طویل مدت کی نگراں حکومت کے قیام کی راہیں
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایک روز پہلے یہ ریمارکس دیئے اور کہا کہ کیا فوج کو حکومت اور مظاہرین کے درمیان ثالثی کا اختیارہے؟ جن کو سیاست کرنی ہے وہ ملازمت چھوڑ کر یہ کام کیرں۔ دوسرے روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قاضی محمد امین احمد نے ریمارکس دیئے ہی کہ فوج نے مصیبت سے نکالا، کردار ادا نہ کرتی تو کتنی لاشیں گرتیں۔
دھرنے کے اور ا دھرنا لگانے والوں کے مطالبات کی منظوری اور جس طرح سے یہ مطالبات منظور ہوئے ان کے بارے میں نہ صرف عدالتیں سوال کر رہی ہیں۔ ن معاملات کا فوری طور ملکی سیاست پر جو اثرات ہوئے سو ہوئے لیکن طویل مدت میں ملک کی سیاست اور حکمرانی سے لیکر طرز زندگی اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔ یہ ایک طویل فہرست ا ہے۔ اگر ایک جملے میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ دھرنا سیاست نے ملک میں جمہوری نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بعض ماہرین یہاں تک کہتے ہیں کہ ملک واپس ضیاء دور میں چلا گیا ہے نواز لیگ نے دھرنے سے متعلق پارلیمانی جماعتوں کے کردار کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل پڑنے پر تمام جماعتوں نے سیاست چمکائی ہے جبکہ پارٹی کے صدر وسابق وزیراعظم نواز شریف نے دھرنے سے متعلق وزارت داخلہ کے اقدامات پر عدم اطمینان اظہار کیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دھرنے کو درست انداز میں ہینڈل نہیں کیا گیا۔ آپریشن کی ناکامی سے حکومت کی سبکی ہوئی،‘دھرنے کے پیچھے کون تھا‘معاہدے کے نکات کس نے طے کئے ‘ذمہ داروں کا تعین کیاجائے یہ تفصیلات وزیر داخلہ احسن اقبال نے سے ان کو علیحدگی میں بتائی۔
مسلم لیگ (ن) کی مشاورتی اجلاس میں پارٹی رہنماؤں نے وزیر قانون کے استعفیٰ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیاان کا ماننا ہے کہ بائیس دن بعد زاہد حامد کے استعفیٰ سے اور دھرنا قائدین کے مطالبات ماننے کے باعث حکومت کی رٹ کمزور ہوئی پارلیمانی جماعتوں کے عدم تعاون کی وجہ سے زاہد حامد کو وزارت کی قربانی دینا پڑی۔
مردم شماری کے عبوری نتائج کی روشنی میں اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم حکومت منظور نہیں کراسکی ہے۔17 نومبر کو قومی اسمبلی کی منظور کردہ اس ترمیم کے لئے سنیٹ کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ چار مرتبہ سنیٹ کے اجلاس میں یہ ترمیم پیش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن سینیٹرز کی مطلوبہ تعدادحاضر نہ ہونے کی وجہ سے یہ ترمیم منظور نہیں کی جاسکی۔ گزشتہ روز تمام تر کوششوں کے باوجود ایوان میں 65 اراکین موجود تھے۔ جبکہ ترمیم کے لئے دو تہائی یعنی 69 اراکین کی حمایت ضروری ہے۔ پیپلزپارٹی کو حلقہ بندیوں کے مجوزہ قانون پر تحفظات ہیں۔ حکومت یہ تحفظات دور کرنے میں ناکام رہی، اس کے بغیر پیپلزپارٹی جس کو ایوان بالا میں اکثریت حاصل ہے اس بل کی حمایت کرنے سے انکار کردیا ہے۔
مردم شماری سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے آئندہ عام انتخابات کے انعقاد میں تاخیر ہو سکتی ہے۔حکومت اور اپوزیشن مطلوبہ آئینی ترمیم کی منظوری کے ایشو پر بٹی ہوئی ہیں۔ قومی اسمبلی نے اگرچہ آئینی ترمیم کی منظوری دیدی ہے لیکن یہ قانون سینیٹ تک نہیں پہنچ پا رہا کیونکہ ارکان کی مطلوبہ (دو تہائی) تعداد دستیاب نہیں ہے۔ 29 اگست کو الیکشن کمیشن نے وزارت قانون کی توجہ مردم شماری 2017ء کے نتیجے میں آئندہ عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے حوالے سے پیدا ہونے والے آئینی نوعیت کے سوالات کی جانب مبذول کرائی تھی۔ تیرہ اگست کو منعقدہ مشترکہ مفادات کی کونسل نے حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی بل لانے کی منظوری دی تھی۔ پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ اس بل کو پہلے مشترکہ مفادات کی کونسل سے منظور کرانا چاہئے۔
ایک طرف پیپلزپارٹی پر حلقہ بندیوں سے متعلق ترمیم منظور نہ کرانے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ اور سیاسی جماعتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔دوسری طرف پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کا ماننا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا دفاع کریں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک میں ابھرتے ہوئے رجحانات ریاست کے لیے خطرناک ہیں جبکہ بتایا جائے حکومت فوج کو بلانے اور معاہدہ کرنے پر کیوں مجبور ہوئی؟
22 دن اسلام آباد اور راولپنڈی یرغمال بنے رہے، دھرنے کے شرکاء سے معاہدہ اور اسلام آباد میں فوج کو طلب کیا گیا، وزیر قانون زاہد حامد عہدے سے مستعفی ہوگئے، ملک میں اتنا کچھ ہوا لیکن پارلیمنٹ کو کسی فیصلے سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ یہ شکایت سینیٹ کے چیئرمین نے بھی کی ایوان میں کی۔
وزیر اعظم ملکی صورتحال سے زیادہ اہم جدہ اور ریاض جانا اہم سمجھا۔ وزیرداخلہ 15 منٹ کے نوٹس پر عدالت میں پیش ہوسکتے ہیں تو پارلیمنٹ میں کیوں نہیں، جبکہ وزیر اعظم کو خود ایوان میں آنا چاہیے۔ اگرچہ سینیٹ کا اجلاس چل رہا تھا۔ یوں پارلیمنٹ کی توقیر کا خود حکومت نے بھی خیال نہیں رکھا۔ وہ ایک غیر متعلقہ ادارہ بنتی جارہی ہے۔
سیاسی قوتیں نہ دھرنے کا معاملہ اور نہ ہی حلقہ بندیوں کا معاملہ طے کر پارہی ہیں۔ اب سینیٹ کا اجلاس ملتوی ہو گیا ہے۔ اس بحران کو حل نہیں کر پارہی ہیں۔
چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے اگست میں ملک کو بحرانوں سے نکالنے اور مسائل کے حل کے لیے ریاستی اداروں کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ملک اداروں کے درمیان تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ملکی مسائل کا قابل قبول حل نکالنے کے لیے ایگزیکٹو، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان مذاکرات ضروری ہیں۔انہوں نے اس مقصد کے لئے سینیٹ کے فورم کی پیشکش کی تھی۔ اگرچہ اس پیشکش کو حکمران جماعت نواز لیگ نے قبول کیا تھا۔ لیکن باقی دو ریاستی اداروں کی جانب سے مثبت جواب نہ ملنے کی وجہ سے یہ پیشکش کوشش ناتمام رہی۔ اور اداروں کے درمیان خلیج بڑہی۔ جس کا اظہار فیض آباد کے دھرنے کے موقعہ پر کھلم کھلا نظر آیا۔
سیاسی جماعتوں کے اختلاافات کو سیاسی انتشار کا نام دے کر اس صورتحال میں وقت سے پہلے موجودہ حکوت کو ختم کرنے کی باتیں چل رہی ہیں۔ اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عبوری حکومت کے لبادے میں طویل مدت کی عبوری حکومت قائم کردی جائے۔
میڈیا کا ایک حصہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ نگران وزیراعظم کے عہدے کی تلاش شروع ہو چکی ہے۔ پیپلزپارٹی نے اس سرگرمی کو بھانپ لیا ہے۔ اس کے جواب میں سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سیاسی تبدیلی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے آنی چاہیے۔ انہوں نے جوڑ توڑ کے ذریعے سیاسی تبدیلی کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ ان کا مزید کہناتھا کہ سیاسی انجینئرنگ اور مذہبی نسل پرستی تھوپنے کی مخالفت کرتے رہیں گے،پیپلز پارٹی عوام کیاختیارات غصب کرنے کے خلاف مزاحمت کا عہد کرتی ہے۔
آئینی طور پر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کونگران وزیراعظم نامزد کرنا ہے ۔ لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ ان دونوں حضرات کو علم ہی نہیں کہ نگراں وزیراعظم شاید تلاش بھی کر لیا گیا ہے۔ یعنی آئین سے بالاتر راستہ اختیار کیا جارہا ہے۔چوہدری شجاعت حسین بھی کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کا نامزد کردہ نگراں وزیراعظم انہیں منظور نہیں۔یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تحریک انصاف اور اس کے ہمنواقبل از وقت الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ بھی کوشش کی جارہی ہے کہ مارچ 2018ء میں سینیٹ کے انتخابات سے قبل موجودہ حکومت گھر چلی جائے گی۔ کیونکہ سینیٹ کے انتخابات موجودہ اسمبلیوں کے ذریعے کرانے کی صورت میں نواز لیگ کو سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لے گی۔
ایک طرف موجودہ حکومت کو مدت مکمل کرنے سے پہلے ہٹانے کی راہ ہموار کی جارہی ہے دوسری طرف حلقہ بندیوں سے متعلق آئنی ترمیم منظور کرنے میں سینیٹ کی ناکامی کی وجہ سے بروقت الیکشن کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔
یوں طویل عرصہ کیلئے نگراں حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔
Nai Baat Dec 1, 2017
Sohail Sangi
Column
https://www.pakdiscussion.com/taveel-mudat-ki-nigraan-hakumat-sohail-sangi/
ReplyDeleteطویل مدت کی نگراں حکومت کے قیام کی راہیں