Thursday, December 21, 2017

قیادت تبدیل کرنے کے لئے نواز لیگ پر دباؤ

Dec 19 

قیادت تبدیل کرنے کے لئے نواز لیگ پر دباؤ 
غیر یقینی صورتحال عروج پر
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 
ایک غیر یقینی کی فضا ہے جو پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ پہلے ٹی وی ٹاک شوز میں اخبارات کے کالمز میں یہ سوال پوچھے جاتے رہے کہ کچھ ہونے والا ہے، کیا ہونے والا ہے۔ اب منتخب نمائندے بھی یہ سوال پوچھ رہے ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال نے مختلف سطحوں پر حکومتی خواہ انتظامی فیصلہ سازی کو ہی نہیں عام زندگی کو اور معیشت کے پہیے کو بھی سست کردیا ہے۔ 
صرف سوالات ہی نہیں ایک ذہن بن گیا ہے ۔موجودہ حکومت اپنی آّ ئینی حکومت مدت پوری کر سکے گی ؟ سینیٹ کے الیکشن کا کیا ہوگا؟سیاسی نظام اور جمہوری عمل برقرار رہے گا یا ختم ہو جائے گا؟ نگراں سیٹ اپ آئینی طریقے سے تشکیل دیا جائے گا یا کوئی اور راستہ اختیار کیا جائے گا۔؟ الیکشن وقت پر ہو پائیں گے ؟ اگر نہیں تو کتنے عرصے تک نہیں ہونگے؟ طویل مدت کی نگراں حکومت کیسی ہوگی؟ کیا ٹیکنوکریٹ حکومت کی کیا صورتحال ہے؟ اس پورے سیاسی بحران میں عدلیہ کیا رول ادا کرے گی؟ 
اس غیر یقینی صورتحال کی باز گشت صرف عام اراکین پارلیمنٹ کی گفتگو میں سنانئی دیتی ہے بلکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے ان ارشادات ن کہ انہیں نہیں لگتا کہ کہ حکومت اپنی مدت پوری کریگی نے غیر یقینی صورتحال اور سیاسی دھند میں اضافہ رکردیا ہے۔ 
سیاسی جماعتوں کے اکابرین سے بات چیت سے مختلف امکانات کا پتہ چلتا ہے، جس میں زیادہ تر حصہ ان کی خواہشات کا ہوتا ہے۔ یہ سوچ اکابرین کی نہیں بلکہ عملی سیاستدان کی ہوتی ہے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں کہ منتخب ایوان کے رکھوالے ایاز صادق نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس سے پہلے مختلف موقع پر سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی متعدد بار اپنی تقاریر ، میڈیا سے بات چیت اور خود یوان کے اندر اس طرح کے خیالات کا ا ظہار کر چکے ہیں۔ اور خطرے کی نشان دہی کر چکے ہیں۔ جب منتخب ایوان کے رہنما اس طرح کی بات کرتے ہیں تو یہ ان کی خواہش نہیں ہوتی۔ بلکہ جو انہیں معلومات ہوتی ہے اور جو ان کا ویزن ہوتا ہے اس کے پیش نظر بات کرتے ہیں۔ 
اس کے ساتھ ساتھ انہیں اس بات کا بھی اداراک ہوتا ہے کہ جس ایوان کی وہ نمائندگی کر رہے ہیں اس میں کتنا دم ہے۔ اس ایوان اور اس کے ایوان کی کیا قوت اور صلاحیت ہے۔ یہ قوت اور صلاحیت ایک تو انہیں آئین سے ملتی ہے۔ دوسرے اراکین ک جن پارٹیوں سے وابسہ ہوتے ہیں ان کی قیادت سے حاصل ہوتی ہے ۔ تیسرے خود ان منتخب اراکین کے اپنے سچائی سے بھی ہوتی ہے۔ یہی وہ صلاحیتیں ہیں جو کسی منتخب ایوان کے کردار کو متعین کرتی ہیں۔ 
اسپیکر قومی اسمبلی کے بیان کی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے فوری طورپر تردید کی ۔ جو کہ ضروری بھی تھی۔ لیکن ان کی یہ تردید نقصان کا مکمل طور پر ازالہ نہیں کر سکی۔ حکمراں جماعت نواز لیگ میں ابھی تک بحران جاری ہے۔ 
کئی مخالف جماعتیں اور اسٹبلشمنٹ مائنس نواز شریف فارمولا کے لئے کوشاں ہیں۔ یہ سمجھا جارہا ہے کہ نواز شریف کی قیادت میں نواز لیگ کو انتخابات میں شکست دینا آسان نہیں۔اور یہ بھی کہ نواز شریف کے عدم موجودگی میں پارٹی کے اندر مختلف گروپ اس طرح سے متحد نہیں رہ سکتے۔ لہٰذ ان کے نزدیک ا نواز شریف کو مائنس کرنا لازم ہے۔ اطلاعات اور واقعات کے مطابق پارٹی کے اندرایک دھڑا ایسا ہے جو مائنس نواز شریف فارمولے کو کسی قیمت پر قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے جبکہ دوسرے دھڑا چاہتا ہے افہام و تفہیم سے کام لیا جائے۔ اور نواز شریف کی عملی سیاست میں واپسی کے لئے کسی اچھے وقت کا انتظار کیا جائے۔
عمران خان بڑے بڑے جلسے کرنے کے باوجود کئی معاملات سے پیچھا نہیں چھڑاسکتے۔ عمران خان جس نے کبھی بھی آمریت کو نہیں للکارا۔ مشرف کے حامی رہے۔ اور ہر مرتبہ انہوں نے سیاسی حکومتوں کو ہی چیلینج کیا۔ یہاں تک کہ انتخابی مہم کے دوران جہانگیر ترین کی نااہلی بھی ان کا پیچھا کرتی رہے کی۔
عملی صورتحال یہ بن رہی ہے کہ سپریم کورٹ کے دو مختلف بنچوں کی دو فیصلوں نے آئندہ ملکی سیاست کا جو رخ متعین کریا اس میں شہباز شریف اور عمران خان حریف ہوں گے۔ شہباز شریف ان زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہیں۔ 
انہوں نے حدیبیہ پیپر ملز میں سنائے گئے فیصلے پر اسی عدالت عظمی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے جس پر ان کے پارٹی کے سربراہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نوازعدم اعتماد کااظہار کرتے ہیں۔ 
جہانگیر ترین کو نااہل اور عمران خان کو اہل قرار دینے والے فیصلے میں ایک فاضل جج کے اضافے نوٹ مزید صورتحال واضح کردی ہے۔ جس میں نواز شریف کی جانب سے مختلف جلسوں میں اور میڈیا پر اٹھائے گئے سوالات کے جواب دیئے گئے ہیں۔ ایک جج کی طرف سے یہ اضافی نوٹ یا فیصلہ یقیننا یہ بات لگتی ہے کہ عدالت سے باہر کہی جانے والی باتوں کا جواب دیا جائے۔ 
ماہرین پانامااور عمران خان اور جہانگیر ترین کے مقدمے کے فیصلے میں دہرا معیار کا بھی ذکر کر رہے ہیں۔ اس طرح کے سوالات کا جواب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک سیمینار سے خطاب کے دوران دیا اور اپنے فیصلے کی وضاحت دینا پڑی۔ انہیں حلفیہ کہنا پڑا کہ عدلیہ پر کوئی دباو نہیں ۔ یہ درست ہے کہ عدلیہ کا احترام کیا جانا چاہئے۔ اور عدالتی فیصلوں پر رائے دینا آسان کام نہیں لوگ عدلیہ سے انصاف اور غیر جانبداری کی توقع کرتے ہیں۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ عدلیہ نہ صرف انصاف کرے بلکہ نظر بھی آنا چاہئے کہ کہ انصاف ہوا۔ کیا عدالتوں کو یا ججوں کو عدالت سے باہر اس طرح کی باتں کرنی چاہئیں؟ اس طرح کے مزید سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ 
حدیبیہ پیپر ملز کے فیصلے کے بعد صورتحال مزید تبدیل ہوئی ہے کہ اب مفا ہمت اور مصلحت کی حکمت عملی چلانے والے شہباز شریف اور دیگر حضرات کونسا راستہ اختیار کریں گے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود موجودہ حکومت کاآّ ئینی حکومت مدت مکمل کرنا ؟ سینیٹ کے الیکشن ،سیاسی نظام اور جمہوری عمل کے تسلسل کے سوالات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ایسے میں سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کی جانب سے پورے ایوان بالا کو کمیٹی میں تبدیل کر کے آرمی چیف کی جانب سے بریفنگ کا بندوبست کرنا ایک اچھا شگون سمجھا جارہا ہے۔ میاں رضا ربانی کی یہ کوشش ان کے اس سوچ کا تسلسل ہے کہ ریاست کے اہم ادارے مل بیٹھیں اور ایک مشترکہ الئحہ عمل بنائیں۔ دیکھیں میاں رضا ربانی کی یہ کوشش کس حد تک غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ؟

Dec 19 
Sohail Sangi 
Nai Baa
t

No comments:

Post a Comment