پنجاب کی سیاست کے محرکات
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
حالیہ سیاسی کشمکش سویلین بالادستی کے خلاف اور جوڈیشل ایکٹیوازم کا اظہار ہے، جس میں کرپشن کے خلاف اقدامات کرنے کی عوامی خواہش کا بیانیہ بھی شامل ہو گیا ہے۔ 2013 کے عام انتخابات جس میں پیپلزپارٹی پنجاب میں بری طرح سے ہار گئی، تحریک انصاف کو کچھ نشستیں ملی، لیکن نواز لیگ نے اکثریت حاصل کر کے وفاق اور پنجاب میں حکومت بنائی تھی۔ عمران خان اس روز سے نواز لیگ کی حکومت کو گرانے کے لئے کوشاں ہیں۔ لیکن ان کی مخالفت اور احتجاج کا دائرہ پنجاب سے باہر نہیں جا سکا۔ جس کی وہ سے سندھ اور بلوچستان خاص طور پر اس پوری لڑائی کو پنجاب کی اندرونی سیاسی لڑائی سمجھ رہے ہیں۔ مختلف طبقات سیاسی بلادستی، اختیار و اقتدار حاصل کر نے کے لئے ایک دوسرے سے دست گریباں ہیں۔
سندھ پنجاب اور بلوچستان میں ضیاءالحق کے اشرافیہ کے باقیات اگرچہ مضبوط ہوئے ہیں لیکن ان کو ضیاء مخلف حلقوں کے بیانیئے اور نعرے کا ساتھ دینا پڑ رہا ہے۔ پنجاب میں حکمراں طبقے کی اکثریت1985ضیاءالحق کی باقیات پر مشتمل ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے پنجاب میں درمیانہ یا نچلے طبقے کو ایوانوں تک لانے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ بطور پارٹی کے ایک عرصے تک پیپلزپارٹی پنجاب کی پارٹی سمجھی جاتی تھی۔ 1970 کے انتخابات نے بھی اس امر کو ثابت کیا۔ لیکن پیپلزپارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد صورتحال تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ اس ڈر سے کہ کہیں پرانی پنجاب کی اشرافیہ بھٹو حکومت کے خلاف نہ کھڑی ہو جائے، بھٹو نے اس پرانی اور روایتی حکمران طبقات کے لئے بھی دروازے کھول دیئے۔ لیکن اس سے دراصل پارٹی کمزور ہوئی۔ جب اس پرانی اشرافیہ کاروبای طبقے اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر نے بھٹو کی مخالفت کا علم بلند کیا تو پارٹی اس سیاسی حملے سے بچ نہ سکی۔ اور بھٹو حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
ضیاء الحق کے دور میں پنجاب میں نئے پاور بروکرز وہ بنے جو ساٹھ یا ستر کے عشرے میں مذہبی تنظیموں کے طلباءتنظیموں سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ بعد میں مختلف سیاسی جماعتوں میں شامل ہوگئے۔ یوں تاجر طبقے نے ان نئے پاور بروکرز کو اپنے ہاتھ میں کیا۔ نواز شریف شہری تاجران اور صنعتی طبقات کے نمائندہ کے طور پر سامنے آئے ۔پنجاب کی سیاسی معیشت کا تجزیہ بتاتا ہے کہ اس طرح سے تاجر و صنعتکار طبقے کا مذہبی جماعتوں سے اتحاد ہوا۔ جو آج بھی مختلف شکلیوں میں موجود ہے۔ یوں پنجاب میں ایک نئی اشرافیہ بھر کرسمانے آئی۔ جس کا بڑا سیاسی اظہار نواز لیگ ہے۔
معیشت کے پھیلاﺅ اور سائنس اور ٹیکنولاجی اور پنجاب میں معیشت کے زرعی حصے میں تبدیلیوں کے اثرات کا سماجی اور سیاسی اظہار ہونے لگا۔
یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملک میں نئے طبقات پید اہو ئے جو کہ شہری تھے اور سیاسی نمائندگی بھی ایک نئے شہری طبقے کے پاس چلی گئی۔ یہپاں پر اداروں کے درمیاں تضاد اور ٹکراﺅ کیونکہ کہ زمینی حقائق کی وجہ سے اداروں کے درمیان طاقت کا توازن تبدیل نہیں ہوا۔ اسٹیبلشمنٹ کی گرفت مضبوط رہی۔ ابھرتے طبقات اپنے ا اختیارت بڑہانا چاہتے تھے۔ لہٰذا وہ سویلین بالادستی چاہتے تھے۔ لیکن روایتی اسٹیبلشمنٹ اپنے پرانے موقف اور پالیسی پر کھڑی تھی۔ بینظیر بھٹو نے نواز لیگ کے ساتھ جو میثاق جمہوریت کیا تھا وہ دراصل تاجر و صنعت کار طبقات اور زراعت سے منسلک طبقات کے درمیاں معاہدہ تھا۔ عمران خان ان دونوں جماعتوں کے خلاف اس وجہ سے ہیں کہ بڑے طبقات آپس میں بن گئے ہیں اور پروفیشنل اور چھوٹا کاروباری طبقہ اختیار و اقتدار سے باہر رہ گیا ہے۔
ابھی یہ جنگ چل ہی رہی تھی کہ معیشت کے پھیلاﺅ کی وجہ سے ایک اور طبقہ وجود میں آیا، جو پروفیشل پر مشتمل تھا۔ اس طبقے میں وکیل، ڈاکٹر، انجنیئر اور بیران ملک کما کر واپس آنے والے شامل تھے۔ یہ لوگ ایک صاف شفاف چیزیں چاہتے تھے۔ ان کی نمائندگی تحریک پاکستان کے پاس آگئی۔ یہ سیاسی لڑائی پنجاب میں بڑے پیمانے پر اس وجہ سے لڑ جارہی ہے کہ وہیں پر ہی بڑی تبدیلیاں سیاسی معیشت میں آئی ہیں۔ سیاسی معیشت کے اثرات باقی صوبوں میں اتنے پکے ہوئے اور مضبوط نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باقی صوبوں میں یہ سیاست ماٹھی ہے۔
پنجاب میں دو طرح کے طبقات کے درمیاں اس جنگ کے بعض نہایت ہی دلچسپ پہلو ہیں کہ ان دونوں کی نمائندہ جماعتوں کے موقف میں تضاد ہے۔ شہری آزادیوں اور حقوق کے بغیر پروفیشنل طبقات اپنا وجود اور ترقی برقرار نہیں رکھ سکتے۔ لیکن وہ سودے بازی کر کے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نواز لیگ اس پروفیشنل طبقے کو ” اسپیس “ نہیں دے رہی۔ طبقات معیشت کے بنیادی طبقات کو نظر انداز کر رہی ہے۔
بلا شبہ حالیہ وقعات سے سویلین بالاستی کی جانب سفر کو دھچکا قرار پہنچا ہے ۔ وہ نواز شریف کو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چلنے والی جمہوریت بمقابلہ اسٹیبلشمنٹ جدوجہد میں امید کی ایک علامت قرار دیا جارہا ہے ۔ نواز شریف کو جب جنرل مشرف نے عہدے سے برطرف کیا، سزا سنائی، اور بعد میں جلاوطن ہو گئے۔ سمجھا یہ ارہا تھا کہ اب ایک نیا نواز شریف میدان مین آیا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مشرف دور میں ان کی سیاست وہی رہی۔ اور مشرف کے بعد جب پیپلزپارٹی حکومت میں آئی تب بھی انہوں نے اپنی حکمت عملی، اور پالیسی تبدیل نہیں کی۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کی جمہوری حکومت کو ڈی اسٹبلایئز کرنے میں اسٹبلشمنٹ کا ساتھ دیا۔ یہاں تک کہ خود بھی کورٹ میں جاکر کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے منتخب حکومت کا عدالتی ومیڈیا ٹرائل کرنے اور منتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالتی طور پہ نااہل قرار دلوانے کی عوام میں فضا سازگا‘ بنا نے میںبھرپورکردار ادا کیا۔
نواز شریف نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کے جوڈیشل ایکٹوازم، پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پیپلز پارٹی کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کے خلاف پس پردہ سرگرمیوں میں مصروف رہے اور پھر لانگ مارچ بھی کیا۔ تب اگر وہ قانون سازی یا مختلف انتظامی اقدامات کے لئے پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے ہو جاتے اور پیپلزپارٹی کی ہمت بندھاتے تو ضیاءالحق اور مشرف کی تمام باقیات کا خاتمہ ہوسکتا تھا، یا بڑی حد تک ان میں کمی آسکتی تھی۔
نواز شریف دو مرتبہ ویزراعظم رہ چکے تھے اس وجہ سے انہیں مختلف معاملات کو کس طرح ہینڈل کیا جائے اسکا تجربہ ہو گیا تھا۔اور وہ پہلے والی غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔
پیپلزپارٹی کے کھاتے میں یہ بات جاتی ہے کہ اس نے اٹھارویں آئینی ترمیم کر کے صوبوں کی شکایات کا بڑی حد تک ازالہ کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس ترمیم پر معن و عن عمل کرنا ابھی باقی ہے۔ اس ترمیم کے نتیجے میں صوبائی حقوق کی مختلف صوبوں میں جاری تحریکیں بڑی حد تک کمزور ہوئیں۔ نواز شریف نے حکومت میں آکر نہ صرف اس ترمیم پر مزید عمل درآمد کو روکا بلکہ سچی بات یہ ہے کہ انہوں کیس بھی حوالے سے کوئی قابل قدر قانون سازی نہیں کی۔ حالانکہ دو آمروں ضیاءالحق اور مشرف نے جس طرح سے ملک کی سیاست، معیشت، سیاسی معیشت، قوانین، انتظام کاری اور دوسرے شعبوں کا جتنا خانہ خراب کیا تھا اس پر کئی اقدامات کرنے، قانون سازی اور فیصلہ سازی کی سخت ضرورت تھی۔ اگر نواز شریف مختلف اقدامات کرتے تو یقیننا آج جو انہیں سویلین بالادستی کا شکوہ نہیں رہتا۔
نواز شریف فوجی عدالتوں کے قیام، سندھ میں رینجرز کے سیاسی ایڈوینچرز، بلوچستان میں معاملہ زیادہ سنگین ہونے اور شہریوں آزادیوں کو سلب کرنے والے قوانین کی منظوری اور آڑدیننس جاری کرنے میں پہل کاری کر کے مختلف سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ نہیں کر سکے۔ اسی طرح سے تحفظ پاکستان قانون ، اینٹی سائبرکرائمز بل، ضابطہ فوجداری میں ترمیم، سوشل میڈیا ایکٹوازم کے خلاف کارروائی اور اس جیسے کئی اور قوانین بھی بنائے گئے۔ لیکن وہ اپنا کلیدی کردار ادا نہ کر سکے سامنے لائے گئے۔ یہ سب معاملات سویلین بالادستی کے زمرے میں آتے ہیں۔
Nai Baat August 4, 2017




No comments:
Post a Comment