدر نواز شریف کا یہ بیان آگیا کہ پارٹی کاّ ئندہ وزیراعظم میاں شہباز شریف ہونگے۔ 
یہ درست ہے کہ مجموعی طور پر ملک کی سیاسی جماعتوں کا کردار جمہوری عمل کے تسلسل اور اس کو مضبوط بنانے کے لئے اتنا موثر اور قابل تعریف نہیں لگتا۔ لیکن سحالات اور واقعات نے سیاسی جماعتوں کو اس نہج پر کھڑا کر دیا ہے کہ وہ کچھ نہ کریں اور صرف اپنی جگہ پر کھڑی رہیں تب بھی معاملات صحیح سمت میں جا سکتے ہیں۔ ماضی میں اسٹبلشمنٹ ملک کی دو اہم پارٹیوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے اور جمہوری نظام کو کمزور رکنے بلکہ اس میں تعلطل پیدا کرنے میں کامیاب ہوتی رہی ہے۔ اس مرتبہ ایسا نہیں ہو سکا۔ اس کے لئے مذہبی نعروں پر دھرنوں کا سہارا لیا گیا۔ ایک اور مثبت بات یہ بھی ہوئی کہ ملک کی مین اسٹریم سیاسی مذہبی جماعتیں ان دھرنا دینے والوں کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔

اس دوران ایک اور عنصر بھی شامل ہوا، وہ یہ کہ امریکہ نے پاکستان کو آخری موقعہ دینے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ بھی خطے میں روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لئے توازن پیدا کیا جارہا ہے۔ خطے کی تبدیل شدہ صورتحال کا تقجا تھا کہ سیاسی و عسکری فریقین ایک صفحے پر کھڑے ہوں۔ 

بریفنگ میں پورے ایوان پر مشتمل سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ فوج جمہوری نظام کے حق میں ہے۔ پارلیمنٹ دفاعی اور خارجہ پالیسی بنائے۔ہم اس پر عمل کریں گے۔ حکومت جو کہے گی اس پر عمل کریں گے۔پارلیمنٹ کی بالادستی کو قبول کرتے ہیں۔ فوج پارلیمنٹ کے ماتحت ہے۔ ملک میں صدارتی نظام نہیں چل سکتا کیونکہ اس سے چھوٹے صوبوں کے حقوق متاثر ہونگے۔ خارجہ اور دفاعی پالیسی کے حوالے سے سیاسی فریقین کو تحفظات رہے ہیں اور یہ بھی شکایت کی جاتی رہی ہے کہ ان دو اہم امور میں سیاسی بازو کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ 
اب جب آرمی چیف نے سینیٹ میں آکر یہ اعلان کیا ہے ، سیاسی فریقین کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اب اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ آرمی چیف نے جن نکات کو اٹھایا ہے یا جن نکات کو واضح کیا ہے ملک کے تمام ادارے بشمول آرمی، پارلیمنٹ، سیاسی قوتیں اور عدلیہ یقینی بنائیں کہ ان پر معن و عن عمل ہو اور ملک بحران سے مکمل طور پر نکل سکے۔

No comments:

Post a Comment